Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
118 - 160
مسئلہ۱۹: بعض اعصار وامصار میں ایک ٹوپی لباس روافض تھی علماء نے فرمایا اس کاپہننا گناہ ہے منح الروض میں ہے:
لبس تاج الرفضۃ مکروہ کراھۃ تحریم  وان لم یکن کفرا بناء علی عدم تکفیرھم لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من تشبہ بقوم فھومنھم۱؎۔
رافضیوں کی ٹوپی پہننامکروہ تحریمی ہے اگرچہ کفرنہیں، اس وجہ سے کہ ان کی تکفیرمروی نہیں(اور کراہت کی وجہ یہ ہے کہ) حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا جو کسی قوم سے مشابہت اختیارکرے وہ (درحقیقت) اُن ہی میں سے ہے(ت)
 (۱؎ منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر     فصل فی الکفر صریحاً وکنایۃً     مصطفی البابی مصر     ص۱۸۵)
مسئلہ ۲۰: یہ تومرد وعورت کاتشبّہ تھا یاگمراہ سے پھرمعاذاﷲ اس کی خباثت کاشمار جس میں کفّار سے تشبّہ ہو، ائمہ دین نے فرمایا بلاضرورت شرعیہ مجوس کی ٹوپی پہننی کفرہے اگرچہ ہنسی سے پہنے اور اگرکوئی پہنے اور اس پراعتراض ہوتو کہے، دل مستقیم چاہے کپڑا کسی وضع کاہو، وہ کافرہوجائے گا کہ اس نے احکام شریعت کو رَد کیا۔ خزانۃ المفتین میں ہے:
اذا وضع قلنسوۃ مجوس علی راسہ الاصح انہ یکفر۲؎۔
جب کوئی شخص اپنے سرپر آتش پرستوں کی ٹوپی رکھے تو زیادہ صحیح یہ ہے کہ وہ کافر ہوجائے گا۔(ت)
(۲؎ خزانۃ المفتین     فصل فی الالفاظ الکفر         قلمی نسخہ        ۱/ ۲۰۱)
ملتقط پھرمنح الروض میں ہے:
لبس قلنسوۃ المجوس جادا اوھازلا یکفر الا اذا فعل خدیعۃ فی الحرب۱؎۔
آتش پرستوں کی ٹوپی پہنی خواہ سنجیدگی سے ایساکیا خواہ ہنسی مذاق سے۔ دونوں صورتوں میں کافر ہوگیامگرجبکہ جنگ میں کفار کو فریب دینے کےلئے ایساکیا(ت)
(۱؎ منح الروض الازہر شرح فقہ الاکبر     فصل فی الکفر صریحاً وکنایۃً        مصطفی البابی مصر     ص۱۸۵)
اسی میں فتاوٰی امام ظہیرالدین مرغینانی سے ہے:
من وضع قلنسوۃ المجوس علی راسہ فقیل لہ فقال ینبغی ان یکون القلب سویاکفر ''قال'' ای لانہ ابطل حکم ظواھر الشریعۃ۲؎۔
جس نے اپنے سر پرآتش پرستوں کی ٹوپی رکھی، پھر اس سے کہاگیا(تو نے ایساکیوں کیا) تو اس نے کہا دل سیدھاہوناچاہئے۔ تو وہ کافرہوگیا فرمایا(یعنی اس کے کفر کی وجہ یہ ہے کہ) اس نے ظاہرشریعت کے حکم کوباطل قراردیا اور اس کارَد کیا۔(ت)
 (۲؎منح الروض الازہر شرح فقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحاً وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵)
مسئلہ ۲۱: وضع کفار کی ٹوپی، الگ رومال اس شکل پربناکر سرپررکھنا بھی حرام ہے یہاں تک کہ بعض ائمہ نے اس صورت میں حکم کفر دیا۔ 

