Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
105 - 160
مسئلہ ۱۸۲ و ۱۸۳:  مسئولہ مولانا ظفرالدین صاحب     ۲۶محرم الحرام ۱۳۳۰ھ

ملفوظات حضرت سیدعبدالرزاق ہانسوی قدس سرہ میں یہ حکایتیں ہیں یانہیں؟

(۱) محرم کی دس تھی کہ حضرت مولاناممدوح ایک تعزیہ کے ساتھ ہولئے جو جلاہوں کاتھا اور مصنوعی کربلا میں دفن ہونے کے لئے لوگ لئے جاتے تھے آپ کی وجہ سے اورخدام ومریدین بھی ساتھ ہولیے کربلا تک ساتھ ساتھ رہے بلکہ دیر تک قیام فرمایا کچھ دنوں بعد بعض خاص مریدین نے پوچھا تو فرمایا کہ مجھے تعزیوں سے کچھ مطلب نہیں ہم تو امام عالی مقام کو دیکھ کر ساتھ ہولئے تھے کہ ان کے ساتھ اولیائے کرام کامجمع تھا۔

(۲) انہیں بزرگ کاقصہ ہے کہ ایک دن عاشورہ کومسجد میں بیٹھے وضوکررہے تھے ٹوپی مبارک فصیل پر رکھی تھی کہ یکایک اسی طرح سربرہنہ نیچے تشریف لے آئے اور ایک تعزیہ کے ساتھ ہولئے اس دفعہ لوگوں نے دریافت کیا توفرمایا کہ حضرت سیدۃ النساء تشریف فرماتھیں۔

دونوں روایتیں کہاں تک صحیح ہیں؟
الجواب: دونوں حکایتیں محض غلط وبے اصل ہیں، تعزیہ داروں کونہ کوئی دلیل شرعی ملتی ہے نہ کسی معتمد کاقول، مجبورانہ حکایت بناتے ہیں، اسی ساخت کی حکایت کوئی شاہ عبدالعزیز صاحب سے نقل کرتاہے، کوئی مولانا شاہ عبدالمجیدصاحب سے، کوئی حضرت مولانا فضل رسول صاحب سے، کوئی مولوی فضل الرحمن سے، کوئی میرے حضرت جدامجد سے، رحمۃ اﷲ علیہم، او ر سب باطل ومصنوع ہیں۔ میں توابھی زندہ ہوں میری نسبت کہہ دیا کہ ہم نے اسے تعزیہ شاید عَلَم بتائے کہ ان کے ساتھ جاتے دیکھا اور اس حکایت کاکذب تو خود اسی سے روشن کہ فرمایا: ''مجھے تعزیوں سے کچھ مطلب نہیں ہم توامام عالی مقام کودیکھ کر ساتھ ہولئے تھے کہ ان کے ساتھ اولیائے کرام کامجمع تھا''۔ سبحان اﷲ! جب تعزیے ایسے معظم ومقبول ومحبوب بارگاہ ہیں کہ خود حضور پرنورامام انام علٰی جدہ الکریم ثم علیہ الصلوٰۃ والسلام بنفس نفیس ان کی مشایعت فرماتے ہیں، ان کے ساتھ چلتے ہیں تو ان سے کچھ مطلب نہ ہونا اﷲ عزوجل کے محبوب ومعظم سے مطلب نہ ہوناہے جوولی تو ولی کسی مسلمان کی شان نہیں۔ پھرآگے تتمہ کلام ملاحظہ ہو کہ ''اُن کے ساتھ اولیائے کرام کامجمع تھا'' یہ کاف بیانیہ توہونہیں سکتا ضرور تعلیلیہ ہے یعنی حضرت امام کے ساتھ ہونے پربھی کچھ توجہ نہ ہوتی مگر کیاکیجئے ان کے ساتھ مجمع اولیاء تھا لہٰذا شامل ہوناپڑا۔ عیب بھی کرنے کوہنرچاہئے، ہاں خوب یاد آیا ۳جمادی الآخرہ ۱۳۲۷ھ کوتلہر سے ایک سوال آیاتھا کہ تُونے تعزیہ داری کوجائزکردیاہے اس خبرکی کیاحقیقت ہے؟ ایک رافضی بڑے فخر سے اس روایت کونقل کرتاہے ایضاً تیرا اوردیگر چندعلمائے بریلی کافتوٰی تیارہوا ہے کہ آیت تطہیر کے تحت میں ازواج مطہرات داخل نہیں، اس فتوٰی کی نقل اس رافضی کے پاس دیکھنے میں آئی ہے فقط، اب فرمائیے اس سے بڑھ کر اورکیاثبوت درکار، جب زندوں کے ساتھ یہ برتاؤ ہے تواحیائے عالم برزخ کی نسبت جوہوکم ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۸۴:  امیرعلی سرنیا ضلع بریلی     ۱۱محرم ۱۳۳۱ھ

