| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ) |
مسئلہ۱۸۷ تا ۱۹۱: مرسلہ جناب مولوی محمدابوذر ازسنبھل ضلع مرادآباد محلہ دیباسرائے کیافرماتے ہیں علمائے اہل سنت وجماعت رحمہم اﷲ وکرمہم اﷲ تعالٰی مسائل ذیل میں: (۱) ایصال ثواب برروح سیدناامام حسین علیہ السلام بروزعاشورہ جائزہے یانہیں؟ (۲) تعزیہ بنانا اور مہندی نکالنا اور شب عاشورہ کوروشنی کرنا جائز ہے یانہیں؟ (۳) مجلس ذکرشہادت قائم کرنا اور اس میں مرزادبیر اور انیس وغیرہ روافض کے کلام پڑھنا بطور سوزخوانی یاتحت اللفظ جائز ہے یانہیں اور اہل سنت کو ایسی مجالس میں شریک ہونا مکروہ ہے یاحرام یاجائزہے؟ (۴) حضرت قاسم کی شادی کامیدان کربلامیں ہونا جس بناپرمہندی نکالی جاتی ہے اہلسنت کے نزدیک ثابت ہے یانہیں؟ درصورت عدم ثبوت اس واقعہ میں حضرت امام حسن علیہ السلام کی صاحبزادی کی نسبت حضرت قاسم کی طرف کرنا خاندان نبوت کے ساتھ بے ادبی ہے یانہیں؟ (۵) روزعاشورہ کومیلہ قائم کرنااور تعزیوں کودفن کرنا اور ان پرفاتحہ پڑھنی جائزہے یانہیں؟ اور بارھویں اور بیسویں محرم اور بیسویں صفر کو تیجااور دسواں اور چالیسواں اور مجلسیں قائم کرنا اور میلہ لگاناجائزہے یانہیں؟
الجواب: (۱) روح پرفتوح ریحانہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سیدنا امام حسین رضی اﷲتعالٰی عنہ کو ایصال ثواب بروجہ صواب عاشورہ اور ہرروزمستحب ومستحسن ہے۔ (۲) تعزیہ مہندی روشنی مذکور سب بدعت وناجائزہے۔ (۳) نفس ذکر شریف کی مجلس جس میں ان کے فضائل ومناقب واحادیث وروایات صحیحہ ومعتبرہ سے بیان کئے جائیں اور غم پروری نہ ہو مستحسن ہے اور مرثیے حرام خصوصاً رافضیوں کے کہ تبرائے ملعونہ سے کمترخالی ہوتے ہیں اہلسنت کو ایسی مجالس میں شرکت حرام ہے۔ (۴) نہ یہ شادی ثابت نہ یہ مہندی سوا اختراع اخترائی کے کوئی چیز۔ نہ یہ غلط بیانی حد خاص توہین تک بالغ۔ (۵) عاشورہ کامیلہ لغو ولہو وممنوع ہے۔ یوہیں تعزیوں کادفن جس طورپرہوتاہے نیت باطلہ پرمبنی اور تعظیم بدعت ہے اور تعزیہ پرفاتحہ جہل وحمق وبے معنٰی ہے۔ مجلسوں اور میلوں کاحال اوپر گزرا، نیز ایصال ثواب کاجواب کہ ہرروز محمود ہے جبکہ بروجہ جائزہو۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۹۲: ازمرادآباد بازار سنبھل مرسلہ اﷲ بخش صاحب کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے تعزیہ پرجاکر یہ منت مانی کہ میں یہاں سے ایک خرمالئے جاتاہوں درصورت کام پورا ہونے کے سال آئندہ میں نقرئی خرما تیارکراکر چڑھاؤں گا۔ بیّنواتوجروا۔ الجواب: یہ نذر محض باطل وناجائز ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۹۳: ازملک برار مقام نیریبر سوئنیتھ محلہ داروہ ضلع ایوت محل محمدزماں عرف شیخ جھو چہار شنبہ بتاریخ ۱۲ ذوالقعدہ ۱۳۳۳ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص تعزیہ داری کوجائز کہتاہے اگرکوئی انکارکرتاہے توسخت کلامی سے پیش آتاہے چنانچہ پیش امام مسجد نیز واقع تعلقہ دار وہ ضلع ایوت محل ملک برار نے جب انکارکرکے کہا کہ تعزیہ داری سخت منع ہے تواس نے کہا کہ تم خلاف کہتے ہو اور تمہاری امامت جائز نہیں ہے تم سورکھاتے اور حرام کھاتے ہو۔ اس پرتمام بستی کے مسلمانوں نے جمع ہوکر اس سے پوچھا توتمام مسلمانوں کوکہا کہ تم سب سورکھاتے ہو۔اور کہا کہ اجرت پرامامت جائزنہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ایسے شخص کاقول کہاں تک صحیح ہے؟ کیاتعزیہ داری درست ہے اور اجرت پر امامت جائزنہیں؟اور جو تمام مسلمانوں کوسورکھانے والا بولے تو وہ گنہگار ہے فاسق ہے یانہیں اسے توبہ کرناچاہئے یانہیں؟ مسلمانوں کو ایسے شخص سے برتاؤ کیارکھناچاہئے؟ ایک مسلمان کی آمدنی کھیتی وتجارت سے بھی ہے اور سود سے بھی ہے ایسے شخص کے یہاں کھاناکھانا درست ہے یانہیں؟ اگر کسی مسلمان نے اس کے یہاں کھاناکھایا تو اس کو سود کھانے والا کہیں گے یاایساکہنا اس کوجائزہے یانہیں؟ شاہ مدار کے مہینہ سولہ چراغوں کی عید کرنا کتب فقہ سے جائزہے یانہیں؟
الجواب: تعزیہ داری ناجائزہے اور فتوٰی اس پرہے کہ امامت پراجرت لیناحلال ہے
کما فی ردالمحتار وعامۃ الاسفار
(جیسا کہ فتاوٰی شامی اور عام بڑی بڑی کتابوں میں مذکورہے۔ت) جس کے یہاں حلال وحرام دونوں طرح کی آمدنی ہے اس کاکھاناحرام نہیں ہوتا جب تک معلوم نہ ہوکہ یہ خاص کھاناحرام مال سے ہے۔
ذخیرہ وفتاوٰی عالمگیریہ میں امام محمدرضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے:
بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہٖ ۱؎۔
ہم اسی کو اختیارکرتے ہیں جب تک کسی معین چیز کے حرام ہونے کونہ جانیں۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۴۲)
یہ دوسری بات ہے کہ سودخور کے یہاں کھانااگرچہ حلال مال سے ہوچاہئے یانہ چاہئے مگرمطلقاً اس کے کھانے والے کو سود کھانے والا کہناشریعت پرافترأ ہے اور عام مسلمانوں کوایساکہنا اور زیادہ شیطانی لفظ ہے اس پرتوبہ فرض ہے اور مسلمانوں سے معافی مانگے، اگرنہ مانے اور اصرار کئے جائے تووہ فاسق ہے اس سے وہی برتاؤ چاہئے جوایک فاسق سے کرنے کاحکم ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اٰذی مسلمًا فقد اٰذانی ومن اٰذانی فقد اٰذی اﷲ۲؎۔
جس نے کسی مسلمان کو بلاوجہ شرعی ایذادی اس نے مجھے ایذادی اور جس نے مجھے ایذادی اس نے اﷲ عزوجل کو ایذادی ۔
(۲؎ المعجم الاوسط حدیث ۳۶۳۳ مکتبۃ المعارف ریاض ۴/ ۳۷۳)
اس نے اتنے مسلمانوں کو ایذادی بےشک وہ ظالم ہوا اور ظالم کے پاس بیٹھنے کو قرآن عظیم میں منع فرمایا،
قال اﷲتعالٰی: واما ینسینّک الشیطٰن فلاتقعد بعد الذکری مع القوم الظّٰلمین۳؎۔
اگرتمہیں شیطان بھلادے توپھریاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس نہ بیٹھو(ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۶/ ۶۸)
یہ سولہ چراغوں کی عیدکیسی ہوتی ہے اس میں کیاکیاجاتاہے کیانیت ہوتی ہے ہمارے دیار میں یہ بالکل نہیں اس کاحال کبھی سننے میں نہیں آیا تفصیل ہونے پرجواب ہوسکتاہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۹۴: مسئولہ سیدمقبول عیسٰی میاں صاحب بریلی نو محلہ ۷صفر۱۳۳۵ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین بیچ اس امر کے کہ تعزیہ بنانا بدعت سیئہ ہے۔ یاشرک وگناہ کبیرہ؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت) الجواب: تعزیہ بنانا شرک نہیں یہ وہابیہ کاخیال ہے، ہاں بدعت وگناہ ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم