Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
123 - 160
مسئلہ ۲۴۶:  ۷ شعبان المعظم ۱۳۱۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرکسی کپڑے پرتصویریں چھپی ہوئی ہوں اس سے نماز پڑھنا جائزہے یانہیں؟ اور اس کو فروخت کرناجائزہے یانہیں؟ اور وہ تصویریں پرندوں کی ہوں۔ اور اگر اسی کپڑے کاکوئی عدد تیارہوگیا تو اس کاکیاکرناچاہئے اور وہ تصویریں جس میں جاندار زندہ رہ سکتاہے؟ بیّنواتوجروا۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
الجواب: کسی جاندار کی تصویر جس میں اس کاچہرہ موجود ہو اور اتنی بڑی ہوکہ زمین پررکھ کرکھڑے سے دیکھیں تو اعضا کی تفصیل ظاہرہو، اس طرح کی تصویر جس کپڑے پرہو اس کاپہننا، پہنانا یابیچنا، خیرات کرنا سب ناجائزہے، اور اسے پہن کرنمازمکروہ تحریمی ہے جس کادوبارہ پڑھنا واجب ہے۔ ایسے کپڑے پرسے تصویرمٹادی جائے یا اس کاسریاچہرہ بالکل محوکردیاجائے۔ اس کے بعد اس کاپہننا، پہنانا، بیچنا، خیرات کرنا، اس سے نماز، سب جائزہوجائے گا۔ اگر وہ ایسے پکے رنگ کی ہوکہ مٹ نہ سکے دھل نہ سکے توایسے ہی پکے رنگ کی سیاہی اس کے سریاچہرے پراس طرح لگادی جائے کہ تصویر کااُتنا عضومحوہوجائے صرف یہ نہ ہوکہ اتنے عضو کارنگ سیاہ معلوم ہوکہ یہ محوومنافی صورت نہ ہوگا۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۴۷:  مرسلہ محمدصدیق بیگ صاحب مرادآباد ازبریلی

