Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
122 - 160
ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا وساوہ باتصویر خریدسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ملاحظہ فرمود درون خانہ قدم مبارک نہ نہاد ام المومنین چوں اثر خشم وملال درچہرہ باجمال محبوب ذی الجلال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم می بیند برخودہمچو بیدمی لرزدوعرضہ می وارد یارسول اﷲ اتوب الی اﷲ والٰی رسولہ ماذا اذنبت یارسول اﷲ من توبہ می کنم بسوئے خدا و رسول خدا چہ گناہ کردم سرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرمود ان اصحاب ھٰذہ الصور یعذبون یوم القٰیمۃ ویقال لھم احیوا ماخلقتم وقال ان البیت الذی فیہ الصور لاتدخلہ الملٰئکۃ ایں صورتگراں روزقیامت عذاب کردہ شوندوایشاں را گفتہ شود کہ زندہ کنند انچہ آفریدہ اید وفرمودہ خانہ کہ دروتصویر ست فرشتگان در ودر نیایند اخرجہ الشیخان۱؎ عنھا رضی اﷲ تعالٰی عنھا پیداست کہ انچہ بروساوہ باشد ہمیں تصویر منقوش وبے سایہ است نہ منحوت ومجسم،
چنانچہ ام المومنین سیدہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا ایک دفعہ تصویر والاتکیہ خرید لائیں اور سیدالانبیاء صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے گھرمیں تشریف لاتے ہی دیکھ لیاتوآگے جانے سے قدم مبارک روک لئے، ام المومنین نے رب ذوالجلال کے محبوب مکرم کے چہرہ مقدس پرغصے اورناراضگی کے اثرات دیکھے توبیدکے درخت کی طرح لرزنے اور کانپنے لگیں اور عرض کرنے لگیں اے اﷲ کے رسول! میں اﷲ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں توبہ کرتی ہوں مجھ سے کونسی خطاہوئی ہے؟ یارسول اﷲمیں اﷲ اور اس کے رسول کی طرف رجوع لاتی ہوں میں نے کون ساقصورکیا؟ سرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یقینا تصویرساز قیامت کے دن عذاب دئیے جائیں گے ا ور ان سے کہاجائے گا کہ اپنی بنائی ہوئی تصویروں میں جان (روح) ڈالو۔ اور ارشاد فرمایا کہ جس گھر میں تصویر ہو اس میں فرشتے نہیں آتے۔ بخاری و مسلم نے سیدہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے اس کو روایت کیاہے ظاہرہے کہ تکیہ پرتصویر تھی وہ عکسی اور نقاشی ہی ہوگی نہ کہ تراشیدہ مجسّمہ۔
 (۱؎ صحیح مسلم     کتاب اللباس والزینۃ     باب تحریم صورۃ الحیوان الخ         قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۲۰۱)

(صحیح البخاری     کتاب البیوع     باب التجارۃ فیما یکرہ لبسہ للرجال والنساء    قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱/ ۲۸۳)
لاجرم علماء بتحریم مطلق تصریح فرمودہ اند مولاناعلی قاری علیہ الرحمۃ الباری درمرقات فرمود قال اصحابنا وغیرھم من العلماء تصویر صورۃ الحیوان حرام شدید التحریم وھو من الکبائر لانہ متوعد علیہ بھٰذا الوعید الشدید المذکور فی الاحادیث سواء صنعہ فی ثوب اوبساط اودرھم اودینار او غیرذٰلک۱؎ علامہ شامی درردالمحتار فرماید فعل التصویر غیرجائز مطلقا لانہ مضاھاۃ لخلق اﷲ تعالٰی۲؎ ہمدران ازبحرالرائق ست صنعتہ حرام بکل حال لان فیہ مضاھاۃ لخلق اﷲ تعالٰی وسواء کان فی ثوب اوبساط اودرھم واناء وحائط وغیرھا۳؎
بلاشبہ اہل علم نے بلاقید مطلق تصویر کے حرام ہونے کی صراحت فرمائی ہے، چنانچہ ملاعلی قاری رحمۃ اﷲ علیہ نے مرقاۃ میں فرمایاہمارے اصحاب اوردیگر علماء کرام نے فرمایا حیوانات کی تصویربنانا شدید حرام ہے اور یہ کبیرہ گناہوں میں شامل ہے کیونکہ اس پرشدید وعید آئی ہے جواحادیث میں مذکور ہے خواہ کسی کپڑے پرتصویربنائی جائے، کسی بچھونے پربنائی جائے یا درہم ودینار اور سکے پربنائی جائے یاان کے علاوہ کسی بھی اورچیزپر تصویرکشی ناجائز، حرام اور شریعت کی خلاف ورزی کاارتکاب ہے۔ علامہ شامی ردالمحتار میں فرماتے ہیں تصویربنانا مطلقاً جائزنہیں اس لئے کہ یہ اﷲ تعالٰی کی تخلیق سے مشابہت ہے۔ اسی میں بحرالرائق سے نقل ہے کہ تصویرسازی ہرحال میں حرام ہے کیونکہ اس میں تخلیق الٰہی سے مشابہت ہے، خواہ یہ کام کپڑے پرہو یاکسی اورچیزپر مثلاً بچھونا، درہم دینار، برتن، دیوار اورکاغذ وغیرہ۔
 (۱؎ مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ     کتاب اللباس    باب التصاویر        مکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ    ۸/ ۲۶۶)

(مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ     کتاب اللباس  باب من لم یدخل شیئا      مکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ    ۲/ ۸۸۱)

(۲؎ ردالمحتار            کتاب الصلوٰۃ     مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا     داراحیاء التراث العربی بیروت  ۱/ ۴۳۷)

(۳؎ردالمحتار            کتاب الصلوٰۃ     مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا     داراحیاء التراث العربی بیروت  ۱/ ۴۳۵)
وچوں علت تحریم مشابہت بخلق الٰہی ست تفاوت نمی کند کہ بخامہ کشند یاعکس رامنطبع سازند زیراکہ علت ہمہ جاحاصل ست سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرمود اشدالناس عذابا یوم القٰیمۃ الذین یضاھون بخلق اﷲ تعالٰی روزقیامت درسخت عذاب آناں باشند کہ مشابہت می کنند بآفرینش خداوند عزوجل رواہ الائمۃ احمدوالبخاری۱؎ ومسلم والنسائی عن اُمّ المؤمنین رضی اﷲ تعالٰی عنھا عبارات ردالمحتار حالاگذشت وہمدر انست علّۃ حرمۃ التصویر المضاھاۃ لخلق اﷲ تعالٰی وھی موجودۃ فی کل ماذکر۲؎ ایں حکم تصویرگری وصورت کشی ست
جب حرام ہونے کی علت اوروجہ بناوٹ الٰہی کے ساتھ مشابہت ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ قلم سے تصویربنائی جائے یاعکسی چھاپ سے، کیونکہ یہ علت سب جگہ موجود ہے، سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب پانے والے وہ لوگ ہوں گے جو اﷲ تعالٰی کی تخلیق سے مشابہت کرتے تھے۔ قیامت کے دن سخت عذاب والے وہ لوگ ہوں گے جو اﷲ تعالٰی کی صفت پیدائش (بناوٹ) سےمشابہت کرتے رہے۔ ائمہ کرام مثلاً حضرت امام احمد، بخاری، مسلم اور نسائی نے اس کو ام المومنین رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کیاہے، ابھی ردالمحتار کی عبارات گزری ہیں اور اسی میں یہ بھی ہے کہ تصویر کے حرام ہونے کی علت تخلیق الٰہی سے مشابہت ہے، اور یہ علت تمام مذکورہ صورتوں میں موجود ہے اور یہ حکم تصویر سازی اورتصویرکشی کے بارے میں ہے۔
 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب اللباس     باب ماوطی من التصاویر     قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۸۰)

(صحیح مسلم      کتاب اللباس   باب تحریم تصویرصورۃ الحیوان الخ  قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۰۱)

(۲؎ ردالمحتار         کتاب الصلوٰۃ     باب مایفسدالصلوٰۃ ومایکرہ فیہا     داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۵)
اما تصویر پیش خود یادرخانہ نگاہداشتن ایں جا تفصیل ست تحریم ومنع اورابچند شرط مشروط کردہ اند کہ اگرھمہ بہم آید نگاہداشتن ناروا باشد ورنہ جائز، یکے آنکہ صورت جاندار بحالت جانداری باشد نہ چنانکہ بدیدن نفس صورت بیجان بودنش پیدابود چنانکہ تصویرچہرہ بخلاف آنکہ دست یاپائے چشم یابینی یاگوش ندارد کہ عدم اینہا موجب خروج ازاعضائے ظاھریہ ازسرنساختہ اند یاساختہ راقطع یامحونمودہ اندنگاہداشتنش روا باشد۔ دوم آنکہ تصویر درنہایت صغروباریکی نباشد بحدیکہ اگربرزمین نہادہ استادہ ببیند تفصیل اعضایش پدیدارنشود ہمچو صورت ساختن حرام وداشتن جائز۔ سوم آنکہ صورت راخوار نداشتہ باشد چنانکہ درفرش پاانداز یادر بساط پامال یابروئے خاک وامثال ذٰلک کہ ایں چنیں داشتن منظورنیست فی الدرالمختار لایکرہ لوکانت تحت قدمیہ اومحل جلوسہ لانھا مھانۃ۱؎اھ فی ردالمحتار وکذا لوکانت علی بساط یوطاء او مرفقۃ یتکاء علیھا کما فی البحر۲؎اھ وفی الدراوکانت صغیرۃ لاتتبین تفاصیل اعضائھا للناظر قائما و ھی علی الارض ذکرہ الحلبی اومقطوعۃ الرأس اوالوجہ اوممحوۃ عضو لاتعیش بدونہ۳؎اھ وتمام تفصیلہ فی حواشیہ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
تصویراپنے سامنے اورروبرو رکھنے اوراپنے گھرمیں محفوظ کرنے وغیرہ کے بارے میں کچھ تفصیل ہے۔ تصویر کے حرام ہونے کو اہل علم حضرات نے چندشرائط کے ساتھ مشروط کیاہے اگر سب جمع ہوں تو پھر اس کاحفاظت سے رکھنا ناجائزہے ورنہ جائز۔(۱) زندہ چیز کی تصویر اس کی زندگی کی حالت میں ہو، نہ اس طرح کہ صرف صورت دیکھنے سے اس کا بے جان ہوناظاہر ہوجائے، جیسا کہ چہرہ کی تصویر بخلاف ہاتھ پاؤں، آنکھ ناک یا کان نہ رکھتی ہو کہ ان کا نہ ہونا اعضائے ظاہری سے نکلنے کا سبب ہے کہ سر کے ساتھ یہ نہیں بنائے گئے یابنائے گئے مگرانہیں کاٹ دیاگیا ایسی تصویرکو بحفاظت رکھناجائزہے۔ (۲) دوسری شرط: تصویرانتہائی چھوٹی اور باریک نہ ہو۔ اگرزمین پر رکھی جائے توکھڑی صورت میں دکھائی دے تو دے مگر اس کے اعضاء کی تفصیل ظاہرنہ ہو۔ پس اس نوع کی تصویر بناناحرام ہے مگرا س کارکھناجائزہے(۳) تیسری شرط:تصویر کوذلیل حالت میں نہ رکھاجائے کہ فرش پرپاؤں میں پڑی ہو یابچھونے (قالین وغیرہ) پر پامال ہو یاسطح زمین پرپڑی ہو یااس نوع کی دوسری صورتیں ہوں کہ اس طرح رکھنا منظورنہ ہو۔ درمختارمیں ہے تصویررکھناممنوع نہیں جبکہ قدموں کے نیچے ہو یابیٹھنے کی جگہ پرہو کیونکہ اس صورت میں اس کی تذلیل ہے، ردالمحتارمیں ہے اسی طرح اگرپامال شدہ بچھونے پرہو یامِرفق (آرام گاہ) پرہو جس پرتکیہ لگایاجائے جیسا کہ بحررائق میں ہے۔ درمختارمیں ہے یازمین پر ہو مگراتنی چھوٹی ہو کہ اس کے اعضاء کی تفصیل دیکھنے والے پرواضح نہ ہو۔ ابراہیم حلبی نے اس کو ذکرکیاہے یا سرکٹاہوا یاچہرہ یا ایسے اعضاء مٹے ہوئے ہوں کہ جن کے بغیرزندگی نہ ہوسکے۔ اس کی مکمل تفصیلات اس کے حواشی میں ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ درمختار    کتاب الصلوٰۃ     باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا     مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۹۲)

(۲؎ ردالمحتار     کتاب الصلوٰۃ     باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا     مطبع مجتبائی دہلی  ۱/ ۴۳۵)

(۳؎ درمختار    کتاب الصلوٰۃ     باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا     مطبع مجتبائی دہلی   ۱/ ۹۲)
Flag Counter