مسئلہ ۴: جامع ترمذی میں سیدنا بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے:
نظفوا افنیتکم ولاتشبّھوا بالیھود۱؎۔
اپنے پیش دروازہ زمینیں ستھری رکھو یہودیوں سے تشبّہ نہ کرو کہ جب سے ان پرذلّت ومسکنت ڈالی گئی ان کی زمینیں میلی کثیف رہتیں۔ یہاں محض ایک بیرونی شَے پرجسے جسم ولباس سے بھی علاقہ نہیں تشبّہ فرمایاگیا۔
(۱؎ جامع الترمذی ابواب الاستیذان والادب باب ماجاء فی النظافۃ امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۰۳)
مسئلہ ۵: سنن ابی داؤد میں ابن ابی ملیکہ سے ہے:
قیل لعائشۃ ان امرأۃ تلبس النعل فقالت لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الرجلۃ من النساء۲؎۔
ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے عرض کی گی ایک عورت مردانہ جوتا پہنتی ہے، فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ان عورتوں پرلعنت فرمائی جومردانی وضع اختیارکریں۔
(۲؎ سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لباس النساء آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۱۰)
مرقاۃ میں ہے:
تلبس النعل ای التی تختص بالرجال۳؎۔
تلبس النعل یعنی عورت وہ جوتاپہنتی جومردوں سے خصوصیت رکھتاہے۔(ت)
(۳؎ مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ کتاب اللباس حدیث ۴۴۷۰ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۴۶)
مسئلہ ۶: نمازمیں کسی فعل وحالت میں اہل کتاب سے تشبّہ منع ہوا اور نماز مسلمین کا اپنے عامہ افعال وصفت وہیأت میں ان کی نماز سے جداہونا مانع تشبہ نہ ہوا اسی لئے امام کامحراب میں کھڑا ہونا مکروہ ہے۔
ہدایہ میں ہے:
یکرہ ان یقوم فی الطاق لانہ یشبہ صنیع اھل الکتاب من حیث تخصیص الامام بالمکان۴؎۔
امام کامکمل طور پرمحراب میں کھڑاہونا مکروہ ہے اس لئے کہ یہ کارروائی اہل کتاب سے مشابہت رکھتی ہے اس حیثیت سے کہ امام کی ایک جگہ (محراب) سے تخصیص کردی۔(ت)
(۴؎ الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/ ۱۲۰)
مسئلہ ۷: اسی لئے امام کاسب مقتدیوں سے بلندی ممتازپرہونا مکروہ ہوا۔
ہدایہ میں ہے:
یکرہ ان یکون الامام وحدہ علی الدکان لماقلنا۱؎۔
تنہا امام کاکسی بلندممتاز جگہ کھڑاہونا مکروہ ہے،اور اس کی وجہ وہی ہے جو ہم نے پہلے بیان کردی۔(ت)
(۱؎ الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/ ۱۲۰)
فقہائے کرام نے اس کی علت یہ قراردی کہ یہ رویہ اہل کتاب سے مشابہت رکھتاہے کیونکہ وہ لوگ اپنے امام کے لئے (سب سے الگ) ایک نمایاں، ممتاز اوربلند چبوترہ متعین کرتے تھے(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۴)
مسئلہ ۸: نماز میں قرآن مجید دیکھ کرپڑھنا امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیک تومفسد نمازہے صاحبین رحمہما اﷲ تعالٰی نماز صحیح مانتے ہیں مگرمشابہت اہل کتاب کے باعث مکروہ جانتے ہیں۔ ہدایہ میں ہے:
اذا قرأ الامام من المصحف فسدت صلاتہ عند ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ وقالا ھی تامۃ الاانہ یکرہ لانہ تشبہ بصنع اھل الکتاب۳؎۔
جب امام (بحالت نماز) قرآن مجید دیکھ کرتلاوت کرے توامام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیک نمازفاسد ہوجائے گی(یعنی ٹوٹ جائے گی) لیکن ان کے دونامورشاگردوں نے فرمایا نمازپوری ہوگئی مگر اس طرح کرنامکروہ ہے اس لے کہ یہ طریقہ اہل کتاب کی کارروائی سے مشابہت رکھتاہے(ت)
(۳؎ الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/ ۱۱۶)
مسئلہ ۹: جہاں جاندار کی تصویر کھلی ہوئی بے اہانت رکھی ہو اگرچہ نمازی کے پس پشت، وہاں نمازبوجہ تشبہ مکروہ ہے ۔ردالمحتارمیں ہے:
تصویر کے حرام ہونے کی علت (وجہ) اﷲ تعالٰی کی تخلیق (بنائی ہوئی چیزوں) میں مشابہت اختیارکرناہے (جوشرکت کاوہم پیداکرتاہے) اور تصویر کے ساتھ نمازپڑھنا مکروہ ہے، پس اس کی علت تشبّہ ہے۔(ت)