جامع الفصولین میں ہے :
جعل مندیلہ یشبہ قلنسوۃ المجوسی ووضعہ علی راسہ کفر، لاعنداکثرھم۳؎۔
آتش پرستوں کی ٹوپی کے مشابہ رومال بناکر اپنے سرپررکھاتو ائمہ کرام کے نزدیک کافرہوگیا لیکن اکثرائمہ کے نزدیک ایسانہیں۔(ت)
(۳؎ جامع الفصولین     الفصل الثامن فی مسائل کلمات الکفر  اسلامی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۳۱۲)
مسئلہ ۲۲ و ۲۳: ماتھے پرقشقہ تِلک لگانا یاکندھے پرصلیب رکھناکفرہے،
وفی منح الروض، لووضع الغل علی کتفہ فقد کفر اذا لم یکن مکرھا۴؎ وفیہ عن الملتقط، اخذ الغل جادا اوھازلا یکفر الا اذا فعل خدیعۃ فی الحرب ۵؎اھاقول:  وھذا شیئ لایعرف فی دیارنا ولفظ جامع الفصولین وضع صلیبا علی کتفہ کفر۱؎اھ وھذا واضح فلعل مافی المنح تصحیف۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
منح الروض میں ہے اگر کسی نے اپنے کندھے پر زنجیر(صلیب) رکھی تو کافرہوگیا بشرطیکہ مجبورنہ کیاگیاہو، اور اسی (منح الروض) میں فتاوٰی ملتقط کے حوالے سے ہے۔ زنجیر خواہ سنجیدگی سے رکھی یاہنسی مذاق سے، دونوں صورتوں میں کافرہوگیا مگریہ کہ جنگ میں کفار کومغالطہ دینے کے لئے ایساکیا(توگنجائش ہے)اھاقول:  (میں کہتاہوں) (غل کے معنی زنجیرہیں) اور یہ اس معنی میں ہمارے شہروں میں متعارف نہیں۔ اور جامع الفصولین کے الفاظ یہ ہیں''کسی نے اپنے کندھے پرصلیب رکھی توبلاشبہ کافرہوگیا اور یہ واضح ہے، لہٰذا منح الروض میں جوکچھ مذکورہواوہ کتابت کی غلطی ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۴؎ منح الروض الازشرح فقہ الاکبر     فصل فی الکفر صریحاً وکنایۃً        مصطفی البابی مصر     ص۱۸۵)

(۵؎منح الروض الازہر شرح فقہ الاکبر     فصل فی الکفر صریحاً وکنایۃً        مصطفی البابی مصر     ص۱۸۵)

(۱؎ جامع الفصولین     الفصل الثامن فی مسائل کلمات الکفر     اسلامی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۳۱۲)
مسئلہ ۲۴: زنّار باندھنا کفرہے۔ منح الروض میں ہے:
لوشد الزنار علی وسطہ فقد کفر ای اذا لم یکن مکرھا۲؎۔
اگر کسی نے اپنی کمرپرزنّار (علامت کفرکادھاگہ) باندھا توبیشک کافرہوگیا بشرطیکہ اس پرزبردستی نہ کی گئی ہو۔(ت)
 (۲؎ منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر     فصل فی الکفر صریحاً وکنایۃً     مصطفی البابی مصر     ص۱۸۵)
اسی میں ملتقط سے ہے:
شدالزنار جادا اوھاز لا یکفر الا اذافعل خدیعۃ فی الحرب۳؎۔
زنّار باندھا خواہ سنجیدگی سے ایساکیا یاہنسی مذاق سے، تو کافرہوگیا مگر جبکہ جنگ میں دشمن کودھوکے میں ڈالنے کے لئے ایساکیا(تو کسی قدرگنجائش ہے)(ت)
 (۳؎منح الروض الازہر شرح فقہ الاکبر     فصل فی الکفر صریحاً وکنایۃً        مصطفی البابی مصر     ص۱۸۵)
اسی میں محیط سے ہے:
ان شدالمسلم الزنارودخل دارحرب للتجارۃ کفر۴؎۔
اگر کسی مسلمان نے زنّار گلے میں باندھا اور دارحرب (دارکفر) میں کاروبار کے لئے گیا تو کافرہوگیا۔(ت)
 (۴؎منح الروض الازہر شرح فقہ الاکبر     فصل فی الکفر صریحاً وکنایۃً        مصطفی البابی مصر     ص۱۸۵)
اسی طرح جامع الفصولین وخزانۃ المفتین میں ہے اشباہ والنظائر میں ہے:
عبادۃٰ الصنم کفروکذا لوتزنربزنار الیہود والنصاری دخل کنیستھم اولم یدخل۱؎۔
بُت کی پرستسش کفرہے، اور اسی طرح حکم کفرہے اگر کسی نے یہودیوں یاعیسائیوں کازنّار گلے میں باندھا (تو اس حرکت سے کافرہوجائے گا) خواہ ان کے گِرجے میں جائے یانہ جائے۔(ت)
 (۱؎ الاشباہ والنظائر     الفن الثانی     کتاب السیر      باب الردۃ    ادارۃ القرآن کراچی     ۱/ ۲۹۵)
بحرالرائق میں ہے:
یکفربشدالزنار فی وسطہ الااذا فعل ذٰلک خدیعۃ فی الحرب وطلیعۃ للمسلمین۲؎۔
کمر میں زنّار باندھنے سے کافرہوجائے گا مگرجبکہ جنگ میں کفار کومغالطہ اور دھوکا دینے کے لئے ایساکرے یالشکراسلام سے کفار کے حالات معلوم کرنے کے لئے پہلے جائے(اورزنّار باندھ لے)۔(ت)
(۲؎ بحرالرائق         کتاب السیر     باب احکام المرتدین     ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی     ۵/ ۱۲۳)
مسئلہ ۲۵: زُنّار بھی نہیں کوئی رسّی کاٹکڑا کمر سے باندھا کسی نے کہایہ کیاہے، کہازُنار۔کافر ہوجائے گا۔ 

