امام اجل فقیہ النفس فخرالملۃ والدین قاضی خاں پھر امام محمدمحمدمحمد ابن الحاج حلبی حلیہ شرح منیہ فصل مکروہات الصلوٰۃ پھر علامہ زین بن نجیم مصری بحرالرائق پھر علامہ محمد بن علی دمشقی درمختارمیں فرماتے ہیں:
ہرچیز میں اہل کتاب سے مشابہت مکروہ نہیں جیسے کھانے پینے وغیرہ کے طورطریقے میں کوئی کراہت نہیں۔ ان سے تشبہ ان کاموں میں حرام ہے جومذموم یعنی برے ہیں یاجن میں مشابہت کاارادہ کیاجائے۔(ت)
(۲؎ درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۰)
علامہ علی قاری منح الروض میں فرماتے ہیں:
اناممنوعون من التشبیہ بالکفرۃ واھل البدعۃ المنکرۃ فی شعارھم لامنھیون عن کل بدعۃ ولوکانت مباحۃ سواء کانت من افعال اھل السنۃ اومن افعال الکفر واھل البدعۃ فالمدار علی الشعار۳؎۔
ہمیں کافروں اورمنکر بدعات کے مرتکب لوگوں کے شعار کی مشابہت سے منع کیاگیاہے ہاں اگر وہ بدعت جو مباح کادرجہ رکھتی ہو اس سے نہیں روکاگیا خواہ وہ اہل سنت کے افعال ہوں یاکفار اوراہل بدعت کے۔ لہٰذا مدارِکارشعار ہونے پرہے۔(ت)
(۳؎ منح الروض الازھر علی الفقہ الاکبر فصل فی الکفرصریحاً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵)
فتاوٰی عالمگیری میں محیط سے ہے:
قال ھشام فی نوادرہ ورأیت علی ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی نعلین محفوفین بمسامیر الحدید فقلت لہ اتری بھٰذا الحدید بأسا قال لافقلت لہ ان سفین و ثوربن یزید کرھا ذٰلک لانہ تشبہ بالرھبان فقال ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یلبس النعال التی لہا شعور وانھا من لباس الرھبان۱؎الخ
ہشام نے نوادر میں فرمایا میں نے امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی کوایسے جوتے پہنے ہوئے دیکھا جن کے چاروں طرف لوہے کی کیلیں لگی ہوئی تھیں، میں نے عرض کی، کیاآپ اس لوہے سے کوئی حرج سمجھتے ہیں؟ توفرمایا کہ نہیں، میں نے عرض کی لیکن سفیان اورثوربن یزیدتو انہیں پسندنہیں فرماتے کیونکہ ان میں عیسائی راہبوں سے مشابہت پائی جاتی ہے۔ امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایسے جوتے پہنتے تھے جن کے بال ہوتے تھے حالانکہ یہ بھی عیسائی راہبوں کالباس تھا الخ۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ الباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۳۳)
اس تحقیق سے روشن ہوگیا کہ تشبُّہ وہی ممنوع ومکروہ ہے جس میں فاعل کی نیت تشبہ کی ہو یاوہ شے ان بدمذہبوں کاشعارخاص یافی نفسہ شرعاً کوئی حرج رکھتی ہو، بغیر ان صورتوں کے ہرگز کوئی وجہ ممانعت نہیں۔ اب مسئلہ مسئولہ کی طرف، چلئے دھوتی باندھنے والے مسلمانوں کایہ قصد تو ہرگز نہیں ہوتاکہ وہ کافروں کی سی صورت بنائیں، نہ مدعی نے اس پربنائے کلام کی بلکہ مطلقاً دھوتی باندھنے کو ان سخت شدید اختراعی احکام کاموردقراردیا نہ زنہار قلب پر حکم روا نہ بدگمانی جائز،
قال اﷲ تعالٰی ولاتقف مالیس لک بہ علم ان السمع والبصر والفؤاد کل اولٰئک کان عنہ مسئولا۲؎۔
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: ان باتوں کے پیچھے نہ پڑو جن کاتمہیں کچھ علم نہیں۔ بے شک کان، آنکھ اور دل کے متعلق(بروزقیامت) پوچھاجائے گا۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۳۶/ ۱۷)
