مسئلہ ۱۹۵ : ازبدایوں اسلام نگر مرسلہ عزیز حسن کانسٹیبل ۲۴ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ، اگرکوئی شخص تعزیہ بنائے یا تعزیہ پرچڑھاوا چڑھائے یامرثیہ پڑھے یامرثیہ کی مجلس میں شریک ہو یاباجابجائے بجوائے یا اس میں شریک ہو یاشیرینی تقسیم کرے یاکھائے یاکھلائے یاتاریخ مقرر کرکے خیرات کرے، محرم کی ساتویں نویں دسویں تاریخ کو یہ باتیں مذہب اسلام میں جائز ہیں یانہیں؟ اگرجائز ہیں توکیاثبوت ہے ثبوت مع نام کتاب صفحہ وسطر اور قرآن وحدیث سے ہو اگرناجائز ہوتو بھی ثبوت مع صفحہ وسطر قرآن وحدیث سے تحریر فرمائیں۔
الجواب: شیرینی تقسیم کرنا، کھاناکھلانا، فاتحہ دینا، نیازدلانا اگرچہ تعین تاریخ کے ساتھ ہو جبکہ اس تعین کو واجب شرعی نہ سمجھے یہ باتیں شریعت میں جائزہیں۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ۱؎۔
جوکوئی تم میں سے اپنے بھائی کوفائدہ پہنچانے کی طاقت رکھتاہے تو اسے اپنے بھائی کوفائدہ پہنچانا چاہئے۔(ت)
(۱؎ صحیح مسلم کتاب السلام باب استحباب الرقیۃ من العین الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۲۴)
امام بدرالدین محمود عینی نے بنایہ شرح ہدایہ میں خوبی ایصال ثواب پراجماع امت نقل فرمایا ہے اور فرمایا اہلسنت وجماعت کایہی مذہب ہے، باقی جوباتیں سوال میں ہیں تعزیہ اور باجا اور مرثیہ اور مرثیہ کی مجلسیں اور تعزیہ کاچڑھاوایہ سب ناجائزوبدعت وگناہ ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۹۶: ازموضع اومری کلاں ڈاکخانہ کانٹھ ضلع مرادآباد مرسلہ ظفراحسن صاحب ۶محرم الحرام ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اول محرم کاجاری ہونا شاہ تیمور کے وقت سے ہوا جب سنت وجماعت نہیں تھا وہاں کے روضوں کی تصویریں جومنسوب امام حسین رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے روضے تھے اُترواکر رکھ کر شاہ اپنا خیال پوراکرلیتاتھا اور چونکہ یہ امربھی حکم خداونیز کسی حدیث نبوی سے ثابت نہیں ہے اس لئے وہ کیاحکم رکھتاہے اور جبکہ محرم کوجاہل لوگ سجدہ کرتے ہیں اورمنتیں لوگ تازیوں پرازقسم اناج پکاہوایاشیرینی چڑھاتے ہیں فاتحہ دیتے ہیں تازیہ کے ساتھ باجہ ہوتاہے اور مرثیہ انیس وغیرہ کے جو سنی نہیں ہیں ان کی تصنیف کے جواصل واقع کے برخلاف طویل ہیں وہ سُرراگنی اور کئی آواز سے ڈھپ سے پڑھتے ہیں بازارگلی کوچوں میں آل عبا کی عورتوں کی حالت وہ بیان کرتے ہیں معاذاﷲ تازیوں پرروٹی پکواکر رکھتے ہیں کربلا ایک مخصوص جگہ مقرر کرکے وہاں روٹی بانٹتے ہیں اکثر یہاں بھی آگے پیچھے کی بحث میں لڑائیاں ہوجاتی ہیں عورتیں اکثرمسلمانوں کی بلاپردہ تازیوں پرجاتی ہیں تازیوں کاسوم چہلم کرتے ہیں فاتحہ دلاتے ہیں معذرات گروہ تازیہ داری یہ ہیں ہمیشہ سے یہی رسم جاری ہے ناتعلیم یافتہ کہتے ہیں کہ ہم سجدہ نہیں کرتے محض یادگاری امام حسین رضی اﷲ تعالٰی عنہ وشہیدان وشب کربلابناتے ہیں اور تازیہ کی وجہ سے صدقہ ہوتاہے تازیہ یادگاری کاباعث، بعض کہتے ہیں پھری گدکہ کھیلنے کاموقع ملتاہے، نتیجہ صدہاسال سے یہ نکل رہاہے کہ جابجالڑائی دنگہ فساد اس تازیہ کے بدولت ہوتے ہیں، امروہہ کاواقعہ قریب کاہے جس میں بہت سے مسلمان جیل خانہ گئے قتل بھی ہوا ہزاروں روپیہ مسلمانوں کامقدمہ بازی میں خرچ ہو ابہت سے گھرویران ہوگئے۔ پس گزارش عالمان ومفتیان شرع سے ہے کہ تازیہ بنانے والے، ہمدردی کرنے والے، باجہ بجانے والے، اس گروہ میں شامل ہونے والے، اس طریقہ متذکرہ بالا کہ بموجب صدقہ کے نام سے خرچ کرنے والے کس امر کے مستحق ہیں اور اس طریقہ سے خرچ کسی مد میں شمارہوتاہے یانہیں؟
