Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
121 - 160
تصویر
مسئلہ ۲۴۴ : ازپیلی بھیت     ۱۹ربیع الآخر۱۳۱۰ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہرمسلمان کاریگر شبیہ شکرکی حلال جانور اور حرام جانور کی بناتے ہیں نیزشبیہ مسجد جامع دہلی کی بناتے ہیں۔ کس شبیہ کابنانا جائزہے اور کس تصویر کاکھاناجائزوناجائزہے؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب: جاندار کی تصویر بنانا مطلقاً حرام ہے، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اشد الناس عذابا یوم القٰیمۃ المصورون۔ اخرجہ احمد۱؎ ومسلم عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
سب سے زیادہ سخت عذاب روزقیامت ان پر ہوگا جوجاندار کی تصویر بناتے ہیں(امام احمد اور مسلم نے حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اس کی تخریج فرمائی ہے۔ت)
 (۱؎ مسندامام احمد بن حنبل     عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ     المکتب الاسلامی بیروت     ۱/ ۴۲۶)

(صحیح مسلم         کتاب اللباس، باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۰۱)
اور اس کی خریدوفروخت بھی جائزنہیں یہاں تک کہ علماء فرماتے ہیں: جوتصویر دارکپڑے بنائے بیچے اس کی گواہی مردودہے۔
فی الھندیۃ عن المحیط عن الاقضیۃ اذا کان الرجل یبیع الثیاب المصورۃ اوینسجھا لاتقبل شہادتہ۱؎۔
فتاوٰی ہندیہ میں محیط عن الاقضیہ کے حوالے سے منقول ہے کہ جب کوئی شخص تصویروں والے کپڑے بنائے یابیچے تو اس کی گواہی نامقبول ہے۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ  کتاب الشہادات الباب الرابع  نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۶۹)
اورحرام جانور کی تصویر میں ایک شنیع وبدنسبت ہے جو کھانے والے کی طرف ہوگی کہ اہل عرف تصویر کواصل ہی کے نام سے یادکرتے ہیں تو مثلاً تصویر کاکتا کسی نے کھایا تو اسے بھی کہاجائے گا کہ فلاں شخص نے کتاکھایا، آدمی کو جیسے بُرے کام سے بچنا ضرورہے یوہیں برے نام سے بھی بچناچاہئے۔ غیرجاندار کی تصویربنانی اگرچہ جائزہے مگردینی معظم چیزمثل مسجدجامع وغیرہ کی تصویروں میں انہیں توڑنا اور کھانا خلاف ادب ہوگا اور وہی بری نسبت بھی لازم آئے گی کہ فلاں شخص نے مسجد توڑی مسجد کوکھالیا اور ان سب باتوں سے خالی ہو توکفار کے تہوار وں ان کے بیہودہ رسم میں ایک طرح کی شرکت ہے جس سے شرعاً اجتناب کاحکم، بلکہ اگر معاذاﷲ یہ چیزیں خریدنا کھانا خاص بہ نیت دوالی منانے کے ہوتو حکم نہایت سخت ہے اورنرے کھانے پینے کی نیت سے ہو جب بھی ان ایام میں احتراز چاہئے، ہاں دوالی سے پہلے یاختم کے بعد ایسی چیزوں کی تصویرجوجاندارنہ ہوں نہ ان کے توڑنے یاکھانے سے کوئی مکروہ نسبت لازم آئے بنائیں بیچیں خریدیں کھائیں تو کچھ حرج نہیں۔
فی الدر المختار لواھدی لمسلم ولم یرد تعظیم الیوم بل جری علی عادۃ الناس لایکفر وینبغی ان یفعلہ قبلہ اوبعدہ نفیا للشبھۃ ولو شری فیہ مالم یشترہ قبلہ ان اراد تعظیمہ کفر وان اراد الاکل والشرب التنعیم لایکفر زیلعی ۲؎ اھ وفی ردالمحتار عن جامع الفصولین، الاولی للمسلمین ان لایوافقواھم علی مثل ھذہ الاحوال لاظھار الفرح والسرور۱؎اھ ذکرہ فی حق دعوۃ اتخذھا مجوسی لحلق راس ولدہ، قلت ولیس ذٰلک شیئا من رسوم مذھبھم الباطل فماکان کذٰلک کان اولی بالاجتناب واجدرو الامرواضح لاینکر۔
درمختار میں ہے اگر کسی مسلمان نے تحفہ وہدیہ دیا (اگرکسی مسلمان کو ہدیہ دیاگیا) لیکن ہندوتہوار کی تعظیم کاارادہ نہ کیا بلکہ لوگوں کی عادت کے مطابق ایساہوا تو کافرنہ ہوگا۔ لیکن مناسب یہ ہے کہ یہ کام تہوار سے پہلے یابعد میں کرے تاکہ شبہہ نہ ہونے پائے اور اگراس نے ہندو تہوار والے دن کچھ خریدا جو پہلے نہیں خریدا تھا تو اگر اس نے تعظیم کاارادہ کیا تو کافرہوگیا، اور محض کھانے پینے اور عیش وعشرت کاارادہ کیاتو کافرنہ ہوگا،زیلعی اھ، فتاوٰی شامی میں جامع الفصولین کے حوالے سے منقول ہے کہ مسلمانوں کے لئے بہتریہ ہے کہ وہ ان حالات میں خوشی اور سرور کااظہارکرتے ہوئے غیرمسلموں کی موافقت ہرگزنہ کریں اھ، اس کو اس دعوت کے حق میں ذکرفرمایا جو کسی مجوسی نے اپنے بچہ کے سرمنڈوانے کے موقع پر کی ہو۔ میں کہتاہوں کہ ان کے باطل مذہب کی رسومات میں سے کوئی چیزنہ ہو، پھربھی جو اس طرح کاکام ہو اس سے بھی بچنازیادہ بہتر اور زیادہ مناسب ہے اور معاملہ واضح ہے جس سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔(ت)
 (۲؎ درمختار         مسائل شتٰی                مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۳۵۰)

(۱؎ ردالمحتار     مسائل شتّٰی         داراحیاء التراث العربی بیروت     ۵/ ۴۸۱)
یوہیں ان ایام کے قبل یا بعد حلال جانور کی تصویر اگر خود نہ خریدی بلکہ دوسرے نے دی تو اس کے کھانے میں بھی مضائقہ نہیں،
فان البأس فی اتخاذہ واشترائہ فاذا عدمالم یبق الا اعدامہ وھو مطلوب لامھروب کما لایخفی واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
کیونکہ حرج تصویر بنانے اور خریدنے میں ہے۔ جب یہ دونوں کام نہ ہوں تو صرف اعدام یعنی نہ ہونا باقی رہے گا اور وہی مطلوب ہے نہ کہ مہروب یعنی اس سے بھاگاجائے۔ جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ اور اﷲ تعالٰی خوب جانتاہے اور اس بڑی بزرگی والے کا علم زیادہ کامل اور پختہ ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۴۵ : ازملاحسن پیشاوری     ۲ذی الحجہ ۱۳۱۱ھ

چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں مسئلہ کہ ازجناب سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم امتناع تصاویر مطلقہ بہ ثوت رسیدہ است یامقید یعنی کامل یاناقص کہ عکسی ودستی مشہور ست جابجادریں امرمعارضہ ومباحثہ بوقوع رسیدہ بعضے می گویند کہ مطلق تصویر ممنوع ست وبعضے میگویند کہ تصویرے کہ مثل سایہ برکاغذ یابردیوار کشیدہ شدہ باشد ودستی  نباشد وسطح نیزہموار باشدآں تصویرکشیدن وباخودداشتن جائزست وانچہ جسم می دارد وازہیزم وآہن ساختہ باشد کہ سطح آں ہموار نباشد جائزنباشد ونگاہ داشتن آں نیزممنوع غیرمشروع ست۔ بیّنواتوجروا۔
علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کیافرماتے ہیں کہ جناب سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے تصویروں کامطلق ممنوع ہونا ثابت ہے یانہیں؟ یامقید تصویریں یعنی کامل یاناقص، عکسی یادستی ممنوع ہیں یانہیں؟ جگہ جگہ تصاویرسازی کے متعلق مقابلے، ان کی نمائش اورمباحثوں تک نوبت پہنچ چکی ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بلاقید مطلق تصویرمنع ہے جبکہ بعض کہتے ہیں کہ جو تصویر سایہ کی طرح کاغذ یادیوار پر بنائی گئی ہو اور ہاتھ سے بنی ہوئی نہ ہو اور اس کی سطح بھی ہمواراوربرابر ہو ایسی تصویر کھینچنا اور اپنے پاس رکھنا جائزہے لیکن وہ تصویر جوجسم رکھتی ہو مٹی، لکڑی یالوہے سے بنائی گئی ہو اس کی سطح ہموار اور برابرنہ ہو وہ جائزنہیں پس اس کا محفوظ رکھنا ممنوع اور ناجائزہے۔ بیان فرماؤاجرپاؤ(ت)
الجواب : صورت گری مطلقاً حرام ست سایہ دارباشد یابے سایہ دستی باشد یاعکس، درزمان برکت نشان سیدالانس والجان صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہردوگانہ تصویرمے ساختند ہم بجسم وہم مسطح ودراحادیث ازمطلق صورت گری نہی اکیدوبرصنعت اووعیدشدید بے تخصیص وتقیید ورود یافت پس جمیع اقسام  اوزیرمنع درآمد تصویربے سایہ را رواداشتن مذہب بعض روافض ست وبس،
کسی جاندار کی تصویربنانابغیرکسی قید اورشرط کے حرام ہے خواہ سایہ دارہو یا بے سایہ خواہ ہاتھ کی بنی ہوئی ہو یامحض عکس ہو۔ آقائے انس وجان صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ بابرکت میں لوگ دونوں قسم کی تصاویر بنایاکرتے تھے جومجسمات کی صورت میں یامحض عکس اور سایہ کی صورت میں ہوتی تھیں چنانچہ احادیث میں مطلق تصویر سازی پرنہی اوربغیرکسی تخصیص وتقیید کے سخت وعیدوارد ہوئی ہے لہٰذا تصویر کی تمام اقسام ممانعت میں داخل ہیں، اور بے سایہ تصویر کوجائزقراردینا صرف بعض روافض کامذہب ہے
Flag Counter