Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
113 - 160
تشبّہ بالغیر

شعارِکفّار وغیرہ
مسئلہ ۲۲۸ : ازپیلی بھیت     محلہ محمدواصل     مرسلہ مولوی محمدوصی احمدصاحب سورتی ۲۴صفر ۱۳۱۳ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ دھوتی لباس ہند ہے یاکہ خاص ہنود کالباس ہے، ایک عالم صاحب کہتے ہیں کہ دھوتی لباس ہنود ہے اور
بموجب من تشبّہ بقوم فھو منھم۱؎
 (جوکوئی کسی قوم سے مشابہت اختیارکرے گا تو وہ انہی میں سے شمارہوگا۔ت) کے جومسلمان دھوتی پہنے وہ ہندو ہے اور نماز روزہ وغیرہ کوئی عمل صالح اس کامقبول نہیں مسلمانوں کو دھوتی پہننے والے کے ساتھ مناکحت ونشست برخاست کھاناپینا کھلانا پلانا صاحب سلامت سب منع ہے بلکہ دھوتی پہننے والا سلام علیک کرے تو اس کے سلام کاجواب بھی نہ دے، پس دھوتی پہننے والے کے ساتھ وہی برتاؤ چاہئے جیسا کہ عالم صاحب کہتے ہیں یاکہ مسلمانوں کاسا، اس بارہ میں جو حکم شریعت ہو ارشاد فرمایاجائے۔بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
 (۱؎ سنن ابی داؤد    کتاب اللباس     باب لبس الشہرۃ     آفتاب عالم پریس لاہور     ۲/ ۲۰۳)
الجواب  : اقول: وباﷲ التوفیق
 (میں اﷲتعالٰی کی توفیق ہی سے کہتاہوں۔ت) اس جنس مسائل میں حق تحقیق وتحقیق حق یہ ہے کہ تشبہ دو وجہ پرہے: التزامی ولزومی۔ التزامی یہ ہے کہ یہ شخص کسی قوم کے طرزووضع خاص اسی قصد سے اختیارکرے کہ ان کی سی صورت بنائے ان سے مشابہت حاصل کرے حقیقۃً تشبہ اسی کانام ہے
فان معنی القصد والتکلف ملحوظ فیہ کمالایخفی
 (اس لئے کہ قصداورتکلف کے مفہوم کااس میں لحاظ رکھاگیاہے جیساکہ پوشیدہ نہیں۔ت) اور لزومی یہ کہ اس کاقصد تومشابہت کانہیں مگروہ وضع اس قوم کاشعارخاص ہورہی ہے کہ خواہی نخواہی مشابہت پیداہوگی، التزامی میں قصد کی تین صورتیں ہیں:
اول یہ کہ اس قوم کومحبوب ومرضی جان کر اُن سے مشابہت پسند کرے یہ بات اگرمبتدع کے ساتھ ہو بدعت اور کفّار کے ساتھ معاذاﷲ کفر، حدیث
من تشبہ بقوم فہو منھم۱؎
 (جو کسی قوم سے مشابہت اختیارکرے تو وہ انہی میں سے شمارہوگا۔ت) حقیقۃً صرف اسی صورت سے خاص ہے۔
 (۱؎ سنن ابی داؤد     کتاب اللباس     باب لبس الشہرۃ     آفتاب عالم پریس لاہور     ۲/ ۲۰۳)
غمزالعیون والبصائر میں ہے:
اتفق مشائخنا ان من رأی امرالکفار حسنا فقد کفر حتّٰی قالوا فی رجل قال ترک الکلام عند اکل الطعام حسن من المجوس اوترک المضاجعۃ عندھم حال الحیض حسن فہوکافر۲؎۔
ہمارے مشائخ کرام کاا س پر اتفاق ہے کہ جو کوئی کافروں کے کسی کام کواچھا سمجھے تو وہ بلاشبہہ کافرہوجاتاہے یہاں تک کہ انہوں نے فرمایا کہ جوکوئی کھانا کھاتے وقت باتیں نہ کرنے کو اور حالت حیض میں عورت کے پاس نہ لیٹنے کو مجوسیوں اور آتش پرستوں کی اچھی عادت کہے تو وہ کافرہے۔(ت)
 (۲؎ غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر     الفن الثانی کتاب السیر     باب الردۃ     ادارۃ القرآن کراچی     ۱/ ۲۹۵)
دوم کسی غرض مقبول کی ضرورت سے اسے اختیارکرے وہاں اس وضع کی شناعت اور اس غرض کی ضرورت کاموازنہ ہوگا اگرضرورت غالب ہوتو بقدرضرورت کاوقت ضرورت یہ تشبیہ کفرکیا معنی ممنوع بھی نہ ہوگا جس طرح صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے مروی کہ بعض فتوحات میں منقول رومیوں کے لباس پہن کر بھیس بدل کر کام فرمایا او ر اس ذریعہ سے کفار اشرار کی بھاری جماعتوں پرباذن اﷲ غلبہ پایا اسی طرح سلطان مرحوم صلاح الدین یوسف اناراﷲ تعالٰی برہانہ کے زمانے میں جبکہ تمام کفار یورپ نے سخت شورش مچائی تھی دوعالموں نے پادریوں کی وضع بناکر دورہ کیا اور اس آتش تعصب کوبجھادیا۔
خلاصہ میں ہے:
لوشد الزنار علی وسطہ ودخل دارالحرب لتخلیص الاساری لایکفر ولودخل لاجل التجارۃ یکفر ذکرہ القاضی الامام ابوجعفر الاستروشنی۱؎۔
اگر کوئی شخص اپنی کمر میں زُنّار باندھے او رقیدیوں کو چھڑانے کے لئے دارحرب میں داخل ہوتو کافر نہیں ہوگا او راگر اس مدت میں تجارت کے لئے جائے توکافرہوجائے گا۔ امام ابوجعفر استروشنی نے اس کو ذکرکیاہے۔(ت)
 (۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی     کتاب الفاظ الکفر     الفصل الثانی     المجلس السادس     مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ    ۴/ ۳۸۷)
ملتقط میں ہے:
اذا شد الزنار او اخذ الغل اولبس قلنسوۃ المجوس جادا اوھازلا یکفر الا اذا فعل خدیعۃ فی الحرب۲؎۔
جب کسی شخص نے زُنّار باندھا یاطوق لیا یا آتش پرستوں کی ٹوپی پہنی خواہ سنجیدگی کے ساتھ یاہنسی مذاق کے طور پر توکافرہوگیا، مگرجنگ میں (دشمن کومغالطے میں ڈالنے کے لئے) بطورتدبیر اُکساکرے توکافرنہ ہوگا۔(ت)
 (۲؎ منح الروض الازہر     بحوالہ الملتقط         فصل فی الکفرصریحاً وکنایۃً        مصطفی البابی مصر     ص۱۸۵)
منح الروض میں ہے:
ان اشد المسلم الزنار ودخل دارالحرب للتجارۃ کفرای لانہ تلبس بلباس کفر من غیر ضرورۃ شدیدۃ و لافائدہ مترتبۃ بخلاف من لبسھا لتخلیص الاساری علی ماتقدم۳؎۔
اگرمسلمان زنّار باندھ کر دارالکفرمیں کاروبار کیلئے جائے توکافر ہوجائے گا اس لئے کہ اس نے بغیر کسی شدید مجبوری کے اور بغیر کسی ترتب فائدہ کے لباس کفرپہنا(جو اس کے لئے روانہ تھا) بخلاف اس شخص کے جس نے قیدیوں کو آزاد کرانے کے لئے لباس کفر(برائے حیلہ) استعمال کیا، جیسا کہ پہلے ذکرہوا(ت)
