Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
12 - 160
(۳) نہ حرمت دواعی وقت افضا پرمقصود ورنہ اجنبیہ سے جملہ امور مذکورہ حلال ہوں جبکہ زنا سے اجتناب کریں،

ولایقول بہ احد من المسلمین وانما حرمت الدواعی لکونھا دواعی والدعاء لایستلزم الافضاء۔

اور کوئی مسلمان اس کاقائل نہیں۔ دواعی اس لئے حرام کیاگیا کہ وہ مطلوب کے لئے اسباب دعوت ہیں یعنی اس کام تک پہنچانے کے ذرائع اور وسائل ہیں، اور داعی کے لئے اس تک رسائی لازم نہیں۔(ت)

(۴) شرع مطہر مظنہ پرحکم دائرفرماتی ہے اس کے بعد وجودمنشاء حکم پرنظرنہیں رکھتی کما عرف فی رخص السفر وغیرھا (جیسا کہ سفروغیرہ کی رخصتوں سے معلوم ہوا۔ت)

(۵) احکام فقہیہ میں غالب کالحاظ ہوتاہے نادر کے لئے کوئی حکم جدانہیں کیاجاتا،
صرحوا بہ فی مواضع کثیرۃ وقدنقلنا النصوص علیہ فی الکشف شافیا عن فتح القدیر وعن الدرالمختار وعن الدرالمنتقی وھو دوارفی الکتب لامطمع فیہ ان یستقصی۔
ائمہ کرام نے متعدد اوربکثرت مقامات پراس کی صراحت فرمائی ہے، اور ہم نے ''الکشف شافیا'' میں اس پرنصوص ذکرکئے ہیں جوفتح القدیر، درمختار اور الدرالمنتقی وغیرہ کی عبارات پرمشتمل ہیں، اور وہ کتب متعددہ میں دائرہیں پس ان کے لئے یہ توقع نہیں کہ اس کا استقصا کیاجاسکے(ت)

ان فوائد کو ملحوظ رکھ کر مغنیہ اجنبیہ کاگانا سننے کی حرمت میں شبہہ نہیں ہوسکتا بیشک وہ داعی ہے او ر داعی حرام حرام اگرچہ مستلزم بلکہ اس وقت مفضی بھی نہ ہو اگرچہ خصوص محل میں داعی بھی نہ ہو اور بعض نفوس مطمئنہ کہ شہوات سے یکسرخالی ہوگئے ان کے لحاظ سے حکم میں تفصیل ناممکن بلکہ وہی حکم عام جاری رہے گا ورنہ خلوت ومس وتقبیل وامثالہا میں بھی حکم مطلق نہ رکھیں تفصیل لازم ہوکہ قلب شہوانی کے لئے حرام ہیں اور نفوس مطمئنہ کے لئے جائز حالانکہ یہ قطعاً اجماعاً باطل ہے۔

(۶) جبکہ منشاء تحریم داعی ہونا ہے اور اس میں ہرداعی مستقل توایک کی تحریم دوسرے کے وجود پرموقوف نہیں ہوسکتی۔
والالم یکن شیئ منھا داعیا بل المجموع اولم یکن داعیا الاشرط وجودہ وکان الآخر لغواساقطا من البین۔
ورنہ ان میں سے کوئی چیزداعی نہ ہو بلکہ مجموعہ یاداعی نہ ہو مگر اس کے پائے جانے کی شرط سے۔ اور دوسرابے فائدہ درمیان سے ساقط ہو۔(ت)
شرع مطہر نے یہاں نفس صوت فتنہ پرحکم فرمایا ہے:
قال اﷲ تعالٰی واستفزز من استطعت منھم بصوتک ۱؎ وعن انس وعن عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم صوتان ملعونان فی الدنیا والاٰخرۃ مزمار عندنعمۃ ورنۃ عندمصیبۃ۲؎۔
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا توپھسلادے ان میں سے جس کو تو اپنی آواز سے پھسلاسکتاہے (یہ شیطان سے خطاب فرمایا) اور حدیث میں حضرت انس اور حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام سے روایت کرتے ہیں دو آوازدنیا اورآخرت میں ملعون ہیں (۱)آسائش کے وقت گانابجانا(۲) مصیبت کے وقت بین کرنا(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم     ۱۷/ ۶۴)