الجواب : تعزیہ جس طرح رائج ہے ضروربدعت شنیعہ ہے، جس قدربات سلطان تیمور نے کی کہ روضہ مبارک حضرت امام رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی صحیح نقل تسکین شوق کو رکھی وہ ایسی تھی جیسے روضہ منورہ وکعبہ معظمہ کے نقشے اس وقت تک اس قدرحرج میں نہ تھا اب بوجہ شیعی وشبیہ اس کی بھی اجازت نہیں، یہ جوباجے، تاشے، مرثیے، ماتم، برق پری کی تصویریں، تعزیے سے مرادیں مانگنا اس کی منتیں ماننا، اسے جھک جھک کر سلام کرنا، سجدہ کرنا وغیرہ وغیرہ بدعات کثیرہ اس میں ہوگئی ہیں اور اب اسی کانام تعزیہ داری ہے یہ ضرور حرام ہے دبیروانیس وغیرہ اکثرروافض کے مرثیے تبرا پرمشتمل ہوتے ہیں اگرچہ جاہل نہ سمجھیں اور نہ بھی ہوتوجھوٹی ساختہ روایتیں خلاف شرع کلمات اہل بیت طہارت کی معاذاﷲ نہایت ذلت کے ساتھ بیان اور سرے سے غم پروری کے مرثیے کس نے حلال کئے۔
حدیث میں ہے:
نھٰی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن المراثی۱؎۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے مرثیوں سے منع فرمایا۔
اور اس کے سبب صدقہ خیرات ہوناجھوٹا عذرہے اﷲ کے بندے کہ تعزیہ وغیرہابدعات کوحرام جانتے ہیں نیازوخیرات کرتے ہیں ربیع الاول شریف میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نیازیں ہوتی ہیں ربیع الآخر شریف میں حضورسیدناغوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی نیازیں ہوتی ہیں ان میں کون سا تعزیہ ہوتاہے اور بفرض غلط اگرتعزیہ ہی باعث خیرات ہوتوخیرات ایک مستحب چیزہے اور بدعات حرام، مستحب کے لئے حرام حلا ل نہیں ہوسکتا، عجب ان سے کہ مستحب نہ کریں گے جب تک حرام اس کی یاد نہ دلائے، پھری گدکا ایک مباح بات ہے، مباح کے لئے حرام کیونکر حلال ہوسکتاہے غرض عذرات سب بیہودہ ہیں اور ان افعال کے مرتکب سب گنہگار اورانہیں مدددیناناجائزاور علم تعزیے تخت میں جوکچھ صرف ہوتاہے سب اسراف وحرام اور تعزیے کی نیاز لنگرکا لٹانا روٹیوں کازمین پرپھینکنا پاؤں کے نیچے آنا سب بیہودہ ہے ہاں نیاز کے طورپر سب بدعات سے بچ کر حضرات شہدائے کرام کی نیازکریں تو عین برکت وسعادت ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۹۷ تا ۲۰۳: ازلہرپور ضلع سیتاپور مدرسہ اسلامیہ مرسلہ محمدفیض اﷲ طالب العلم بنگالی ۶شعبان ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مدعی حنفیت کہتاہے کہ تعزیہ چونکہ نقشہ ہے سیدناحضرت امام حسین رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے روضہ مقدسہ کا، اورمنسوب ہے سیدنا امام ہمام رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی طرف، لہٰذا اس کابنانا امرضروری ہے اور باعث ثواب وقابل تعظیم وذریعہ نجات ہمارے لئے ہے اور جوشخص ان کی تعظیم وبنانے کامخالف ہے وہ یزیدہے پس امور ذیل تحقیق طلب ہیں:
(۱) تعزیہ بناناجائزہے یابدعت اورحرام اور باعث ثواب وتعظیم ہے یاباعث عذاب نارجحیم ہے۔
(۲) اس کے بنانے میں کسی قسم کی امدادجائزہے یانہیں؟
(۳) اس کابنانے والافاسق مشابہ اہل تشیع ہے یانہیں اوربرتقدیر حرام وبدعت اس کاجائز سمجھنے والا کافرہے یااشدفاسق؟
(۴) مذہب امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ میں بھی اس کاثبوت ہے یانہیں برتقدیرثانی اس کا بنانے والامتبع امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ ہے یانہیں او ر اس کایہ دعوٰی کہ میں حنفی ہوں جس سے عوام بھی تعزیہ بنانے کی طرف راغب ہوتے ہیں یہ دھوکادینا ہے یانہیں اور باعث گمراہی ہے یانہیں؟
(۵) ایسے شخص کواگرحنفی لوگ اپناپیشواوپیربنائیں توجائزہے یاحرام، اور مریدین پرفسخ بیعت واجب ہے یانہیں اور ایسے شخص کی اقتدافی الصلوٰۃ جائزہے یامکروہ بکراہت تنزیہی یاتحریمی یاحرام؟
(۶) منکرین تعزیہ کویزیدیابددین کہنا کیساہے اگرمنکرین محل اس طعن وتشنیع کے نہیں ہیں تویہ قول خود قائلین کی طرف رجوع کرتاہے یانہیں یعنی اس کاوبال وگناہ قائلین پرکتناہوگا اور حدیث شریف کے اس قاعدے کے تحت میں داخل ہوں گے یانہیں کہ اگر کسی کوکافر کہے اور وہ فی الحقیقت ایسانہیں تو قائل خود کافرہوتاہے۔
(۷) بانی تعزیہ چونکہ عام مسلمانوں کے حضوری کاباعث ہوتاہے پس برتقدیر حرام وبدعت حاضرین وبانی دونوں گناہ میں مساوی ہیں یااکمل وانقص ہیں۔
الجواب: تعزیہ جس طرح رائج ہے نہ ایک بدعت مجمع بدعات ہے نہ وہ روضہ مبارک کانقشہ ہے اور ہوتو ماتم اور سینہ کوبی اورتاشے باجوں کے گشت اورخاک میں دبانا یہ کیا روضہ مبارک کی شان ہے اور پریوں اور براق کی تصویریں بھی شاید روضہ مبارکہ میں ہوں گی امام عالی مقام کی طر ف اپنی ہو سات مخترعہ کی نسبت امام رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی توہین ہے کیاتوہین امام قابل تعظیم ہے۔ کعبہ معظمہ میں زمانہ جاہلیت میں مشرکین نے سیدنا ابراہیم وسیدنا اسمٰعیل علیہما الصلوٰۃ والسلام کی تصویریں بنائیں اور ہاتھ میں پانسے دئے تھے جن پر لعنت فرمائی اور ان تصویروں کومحوفرمادیا یہ توانبیائے عظام کی طرف نسبت تھی کیا اس سے وہ ملعون پانسے معظم ہوگئے یاتصویریں قابل ابقا۔ اور اسے ضروری کہنا تو اور سخت ترافترائے اخبث ہے وہ بھی کس پر شرع مطہر پر،
ان الذین یفترون علی اﷲ الکذب لایفلحون۱؎۔
بے شک جواﷲ تعالٰی کے ذمے جھوٹ لگاتے ہیں وہ کبھی کامیاب اوربامرادنہ ہوں گے۔(ت)
اور اس کے منکر کو یزیدکہنا رفض پلید ہے تعزیہ میں کسی قسم کی امدادجائزنہیں۔
قال اﷲ تعالٰی ولاتعاونوا علی الاثم والعدوان۱؎۔
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: گناہ اور زیادتی کے معاملات میں ایک دوسرے کی مدد نہ کیاکرو(ت)
( ۱؎ القرآن الکریم ۱۰/ ۶۹) (۱؎ القرآن الکریم ۵/ ۲)
طریقہ مذکورہ ضرور فسق واتباع روافض اور تعزیہ کوجائزسمجھنا فسق عقیدہ مگر انکارضروریات دین نہیں کہ کافر ہو نہ اس سے حنفیت زائل ہوکہ گناہ مزیل حنفیت ہو تو سوااجلہ اکابراولیاء کے کوئی حنفی نہ ہوسکے معتزلہ اصولاً بددین تھے اور فروعاً حنفی، جوقول باطل دوسرے کوکہاجائے اس کاوبال قائل پرآتاہے بعینہٖ وہی قول پلٹنا مطلق نہیں کسی کوناحق گدھاکہنے سے قائل گدھانہ ہوجائے گا، یوہیں کسی مسلمان سنی کو یزیدکہنے والا یزیدنہ ہوجائے گا بلکہ اس میں روافض کاپیرو۔ اس کے پیچھے نمازمکروہ تحریمی ہے اور اس سے بیعت ممنوع وناقابل ابقا۔ حاضرین میں ہرایک پراپناگناہ ہے اوربانی دواعی پر اُن سب کے برابر۔
لاینقص من اوزارھم شیئ۲؎
(اور ان کے گناہوں میں سے کچھ کمی نہ ہوگی۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
(۲؎ صحیح مسلم کتاب العلم باب من سن سنۃ حسنۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۴۱)