Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
117 - 160
مسئلہ ۱۲: عورت کو اپنے سرکے بال کترنا حرام ہے اور کترے توملعونہ کہ مردوں سے تشبّہ ہے۔ 

درمختارمیں ہے:
قطعت شعر رأسھا اثمت ولعنت والمعنی المؤثر التشبہ بالرجال ۲؎۔
کسی عورت نے سرکے بال کترڈالے تو وہ گنہگارہوئی، نیزاﷲ تعالٰی کی اس پرلعنت برسی۔ اور اس میں جو علت مؤثرہ ہے وہ مردوں سے ''تشبّہ ''ہے۔(ت)
 (۲؎ درمختار   کتاب الحظروالاباحۃ   فصل فی البیع   مطبع مجتبائی دہلی  ۲/ ۲۵۰)
مسئلہ ۱۳: مرد کو اپنا سرکھلوانا جسے پان بنواناکہتے ہیں حلال ہے جبکہ اطراف کے بال باقی رکھے اور گوندھے نہیں ورنہ پیشانی یاقفا کے بال مونڈنا مجوس سے تشبّہ ہے اور گوندھنا بعض دیگرکفار سے۔ 

ذخیرہ وتاتارخانیہ وہندیہ وردالمحتار میں ہے:
لاباس للرجل ان یحلق وسط رأسہ ویرسل شعرہ من غیر ان یفتلہ وان فتلہ فذٰلک مکروہ لانہ یصیر مشابھا ببعض الکفرۃ والمجوس فی دیارنا یرسلون الشعر من غیر فتل ولٰکن لایحلقون وسط الرأس بل یجزون الناصیۃ، ینابیع۱؎۔
کوئی حرج نہیں کہ مرد اپنے سرکادرمیانی حصہ منڈوائے اور بقیہ بال بغیرگوندھے کھلے چھوڑدے، اوراگراس نے انہیں گوندھ ڈالا توایساکرنا مکروہ ہے کیونکہ اس صورت میں وہ بعض کافروں سے مشابہ ہوجائے گا۔ اور ہمارے علاقائی آتش پرست بغیرگوندھے اپنے بال کھلے چھوڑتے ہیں لیکن وہ سرکی چوٹی کے بال نہیں مونڈھتے بلکہ پیشانی کے بال کترڈالتے ہیں۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار         کتاب الحظروالاباحۃ     فصل فی البیع         داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۶۱)
عالمگیریہ میں ہے:
عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ یکرہ ان یحلق قفاہ الاعندالحجامۃ۲؎۔
امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ گُدّی کے بال مونڈھنا مکروہ ہیں مگرجبکہ پچھنے لگوائے۔(ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیۃ     کتاب الکراہیۃ     الباب التاسع عشر     نورانی کتب خانہ پشاور     ۵/ ۳۵۷)
مسئلہ ۱۴: مرد کو ساڑھے چارماشے سے کم وزن کی ایک انگوٹھی ایک نگ کی جائزہے دو یا زیادہ نگ حرام کہ زیورِ 

زنان ہوگیا۔

جامع الرموز وردالمحتارمیں ہے:
انما یجوزالتختم بالفضۃ لو علی ھیأۃ خاتم الرجال اما لولہ فصان او اکثر حرم۳؎۔
چاندی کی انگوٹھی پہننا جائزہے بشرطیکہ مردانہ انگوٹھیوں کی شکل وصورت پرہو(نیزاس کا ایک نگینہ ہو) اگردویازیادہ نگینے ہوں توحرام ہے۔(ت)
 (۳؎ ردالمحتار         کتاب الحظروالاباحۃ     فصل فی اللبس     داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۳۱)
مسئلہ ۱۵: چاندی کی مردانی انگوٹھی عورت کو نہ چاہئے اورپہنے توزعفران وغیرہ سے رنگ لے۔

