Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
115 - 160
مسئلہ۱: صحیح بخاری میں عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لعن اﷲ المتشبھین من الرجال بالنساء والمتشابھات من النساء بالرجال۱؎۔
اﷲ کی لعنت اُن مردوں پرجوعورتوں سے تشبہ کریں اور ان عورتوں پرجومردوں پر۔
 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب اللباس     باب المتشبہین الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۸۷۴)
یہ اصل کلی ہے اس کے فروع دیکھئے زنان عرب جو اوڑھنی اوڑھتیں حفاظت کے لئے سرپرپیچ دے لیتیں اس پرارشاد ہوا کہ ایک پیچ دیں دو نہ ہوں کہ عمامہ سے مشابہت نہ ہو عورت کو مرد، مرد کو عورت سے تشبہ حرام ہے: امام احمد وابوداؤد وحاکم نے بسند حسن ام المومنین ام سلمہ رضی ا ﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کی:
ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دخل علیھا وھی تختمر فقال لیۃ لالیتین۲؎۔
نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سیدہ ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے ہاں تشریف لے گئے تو (کیادیکھا) کہ وہ اوڑھنی اوڑھ رہی ہیں تو ارشاد فرمایا سرپر صرف ایک پیچ دو دو(۲) پیچ نہ ہوں۔(ت)
 (۲؎ سنن ابی داؤد     کتاب اللباس     باب کیف الاختمار     آفتاب عالم پریس لاہور     ۲/ ۲۱۲)

(مسنداحمد بن حنبل     عن ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا         المکتب الاسلامی بیروت     ۶/ ۲۹۴ و ۲۹۶)
تیسیرشرح جامع صغیرمیں ہے:
حذرامن التشبہ بالمتعممین۱؎۔
اس خطرہ سے کہ کہیں پگڑی باندھنے والے مردوں سے مشابہت نہ ہوجائے۔(ت)دیکھو تمام زنانہ لباس دفع تشبّہ کے لئے کافی نہ ہوا صرف دوپٹہ کے سرپردوپیچ مورث تشبّہ ہوئے۔
 (۱؎ التیسیر شرح الجامع الصغیرتحت حدیث لیۃ لالیتین مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲/ ۳۳۵)
مسئلہ۲: ایک عورت کندھے پرکمان لگائے گزری رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
لعن اﷲ المتشابھات من النساء بالرجال رواہ الطبرانی۲؎ فی الکبیر عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما والحدیث من دون القصۃ عند احمد وابی داؤد والترمذی وابن ماجۃ بل قدتقدم عن البخاری و ایھام التیسیر انھم جمیعا رووا القصۃ لیس بالواقع۔
اﷲ تعالٰی نے ان عورتوں پرلعنت فرمائی ہے جو مردوں سے تشبّہ کریں(امام طبرانی نے معجم کبیرمیں حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی سند سے اس حدیث کو روایت فرمایا۔ امام احمد(مسنداحمد)، ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ بلکہ امام بخاری سے پہلے گزرچکی، ان تمام محدثین نے بغیر قصہ ذکرکئے اس کو روایت فرمایامگر مصنف التیسیر کایہ وہم کرناکہ سب نے قصہ مذکورہ سمیت اس کو روایت کیاہے خلاف واقع ہے (لہٰذا وہم درست نہیں۔ت)
 (۲؎ المعجم الکبیر للطبرانی     حدیث ۱۱۶۴۷    المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت     ۱۱/ ۲۵۲)

(سنن ابن ماجہ         کتاب النکاح     باب فی المتشبہین     ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی     ص۳۸)
عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالٰی عنہما نے ام سعید بنت ام جمیل کوکمان لگائے مردانی چال چلتے دیکھا، فرمایا:
سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یقول لیس منّا من تشبّہ بالرجال من النساء ولامن تشبّہ بالنساء من الرجال، رواہ احمد۳؎ والطبرانی۔
میں نے حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کوارشاد فرماتے سنا، وہ عورت ہم میں سے نہیں جومردوں سے مشابہت اختیارکرے، اور وہ مرد بھی ہم میں سے نہیں جوعورتوں سے تشبہ اختیارکرے۔ امام احمد اور امام طبرانی نے اس کو روایت فرمایا۔(ت)
 (۳؎ مسنداحمدبن حنبل     مسندعبداﷲ بن عمرو     المکتب الاسلامی بیروت     ۲/ ۲۰۰)

