| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ) |
ماذکرہ من حرمۃ روایۃ قتل الحسین ومابعدہ لاینافی ماذکرتہ فی ھذا الکتاب لان ھذا البیان الحق الذی یجب اعتقادہ من جلالۃ الصحابۃ وبرائتھم من کل نقص بخلاف مایفعلہ الوعاظ الجھلۃ فانھم یأتون بالاخبار الکاذبۃ والموضوعۃ ونحوھا ولایبیّنون المحامل والحق الذی یجب اعتقادہ۲؎الخ۔
امام حسین کی شہادت اوراس کے بعد کے واقعات کی روایات کاحرام ہونا جو بیان کیاگیا وہ اس کے خلاف نہیں جو کچھ میں نے اس کتاب میں ذکر کیاکیونکہ یہ سچابیان جو صحابہ کرام کی جلالت شان اور ہرنقص وکمزوری سے ان کی برأت پرمشتمل ہے اس پراعتقاد رکھناواجب ہے بخلاف اس کے جوجاہل واعظین بیان کرتے ہیں، وہ جھوٹی، بناوٹی اور خودساختہ خبریں لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں اور ان کامحمل نہیں بیان کرتے حالانکہ حق پر عقیدہ رکھناضروری ہے الخ (ت)
(۲؎الصواعق المحرقۃ الخاتمۃ فی بیان اعتقاد اہل السنۃ مکتبۃمجیدیہ ملتان ص۲۲۴)
یونہی جبکہ اس سے مقصود غم پروری وتصنع وحُزن ہوتو یہ نیت بھی شرعاً نامحمود، شرع مطہر نے غم میں صبروتسلیم اورغم موجود کو حتی المقدور دل سے دورکرنے کاحکم دیا ہے نہ کہ غم معدوم بتکلف وزور لانا نہ کہ بتصنع وزوربنانا، نہ کہ اسے باعث قرب وثواب ٹھہرانا، یہ سب بدعات شنیعہ روافض ہیں جن سے سنی کو احتراز لازم، حاشاﷲ اس میں کوئی خوبی ہوتی توحضورپرنورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی وفات اقدس کی غم پروری سب سے زیادہ اہم وضروری ہوتی، دیکھو حضوراقدس صلوات اﷲ وسلامہ علیہ وعلٰی آلہٖ کاماہ ولادت وماہ وفات وہی ماہ مبارک ربیع الاول شریف ہے پھرعلمائے امت وحامیان سنت نے اسے ماتم وفات نہ ٹھہرایا بلکہ موسم شادی ولادت اقدس بنایا،
امام ممدوح کتاب موصوف میں فرماتے ہیں:
ایاہ ثم ایاہ ان یشغلہ ای یوم العاشوراء ببدع الرافضۃ ونحوھم من الندب والنیاحۃ والحزن اذلیس ذٰلک من اخلاق المؤمنین والا لکان یوم وفاتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اولٰی بذٰلک واحرٰی ۱؎الخ
بچے اور پرہیزکرے اس بات سے کہ کہیں یوم عاشورہ میں روافض اور ان جیسے لوگوں کی بدعات میں نہ مشغول ہوجائے جو رونا پیٹنا اور غم کرناہوتاہے کیونکہ یہ امور مومنوں کے اخلاق سے نہیں ورنہ حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کایوم وصال ان چیزوں کازیادہ حق رکھتاہے اھ(یعنی اگررونے پیٹنے اور دکھ غم کے مظاہروں کی گنجائش اور اجازت ہوتی تو سب سے زیادہ یہ چیزیں آپ کے یوم وصال پرعمل میں آتیں اور دیکھی جاتیں)۔(ت)
(۱؎ الصواعق المحرقۃ الباب الحادی عشر مکتبہ مجیدیہ ملتان ص۱۸۳)
عوام مجلس خواں اگرچہ بالفرض صرف روایات صحیحہ بروجہ صحیح پڑھیں بھی تاہم جو ان کے حال سے آگاہ ہے خوب جانتاہے کہ ذکرشہادت شریف پڑھنے سے ان کامطلب یہی بہ تصنع رونا بہ تکلف رلانا اور اس رونے رلانے سے رنگ جمانا ہے اس کی شناعت میں کیا شبہہ ہے، ہاں اگرخاص بہ نیت ذکرشریف حضرات اہلبیت طہارت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علٰی سیدہم وعلیہم وبارک وسلم ان کے فضائل جلیلہ ومناقب جمیلہ روایات صحیحہ سے بروجہ صحیح بیان کرتے اور اس کے ضمن میں ان کے فضل جلیل صبرجمیل کے اظہار کوذکرشہادت بھی آجاتااورغم پروری وماتم انگیزی کے انداز سے کامل احترازہوتا تو اس میں حرج نہ تھا مگرہیہات ان کے اطوار ان کی عادات اس نیت خیر سے یکسرجداہیں، ذکرفضائل شریف مقصودہوتا تو کیا ان محبوبان خدا کی فضیلت صرف یہی شہادت تھی، بے شمار مناقب عظیم اﷲ عزوجل نے انہیں عطافرمائے انہیں چھوڑ کر اسی کو اختیارکرنا اور اس میں طرح طرح سے بالفاظ رقت خیز ونوحہ نماومعانی حُزن انگیز وغم افزابیان کووسعتیں دینا انہیں مقاصد فاسدہ کی خبریں دے رہاہے، غرض عوام کے لئے اس میں کوئی وجہ سالم نظرآنا سخت دشوار ہے پھرمجلس ملائک مآنس میلاد اقدس توعظیم شادی وخوشی وعید اکبر کی مجلس ہیں اذکارغم وماتم اس کے مناسب نہیں، فقیر اس میں ذکر وفات والابھی جیسا کہ بعض عوام میں رائج ہے پسند نہیں کرتا حالانکہ حضور کی حیات بھی ہمارے لئے خیر اور حضور کی وفات بھی ہمارے لئے خیر، صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ اس تحریر کے بعد علامہ محدث سیدی محمد طاہر فتنی قدس سرہ الشریف کی تصریح نظرفقیر سے گزری انہوں نے بھی اس رائے فقیر کی موافقت فرمائی
والحمدﷲ رب العٰلمین،
آخرکتاب مستطاب مجمع بحارالانوار میں فرماتے ہیں:
شھرالسرور والبھجۃ مظھر منبع الانوار والرحمۃ شھرربیع الاول، فانہ شھر امرنا باظھارالحبور فیہ کل عام، فلانکدرہ باسم الوفاۃ، فانہ یشبہ تجدید الماتم، وقد نصوا علی کراھیتہ کل عام فی سیدنا الحسین مع انہ لیس لہ اصل فی امھات البلاد الاسلامیۃ، وقد تحاشوا عن اسمہ فی اعراس الاولیاء فکیف فی سیّدالاصفیاء صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۱؎۔
یعنی ماہ مبارک ربیع الاول خوشی وشادمانی کامہینہ ہے اور سرچشمہ انواررحمت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کازمانہ ظہورہے، ہمیں حکم ہے کہ ہرسال اس میں خوشی کریں، تو اسے وفات کے نام سے مکدرنہ کریں گے کہ یہ تجدید ماتم کے مشابہ ہے، اور بیشک علماء نے بتصریح کی کہ ہرسال جوسیدنا امام حسین رضی اﷲ تعالٰی عنہ کاماتم کیاجاتاہے شرعاً مکروہ ہے، اور خاص اسلامی شہروں میں اس کی کچھ بنیادنہیں، اولیائے کرام کے عرسوں میں نام ماتم سے احتراز کرتے ہیں تو حضورپرنورسیدالاصفیاء صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے معاملہ میں اسے کیونکر پسند کرسکتے ہیں۔
فالحمدﷲ علی ماالھم، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
(۱؎ مجمع بحارالانوار خاتمہ الکتاب دارالایمان المدینۃ المنوّرۃ ۵/ ۳۰۷)
سوال سوم : ازریاست رامپورمحلہ میانگاناں مرسلہ مولوی محمدیحیٰی صاحب محرم ۱۳۲۱ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شہادت نامہ پڑھنا کیساہے اور اس میں اور تعزیہ داری میں فرق احکام کیاہے؟بیّنواتوجروا۔
الجواب : ذکرشہادت شریف جبکہ روایات موضوعہ وکلمات ممنوعہ ونیت نامشروعہ سے خالی ہو عین سعادت ہے
عند ذکرالصّٰلحین تنزّل الرحمۃ۱؎۔
صالحین کے ذکر پراﷲ تعالٰی کی رحمت نازل ہوتی ہے(ت)
(۱؎ اتحاف السادۃ المتقین کتاب آداب العزلۃ الباب الثانی دارالفکربیروت ۶/ ۳۵۰)
اس کی تفصیل جمیل فتاوٰی فقیرمیں ہے اوراس میں اور تعزیہ داری میں فرق احکام ایک مقدمہ کی تمہید چاہتاہے،
فاقول: وباﷲ التوفیق
(میں کہتاہوں کہ اﷲ تعالٰی ہی کی مدد سے توفیق حاصل ہوتی ہے۔ت) شے کے لئے ایک حقیقت ہوتی ہے اور کچھ امور زوائدکہ لوازم یاعوارض ہوتے ہیں، احکام شرعیہ شے پر بحسب وجود ہوتے ہیں مجرداعتبار عقلی ناصالح وجود مطمح احکام شرع نہیں ہوتا کہ فقہ افعال مکلفین سے باحث ہے جو فعلیت میں آنہیں سکتا موضوع سے خارج ہے تغائراعتبار سے تغائراحکام وہیں ہوسکتاہے جہاں وہ اعتبارات واقعیہ مفارقہ متعاقبہ ہوں کہ شَے کبھی ایک کے ساتھ پائی جائے کبھی دوسرے کے، تو ہردوانحائے وجود کے اعتبار سے مختلف حکم دیاجاسکتاہے اور ایسی جگہ مقصود ہے کہ نفس شے کاحکم ان بعض احکام شے مع بعض الاعتبار سے جداہو مگر زوائد کہ لوازم الوجود ہوں ان کے حکم سے جداکوئی حکم حقیقت کے لئے نہ ہوگا کہ لازم سے انفکاک محال ہے جب لوازم میں یہ حال ہے تو ارکان حقیقت کہ سلخ ماہیت میں داخل ہوں ان سے قطع نظر ناممکن ، پھر ماہیت عرفیہ میں رکنیت تابع عرف ہے اور بعد اجزاء سے سلخ ماہیت کاتغیراعتبار شے نہیں بلکہ تغیرماہیت عرفیہ ہے مثلاً نمازعرف شرع میں مجموع ارکان مخصوصہ بہیأت معلومہ کانام ہے، اب اگرکوئی ان ارکان سے جدا بلکہ تبدیل ہیأت ہی کے ساتھ ایک صورت کا نام نمازرکھے جوقعود سے شروع اور قیام پرختم ہو اور اس میں رکوع پر سجود مقدم، تو یہ حقیقت نمازہی تبدیل ہوگی نہ کہ حقیقت حاصل، اور اعتبار مبتدل، جب یہ مقدمہ ممہد ہولیا فرق احکام ظاہرہوگیا شہادت نامہ پڑھنے کی حقیقت عرفیہ صرف اس قدر کہ ذکرشہادت شریف حضرات ریحانین رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مسلمانوں کے آگے پڑھاجائے، معاذاﷲ روایات کاموضوع وباطل یاذکر کاتنقیص شان صحابہ پرمشتمل ہونا ہرگز نہ داخل حقیقت ہے نہ لازم وجود، ولہٰذا جولوگ روایات صحیحہ معتبرہ نظیفہ مطہرہ مثل سرالشہادتین وغیرہ پڑھتے ہیں اسے بھی قطعاً شہادت ہی پڑھنا اور مجلس کو مجلس شہادت ہی کہتے ہیں تومعلوم ہواکہ وہ امورنامشروعہ کہ عارض ہوگئے ہنوز عوارض ہی سمجھے جاتے ہیں اور عوارض قبیحہ سے نفس شیئ مباح یاحسن قبیح نہیں ہوجاتی بلکہ وہ اپنی حد ذات میں اپنے حکم اصلی پررہتی اور نہی عوارض قبیحہ کی طرف متوجہ ہوتی ہے جیسے ریشمیں کپڑے پہن کر نمازپڑھنا کہ نفس ذات نماز کومعاذاﷲ قبیح نہ کہیں گے بلکہ ان عوارض وزوائد کو توشہادت ناموں میں ان عوارض کالحوق بعینہٖ ایساہے جیسے آ ج کل بعض جہّال ہندوستان نے مجلس میلادمبارک میں روایات موضوعہ وقصص بے سروپا بلکہ کلمات توہین ملائکہ وانبیاء علیہم الصلوٰۃ والثناء پڑھنا اختیارکیاہے، اس سے حقیقت مبتدل نہ ہوئی، نہ عوارض نے دائرہ عروض سے آگے قدم رکھا جو مجالس طیبہ طاہرہوتی ہیں انہیں بھی قطعاً مجالس میلادمبارک ہی کہاجاتاہے اور ہرگز کسی کو یہ گمان نہیں ہوتا کہ یہ کوئی دوسری شیئ ہے جو ان مجالس سے حقیقت وجداگانہ رکھتی ہے، بخلاف تعزیہ داری کہ اس کا آغاز اگرچہ یوں ہی سناگیاہے کہ سلطان تیمور نے ازانجاکہ ہرسال حاضری روضہ مقدسہ حضورسیدالشہداء شہزادہ گلگوں قبا علٰی جدہ الکریم علیہ اصلوٰۃ والثناء کومخل امورسلطنت دیکھا تو بنظرشوق وتبرک تمثال روضہ مبارک بنوائی اور اس قدر میں کوئی حرج شرعی نہ تھا مگر یہ امرحقیقت متعارفہ سے وجوداً وعدماً بالکل بے علاقہ ہے اگرکوئی شخص روضہ انورمدینہ منورہ وکعبہ معظمہ کے نقشوں کی طرح کاغذ پرتمثال روضہ حضرت سیدالشہداء آئینہ میں لگاکررکھے ہرگز نہ اسے تعزیہ کہیں گے نہ اس شخص کو تعزیہ دار، حالانکہ اُتنا امرقطعاً موجودہے اور یہ ہرسال نئی نئی تراش وخراش کی کھپچی پنّیاں، کسی میں براق، کسی میں پریاں، جوگلی کوچے گشت کرائی جاتی ہیں، ہرگز تمثال روضہ مبارک حضرت سیدالشہداء نہیں کہ تمثال ہوتی تو ایک طرح کی نہ کہ صدہا مختلف، انہیں ضرورتعزیہ اور ان کے مرتکب کوتعزیہ دارکہاجاتاہے تو بداہۃً ظاہر کہ حقیقت تعزیہ داری انہیں امورنامشروعہ کانام ٹھہراہے نہ کہ نفس حقیقت عرفیہ وہی امرجائزہو اور یہ نامشروعات امور زوائدوعوارض مفارقہ سمجھے جاتے ہوں، ولہٰذا فقیر نے اپنے فتاوے میں قدرمباح کوذکرکرکے کہا کہ جہال بیخردنے اس اصل جائزکوبالکل نیست ونابود کرکے الخ، اور آخر میں کہا اب کہ تعزیہ داری اس طریقہ نامرضیہ کانام ہے قطعاً بدعت وناجائزوحرام ہے۔ یہ اُسی فرق جلیل ونفیس کی طرف اشارہ تھا جو اس مقدمہ ممہدہ میں گزرا۔