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آج کل دنیامیں عام رواج مصوری کایہ ہے کہ بغیرقلم وروشنائی کے اور بغیر ہاتھ لگائے اس طرح پرتصویر بناتے ہیـں کہ ایک بکس سامان مصوری کاہوتاہے جس کو انگریزی میں کیمرہ میں لگاکر جس شیئ کی تصویرلینامقصود ہواس کوسامنے رکھتے ہیں شیشہ کے اثرسے کشش کے ساتھ تصویر معمولی شیشہ پرجو آتشی شیشہ یعنی لَینس کے پاس لگاہوتا ہے آجاتی ہے۔ اس کو انگریزی مصالحہ میں ڈال کر کاغذ پرلکھ کر خشک کرتے ہیں اس طرح سے تصویربن جاتی ہے۔ شرع شریف میں اس کی بابت کیاحکم ہے یعنی ایسی تصویر کھینچنے والے، کھنچوانے والے، رکھنے والے، فروخت کرنے والے، خریدنے والے کس حد تک گنہگار ہوسکتے ہیں اور جس مکان میں تصویریں ہوں وہاں نماز جائزہے یانہیں؟ یاشرع کے موافق اس میں کوئی گناہ نہیں ہے؟ جواب باصواب سے مطلع فرمائیں۔
الجواب: شرع نے تصویر حرام فرمائی اور کسی طریقہ ساخت کے ساتھ حکم کومقید نہ فرمایا، نہ کسی خصوصیت طریقہ کو اس میں دخل، نہ فوٹو بے اس کے عزم وفعل وحرکات کے خودبخود بن سکے، دستی وعکسی میں صرف تخفیف عمل کا فرق ہے جیسے پیادہ اور ریل۔ جہاں جاناشرعاً حرام ہے پیادہ وریل دونوں یکساں ہیں۔ وہ نہیں کہہ سکتا کہ اس میں مجھے پاؤں کو حرکت دینی نہ پڑی نہ منزل منزل ٹھہرتاگیا، بالجملہ تصویر عکس ودستی کے بنانے، رکھنے سب باتوں کے احکام قطعاً ایک ہیں اور فرق کی کوئی وجہ نہیں، عرف ہی کودیکھے، کیاجوتصویربنانی عرفاً توہین وبے حیائی اور قانونی جرم ہے وہ عکسی بناسکتاہے اور وہی عذر کرسکتاہے کہ بے قلم وروشنائی اور بے ہاتھ لگائے بنانی، ہرگزنہیں، توظاہرہوا کہ عکسی ہونے سے تصویر کے مقاصد میں کچھ فرق نہیں آتا بلکہ بسااوقات کچھ زیادت ہی ہوجاتی ہے اور شیئ اپنے مقاصد ہی کے لحاظ سے ممنوع یامشروع ہوتی ہے،
کمالایخفی
 (جیساکہ پوشیدہ نہیں۔ت)
واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۴۸ : مرسلہ سیدعبدالرشید صاحب جواہرکن ازبمبئی نیاقاضی محلہ چاندبلڈنگ ۴۰ پوسٹ ۹ ۱۶جمادی الاولٰی ۱۳۳۲ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین متین اس مسئلہ میں کہ فوٹو نصف شکل کابنوانا اورخود بنانا کس حد تک جائزہے اور تمام قد کا سراپاعکس کیوں ناجائزہے؟ حدیث وآیات سے جواب مرحمت فرمائیں، دونوں صورتوں کانصف قد اور قدتمام کن کن شرعی دلائل سے جائزاورناجائزقراردیاجاتاہے؟
الجواب: فوٹو ہویادستی تصویرپوری ہویانیم قد، بنانا، بنوانا سب حرام ہے نیز اس کاعزت سے رکھناحرام اگرچہ نصف قد کی ہوکہ تصویر فقط چہرہ کانام ہے، نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اشد الناس عذابا یوم القیامۃ من قتل نبیا اوقتلہ نبی والمصورون۱؎۔
قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب اس پرہے جس نے کسی نبی کو شہید کیا یا اسے نبی نے قتل فرمایااورتصویروالوں پر۔
 (۱؎ المعجم الکبیر        حدیث ۱۰۴۹۷    المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت     ۱۰/ ۲۶۰)

(کنزالعمال         حدیث ۹۳۶۶    مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۴/ ۳۵)
اورفرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
ان الملٰئکۃ لاتدخل بیتا فیہ کلب ولاصورۃ۲؎۔
رحمت کے فرشتے اس گھرمیں نہیں جاتے جس میں کتایاتصویرہو۔
 (۲؎ سنن ابن ماجہ     کتاب اللباس     باب الصور فی البیت     ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی     ص۲۶۸)
امام اجل ابوجعفرطحاوی سیدناابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت فرماتے ہیں:
الصورۃ ھو الرأس۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
فقط چہرہ تصویرہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۳؎ شرح معانی الآثار     کتاب الکراہیۃ    باب التصاویرفی الثوب    ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۲/ ۳۶۶)
مسئلہ ۲۴۹: مرسلہ محمدتقی     مقام بکسرمتصل اسٹیشن ریلوے بتوسط حاجی رحیم بخش ۳۰ربیع الاول ۱۳۳۵ھ

تصویرکھینچنا جائزہے یانہیں؟
الجواب : جاندار کی تصویر کھینچنی حرام ہے۔ صحیح حدیث میں ارشاد ہوا:
اشد الناس عذابا یوم القٰیمۃ من قتل نبیا اوقتلہ نبی والمصورون۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
قیامت میں سب سے سخت ترعذاب اس پرہوگا جس نے کسی نبی کو شہیدکیایاجسے کسی نبی نے قتل کیا اور مصور۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ المعجم الکبیر         حدیث ۱۰۴۹۷ و ۱۰۵۱۵        المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت     ۱۰/ ۲۶۰،۲۶۶)

(کنزالعمال         حدیث ۹۳۶۶        مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۴/ ۳۵)
Flag Counter