(مجمع الزوائد     بحوالہ الطبرانی کتاب الادب فی المتشبہین      دارالکتاب بیرو ت    ۸/ ۱۰۳)
مسئلہ۳: عورتوں کوحکم فرمایا کہ ہاتھوں میں مہندی لگائیں کہ مردوں کے ہاتھ سے مشابہ نہ ہو۔ ابوداؤد ام لمومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہاسے راوی:
ان ھندۃ بنت عتبۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا قالت یانبی اﷲ بایعنی قال لاابایعک حتی تغیری کفیک کانّہما کفاسبع۱؎۔
عتبہ کی بیٹی ہندہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا نے عرض کی: اے اﷲ تعالٰی کے مکرم نبی! مجھے بیعت فرمائیے۔ ارشاد فرمایا: میں تمہیں بیعت نہیں کرتا جب تو اپنی ہتھیلیوں میں (انہیں رنگین کرکے) تبدیلی نہ لائے، تیری ہتھیلیاں تودرندے کی ہتھیلیوں کی طرح ہیں۔(ت)
(۱؎ سنن ابی داؤد         کتاب الترجل     باب فی الخضاب للنساء     آفتاب عالم پریس لاہور     ۲/ ۲۱۸)
مرقاۃ میں ہے:
شبہ یدیہا حین لم تخضبھما بکفی سبع فی الکراھیۃ لانھا حینئذ شبیھۃ بالرجال۲؎۔
حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے ناپسندیدگی کی وجہ سے اسے غیر رنگین ہاتھوں کو جنگلی درندے سے تشبیہ دی کیونکہ اس حالت میں وہ مردوں کے مشابہ ہوگئی۔(ت)
(۲؎ مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ     کتاب اللباس     باب الترجل     تحت حدیث ۴۴۶۶     مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۴۴)
ایک حدیث میں ارشاد ہوا کہ زیادہ نہ ہوتوناخن ہی رنگین رکھیں۔ احمدوابوداؤد ونسائی بسند حسن ام المومنین رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے راوی:
اومأت امرأۃ من وراء ستر بیدھا کتاب الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقبض النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یدہ فقال ماادری اید رجل ام ید امرأۃ قالت بل ید امرأۃ قال لوکنت امرأۃ لغیرت اظفارک بالحناء۱؎۔
ایک عورت نے پردے کے پیچھے سے اشارہ کیاکہ جس کے ہاتھ میں حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف ایک خط تھا، توحضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کاہاتھ پکڑلیا، پھرارشاد فرمایا مجھے معلوم نہیں کہ کیا یہ کسی مرد کاہاتھ ہے یاعورت کا۔ اس نے عرض کی یہ مرد کاہاتھ نہیں بلکہ عورت کاہاتھ ہے۔ ارشاد فرمایااگرتوعورت ہوتی تو ضرور اپنے ہاتھوں کی سادگی کومہندی لگاکرتبدیل کردیتی۔(ت)
 (۱؎ سنن ابی داؤد    کتاب الترجل     باب فی الخضاب للنساء    آفتاب عالم پریس لاہور     ۲/ ۲۱۸)

(مسنداحمدبن حنبل     عن عائشہ رضی اﷲ عنہا             المکتب الاسلامی بیرو ت    ۶/ ۲۶۲)
شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی اشعۃ اللمعات میں فرماتے ہیں:
وگفتہ اند کہ وجہ کراہت وانکار تشبہ برجال ست وسابقا معلوم شد کہ زنان راتشبّہ برجال مکروہ ست۲؎۔
ائمہ کرام نے فرمایا حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی ناپسندیدگی اور انکارکرنے کی وجہ مردوں سے مشابہت ہے۔ اور پہلے معلوم ہوگیا ہے کہ عورتوں کامردوں سے مشابہت کرنامکروہ ہے(یعنی ناپسندیدہ امرہے) (ت)
 (۲؎ اشعۃ اللمعات     کتاب اللباس     باب الترجل         مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر     ۳/ ۵۸۱)
اقول: (میں کہتاہوں۔ت) بلکہ یہ تعلیل منصوص ہے کہ فرمایا: بے مہندی لگائے اپناہاتھ مرد کاسارکھتی ہو۔
احمد فی مسندہ عن امرأۃ صلت القبلتین مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قالت دخل علی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال اختضبی تترک احدٰکن الخضاب حتی تکون یدھا کیدالرجل قالت فماترکت الخضاب حتی لقیت اﷲ تعالٰی وھی بنت ثمانین۳؎۔
مسنداحمدمیں ایک ایسی خوش نصیب عورت سے روایت ہے کہ جس نے آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی اقتداء میں دوقبلوں (کعبہ شریف اور بیت المقدس) کی طرف منہ کرکے نمازپڑھی، اس نے کہا کہ میں ایک دفعہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں حاضرہوئی تو آپ نے ارشاد فرمایا: ہاتھوں کو خضاب سے رنگین کیجئے۔ تم میں سے ایک، ہاتھوں کو خضاب وغیرہ سے رنگنا چھوڑدیتی ہے، یہاں تک کہ اس کے ہاتھ مردوں کے ہاتھوں کی طرح (سفید) ہوتے ہیں۔ پھر اس کے بعد انہوں نے ہاتھوں پرخضاب لگانانہ چھوڑا حالانکہ ا ن کی عمر اسی سال کی ہوگئی(ت)
 (۳؎ مسنداحمدبن حنبل     عن امرأۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا         المکتب الاسلامی بیروت     ۶/ ۴۳۷)
Flag Counter