(۲؎ کنزالعمال     بحوالہ البزاروالضیاء عن انس         حدیث ۴۰۶۶۱    مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۱۵/ ۲۱۹)
تیسری حدیث میں ہے:
عن انس ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال من قعد الی قینۃ لیستمع منھا صب اﷲ فی اذنیہ الآنک یوم القٰیمۃ۱؎۔
حضرت انس سے روایت ہے کہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: جوکوئی گانے والی گویّا کے پاس بیٹھ کر اس کاگانا سنے تو اﷲ تعالٰی قیامت کے دن اس کے دونوں کانوں میں پگھلاہواسیسہ ڈال دے گا۔(ت)
 (۱؎ کنزالعمال     بحوالہ ابن صغری فی امالیہ     حدیث ۴۰۶۶۹        مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۱۵/ ۲۲۰،۲۲۱)
چوتھی اور پانچویں حدیث میں ہے:
عن جابر وعبدالرحمٰن بن عوف رضی اﷲ تعالٰی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال نھیت عن صوتین احمقین فاجرین۲؎ وقداستقصینا علٰی تخاریجھا فی اکثر من خمسین حدیثا، اوردناھا فی رسالتنا اتم المعارف فی حق المعازف وباﷲ التوفیق۔
حضرت جابر اور حضرت عبدالرحمن ابن عوف حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام سے روایت کرتے ہیں (اﷲ تعالٰی ان دونوں سے راضی ہو) کہ آپ نے ارشادفرمایا کہ ''مجھے دونادان بدکارآوازوں سے روک دیاگیا۔ پچاس سے زائد حدیثوں کی تخریج کرنے میں ہم نے انتہائی کوشش کی جنہیں ہم اپنے رسالہ ''اتم المعارف فی حق المعازف'' (معرفت کی باتوں کاپورا ہونا آلاتِ ساز کے مٹانے میں) لائے ہیں، اور اﷲ تعالٰی ہی بہترکارسازہے۔(ت)
(۲؎ جامع الترمذی     ابواب الجنائز         باب ماجاء فی الرخصۃ فی البکاء علی ا لمیت    امین کمپنی دہلی          ۱/ ۱۲۰)
تونظر کی روک، کان کے حرام کوکیونکر حلا ل کردے گی، اس کی نظیر یہی ہوسکتی ہے کہ کہاجائے اجنبیہ کوگلے لگانا حلال ہے جبکہ بوسہ نہ لے یامحل بوسہ کو رومال سے چھپالے یا اس کابوسہ لیناجائز ہے جبکہ گلے نہ لگائے۔ صوت فتنہ کی تحریم فتنہ نظر پرموقوف ہوتومزامیر کاسننا مطلقاً فی نفسہٖ حلال ہوجائے کہ ان کی طرف نظرکسی کے نزدیک منع نہیں بلکہ انصافاً منع نظر کے ساتھ سماع، افساد حال وتشویش خیال میں ابلغ ہوگا
فان الانسان حریص علی مامنع
(انسان کو جن کاموں سے روکاجائے ان کے کرنے کی وہ حرص رکھتاہے۔ت) نفس شیئ مبذول کی طرف اتنا نہیں کھینچتا جتناممنوع کی جانب، ولہٰذا بندگان نفس کو نظراجنبیہ میں نظرحلیلہ سے زیادہ لذت آتی ہے اگرچہ حلیلہ احسن واجمل ہو ولہٰذا زنان فواحش باآنکہ خودامالہ وجذب میں سعی کرتی ہیں بعد انجذاب تمنع وخودداری کا تصنع دکھاتی ہیں کہ منع اجلب للشوق ہے۔ حضرت شیخ سعدی قدس سرہ فرماتے ہیں: ؎
دیدارمی نمائی وپرہیز مے کنی     بازارخویش وآتش ماتیز می کنی ۱؎
 (تودیدار دکھاتا ہے لیکن پرہیز بھی کرتاہے، لہٰذا اپنے بازار اور ہماری آگ کوتیز کرتاہے۔ت)
 (۱؎ گلستان سعدی     باب دوم     مطبع اسلامیہ سٹیم پریس لاہور    ص۱۱۵)
شرع مطہر نے امورمحمودہ میں بھی اس حکمت پرلحاظ فرمایا ہے ولہٰذا دن میں تین وقت نمازحرام فرمائی کہ شوق مشتاقان تازہ ہوتارہے ولہٰذا تجلی کو دوام نہیں ہوتا ولہٰذا ابتداء میں ایک مدت تک وحی روک لی گئی جس پرکفار نے ودع وقلی کیا اور سورہ کریمہ والضحٰی نے نزول فرماکر ان کامنہ سیاہ کیا تو کپڑا ڈال کرسننا وہی رنگ لائے گا جو حضرت عارف جامی قدس سرہ السامی فرماتے ہیں: ؎
چویابدبُوئے گل خواہد کہ بیند    چوبیند روئے گل خواہد کہ چنید۱؎
 (جب کوئی پھول کی خوشبوپائے توچاہتاہے کہ اس کو دیکھے اور جب پھول کو دیکھ پائے تو چاہتاہے کہ اسے چنے۔ت)
 (۲؎ یوسف زلیخا     باب گرفتن زلیخا یوسف را الخ     مطبع تاجران کتب خانہ لاہور     ص۱۸۹)
غرض عارف مصالح شریعت احمدیہ وحکم جلیلہ احکام محمدیہ علٰی صاحبہا افضل الصلوٰۃ والتحیۃ یقین کرے گا کہ اس کی اباحت سخت بدخواہی امت اور ابلیس لعین کو ان پربڑی اعانت ہے۔

(۷) اصوات فتنہ کی حرمت اس لئے نہیں کہ وہ خاص مصوت کے ساتھ فجور کی طرف داعی ہیں جس سے مغنیہ مردہ کا بھراہوا گانا حلال ہوجائے ورنہ سماع مزامیر مطلقاً حلال ہوتاکہ وہاں مصوت فجور نامتصور، بلکہ اس لئے کہ وہ مفسد قلب ومحرک شہوت ومنبت نفاق ومثبت غفلت ہیں
کما افادہ الائمۃ الاعلام وذکرنا طرفامنہ فی الکشف شافیا
Flag Counter