شیخ محقق اشعۃ اللعات میں فرماتے ہیں:
زنان را تشبّہ برجال مکروہ است تاآنکہ انگشتری نقرہ زنان رامکروہ است واگر بکنند باید کہ رنگ کنند بزعفران ومانندآں۴؎۔
عورتوں کومردوں سے مشابہت اختیارکرنی مکروہ ہے اور اس کالحاظ اس حد تک ہے کہ عورتوں کوچاندی کی انگوٹھی پہننی مکروہ ہے اگر کبھی اتفاقاً پہننی پڑے تو اسے زعفران وغیرہ سے رنگ لے۔(ت)
(۴؎ اشعۃ اللمعات شرح المشکوٰۃ     کتاب اللباس باب الترجل     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۳/ ۵۸۱)
مسئلہ۱۶: مرد کو عورت کی طرح چرخہ کاتنامکروہ ہے کہ زنانہ کام ہے تشبّہ ہوگا۔ درمختارمیں ہے:
غزل الرجل علٰی ھیأۃ غزل المرأۃ یکرہ۱؎۔
کسی مرد کا عورتوں کی طرح چرخے پرسُوت کاتنا مکروہ ہے(ت)
 (۱؎ درمختار      کتاب الحظروالاباحۃ     فصل فی البیع         مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۲۵۳)
طحطاوی میں ہے:
لمافیہ من التشبہ وقد لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم المتشبھین والمتشابھات۲؎۔
اس لئے کہ اس میں تشبّہ ہے(اور وہ ممنوع ہے)اس لئے کہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے عورتوں سے مشابہت کرنے والے مردوں، اور مردوں سے مشابہت کرنے والی عورتوں پرلعنت فرمائی ہے(ت)
 (۲؎ طحطاوی علی الدرالمختار    کتاب الحظروالاباحۃ     فصل فی البیع           المکتبۃ العربیہ کوئٹہ    ۴/ ۲۱۱)
مسئلہ۱۷: بلاضرورت صحیحہ عورت کو گھوڑے پرچڑھنا منع ہے کہ مردانہ کام ہے، حدیث میں اس پر لعنت آئی، ابن حبان اپنی صحیح میں عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
یکون فی اخر امّتی نساء یرکبن علی مرج کاشباہ الرجال الحدیث وفی اٰخرہ العنوھن فانھن ملعونات۳؎۔
میری اُمت کے آخر میں کچھ ایسی عورتیں ہوں گی جو مردوں کی طرح جانوروں پرسوارہوں گی، الحدیث، اور اس کے آخر میں یہ الفاظ آئے ہیں: اُن عورتوں پرلعنت بھیجوکیونکہ وہ ملعون ہیں۔(ت)
 (۳؎ مواردالظمٰان     باب فیما یحرم علی النساء مما یصف البشرۃ     حدیث ۱۴۵۴     المطبعۃ السلفیہ     ص۳۵۱)
اقول: وکانّ مااشتھر حدیثا بلفظ لعن اﷲ الفروج علی السروج۴؎ ماخوذ من ھذا نقلا بالمعنی۔
اقول:(میں کہتاہوں کہ) گویا مشہورحدیث کے جوالفاظ ہیں وہ اسی حدیث مذکورسے نقل معنوی کے طورپر لئے گئے ہیں ''اﷲ تعالٰی ان فروج (شرمگاہوں) پرلعنت کرے جو زینوں(کاٹھیوں) پرسوارہوں''۔(ت)
 (۴؎ اسرارالموضوعۃ     حدیث ۷۱۵                دارالکتب العلمیہ بیروت     ص۱۸۵)
مسئلہ ۱۸: مردسیدھے ہاتھ میں انگوٹھی نہ پہنے کہ رافضیوں کاشعارہے۔ 

درمختارمیں ہے:
یجعلہ لبطن کفہ فی یدہ الیسری و قیل الیمنی الاانہ من شعار الروافض فیجب التحرز عنہ قہستانی۱؎ وغیرہ اھاقول:  والجواز فی نفسہ لاینافی وجوب الاحتراز لغیرہ، علی انہ لم یعزہ للقہستانی وحدہ فلعلہ عن غیرہ فاندفع مافی ش ھذا وقال فی الدر بعدہ قلت ولعلہ کان وبان فتبصر۲؎،
انگوٹھی اپنے بائیں ہاتھ میں اس طرح پہنے کہ اس کا نگینہ ہاتھ کی اندرونی سطح کی طرف ہو۔ اور یہ بھی کہاگیا کہ دائیں ہاتھ میں پہنے۔ مگریہ رویہ رافضیوں کاشعار(علامت) ہے۔ لہٰذا اس سے اجتناب ضروری ہے، قہستانی وغیرہ اھ۔اقول:  (میں کہتاہوں کہ) کسی چیز کابذاتہٖ جواز، احتراز لغیرہٖ کے وجوب کے منافی نہیں۔ (وضاحت: ایک چیز بالذات جائزہے لیکن کسی اورچیز کی بناء پرقابل ترک ہے تو ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں، لہذایہ نہ کہاجائے گا کہ یہ کیسے ہوسکتاہے کہ ایک چیز جائزبھی ہو اور منع بھی ہو، اس لئے کہ یہاں جوازوعدم جواز کی جہات بدل گئیں لہٰذا تناقض نہ پایاجائے گا کیونکہ وجود تناقض کے لئے اتحادجہات ضروری ہے جیسا کہ کتب منطق میں مذکورہے۔ یہاں غورکیجئے اصل کے اعتبار سے انگوٹھی دونوں ہاتھوں میں پہننی جائزہے، اس میں کوئی قباحت نہیں لیکن چونکہ روافض دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے ہیں لہٰذا ان کی مشابہت سے بچنے کے لئے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی نہ پہنے۔ لہٰذا اگر وہ اس معمول کو چھوڑدیں تو پھردائیں ہاتھ میں بھی پہن سکتاہے۔ مترجم) اور اس کے علاوہ یہ بھی ہے کہ اس مسئلہ کاانتساب صرف علامہ قہستانی ہی کی طرف نہیں(جیسا کہ ظاہرہے) لہٰذا یہ قہستانی کے علاوہ دوسرے اہل علم سے بھی منقول ہے، لہٰذا اس کی شرح ''ش'' میں جوکچھ کہاگیا اس کا دفاع ہوگیاہے۔ اور پھر اس کے بعد درمختار میں ہےاقول:  (میں مصنف درمختار) کہتاہوں) شاید یہ زمانہ سابقہ میں شعارِ روافض تھا لہٰذا اب ان کاشعارنہیں رہا(لہٰذا غور سے دیکھئے اور سوچئے)
 (۱؎ درمختار     کتاب الحظروالاباحۃ     فصل فی اللبس     مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۲۴۰)