اور فی نفسہٖ دھوتی کی حالت کودیکھاجائے تو اس کی اپنی ذات میں کوئی حرج شرعی بھی نہیں بلکہ ساتر ماموربہ کے افراد سے ہے اصل سنت ولباس پاک عرب یعنی تہبند سے صرف لٹکتاچھوڑنے اور پیچھے گھرس لینے کافرق رکھتی ہے اس میں کسی امرشرعی کاخلاف نہیں تو دووجہ ممانعت توقطعاً منتفی ہیں۔ رہا خاص شعارکفارہونا، وہ بھی باطل۔ بنگالہ وغیرہ پورب کے عام شہروں میں تمام سکان ہندومسلمان سب کایہی لباس ہے۔ یوہیں سب اضلاع ہند کے دیہات میں ہندومسلمین یہی وضع رکھتے ہیں۔ رہے وسط ہند کے شہری لوگ، ان میں بھی فنائے شہر اور خود شہر کے اہل حرفہ وغیرہم جنہیں کم قوم کہاجاتاہے بعض ہروقت اور بعض اپنے کاموں ضرورتوں کی حالت میں دھوتی باندھتے ہیں۔
ہاں یہاں کے معزز شہریوں میں اس کارواج نہیں مگر اس کاحاصل اس قدر کہ اپنی تہذیب کے خلاف جاتے ہیں نہ یہ کہ جوباندھے اسے فعل کفرکامرتکب سمجھیں تو غایت یہ کہ ان اضلاع کے شہری وجاہت دار آدمی کوگھر سے باہر اس کاباندھنا مکروہ ہوگا کہ بلاوجہ شرعی عرف وعادت قوم سے خروج بھی سبب شہرت وباعث کراہت ہے۔ علامہ قاضی عیاض مالکی، امام اجل ابوزکریا نووی شافعی شارحان صحیح مسلم پھر عارف باﷲ سیدی عبدالغنی نابلسی حنفی شارح طریقہ محمدیہ فرماتے ہیں:
خروجہ عن العادۃ شھرۃ ومکروہ۱؎۔
عادت اور عرف کی خلاف ورزی مکروہ اورباعث شہرت ہے(ت)
(۱؎ الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل ومن اعظامہٖ الخ عبدالتواب اکیڈمی بوہڑ گیٹ ملتان ۲/ ۴۴)
اور اگروہاں کے مسلمان اسے لباس کفارسمجھتے ہوں تواحتراز مؤکد ہے، حرج پیچھے گھرسنے میں ہے، ورنہ تہ بند تو عین سنت ہے۔ اس سے زائد کچھ لفّاظیاں شخص مذکور نے کہیں محض بے اصل وباطل اور حلیہ صدق وصواب سے عاطل ہیں، بالفرض اگردھوتی باندھنا مطلقاً ممنوع بھی ہوتا تاہم اس میں اُتناوبال نہ تھا جوشرع مطہر پردانستہ افتراکرنے میں۔
والعیاذباﷲ تعالٰی، نسئل اﷲ ھدایۃ سبیل الرشاد والعصمۃ عن طریق الزیغ والفساد، اٰمین، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
اوراﷲ تعالٰی کی پناہ، ہم اﷲ تعالٰی سے راہ راست کی رہنمائی چاہتے ہیں اور کجی اور فساد کی راہ سے اے اﷲ! حفاظت چاہتے ہیں، یا اﷲ میری دعا قبول فرما، اﷲ تعالٰی پاک وبرتربڑا عالم ہے(ت)
مسئلہ ۲۲۹: مسئولہ مولٰینا مولوی عبدالحمید صاحب ازبنارس محلہ پرکنڈہ ۱۰ شعبان ۱۳۳۵ھ
زیدکوٹ وکالر ونکٹائی پہنتا ہے اور پیشوری پائجامہ وترکی ٹوپی وبُونٹ جُوتاپہنتا اور انگریزی فیشن کے بال رکھتا ہے۔ عمروکہتاہے کہ اس میں تشبّہ بالنّصارٰی ہے، اور زید کہتاہے کہ ہرگز نہیں اس لئے کہ ادنی فرق تشبیہ کے لئے کافی ہے۔ ان دونوں میں کون حق پرہے؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب : جو بات کفار یا بدمذہباں اشرار یافسّاق فجّار کاشعار ہو بغیرکسی حاجت صحیحہ شرعیہ کے برغبت نفس اس کا اختیار ممنوع وناجائزوگناہ ہے اگرچہ وہ ایک ہی چیز ہوکہ اس سے اس وجہ خاص میں ضرور اُن سے تشبّہ ہوگا اسی قدرمنع کوکافی ہے اگرچہ دیگروجوہ سے تشبّہ نہ ہو، اس کی نظیر گلاب اور پیشاب ہیں۔ شیشہ بھراہوا گلاب اور اس میں ایک قطرہ پیشاب ہے تو وہ ناپاک وخراب ہے نہ کہ پورا شیشہ پیشاب ہو جبھی نجس وخراب ہو۔ ولہٰذا عموماً احادیث ارشادات فقہ میں ہرایسی چیز پر حکم حرمت وممانعت دیاہے نہ یہ کہ سر سے پاؤں تک من جمیع الوجوہ ان سے تشبّہ ہو اسی وقت منع ہو، یہ محض جہل یاعقل کافساد ہے اور اگردانستہ ہو تو شریعت مطہرہ سے کھلاعناد ہے، ابطال و وہم کو یہاں صرف پچیس مسائل حدیث وفقہ سے سنائیں: