| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ) |
مسئلہ ۲۳۶: ازتوپخانہ بازارکمپ مسئولہ محمدحسین ۱۶جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسافر پانی پت کرنال سے آیاہے وہ یہ کہتاہے کہ حقّہ پینا اورپان کھاناحرام ہے، جو شخص حقہ پیئے گا اور پان کھائے گا اس کے مکان کا آٹا تک نہیں کھائیں گے جنہوں نے کھاناچھوڑدیا وہی لوگ جماعت میں شریک ہوتے ہیں اور دوسروں کونہیں ہونے دیتے وہ یہ کہتے ہیں علیحدہ اپنی نمازپڑھ لو، ظہر کے وقت جماعت تیارتھی میں نے وضو کرکے جماعت میں شامل ہوناچاہا مجھ کو منع کردیا اور یہ کہا کہ اپنی نماز علیحدہ پڑھ لو میں نے اپنی نماز علیحدہ پڑھ لی، عصر کاوقت ہوا جب بھی جماعت تیارتھی اس وقت بھی منع کردیاگیا۔
الجواب : پان بیشک حلال ہے، حضرت محبوب الٰہی نظام الحق والدین رضی اﷲ تعالٰی عنہ بلکہ ان سے پہلے اولیاء کرام نے اس کا استعمال فرمایا ہے، حضرت امیرخسرو علیہ الرحمۃ نے اس کی مدح فرمائی اس میں چونے کاجواز کتاب نصاب الاحتساب میں مصرح ہے، حقہ کاجواز غمزالعیون وشرح ہدیہ ابن العماد وکتاب الصلح بین الاخوان ودرمختار وطحطاوی وردالمحتار وغیرہ کتب معتمدہ میں مصرح ہے، حلال کو حرام کہنا اس شخص کی بڑی جرأت اور یہ کہ پان کھانے والا یا حقہ پینے والاجماعت میں شریک نہ ہو اس کاظلم شدیدبلکہ ضلال بعیدہے وہ اسے حکم شرع ٹھہراکر شرع مطہر پرافتراء کرتاہے اور اﷲپرافتراء کرنے والا عذاب شدید کامستحق ہے،
اﷲ تعالٰی فرماتاہے:
ولاتقولوا لماتصف السنتکم الکذب ھذا حلال وھذا حرام لتفتروا علی اﷲ الکذب ان الذین یفترون علی اﷲ الکذب لایفلحون۱؎۔
جوکچھ تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں، اس کے متعلق یہ نہ کہاکرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام، تاکہ تم اﷲ تعالٰی کے ذمے جھوٹ لگاؤ، بے شک جو اﷲ تعالٰی پرجھوٹ باندھتے ہیں یعنی اس کے ذمے جھوٹ لگاتے ہیں وہ کبھی کامیاب اور بامرادنہیں ہوسکتے۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۱۶/ ۱۱۶)
اس پرتوبہ فرض ہے، اگرتوبہ نہ کرے اور اپنے ان احوال وحرکات سے باز نہ آئے تووہی اس کامستحق ہے کہ مسلمان اسے مسجد میں نہ آنے دیں۔
درمختارمیں ہے:
وکذا یمنع منہ کل موذ ولوبلسانہ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اسی طرح ہرتکلیف دینے والے کو خواہ زبانی ہی ہو اسے مسجد روک دیناچاہئے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ مطبع مجبتائی دہلی ۱/ ۹۴)
مسئلہ ۲۳۷ تا ۲۴۱ : کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ: (۱) حقہ جائزہے یانہیں؟ مولوی پاک بتلاتاہے۔ (۲) تصویرکارکھنابناناجائزہے یانہیں اورجائزکرنے والے پرکیاحکم ہے؟ (۳)گاناسنناجائزہے یانہیں؟ مزامیر باجے کے ساتھ یاشادی یاسنت (ختنہ) وغیرہ میں جائزہے یانہیں یعنی بچہ کی سنت وغیرہ میں؟ (۴) ایک مولوی پیش امام نے یہ فتوٰی دیاہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے کھڑے کھڑے پیشاب کیاتھا اورجائزہے۔ (۵) تعزیہ داری جائزہے یانہیں؟ اورایک مولوی نے ان سب کو جائزکردیاہے۔
الجواب (۱) حقہ جائزہے مگردَم لگانا جس سے حواس میں فرق آتاہے حرام ہے، حقہ کاپانی شریعت کے نزدیک پاک ہے اسے ناپاک کہنے والا شرع پرافتراکرتاہے۔ (۲) جاندارکی تصویر بنانا مطلقاً حرام ہے، جو اسے جائز کہے شریعت پرافتراء کرتاہے گمراہ ہے مستحق تعزیروسزائے نار ہے رکھناتین صورتوں میں جائزہے: ایک یہ کہ چہرہ کاٹ دیاہو یابگاڑ دیاہو۔ دوسرے یہ کہ اتنی چھوٹی ہوکہ زمین پررکھ کر کھڑے ہوکردیکھیں تو اعضاء کی تفصیل نظرنہ آئے۔تیسرے یہ کہ خواری وذلت کی جگہ پڑی ہو جیسے فرش پاانداز میں ورنہ رکھنابھی حرام، ہاں غیرجاندار مثل درخت ومکان کی تصویر کھینچنا رکھناسب جائزہے۔ (۳) مزامیر حرام ہیں، بغیر باجے کے سادہ گانا سنت وغیرہ کی شادی میں جائزہے جبکہ نہ اندیشہ فتنہ ہو نہ خفیف الحرکاتی۔ (۴) کھڑے ہوکر پیشاب کرنابدتہذیبی وبے ادبی وسنت نصرانی ومکروہ ومنع ہے، حضوراقدس نے ایک باردرد کے عذر سے ایساکیا وہ بھی بڑے اہتمام کے ساتھ، اور صریح حدیث میں اسے منع فرمایا۔ (۵) تعزیہ داری ناجائزہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۴۲: ازبیکانیرمارواڑہ محلہ مہاوتان مرسلہ قاضی قمرالدین ۹ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پان کھانا سنت ہے یاکیا؟ بیّنواتوجروا (بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت) الجواب : پان کھانا نہ سنت ہے نہ مستحب صرف مباح ہے، ہاں بعض عوارض خارجیہ کے باعث مستحب ہوسکتاہے جیسے نہ کھانے میں میزبان کی دل شکنی ہو یابوسہ زوجہ کے لئے منہ کو خوشبودارکرنے کی نیت سے بلکہ واجب بھی جیسے ماں باپ حکم دے اورنہ ماننے میں اس کی ایذا ہویونہی عارض کے سبب مکروہ بھی ہوسکتاہے جیسے تلاوت قرآن مجید میں بلکہ حرام بھی جیسے نمازمیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۴۳: ازپنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفرپور نعمت شاہ خاکی بوڑاہ پان، چونا اور حقہ اور تمباکو اور سرتی کھاناکیساہے؟ الجواب : پان کھاناجائزہے اور اُتنا چُونا بھی کہ ضرر نہ کرے اوراتناتمباکو بھی کہ حواس پراثرنہ آئے، یہاں سرتی تمباکو ہی کہتے ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم