بالجملہ شہادت نامے کی حقیقت ہنوزوہی امرمباح ومحمود ہے اور شنائع زوائدوعوارض اگر ان سے خالی اور نیت نامحمود سے پاک ہوضرورمباح ہے اور تعزیہ داری کی حقیقت ہی یہ امورناجائزہ ہیں، ''اس قدرجائزہے'' سے کوئی تعلق نہ رہا، نہ اس کے وجود سے موجود ہوتی ہے نہ اس کے عدم سے معدوم، تویہ فی نفسہٖ ناجائزوحرام ہے۔ اس کی نظیر امم سابقہ میں آغاز اصنام ہے، وَد وسواع ویغوث ویعوق ونسرصالحین تھے ان کے انتقال پراُن کی یاد کے لئے ان کی صورتیں تراشیں، بعد مرورزماں پچھلی نسلوں نے انہیں کو معبود سمجھ لیا توکوئی نہیں کہہ سکتا کہ ان بتوں کی حالت اپنی انہیں ابتدائی حقیقت پرباقی تھی یہ شنائع زوائد عوارض خارجہ تھے، ولہٰذا شرائع الٰہیہ مطلقاً ان کے رَدّوانکار پرنازل ہوئیں، بخاری وغیرہ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی:
کانوا اسماء رجال صالحین من قوم نوح فلما ھلکوا اوحی الشیطٰن الٰی قومھم ان انصبوا الٰی مجالسیھم التی کانوا یجلسون انصابا وسمّوھا باسمائھم ففعلوا فلم تعبد حتی اذا ھلک اولٰئک ونسخ العلم عبدت۱؎۔
وَد، سواع وغیرہ قوم نوح علیہ السلام کے نیک لوگوں کے نام تھے جب وہ وفات پاگئے توشیطان نے ان کی قوم کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈالا کہ ان کی مجلسوں میں جہاں وہ بیٹھاکرتے تھے ان کے مجسمے بناکر کھڑے کردو او ر ان کے اسماء کاذکرکرو (یعنی انہیں یادکرو) چنانچہ لوگوں نے ایساہی کیا مگر وہ ان کی عبادت میں مشغول نہیں ہوئے تاآنکہ وہ لوگ دنیا سے رخصت ہوگئے اور علم مٹ گیا اور پچھلے لوگ یعنی بعد میں آنے والی نسل حقیقت سے ناآشناہوتے ہوئے ان کی پوجاکرنے لگی۔(ت)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب التفسیر سورہ نوح ۷۱ باب وداً اولا سواعاً الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۳۲)
فاکہی عبیداﷲ بن عبیدبن عمیرسے راوی:
قال اول ماحدثت الاصنام علی عھد نوح وکانت الابناء تبرالآباء فمات رجل منھم فجزع علیہ ابنہ فجعل لایصبر عنہ فاتخذ مثالاعلٰی صورتہ فکلما اشتاق الیہ نظرہ ثم مات ففعل بہ کما فعل ثم تتابعوا علٰی ذٰلک فمات الآباء فقال الابناء ما اتخذ اٰباؤنا ھٰذہ الا انھا اٰلھتھم فعبدوھا۱؎۔
عبداﷲ ابن عبید نے کہا سب سے پہلے بت پرستی کاظہورزمانہ نوح میں ہوا، اوربیٹے اپنے آباء سے حسن سلوک کیاکرتے تھے، پھر ان میں سے کوئی شخص مرجاتا تو اس کابیٹا اس کے لئے بیقرار اور بے چین ہوجاتا اور صبرنہ کرسکتااور اپنی تسکین کے لئے اس کی مورتی بنالیتا اور جب اصل کودیکھنے کاشوق ہوتا تو اس شبیہہ کودیکھ کر دل کو تسلی دے لیتا اور جب وہ مرجاتا تو اس کے ساتھ وہی برتاؤ کیاجاتا، عرصہ دراز تک لگاتار اور مسلسل یہ کام ہوتارہا، اور جب پہلے باپ دادامرگئے تو آنے والی اولاد کہنے لگی کہ یہ توہمارے پہلے باپ دادوں کے معبودتھے پھر یہ ان کی عبادت کرنے لگے (پس اس طرح بت پرستی کاآغاز ہوا)۔(ت)
(۱؎ فتح الباری بحوالہ فاکہی عن عبیداﷲ بن عبید سورۃ نوح مصطفی البابی مصر ۱۰/ ۲۹۵)
(الدرالمنثور بحوالہ فاکہی عن عبیداﷲ بن عبید سورۃ نوح منشورات مکتبہ آیۃ اﷲ قم ایران ۶/ ۲۶۹)
یہ فرق نفیس خوب یادرکھنے کاہے کہ اسی سے غفلت کرکے وہابیہ اصل حقیقت پرحکم عوارض لگاتے اور تعزیہ دار تبدیل حقیقت کواختلاف عوارض ٹھہراتے اور دونوں سخت خطائے فاحش میں پڑجاتے ہیں
وباﷲ العصمۃ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
(اور اﷲ تعالٰی ہی کی توفیق سے بچاؤ ممکن ہے اور اﷲ سبحانہ وتعالٰی بڑاعالم ہے۔ت)
سوال چہارم : ازدھام پورضلع بجنور مرسلہ حافظ سیدبنیاد علی صاحب ۸محرم الحرام ۱۳۱۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یوم عشرہ میں سبیل لگانا اور کھانا کھلانے اور لنگرلٹانے کے بارے میں دیوبند کے علماء ممانعت کرتے ہیں ونیز کتب شہادت کوبھی، جوامرصحیح ہو عندالشرع ارقام فرمائیے اور مجلس محرم میں ذکرشہادت اورمرثیہ سنناکیساہے؟ بیّنواتوجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجرپاؤ۔ت)
الجواب: پانی یاشربت کی سبیل لگانا جبکہ بہ نیت محمود اور خالصاً لوجہ اﷲ ثواب رسانی ارواح طیبہ ائمہ اطہار مقصود ہوبلاشبہہ بہترومستحب وکارثواب ہے،
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا کثرت ذنوبک فاسق الماء علی الماء تتناثر کما یتناثر الورق من الشجرفی الریح العاصف۔ رواہ الخطیب۱؎ عن انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جب تیرے گناہ زیادہ ہوجائیں توپانی پرپانی پلاگناہ جھڑجائیں گے جیسے آندھی میں پیڑ کے پتّے۔ (اس کو خطیب نے انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بیان کیا۔ت)
(۱؎ تاریخ بغداد ترجمہ ۳۴۶۴ اسحٰق بن محمد دارالکتاب العربی بیروت ۶/ ۴۰۳ و ۴۰۴)
اسی طرح کھاناکھلانا لنگر بانٹنا بھی مندوب وباعث اجرہے، حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ عزوجل یباھی ملٰئکتہ بالذین یطعمون الطعام من عبیدہ۔ رواہ ابوالشیخ فی الثواب۲؎ عن الحسن مرسلا۔
اﷲ تعالٰی اپنے اُن بندوں سے جولوگوں کوکھانا کھلاتے ہیں فرشتوں کے ساتھ مباہات فرماتاہے کہ دیکھو یہ کیسااچھاکام کررہے ہیں(اس کو ابوالشیخ نے ثواب میں حسن سے مرسلاً روایت کیا(ت)
مگرلنگرلٹاناجسے کہتے ہیں کہ لوگ چھتوں پربیٹھ کر روٹیاں پھینکتے ہیں، کچھ ہاتھوں میں جاتی ہیں کچھ زمین پر گرتی ہیں، کچھ پاؤں کے نیچے ہیں، یہ منع ہے کہ اس میں رزق الٰہی کی بے تعظیمی ہے، بہت علماء نے تو روپوں پیسوں کالٹانا جس طرح دلہن دولہا کی نچھاور میں معمول ہے منع فرمایا کہ روپے پیسے کو اﷲعزوجل نے خلق کی حاجت روائی کے لئے بنایاہے تو اسے پھینکنا نہ چاہئے، روٹی کاپھینکنا توسخت بیہودہ ہے،
بزازیہ کتاب الکراہیۃ، النوع الرابع فی الہدیۃ والمیراث میں ہے:
ھل یباح نثرالدراھم قیل لاوقیل لاباس بہ وعلی ھذا الدنانیر والفلوس وقد یستدل من کرہ بقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الدراھم والدنانیر خاتمان من خواتیم اﷲ تعالٰی فمن ذھب بخاتم من خواتیم اﷲتعالٰی قضیت حاجتہ۳؎۔