 (۳؎ منح الروض الازہر علی الفقہ الاکبر           فصل فی الکفرصریحاً وکنایۃً        مصطفی البابی مصر   ص۱۸۵)
سوم نہ تو انہیں اچھاجانتا ہے نہ کوئی ضرورت شرعیہ اس پرحامل ہے بلکہ کسی نفع دنیوی کے لئے یایوہیں بطورہزل واستہزاء اس کامرتکب ہوا توحرام وممنوع ہونے میں شک نہیں اور اگروہ وضع ان کفارکامذہبی دینی شعارہے جیسے زنّار، قشقہ، چُٹیا، چلیپا، تو علماء نے اس صورت میں بھی حکم کفردیا
کماسمعت اٰنفا
 (جیسا کہ تم نے ابھی سنا۔ت) اور فی الواقع صورت استہزاء میں حکم کفر ظاہرہے
کمالایخفی
 (جیساکہ پوشیدہ نہیں۔ت) اور لزومی میں بھی حکم ممانعت ہے جبکہ اکراہ وغیرہ مجبوریاں نہ ہوں جیسے انگریڑی منڈا، انگریزی ٹوپی، جاکٹ، پتلون، اُلٹاپردہ، اگرچہ یہ چیزیں کفار کی مذہبی نہیں مگرآخرشعار ہیں تو ان سے بچنا واجب اور ارتکاب گناہ۔ ولہٰذا علماء نے فسّاق کی وضع کے کپڑے موزے سے ممانعت فرمائی۔
فتاوٰی خانیہ میں ہے:
الاسکاف اوالخیاط اذا استوجر علی خیاطۃ شیئ من زی الفساق ویعطی لہ فی ذٰلک کثیراجر لایستحب لہ ان یعمل لانہ اعانۃ علی المعصیۃ۱؎۔
موچی یادرزی فسّاق وفجّار کی وضع کے مطابق معمول سے زیادہ اُجرت پرلباس تیارکرے تو اس کے لئے یہ کام مستحب نہیں اس لئے کہ یہ گناہ پر امداد واعانت ہے۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خاں     کتاب الحظروالاباحۃ     مطبع نولکشور لکھنؤ    ۴/ ۷۸۰)
مگر اس کے تحقق کو اس زمان ومکان میں ان کاشعار خاص ہونا قطعاً ضرور جس سے وہ پہچانے جاتے ہوں اور ان میں اور ان کے غیر میں مشترک نہ ہو ورنہ لزوم کا کیا محل، ہاں وہ بات فی نفسہٖ شرعاً مذموم ہوئی تو اس وجہ سے ممنوع یامکروہ رہے گی نہ کہ تشبّہ کی راہ سے، 

امام قسطلانی نے مواہب لدنیہ میں دربارہ طیلسان کہ پوشش یہود تھی فرماتے ہیں:
اما ماذکرہ ابن اقیم من قصۃ الیہود فقال الحافظ ابن حجر انما یصح الاستدلال بہ فی الوقت الذی تکون الطیالسۃ من شعارھم وقد ارتفع ذٰلک فی ھذہ الازمنۃ فصار داخلا فی عموم المباح وقد ذکرہ ابن عبدالسلام رحمہ اﷲ تعالٰی فی امثلۃ البدعۃ المباحۃ۱؎۔
رہایہ کہ جوکچھ حافظ ابن قیم نے یہودیوں کاواقعہ بیان کیاہے تو اس بارے میں حافظ ابن حجر نے فرمایا کہ یہ استدلال اس وقت درست تھا جبکہ مذکورہ چادر اُن کا (مذہبی) شعار ہواکرتی تھی لیکن اس دَور میں یہ چیز ختم ہورہی ہے لہٰذا اب یہ عموم مباح میں داخل ہے، چنانچہ علامہ ابن عبدالسلام رحمۃ اﷲ علیہ نے اس کو بدعت مباح کی مثالوں میں ذکرفرمایاہے۔(ت)
 (۱؎ المواہب اللدنیۃ     النوع الثانی         اللباس لبس الطیلسان     المکتب الاسلامی بیروت     ۲/ ۴۵۰)
Flag Counter