Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
11 - 160
مسلمانو! یہ فتوٰی ہے سرور وسردار سلسلہ عالیہ چشت حضرت سلطان الاولیاء رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا۔ کیا اس کے بعد بھی مفتریوں کو منہ دکھانے کی گنجائش ہے۔ 

نیز سیرالاولیاء شریف میں ہے:
یکے بخدمت حضرت سلطان المشائخ عرضداشت کہ دریں روزہابعضے ازدرویشاں آستانہ دار درمجمعے کہ چنگ ورباب ومزامیر بودرقص کردند فرمودنیکونہ کردہ اندانچہ نامشروع است ناپسندیدہ است بعد ازاں یکے گفت چوں ایں طائفہ ازاں مقام بیروں آمدند باایشاں گفتند کہ شماچہ گردید دراں جمع مزامیربودسماع چگونہ شنید ورقص کردید ایشاں جواب دادند کہ ماچناں مستغرق سماع بودیم کہ ندانستیم کہ ایں جامزامیرست یانہ، حضرت سلطان المشائخ فرمود ایں جواب ہم چیزے نیست ایں سخن درہمہ معصیتہابیاید۱؎۔
ایک خادم نے سلطان المشائخ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ ان دنوں آستانے کے بعض درویشوں نے اس مجلس اورمحفل میں ناچ کیا ہے جہاں آلات سماع چنگ ورباب اور سارنگی ومزامیر وغیرہ تھے تو ارشاد فرمایا انہوں نے اچھانہیں کیا کیونکہ جوکام ناجائز ہے وہ پسندیدہ نہیں ہوسکتا۔ اس کے بعد ایک کہنے لگا کہ جب یہ لوگ اس حالت سے فارغ ہوئے تولوگوں نے ان سے پوچھا کہ یہ تم نے کیاکیاہے، اس محفل میں تومزامیر بھی تھے پھرتم نے قوالی بھی سنی او رناچتے بھی رہے۔ انہوں نے جواباً بتایا کہ ہم سماع میں اس قدرمستغرق (ڈوبے ہوئے) تھے کہ ہمیں پتہ ہی نہیں چلاکہ مزامیر بھی ہیں یانہیں۔ اس پرسلطان المشائخ نے فرمایا کہ یہ کوئی معقول جواب نہیں اس لئے کہ یہ بہانہ توتمام گناہوں میں ملوث ہونے والے کرسکتے ہیں۔(ت)
(۱؎ سیرالاولیاء         باب نہم دربیان سماع ووجد         مؤسسۃ انتشارات اسلامی لاہور    ص۳۱۔۵۳۰)
مسلمانو! کیساصاف ارشاد ہے کہ مزامیر ناجائزہے اور اس عذر کاکہ ''ہمیں استغراق کے باعث مزامیر کی خبرنہ ہوئی'' کیامسکت جواب عطافرمایا کہ ایساحیلہ ہرگناہ میں چل سکتاہے۔ شراب پئے اور کہہ دے شدّت استغراق کے باعث ہمیں خبرنہ ہوئی کہ شراب ہے یاپانی۔ زناکرے اور کہہ دے غلبہ حال کے سبب تمیزنہ ہوئی کہ جروا ہے یابیگانی۔

اُسی میں ہے:
حضرت سلطان المشائخ فرمود من منع کردہ ام کہ مزامیر ومحرمات درمیان نباشد ودریں باب بسیارغلوکردتابحدیکہ گفت اگر امام راسہو افتدمرد بتسبیح اعلام دہدوزن سبحان اﷲ نگوید زیرا کہ نشاید آوازآں شنودن پس چکندپشت دست برکف دست زندوکف دست برکف دست نزند کہ آں بلہو میماندتا ایں غایت ازبلاہی و امثال آں پرہیزآمدہ است پس درسماع طریق اولٰی کہ ازیں بابت نباشد یعنی درمنع دستک چندیں احتیاط آمدہ است پس درسماع مزامیر بطریق اولٰی منع است۲؎ اھ باختصار
حضرت سلطان المشائخ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے منع کیا ہے کہ مزامیر حرمت درمیان میں نہ ہوں اور اس سلسلے میں اس قدرتعدّی (شدت) فرمائی کہ ارشاد فرمایا امام اگرنماز میں بھول جائے تو مردسبحان اﷲ کہہ کر آگاہ کرسکتاہے مگرعورت کو اس طرح کہناجائز نہیں کیونکہ اس کی آواز نہیں سنی جانی چاہئے اس کے لئے یہ ہدایت اور حکم ہے کہ وہ اپنے ایک ہاتھ کی پشت پردوسرے ہاتھ کی ہتھیلی مارے لیکن ہتھیلی کوہتھیلی پرنہ مارے کیونکہ یہ عمل لہو میں شمارہوتاہے یعنی تالی بجانا، پس اندازہ کرلیاجائے کہ کس حد تک کھیل کوداور لغو کلام سے پرہیزکی ہدایت وارد ہوئی ہے پس سماع میں بطریق اولٰی منع ہے یعنی تالی بجانے سے بھی ممانعت ہے لہٰذا مزامیر کے ساتھ قوالی کرنا اس سے زیادہ اشداورممنوع ہے اھ باختصار(ت)
 (۲؎سیرالاولیاء         باب نہم دربیان سماع ووجد         مؤسسۃ انتشارات اسلامی لاہور  ص ۵۳۲)
مسلمانو! جوائمہ طریقت اس درجہ احتیاط فرمائیں کہ تالی کی صورت کوممنوع بتائیں وہ اور معاذاﷲ مزامیر کی تہمت ﷲ انصاف کیسا ضبط بے ربط ہے۔ اﷲ تعالٰی اتباع شیطان سے بچائے اور ان سچے محبوبان خدا کاسچا اتباع عطافرمائے اٰمین الٰہ الحق اٰمین بجاھھم عندک اٰمین والحمد ﷲ رب العالمین (آمین، اے سچے معبود! تیری بارگاہ میں جو ان کامقام ومرتبہ ہے اس کے طفیل دعا قبول فرما۔ اور سب تعریف اس خداکے لئے ہے جو تمام جہانوں کاپروردگار ہے۔ت) کلام یہاں طویل ہے اور انصاف دوست کو اسی قدرکافی، واﷲ الہادی، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۷ : ملک بنگالہ ضلع کجھار ڈاک خانہ لکھی پور بمقام سنگرین     مرسلہ جلال الدین 

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شادی میں بندوقیں بغرض اعلان چھوڑنا جائزہے یانہیں؟ اور جس شخص نے حرام ثابت کیا بلکہ اس کے یہاں کاکھانا تک حرام قطعی ثابت کیا اس کے حق میں شرع سے کیاحکم ہے؟
الجواب: فی الواقع نکاح میں بغرض اعلان بندوقیں چھوڑنے کی ممانعت شرع میں کہیں ثابت نہیں۔ ہلال رمضان اور ہلال عید میں صدہا سال سے توپوں کے فائر کئے جاتے ہیں اس سے بھی اعلان ہی مقصود ہوتاہے اس اعلان پرشرعاً عمل کاجزئیہ ردالمحتار میں مذکورہے۔ نیت ریاوتفاخر نہ فقط شادی کی بندوقوں بلکہ نماز کوحرام کردیتی ہے، رسم کااعتبار جب تک کسی فساد عقیدہ پرمشتمل نہ ہو اصل رسم کے حکم میں رہتاہے اگررسم محمودہے محمود ہے، مذموم ہے مذموم ہے، مباح ہے مباح ہے، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۸ : ازآرہ ضلع شاہ آباد محلہ ترئی مدرسہ حنفیہ مرسلہ مولوی ظفرالدین صاحب مدرس ۱۷جمادی الاولٰی ۱۳۳۰ھ

بشرف ملاحظہ آقائے نعمت دریائے رحمت حضور پرنورمتع اﷲ المسلمین بقائکم  السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ بدعائے والامع الخیررہ کرخواہان عافیت سرکار مع جملہ خدام ہوں رسالہ مبارک الکشف شافیا میں جوبعد تفصیل اجمال فرمایاگیاہے کہ یہاں تین چیزیں ہیں ممنوعات، معظمات، مباحات۔ قسم اول کاحکم ارشاد فرمایا کہ بعینہ اصل جیسا ہے۔ فونوگراف سے سننا گویانہیں بلکہ بعینہ اس مغنیہ کاگانا سننا ہے اس لئے کہ پلیٹ اور گلاس کی آواز نہیں ہوتی اگرچہ اس آواز کا بعینہ وہی آواز ہونامتبادرعبدالعقل نہیں مگر اس تمام تفصیل کے بعد جوابتدائے رسالہ شریفہ میں  درج ہے کسی کو مجال انکار نہیں، اور بیشک وہ آواز جوفونوگراف سے نکلتی ہے بعینہ وہ ہی آواز ہے جو اس عورت کے گانے کی ہے مگرعلمائے کرام وصوفیائے عظام نے جب بالمواجہہ کسی کاگانا سننے اور پس پردہ میں فرق فرمایا ہے تویہاں بدرجہ اولٰی ہوناچاہئے۔ حضرت امام غزالی قدس سرہ حضورپرنوروالابرکت سیدی شاہ محمدکالپوری قدسنا اﷲ باسرارہ الشریف نے کسی جگہ تحریرفرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص مغنیہ کی آوازمنہ پرکپڑاڈال کرسنے کہ اس کی صورت نہ دیکھ سکے تو اس میں مضائقہ نہیں، اگرچہ یہ مضمون میں نے خود ان دونوں حضرات قدسنااﷲ باسرارہم کی کسی کتاب میں نہیں دیکھا مگرامام غزالی رحمہ اﷲ کی نسبت مولوی حکیم عبدالوہاب نے کہاتھا اور حضرت کالپوری قدس سرہ العزیز کی نسبت رجب ۱۳۲۷ھ میں مولوی محمدفاخر صاحب نے مارہرہ شریف میں، اگرچہ اسی وقت سے بارہاخیال اس کے دریافت کاہوامگراتفاق نہ پڑا، خیرپس اگریہ دونوں مضمون ان حضرات کرام یا اور کسی صاحب نے نہیں تحریرفرمایا جب توکوئی بات ہی نہیں، اور اگرتحریرفرمایا ہے توغالباً اس کی وجہ قلت مظنہ فتنہ ہے تو یہاں تو اور اقل قلیل ہے خصوصاً اس صورت میں کہ جس کاریکارڈ بھراہوا ہو وہ مرچکی ہو پھردونوں کاحکم ایک کس طرح ہوسکتاہے۔ بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب : یہ مضمون کہ منہ پرکپڑاڈال کررنڈیوں ڈومنیوں کاگانا سنناجائزہے دونوں حضرات ممدوح قدسنااﷲ باسرارہما میں کسی سے ثابت نہیں، نہ ہرگز شرع مطہر میں اس کا پتا، نہ اصول شرع اس کی مساعد، نہ ایسی نقول مذہب پرقاضی ہوسکیں۔

(۱) شریعت محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے جس طرح فتنہ کوحرام فرمایا دواعی فتنہ کو بھی حرام فرمادیا۔
قال اﷲ تعالٰی تلک حدوداﷲ فلاتقربوھا۱؎ وقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ من رتع حول الحمی اوشک ان یقع فیہ۲؎۔
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا یہ اﷲ تعالٰی کی حدیں ہیں لہٰذا ان کے پاس نہ جاؤ۔ حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو کوئی کسی چراگاہ کے آس پاس جانورچرائے تو قریب ہے کہ چراگاہ میں گھس جائے۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم     ۲/ ۱۸۷)

(۲؎ صحیح البخاری     کتاب البیوع     ۱/ ۲۷۵ و صحیح مسلم     کتاب المساقات     ۲/ ۲۸)
اجنبیہ سے خلوت، نظر، مس، معانقہ، تقبیل اس لئے حرام ہوئے کہ دواعی ہیں۔

(۲) دواعی کے لئے مستلزم ہوناضرورنہیں ہزارہاخلوت ونظر بلکہ بوس وکنار واقع ہوتے ہیں اور مدعو الیہ یعنی زنا واقع نہیں ہوتا۔
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم والفرج یصدق ذٰلک اویکذب بہ رواہ الشیخان۱؎ وابوداود والنسائی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشادفرمایا شرمگاہ اس کی تصدیق یاتکذیب کرتی ہے۔ اس کو بخاری، مسلم، نسائی اور ابوداؤد نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی روایت سے بیان فرمایا۔(ت)
(۱؎ صحیح البخاری     کتاب القدر        باب قول اﷲ وحرام علی     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۹۷۸)

(صحیح مسلم         کتاب القدر        باب قدرعلی ابن آدم حظہ من الزنا الخ      قدیمی کتب خانہ کراچی  ۲/ ۳۳۶)
Flag Counter