| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ) |
مسئلہ ۲۳۰ تا ۲۳۲: ازمظفرنگرکھاتولی مسئولہ اخترمیاں محرر بروزشنبہ تاریخ ۱صفرالمظفر۱۳۳۴ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کھاتولی میں ایک مولوی صاحب مقیم ہیں، حقہ اور پان دونوں استعمال کرتے ہیں اوردونوں کوجائزجانتے ہیں اور سرپرپان کھلوانا جائزبتلاتے ہیں۔ اب دریافت طلب یہ امرہے کہ اس کا حکم قرآن وحدیث سے مفصل ومدلل تحریرفرمائیے گا۔
الجواب (۱ و ۲) پان بلاشبہہ جائزہے اور زمانہ حضرت شیخ العالم فریدالدین گنج شکر وحضرت سلطان المشائخ نظام الملۃ الدین علیہما الرضوان سے مسلمانوں میں بلانکیر رائج ہے، حقہ کا دم لگانا جس طرح جہّال وقت افطار کرتے ہیں جس سے حواس صحیح نہیں رہتے حرام ہے اور کثیف اور بدبو رکھاجائے تو مکروہ تنزیہی، جیسے کچالہسن اور پیاز، ورنہ مباح خالص ہے۔
(۳) سرپرپان کھلوانا بھی جائزہے جبکہ پیشانی کے بال باقی رکھے جائیں، ہندیہ میں ہے:
ولابأس للرجل ان یحلق وسط راسہ۱؎۔
کوئی حرج نہیں کہ مرد اپنے سر کی چوٹی (سنٹر) مونڈ ڈالے، واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۷)
مسئلہ ۲۳۳: مسئولہ حافظ عبدالمجیدصاحب ازقصبہ تحصیل سوارخاص علاقہ ریاست رامپور بروزسہ شنبہ ۱۰ ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شاہ مولانا عبدالحق صاحب اور اصحاب کہف کا جو توشہ ہوتاہے اس میں حقہ پینے والوں کو اگر شریک کرلیاجائے تو کیاقباحت لازم آئے گی اور حقہ پیناشرع شریف میں کیاحکم رکھتاہے؟
الجواب : حقے تین قسم ہیں، ایک وہ جس طرح جہّال رمضان شریف میں افطار کے وقت دم لگاتے ہیں جس سے آنکھیں چڑھ جاتی ہیں حواس متغیر ہوجاتے ہیں وہ حرام ہے، حدیث میں ہے:
نھٰی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن مسکر ومفتر۱؎۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ہرنشہ آور اورجسم میں سستی پیدا کرنے والی چیزکے استعمال سے منع فرمایا ہے۔(ت)
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب الاشربہ باب ماجاء فی السکر آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۶۳)
دوسرا وہ جسے بے احتیاط لوگ پیتے ہیں جن کے تازہ ہونے کااہتمام نہ ہو اور تمباکو کثیف وبدبو ہو وہ مکروہ تنزیہی وخلاف اولٰی ہے جیسے کچا لہسن اور کچی پیاز، درمختار میں ہے:
الحاقا بالثوم والبصل۲؎۔
اس کو کچے لہسن اور پیاز کے ساتھ الحاق کیاگیا لہٰذا دونوں کاایک حکم رکھاگیا(ت)
(۲؎ درمختار کتاب الاشربہ مطبع مجتبائی ۲/ ۲۶۱)
تیسرا وہ کہ اسے بدبو سے بچایاجائے اور کسی منکر شرعی پرمشتمل نہ ہو وہ مباح خالص ہے، قال اﷲ تعالٰی:
خلق لکم مافی الارض جمیعا۳؎۔
(وہی اﷲ تعالٰی ہے کہ) جس نے تمہارے لئے وہ سب کچھ پیدافرمایا جو زمین میں موجود ہے۔(ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۹)
توشہ اصحاب کہف میں حقہ نہ پینے کی کوئی شرط نہیں البتہ توشہ حضرت شاہ عبدالحق ردولوی قدس سرہ العزیز میں یونہی معمول ہے کہ حقہ پینے والے کو نہ دیاجائے اس میں کوئی حرج نہیں، نہ اس سے حقہ پینے کی مطلقا مذمت ثابت ہوتی، حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنی ایک صاحبزادی کے دفن میں فرمایا ان کی قبرمیں وہی اترے جو آج کی رات اپنی عورت کے پاس نہ گیا ہو''۔ اس سے اپنی عورت کے پاس جانے کی مذمت ثابت نہیں ہوتی، یہ مصالح خاصہ ہیں جن کے اسرار اہل باطن جانتے ہیں، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۴ : ازگونڈل علاقہ کاٹھیاواڑ عبدالستار بن اسمٰعیل رضوی بروزشنبہ ۱۷ رجب ۱۳۳۴ھ تمباکو کاکھانا پان میں یایوں ہی بلاپان کے جائزہے یانہیں، تمباکو خالص ہو یا خوردنی خوشبودار جولکھنؤ میں بنتاہے؟
الجواب: تمباکو اور حقہ کاایک حکم ہے، جیساوہ حرام ہے یہ بھی حرام ہے اور جیساوہ جائزہے یہ بھی جائز، بدبو ہے توباکراہت ورنہ بلاکراہت۔ فقط ایک فرق ہے جولوگ غیرخوشبو دارتمباکو کھاتے ہیں اور اسے منہ میں دبارکھنے کے عادی ہیں ان کامنہ اس کی بدبو سے بس جاتاہے کہ قریب سے بات کرنے میں دوسرے کو احساس ہوتا ہے اس طرح تمباکو کھاناجائزنہیں کہ یہ نمازبھی یوں ہی پڑھے گا اور ایسی حالت سے نماز مکروہ تحریمی ہے بخلاف حقہ کے کہ اس میں کوئی جرم منہ میں باقی نہیں رہتا اوراس کا تغیّرکلیوں سے فوراً زائل ہوجاتاہے۔ واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۳۵:مسئولہ معرفت آدم جی سیٹھ اثم بیگ گونڈل اور کاٹھیاواڑ شنبہ یکم شعبان ۱۳۳۴ھ حقہ، چروٹ، بِیڑی کاپیناکیساہے؟ الجواب : چرٹ بوجہ نصارٰی مکروہ ہے اور بِیڑی میں حرج نہیں اور حقہ جیساعام طورپررائج ہے مباح اور ترک اولٰی۔