کیادراہم لٹانامباح ہے، بعض نے کہامباح نہیں اور بعض نے کہا کوئی حرج نہیں ہے، اسی حکم میں دنانیر اور پیسے ہیں، ناپسند کہنے والوں نے حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاد کہ ''دراھم ودنانیر اﷲ تعالٰی کی مُہروں سے مُہریں ہیں تو جس نے کوئی مہرپائی اس نے اﷲ تعالٰی کی مُہر سے حاجت پائی'' سے استدلال کیا۔(ت)
(۳؎ فتاوٰی بزازیہ علٰی ہامش فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ النوع الرابع فی الہدیۃ والمیراث نورانی کتب خانہ پشاور۶/ ۳۶۴)
کتب شہادت جو آج کل رائج ہیں اکثر حکایات موضوعہ وروایات باطلہ پرمشتمل ہیں،یوہیں مرثیے ایسی چیزوں کاپڑھنا سننا سب گناہ وحرام ہے۔ حدیث میں ہے:
نھٰی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن المراثی۔ رواہ ابوداؤد ۱؎ والحاکم عن عبداﷲ بن ابی اوفٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے مرثیوں سے منع فرمایا(اسے ابوداؤد اور حاکم نے عبداﷲ بن ابی اوفٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۱؎ سنن ابن ماجہ ابواب ماجاء فی الجنائز باب ماجاء فی البکاء علی المیت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۱۵)
(المستدرک للحاکم کتاب الجنائز البکاء علی المیت دارالفکربیروت ۱/ ۳۸۳)
ایسے ہی ذکر شہادت کو امام حجۃ الاسلام وغیرہ علمائے کرام منع فرماتے ہیں
کما ذکرہ امام ابن حجر المکی فی الصواعق المحرقۃ
(جیسا کہ امام ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ میں اسے روایت کیاہے۔ت) ہاں اگرصحیح روایات بیان کی جائیں اور کوئی کلمہ کسی نبی یاملک یااہلبیت یاصحابی کی توہین شان کامبالغہ مدح وغیرہ میں مذکورنہ ہو، نہ وہاں بَین یانوحہ یاسینہ کوبی یاگریبان دری یا ماتم یاتصنّع یاتجدید غم وغیرہ ممنوعات شرعیہ نہ ہوں توذکر شریف فضائل ومناقب حضرت سیدنا امام حسین رضی اﷲ تعالٰی عنہ کابلاشبہہ موجب ثواب ونزول رحمت ہے
عند ذکر الصالحین تنزل الرحمۃ۲؎
(صالحین کے ذکر پررحمت الٰہیہ نازل ہوتی ہے۔ت)
(۲؎ اتحاف السادۃ المتقین کتاب آداب العزلۃ الباب الثانی دارالفکربیروت ۶/ ۳۵۰)
ولہٰذا امام ابن حجر مکی بعد بیان مذکور کے فرماتے ہیں:
ماذکر من حرمۃ روایۃ قتل الحسین ومابعدہ لاینافی ماذکرتہ فی ھذا الکتاب لان ھٰذا البیان الحق الذی یحب اعتقادہ من جلالۃ الصحابۃ وبرائتھم من کل نقص، بخلاف مایفعلہ الوعاظ الجہلۃ، فانھم یأتون بالاخبار الکاذبۃ الموضوعۃ ونحوھا ولایبینون المحامل والحق الذی یجب اعتقادہ۱؎ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
شہادت حسین رضی اﷲتعالٰی عنہ کے بیان کی حُرمت اور اس کے بعد جوکچھ ذکرکیاوہ میری اس کتاب میں ذکرکردہ روایات کے منافی نہیں ہے کیونکہ یہ صحابہ کرام کی جلالت اورہرنقص سے ان کی برأت پرمشتمل حق کابیان ہے بخلاف جاہل واعظین کے کہ وہ جھوٹ اورموضوع قسم کی خبریں سناتے ہیں اورصحیح محمل اور قابل اعتقاد کوبیان نہیں کرتے۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم(ت)