سوال پنجم : ازمفتی گنج ضلع پٹنہ ڈاک خانہ ایکنگر سرائے مرسلہ محمدنواب صاحب قادری ودیگر سُکّانِ مفتی گنج ۲۷/رمضان شریف ۱۳۱۸ھ
یہاں عشرہ محرم میں مجلس مرثیہ خوانی کی ہوتی ہے، اور مرثیے صوفیہ کرام کے پڑھے جاتے ہیں، اور سینہ کوبی وبَین نہیں ہوتا، اورمیرمجلس سنی المذہب ہے، ایسی مجلس میں شرکت یا اس میں مرثیہ خوانی کا کیاحکم ہے؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب : جو مجلس ذکرشریف حضرت سیدنا امام حسین واہلبیت کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کی ہو جس میں روایات صحیحہ معتبرہ سے ان کے فضائل ومناقب ومدارج بیان کئے جائیں اور ماتم وتجدید غم وغیرہ امورمخالفہ شرع سے یکسرپاک ہوفی نفسہٖ حسن ومحمود ہے خواہ اس میں نثر پڑھیں یانظم، اگرچہ وہ نظم بوجہ ایک مسدّس ہونے کے جس میں ذکرحضرت سیدالشہداء ہے عرف حال میں بنام مرثیہ موسوم ہوکہ اب یہ وہ مرثیہ نہیں جس کی نسبت ہے:
نھٰی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن المراثی۲؎۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے مرثیوں سے منع فرمایا۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ المستدرک للحاکم کتاب الجنائز البکاء علی المیت دارالفکر بیروت ۱/ ۳۸۳)
(سنن ابن ماجہ ابواب ماجاء فی الجنائز باب ماجاء فی البکاء علی المیت ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۱۵)
سوال ششم : ازنواب گنج ۲۰ محرم الحرام ۱۳۲۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان صورتوں میں:
(۱) ایک شخص کہتاہے کہ میں تعزیہ کاچڑھاہوا نہیں کھاتاہوں حضرت امام حسین (رضی اﷲ تعالٰی عنہ) کی نیاز کاکھاتاہوں۔
(۲) ایک شخص کہتاہے تعزیہ پرکیامنحصرہے چڑھونا کوئی ہومیں نہیں کھاتا ہوں نیازکھاتا ہوں۔
(۳) ایک شخص کہتاہے کہ عشرہ محرم الحرام میں جوکچھ کھانے پینے وغیرہ میں ہوتاہے دس روزتک تعزیہ کاچڑھاہوتاہے۔
(۴) ایک شخص کہتاہے تعزیہ بُت ہے بہ سبب لگانے صورت کے۔
(۵) ایک شخص کہتاہے کہ یہ صورت وہ ہے جوبُراق اور حُورِ جنت میں ہیں۔
(۶) ایک شخص کہتاہے کہ تعزیہ اور مسجد میں کچھ فرق نہیں بلکہ کہتاہے کہ مسجدمیں کیاہے وہ اینٹ گارا ہی تو ہے جووہاں سجدے کرتے ہو اور تعزیہ میں ابرق کاکاغذ وغیرہ ہیں۔
(۷) ایک شخص نے کہا کہ بھائی یہ باتیں شرع کی ہیں لکھ کر شرع کے سپرد کرو، آپس میں جھگڑامت کرو۔
(۸) ایک شخص کہتاہے کہ تم شرع نہیں سمجھتے۔
(۹) ایک شخص نے کہاکہ جس حالت میں تم شرع کونہیں سمجھتے ہو تو میں تعزیہ کے چڑھونے کوحرام سمجھتاہوں۔
الجواب
(۱) پہلاشخص اچھی بات کہتاہے واقعی حضرت امام کے نام کی نیاز کھانی چاہئے اورتعزیہ کاچڑھاہواکھانانہ چاہئے، اگر اس کے قول کایہ مطلب ہے کہ وہ تعزیہ کاچڑھاہوا اس نیت سے نہیں کھاتا کہ وہ تعزیہ کاچڑھاہواہے بلکہ اس نیت سے کھاتاہے کہ وہ امام کی نیازہے تو یہ غلط اور بیہودہ ہے، تعزیہ پرچڑھانے سے حضرت امام حسین رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی نیازنہیں ہوجاتی، اور اگرنیاز دے کرچڑھائیں یاچڑھاکرنیاز دلائیں تو اس کے کھانے سے احتراز چاہئے اور وہ نیت کاتفرقہ اس کے مفسدہ کودفع نہ کرے گا، مفسدہ اس میں ہے کہ اس کے کھانے سے جاہلوں کی نظرمیں ایک امرناجائز کی وقعت بڑھانی یاکم ازکم اپنے آپ کو اس کے اعتقاد سے متہم کرتاہے، اور دونوں باتیں شنیع ومذموم ہیں لہٰذا اس کے کھانے پینے سے احتراز چاہئے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲) دوسرے شخص کی بات میں ذرا زیادتی ہے اولیاء کرام کے مزارات پرجوشیرینی کھانا بہ نیت تصدق لے جاتے ہیں اسے بھی بعض لوگ چڑھونا کہتے ہیں اس کے کھانے میں فقیر کو اصلاً حرج نہیں۔
(۳) تیسرے شخص نے نیاز اور تعزیہ کے چڑھاوے میں فرق نہ کیایہ غلط ہے چڑھونا وہی ہے جو تعزیہ پریا اس کے پاس لے جاکر سب کے سامنے نذرتعزیہ کی نیت سے رکھاجائے باقی سب کھانے شربت وغیرہ کہ عشرہ محرم میں بہ نیت ایصال ثواب ہوں وہ چڑھاوانہیں ہوسکتے۔
(۴) مجسم تصویر کو بت کہتے ہیں، اس معنٰی پروہ تصویریں کہ تعزیہ میں لگائی جاتی ہیں اور مجازاً کل کوبھی کہہ سکتے ہیں اور اگربت سے مرادمعبود مطلق ہوتو یہ سخت زیادتی ہے انصاف یہ کوئی جاہل ساجاہل بھی تعزیہ کومعبود نہیں جانتا۔
(۵) اس شخص کایہ محض افتراء ہے کہاں حُوروبراق اور کہاں یہ کاغذ پنّی کی مُورتیں جس سے کہیں زیادہ خوبصورت کسگروں کے یہاں روزبنتی ہیں، اور اگر ہوبھی توحُوروبراق کی تصویریں بنانی کب حلال ہیں۔
(۶) یہ شخص صریح گمراہ وبدعقل وبدزبان ہے، مسجد کو کوئی سجدہ نہیں کرتا،نہ اس کی حقیقت اینٹ گارا ہے بلکہ وہ زمین کہ نمازوعبادت الٰہی بجالانے کے لئے تمام حقوق عباد سے جُدا کرکے اﷲ عزوجل کے حکم سے اس کی طرف تقرب کے واسطے خاص ملک الٰہی پرچھوڑی گئی اب وہ شعائراﷲ سے ہوگئی اور شعائراﷲ کی تعظیم کاحکم ہے قال اﷲ تعالٰی:
ومن یعظم شعائر اﷲ فانھا من تقوی القلوب۱؎۔
اور جواﷲ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲۲/ ۳۲)
اس مجموعہ بدعات کو اس سے کیانسبت، مگرجہل مرکب سخت مرض ہے، والعیاذباﷲ۔
(۷) اس شخص نے اچھاکیا مسلمانوں کویہی حکم ہے کہ جوبات نہ جانے خود اس پرکوئی حکم نہ لگائے بلکہ اہل شرع سے دریافت کرے، قال اﷲ تعالٰی:
فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لاتعلمون۲؎۔
اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگرتمہیں علم نہیں۔(ت)
(۲؎القرآن الکریم ۱۶/ ۴۳ و ۲۱/ ۷)
(۸) اس کے قول کااگریہی مطلب ہے کہ تم لوگ بے علم ہو آپس میں بحث نہ کرو اہل شرع سے پوچھو تو اچھاکیا، اور اگریہ مراد ہے کہ تعزیہ شرعاً اچھی چیزہے تم شرع نہیں سمجھتے تویہ بہت براکہا اور شرع پرافتراء کیا اور اگریہ مقصود ہوکہ شرع سے تومذمت صاف ظاہرہے مگرتم لوگ نہیں سمجھتے تو یہ بھی اچھاکیا۔
(۹) اس کاقول حد سے گزرا ہواہے تعزیہ کاچڑھاواکھانا ان وجوہ سے جوہم نے ذکرکیں مکروہ وناپسند ضرورہے مگرحرام کہناغلط ہے،
فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے: ''اس بکری کوجوہندو نے اپنے بُت کے نام پرمسلمان سے ذبح کرایا اور مسلمانوں نے اﷲ عزوجل کی تکبیر کہہ کرذبح کردی تصریح فرمائی کہ حلال ہے ویکرہ للمسلم مسلمان کے لئے مکروہ ہے''۔۱؎
جب وہاں صرف کراہت کاحکم ہے تو یہاں تحریم کیونکر۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الذبائح الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۸۶)
سوال ہفتم : از اترولی ضلع علی گڑھ محلہ مغلاں مرسلہ اکرام عظیم صاحب ۱۸جمادی الاولٰی ۱۳۲۱ھ
مجلس مرثیہ خوانی اہل شیعہ میں اہلسنت وجماعت کوشریک وشامل ہوناجائزہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب: حرام ہے: حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
وہ بدزبان ناپاک لوگ اکثر تبرا بک جاتے ہیں اس طرح کہ جاہل سننے والوں کو خبربھی نہیں ہوتی اور متواتر سناگیاہے کہ سنیوں کوجوشربت دیتے ہیں اس میں نجاست ملاتے ہیں اور کچھ نہ ہو تو اپنے یہاں کے ناپاک قلتین کاپانی ملاتے ہیں او رکچھ نہ ہوتو وہ روایات موضوعہ وکلمات شنیعہ وماتم حرام سے خالی نہیں ہوتی اور یہ دیکھیں سنیں گے، اور منع نہ کرسکیں گے ایسی جگہ جانا حرام ہے، اﷲ تعالٰی فرماتاہے:
فلاتقعد بعد الذکرٰی مع القوم الظّٰلمین۳؎۔
واﷲ تعالٰی اعلم۔
تویاد آئے پرظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۶/ ۶۸)
سوال ہشتم : کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ تعزیہ بنانا اور اس پرنذرنیاز کرناعرائض بامید حاجت براری لٹکانا اور بہ نیت بدعت حسنہ اس کو داخل حسنات جاننا او رموافق شریعت ان امور کو اور جوکچھ اس سے پیدا اور یا متعلق ہوں کتناگناہ ہے، اورزید اگر ان باتوں کوجو فی زماننا متعلق تعزیہ داری وعلم داری کے ہیں موافق مذہب اہل سنت کے تصورکرے تو وہ کس قسم کے مرتکب ہوااور اس پرشرع کی تعزیرکیالازم آتی ہے،اور ان امور کے ارتکاب سے وہ شرک خفی یا جلی میں مبتلا ہے یانہیں، او ر اس کی زوجہ اس کے نکاح سے باہر ہوئی یانہیں، درصورتیکہ وہ امور متذکرہ بالا کو داخل عقیدت اہلسنت وجماعت بنظرثواب عمل میں لاتاہو۔بیّنواتوجروا۔
الجواب : افعال مذکورہ جس طرح عوام زمانہ میں رائج ہیں بدعت سیئہ وممنوع وناجائزہیں انہیں داخل ثواب جاننا اور موافق شریعت مذہب اہلسنت ماننا اس سے سخت تروخطائے عقیدہ وجہل اشد ہے، شرعی تعزیر حاکم شرع سلطان کی رائے پرمفوض ہے باایں ہمہ وہ شرک وکفرہرگز نہیں، نہ اس بناء پرعورت نکاح سے باہرہو، عرائض بامید حاجت براری لٹکانا محض بہ نیت توسل ہے جو اس کاجہل ہے کہ امورممنوعہ لائق توسل نہیں ہوتے باقی حاجت روا بالذات کوئی کلمہ گوحضرت امام عالی مقام رضی اﷲ تعالٰی عنہ کوبھی نہیں جانتا کہ معاذاﷲ تعالٰی شرک ہو، یہ وہابیہ کاجہل وضلال ہے، واﷲ تعالٰی اعلم فقط
رسالہ
اعالی الافادۃ فی تعزیۃ الھند وبیان شہادۃ
ختم ہوا