(۲؎درمختار     کتاب الحظروالاباحۃ     فصل فی اللبس     مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۰)
قال ش ''ای کان ذٰلک من شعارھم فی الزمن السابق ثم انقطع فلاینھی عنہ و فی غایۃ البیان قدسوی الفقیہ ابواللیث فی شرح الجامع الصغیر بین الیمین والیسار وھو الحق لانہ قد اختلف الروایات عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی ذٰلک وقول بعضھم انہ فی الیمین من علامات اھل البغی لیس بشیئ لان النقل الصحیح عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ینفی ذٰلک۱؎اھ وتمامہ فیہاقول:  لیس فیہ زیادۃ علی ھذا بل ذکر روایتین بیانا لقولہ قداختلف الروایات لکن فی المرقاۃ عن شرح السنۃ للامام البغوی تحت حدیث الصحیحین عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما قال اتخذ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خاتما من ذھب وجعلہ فی یدہ الیمنی ثم القاہ الحدیث، ھذا الحدیث یشتمل علٰی امرین تبدل الامر فیہما من بعد، احدھما لبس خاتم الذھب، وصارالحکم فیہ ای التحریم فی حق الرجال، وثانیھما لبس الخاتم فی الیمین وکان اٰخرالامرین من النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لبسہ فی الیسار۲؎اھ وانما یؤخذ بالاٰخرفالاٰخر من فعلہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ش (شارح) نے فرمایا یعنی دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنناگزشتہ زمانے میں رافضیوں کا شعارتھا اور  وہ ختم ہوگیاہے لہٰذا اب وجہ اشتباہ زائل ہوجانے کی بنا پرممانعت نہ رہی۔ اور غایۃ البیان میں ہے کہ فقیہ ابواللیث سمرقندی رحمۃ اﷲ علیہ نے شرح جامع صغیر میں دائیں اور بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننے کویکساں طورپرجائز قراردیاہے، اور یہی حق ہے کیونکہ اس باب میں حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم سے مختلف روایات مروی ہیں۔ اور بعض کایہ کہنا کہ دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا باغیوں کی علامت ہے اپنے اندر کچھ حقیقت اور وزن نہیں رکھتا، کیونکہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام سے صحیح طور پر منقول ہونا اس کی نفی کرتا۔عبارت مکمل ہوگئی اور پوری تفصیل اس میں موجود۔اقول:  (میں کہتاہوں) اس میں اس سے زائد نہیں، بلکہ موصوف نے دوروایتیں اپنے قول (قداختلف الروایات) کی وضاحت کے لئے ذکرفرمائیں۔ لیکن شرح مشکوٰۃ ملاعلی قاری میں امام بغوی کی شرح السنۃ کے حوالے سے بخاری اور مسلم کی حدیث جو حضرت عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما کی سند سے مروی ہے اس کے ذیل میں ارشاد فرمایا حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے سونے کی انگوٹھی بنوائی پھر اسے اپنے دائیں ہاتھ میں پہناپھر اسے پھینک دیا(الحدیث)، اوریہ حدیث دوباتوں پرمشتمل ہے، پھر اس کے بعد دونوں میں امر تبدیل ہوگیا، ان دونوں میں سے ایک یہ ہے کہ سونے کی انگوٹھی پہنی، اس میں حکم کی تبدیلی اس طرح ہوئی کہ سونامردوں کے حق میں حرام ہوگیا، دوسری بات یہ ہے کہ دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنی۔ لیکن حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کاآخری امر(طرزعمل) کتب روایات میں یہ آیاہے) کہ آپ نے بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنی اھ(اور اصول یہ ہے کہ) حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے آخری عمل کولیاجاتاہے (یعنی اس پرعمل کیاجاتاہے) اور آپ کاآخری عمل یہی ہے کہ آپ نے بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنی۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار     کتاب الحظروالاباحۃ     فصل فی اللبس             داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۳۰)

(۲؎ مرقاۃ المفاتیح     کتاب اللباس     باب الخاتم     حدیث ۴۳۸۳    مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۱۷۷)
Flag Counter