(۴؎ ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۵)
مسئلہ ۱۰: یونہی جہت قبلہ میں اگر صلیب ہو نمازمکروہ ہے کہ نصارٰی سے تشبّہ ہے۔ ردالمحتار میں بعدعبارت مذکورہ یہ مسئلہ تصویرہے۔
اقول: والظاھر انہ یلحق بہ الصلیب وان لم یکن تمثال ذی روح لان فیہ تشبھا بالنصارٰی ویکرہ التشبہ بھم فی المذموم وان لم یقصدہ۱؎اھاقول: فی الصورۃ علۃ اخری سوی التشبہ و ھو امتناع الملٰئکۃ من دخول بیت ھی فیہ غیرمھانۃ ولم یثبت مثلہ فی الصلیب فلایتأتی الالحاق علی الاطلاق الااذاکانت فی جھۃ القبلۃ وح یلتحق بکافون فیہ ضرام من جمراونار۔ واﷲ تعالٰی اعلم ۔
اقول: ظاہریہ ہے کہ تصویر کے ساتھ صلیب کاالحاق کیاجائے جبکہ تصویر کسی جاندار کی نہ ہو، یعنی صلیب اور تصویر دونوں کاحکم ایک ہے۔ اس لئے کہ اس میں عیسائیوں سے مشابہت ہے اور برے کاموں میں ان سے مشابہت رکھنامکروہ ہے اگرچہ غیرارادی طور پرہواھاقول: (میں کہتاہوں) یہاں تصویر میں ''تشبہ'' کے علاوہ ایک اور علت (وجہ) بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ جس گھر میں بغیرتذلیل تصویررکھی ہو وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ اور یہ وجہ (علت) صلیب میں نہیں۔ لہٰذا تصویر کے ساتھ صلیب کاعلی الاطلاق الحاق نہیں ہوسکتا، مگریہ کہ صلیب جہت قبلہ میں ہو۔ پھراس صورت میں اس چولہے او رانگیٹھی سے اس کاالحاق کردیاجائے گا کہ جس میں آگ کے شعلے بھڑک رہے ہوں۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ با ب مایفسد الصلوٰۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۵)
مسئلہ ۱۱: مرد کو ہتھیلی یاتلوے بلکہ صرف ناخنوں ہی میں مہندی لگانی حرام ہے کہ عورتوں سے تشبّہ ہے۔ شرعۃ الاسلام ومرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں ہے:
الحناء سنّۃ للنساء ویکرہ لغیرھن من الرجال الا ان یکون لعذر لانہ تشبہ بھن۲؎ اھاقول: والکراھۃ تحریمیۃ للحدیث المار لعن اﷲ المتشبھین من الرجال بالنساء فصح التحریم ثم الاطلاق شمل الاظفاراقول: وفیہ نص الحدیث المار لوکنت امرأۃ لغیرت اظفارک بالحناء۱؎اما ثنیا العذر فاقول ھذا اذا لم یقم شیئ مقامہ ولاصلح ترکیبہ مع شیئ ینفی لونہ واستعمل لاعلی وجہ تقع بہ الزینۃ۔
مہندی لگانی عورتوں کے لئے سنت ہے لیکن مردوں کے لئے مکروہ ہے مگرجبکہ کوئی عذر ہو (توپھر اس کے استعمال کرنے کی گنجائش ہے) اس کی وجہ یہ ہے کہ مردوں کے مہندی استعمال کرنے میں عورتوں سے مشابہت ہوگی اھاقول: (میں کہتاہوں) کہ یہ کراہت تحریمی ہے گزشتہ حدیث پاک کی وجہ سے کہ جس میں یہ آیا ہے کہ اﷲ تعالٰی نے ان مردوں پرلعنت فرمائی جو عورتوں سے مشابہت اختیارکریں، لہٰذا تحریم یعنی کراہت تحریمی صحیح ہوئی۔ اور اطلاق (الفاظ حدیث) ناخنوں کوبھی شامل ہے۔اقول: (میں کہتاہوں) اس میں بھی گزشتہ حدیث کی صراحت موجود ہے(حدیث: اگرتُوعورت ہوتی توضرور اپنے سفیدناخنوں کومہندی لگاکرتبدیل کردیتی) رہاعذر کااستثناء کرنا، تو اس کے متعلق میری صوابدید یہ ہے کہ (عذر اس وقت تسلیم کیاجائے گا کہ) جب مہندی کے قائم مقام کوئی دوسری چیزنہ ہو، نیز مہندی کسی ایسی دوسری چیز کے ساتھ مخلوط نہ ہوسکے جو اس کے رنگ کوزائل کردے۔ اور مہندی استعمال میں بھی محض ضرورت کی بناپر بطور دوااورعلاج ہو، زیب وزینت اورآرائش مقصود نہ ہو۔(ت)
(۲؎ مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ کتاب اللباس حدیث ۴۴۲۸ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۱۷)
(شرعۃ الاسلام فصل فی اللباس مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۰۲۔۳۰۱)
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب الترجل باب فی الخضاب للنساء ۲/ ۲۱۸ ومسند امام احمدبن حنبل عن عائشہ رضی اﷲ عنہا ۶/ ۲۶۲)