خلاصہ وعالمگیریہ وبزازیہ وظہیریہ وجامع الفصولین وخزانۃ المفتین وغیرہ میں ہے:
امرأۃ شدت علی وسطھا حبلا وقالت ھذا زنار تکفر۳؎۔
کسی عورت نے اپنی کمر میں کوئی رسی باندھی(تو اس سے پوچھا گیایہ کیاہے؟) اس نے جواب دیا یہ زنّار ہے تو وہ کافرہ ہوجائے گی۔(ت)ظہیریہ ومنح الروض میں ہے:
وحرم الزوج۴؎
 (اس عورت پرشوہر حرام ہوگیا یعنی وہ نکاح سے نکل گئی۔ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیہ    بحوالہ خلاصہ     کتاب السیر الباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور    ۲/ ۲۷۷)

 (۴؎ منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر     فصل فی الکفرصریحاً وکنایۃً     مصطفی البابی مصر     ص۱۸۵)
یہاں تو خود اس چیز ہی میں مشابہت صوری میں کتنافرق ہے مگرنام رکھنے سے کفرآیا توجہاں صورت ونام سب موجود حکم تشبہ کیونکر مفقود۔ بالجملہ ایک بات میں تشبّہ کواورباتوں میں تشبّہ نہ ہونے سے مندفع جاننا ہرگزکام نہیں مگرمجنوں یابددین کا، نہ کہ زید کا ادعاء باطل، جس کاحاصل یہ کہ سوباتیں تشبّہ کی ہوں ایک نہ ہوتو تشبّہ نہ رہے گا، ایسوں کی نگاہ میں شریعت مطہرہ کی توجوقدرہوتی ہے بدیہی ہے مگر انسانی عقل وتہذیب کوبھی رخصت کردیا، کیازید کے سے مسلک والا بشرطیکہ مجنون نہ ہوگواراکرے گا کہ سرسے پاؤں تک زنانہ لباس انگیا، کُرتی، کلیوں دارپائچے، ہاتھ پاؤں میں مہندی رچائے صرف ٹوپی سرپررکھ لے تشبّہ نہ رہا، کہ ادنٰی فرق دفع تشبّہ کے لئے کافی ہے بلکہ ٹوپی کی بھی کیاحاجت ہے اس زنانے کپڑے کے ساتھ بنت کادوپٹہ بھی سرپر اوڑھئے اور چوٹی بھی گندھوئیے، منہ کی مونچھیں ہی دفع تشبّہ کو بس ہوں گی حالانکہ ہر عاقل ایسے شخص کو زنانہ جانے گا بلکہ اگرتمام لباس مردانہ ہو ہتھیار لگائے گھوڑے پرسوارہو اور بات کرے ناک پرانگلی رکھ کر تویقینا تمام عقلاء اس پرہنسیں گے اور اسے زنانہ کہیں گے، اس ایک ہی بات کے آگے وہ تمام لباس وسلاح واسپ کام نہ دیں گے، جس وضع کفارمیں وہ جھوٹی تاویلیں سوجھیں کیایہ حرکت کرنا بھی قبول کرےگا کہ آخرکافر سے تشبہ، عورت سے تشبّہ پرخبث وشناعت میں ہزار درجہ فائق ہے۔ اﷲ عزوجل مسلمانوں کو ہدایت فرمائے۔آمین! واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter