Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
109 - 160
رسالہ

اعالی الافادۃ فی تعزیۃ الھندوبیان شھادۃ(۱۳۲۱ھ)

(ہندوستان میں تعزیہ داری اور بیان شہادت کے احکام سے متعلق بلندپایہ فوائد)
مسئلہ ۲۲۰ تا ۲۲۷:

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم

ان احسن تعزیۃ لقلوب المسلمین فیماھجم من البدعات علی اعلام الدین ان الحمدﷲ رب العٰلمین وافضل الصلٰوۃ واکمل السلام علٰی سیّد الشھداء بالحق یوم القیام وعلٰی اٰلہ وصحبہ الغرر الکرام اٰمین!
دینی شعائر پربدعات کے ہجوم کی وجہ سے مسلمانوں کے دلوں کے لئے بہترین تعزیت، اﷲ تعالٰی رب العالمین کی حمد، اور قیامت کے روز حق کی شہادت دینے والوں کے سردار پربہترین صلوٰۃ اورکامل ترین سلام اور ان کی آل واصحاب ممتاز عزت والوں پر۔آمین!
سوال اول:  ۲۴صفر۱۳۰۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تعزیہ داری کاکیاحکم ہے؟بیّنواتوجروا (بیان فرماؤ تاکہ اجرپاؤ۔ت)
الجواب: تعزیہ کی اصل اس قدر تھی کہ روضہ پرنورشہزادہ گلگوں قباحسین شہید ظلم وجفاصلوات اﷲ تعالٰی وسلامہ علٰی جدہ الکریم وعلیہ کی صحیح نقل بناکر بہ نیت تبرک مکان میں ر کھنا اس میں شرعاً کوئی حرج نہ تھا کہ تصویرمکانات وغیرہا ہر غیرجاندار کی بنانا، رکھنا، سب جائز، اور ایسی چیزیں کہ معظمان دین کی طرف منسوب ہوکر عظمت پیداکریں ان کی تمثال بہ نیت تبرک پاس رکھنا قطعاًجائز، جیسے صدہاسال سے طبقۃً فطبقۃً ائمہ دین وعلمائے معتقدین نعلین شریفین حضورسیدالکونین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے نقشے بناتے اور ان کے فوائد جلیلہ ومنافع جزیلہ میں مستقل رسالے تصنیف فرماتے ہیں جسے اشباہ ہو (عہ) امام علامہ تلمسانی کی فتح المتعال وغیرہ مطالعہ کرے،
عہ: ہمارا رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب ومزارہ ونعالہ دیکھئے صلی اﷲ تعالٰی علی الحبیب وآلہٖ وبارک وسلم ۱۲منہ ۔
مگرجہال بیخردنے اس اصل جائزکوبالکل نیست ونابود کرکے صدہا خرافات وہ تراشیں کہ شریعت مطہرہ سے الاماں الاماں کی صدائیں آئیں، اول تونفس تعزیہ میں روضہ مبارک کی نقل ملحوظ نہ رہی، ہرجگہ نئی تراش نئی گھڑت جسے اس نقل سے کچھ علاقہ نہ نسبت، پھر کسی میں پریاں، کسی میں براق، کسی میں اوربیہودہ طمطراق، پھر کوچہ بکوچہ ودشت بدشت، اشاعت غم کے لئے ان کاگشت، اور ان کے گردسینہ زنی، اور ماتم سازشی کی شورافگنی، کوئی ان تصویروں کوجھک جھک کرسلام کررہاہے، کوئی مشغول طواف، کوئی سجدہ میں گراہے، کوئی ان مایہ بدعات کومعاذاﷲ معاذاﷲ جلوہ گاہ حضرت امام علٰی جدہ وعلیہ الصلوٰۃ والسلام سمجھ کر اس ابرک پنّی سے مرادیں مانگتا منّتیں مانتاہے، حاجت روا جانتاہے، پھرباقی تماشے، باجے، تاشے، مردوں عورتوں کاراتوں کومیل، اور طرح طرح کے بیہودہ کھیل ان سب پرطرہ ہیں۔غرض عشرہ محرم الحرام کہ اگلی شریعتوں سے اس شریعت پاک تک نہایت بابرکت ومحل عبادت ٹھہراہواتھا، ان بیہودہ رسوم نے جاہلانہ اور فاسقانہ میلوں کا زمانہ کردیا پھر وبال ابتداع کاوہ جوش ہواکہ خیرات کوبھی بطور خیرات نہ رکھا، ریاء وتفاخر علانیہ ہوتاہے پھروہ بھی یہ نہیں کہ سیدھی طرح محتاجوں کودیں بلکہ چھتوں پربیٹھ کر پھینکیں گے روٹیاں زمین پر گر رہی ہیں رزق الہی کی بے ادبی ہوتی ہے پیسے ریتے میں گر کر غائب ہوتے ہیں، مال کی اضاعت ہورہی ہے، مگرنام توہوگیا کہ فلاں صاحب لنگرلٹارہے ہیں، اب بہارعشرہ کے پھول کھلے، تاشے باجے بجتے چلے، طرح طرح کے کھیلوں کی دھوم، بازاری عورتوں کاہرطرف ہجوم، شہوانی میلوں کی پوری رسوم، جشن یہ کچھ اور اس کے ساتھ خیال وہ کچھ کہ گویایہ ساختہ تصویریں بعینہا حضرات شہداء رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین کے جنازے ہیں، کچھ نوچ اتارباقی توڑتا ڑدفن کردیئے۔ یہ ہرسال اضاعت مال کے جرم ووبال جداگانہ رہے۔ اﷲ تعالٰی صدقہ حضرات شہدائے کربلا علیہم الرضوان والثناء کا ہمارے بھائیوں کونیکیوں کی توفیق بخشے اور بری باتوں سے توبہ عطافرمائے، آمین! اب کہ تعزیہ داری اس طریقہ نامرضیہ کانام ہے قطعاً بدعت وناجائزوحرام ہے،ہاں اگر اہل اسلام جائز طورپرحضرات شہدائے کرام علیہم الرضوان کی ارواح طیبہ کوایصال ثواب کی سعادت پراقتصار کرتے تو کس قدر خوب ومحبوب تھا اور اگر نظرشوق ومحبت میں نقل روضہ انور کی حاجت تھی تو اسی قدرجائز پرقناعت کرتے کہ صحیح نقل بغرض تبرک وزیارت اپنے مکانوں میں رکھتے اور اشاعت غم وتصنع الم ونوحہ زنی وماتم کنی ودیگر امورشنیعہ وبدعات قطعیہ سے بچتے اس قدر میں بھی کوئی حرج نہ تھا مگراب اس نقل میں بھی اہل بدعت سے ایک مشابہت اور تعزیہ داری کی تہمت کاخدشہ اور آئندہ اپنی اولاد یااہل اعتقاد کے لئے ابتلاء بدعات کااندیشہ ہے،
اور حدیث میں آیاہے:
اتقوا مواضع التھم۱؎
 (تہمت کے مواقع سے بچو۔ت)
 (۱؎ کشف الخفاء     حدیث ۸۸        دارالکتب العلمیۃ بیروت         ۱/ ۳۷)

(اتحاف السادۃ     کتاب عجائب القلب     بیان تفصیل مداخل الشیطان الی القلب،    دارالفکربیروت ۷/ ۲۸۳)
اور وارد ہوا:
من کان یؤمن باﷲ والیوم الاٰخر فلایقفن مواقف التھم۲؎۔
جو شخص اﷲ تعالٰی اور آخرت پرایمان رکھتاہے وہ ہرگزتہمت کے مواقع میں نہ ٹھہرے۔(ت)
 (۲؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی     کتاب الصلوٰۃ     باب ادراک الفریضۃ    نورمحمدکارخانہ تجارت کراچی ص۲۴۹)
لہٰذا روضہ اقدس حضورسیدالشہداء رضی اﷲتعالٰی عنہ کی ایسی تصویر بھی نہ بنائے بلکہ صرت کاغذ کے صحیح نقشے پر قناعت کرے اور اسے بقصد تبرک بے آمیزش منہیات اپنے پاس رکھے جس طرح حرمین محترمین سے کعبہ معظمہ اور روضہ عالیہ کے نقشے آتے ہیں یادلائل الخیرات شریف میں قبورپرنور کے نقشے لکھے ہیں
والسلام علی من اتبع الھدی، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
سوال دوم : ازامروہہ مرسلہ مولوی سیدمحمدشاہ صاحب میلادخواں     ۲۲شعبان ۱۳۱۱ھ

کیاارشاد ہے علمائے دین متین کااس مسئلہ میں کہ مجالس میلاد شریف میں شہادت نامہ کا پڑھناجائزہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب : شہادت نامے نثریانظم جو آج کل عوام میں رائج ہیں اکثرروایات باطلہ وبے سروپا سے مملو اور اکاذیب موضوعہ پرمشتمل ہیں، ایسے بیان کاپڑھنا سننا وہ شہادت ہو خواہ کچھ، اور مجلس میلاد مبارک میں ہو خواہ کہیں اور، مطلقاً حرام وناجائزہے، خصوصاً جبکہ وہ بیان ایسی خرافات کومتضمن ہو جن سے عوام کے عقائد میں تزلزل واقع ہو کہ پھر تو اور بھی زیادہ زہرقاتل ہے، ایسے ہی وجوہ پر نظرفرماکر امام حجۃ الاسلامی محمد محمد محمدغزالی قدس سرہ العالی وغیرہ ائمہ کرام نے حکم فرمایا کہ شہادت نامہ پڑھناحرام ہے۔
علامہ ابن حجرمکی قدس سرہ الملکی صواعق محرقہ میں فرماتے ہیں:
قال الغزالی وغیرہ یحرمہ علی الواعظ وغیرہ روایۃ مقتل الحسن والحسین وحکایتہ۱؎ الخ
امام غزالی وغیرہ نے فرمایا کہ واعظ کے لئے حرام ہے کہ وہ شہادت حسنین کریمین اور اس کے بے سروپاواقعات لوگوں کو سنائے الخ (ت)
 (۱؎ الصواعق المحرقۃ     الخاتمۃ فی بیان اعتقاد اہل السنۃ     مکتبۃمجیدیہ ملتان     ص۲۲۳)
Flag Counter