کیافرماتے ہیں مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جواشخاص سنت جماعت ہوں وہ منت تعزیہ وعَلَم ومہندی کی مانتے ہیں ان کواصل تعزیہ دارکے تعزیہ پر لے جاکر چڑھاتے ہیں اور شیرینی اور کھانا ہرقسم کالیجاکروہاں فاتحہ دیتے ہیں اور اس کوبطورتبرک کے تقسیم کرتے ہیں اور گھر سے لیجاتے وقت چارچارقدم پرمرثیہ بآواز بلند پڑھتے ہیں اور ڈھول تاشے مجیرے وغیرہ کی آوازبلندہوتی ہے اوراکثرچھاتی کوٹتے ہیں اس کوماتم قراردیتے ہیں، اکثرعورات کودیکھاہے کہ سات ونوتاریخ کی شام سے اور دس کی فجر سے گشت کرتی ہیں عَلَم ومہندی وتعزیہ اور آدمیوں وغیرہ کانظارہ کرتی ہیں اور اکثر عشرہ کو صبح سے شام تک جس کو کربلا شریف قراردیا ہے ہرایک تماشے دیکھتے ہیں اکثرلوگ اور عورات تعزیہ کودفن کرکے روٹی اور شیرنی قبرپررکھ کرماتم کرتے اور پھرفاتحہ دیتے ہیں، دیگر زیدسنت جماعت ہوکر تعزیہ پرجاکر ذکرشہادت یعنی جس کو مجلس قراردیتے ہیں شوق سے جاکر پڑھتے ہیں مرثیہ بھی، دیگرایک گاؤں سے دوسرے گاؤں میں یاایک محلہ سے دوسرے محلہ میں تخت یاعَلَم وغیرہ جائے عمرودیکھنے نہ جائے اور شرکت تربت دے، دیگربکرکہتاہے کہ ان یوم میں فاتحہ سوائے امام حسین علیہ السلام کے اور کسی پیغمبر اوراولیاء کرام کی نہیں ہوگی۔ دیگرزیدکہتاہے کہ تخت اورتعزیہ وغیرہ کا کام اور خوشنمائی دیکھنے جائے توکوئی نقصان نہیں ہے۔ دیگرزیدکہتاہے کہ دس یوم روزہ رکھنا حرام ہے کیونکہ یزید کی ماں نے بغرض لڑائی جیت کے رکھی تھی۔ ان سب سوالوں کاشرع میں کیا حکم ہے؟
الجواب: عَلَم، تعزیے، مہندی، ان کی منت، گشت، چڑھاوا، ڈھول، تاشے، مجیرے، مرثیے، ماتم، مصنوعی کربلا کوجانا، عورتوں کاتعزیے دیکھنے کونکلنا، یہ سب باتیں حرام وگناہ وناجائز ومنع ہیں۔ فاتحہ جائزہے روٹی شیرینی شربت جس چیز پر ہو، مگرتعزیہ پررکھ کریا اس کے سامنے ہوناجہالت ہے اور اس پرچڑھانے کے سبب تبرک سمجھنا حماقت ہے ہاں تعزیہ سے جداجوخالص سچی نیت سے حضرات شہدائے کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کی نیازہو وہ ضرور تبرک ہے وہابی خبیث کہ اسے خبیث کہتاہے خود خبیث ہے۔ تعزیہ داروں کے شربت میں بھی شرکت نہ کرے کہ تعزیہ میں شرکت سمجھی جائے گی بلکہ الگ شربت کرے اور آجکل کہ جاڑے کاموسم ہے شربت کی جگہ چائے ہوناچاہئے۔ محرم وغیرہ ہروقت ہرزمانہ میں تمام انبیاء واولیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی نیاز اورہرمسلمان کی فاتحہ جائزہے اگرچہ خاص عشرہ کے دن ہو۔بکرغلط کہتاہے اور شریعت مطہرہ پرافتراء کرتاے، جوکام ناجائزہے اسے تماشے کے طورپردیکھنے جانا بھی گناہ ہے۔ عشرہ محرم کے روزے بہت ثواب نہایت افضل ہے۔ حدیثوں میں ان کی فضیلت ارشاد ہوئی ہے خصوصاً دسویں محرم کاروزہ کہ سال بھر کے روزوں کے برابر ثواب ہے اور ایک سال کے گناہوں کی معافی ہے۔ زیدجھوٹا ہے اور شرع شریف پرافتراء کرتا ہے کہ ان روزوں کو حرام بتاتاہے۔ واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۸۵ : ازبدایوں محلہ جالندھری مسئولہ محمدادریس خاں صاحب ۲۸محرم الحرام ۱۳۳۱ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بنا برشوکت ودبدبہ اسلام تعزیہ بنانا اور نکالنا وعَلَم وبیرق اور مہندی وغیرہ نکالنا جائزہے یانہیں؟ نیز تعزیہ کوحاجت رواسمجھنا یایہ کہنا کہ تعزیہ ہماری منت کاہے اگربندکریں نہ بنائیں توہمارا نقصان اولادومال ہوگا، کیسا ہے؟ تعزیہ دار یا تعزیہ پرست کے ہاتھ کاذبیحہ کھانا درست ہے یانہیں؟
الجواب : عَلَم، تعزیہ، بیرق، مہندی جس طرح رائج ہیں بدعت ہیں اور بدعت سے شوکت اسلام نہیں ہوتی تعزیہ کو حاجت روا یعنی ذریعہ حاجت رواسمجھنا جہالت پرجہالت ہے اور اسے منت جاننا اور حماقت، اور نہ کرنے کو باعث نقصان خیال کرنا زنانہ وہم ہے مسلمان کو ایسی حرکات وخیال سے باز آناچاہئے بایں ہمہ تعزیہ دار مسلمان ہے اور اس کے ہاتھ کاذبیحہ ضرورحلال ہے کوئی جاہل ساجاہل مسلمان بھی تعزیہ کو معبود نہیں جانتا، تعزیہ پرست کالفظ وہابیہ شرک پرست کی زیادتی ہے جس طرح تعظیم وتکریم مزارات طیبہ پرمسلمانوں کوقبرپرست کالقب دیتے ہیں، یہ سب اُن کاجہل وظلم ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۸۶:  ازسیتاپور محلہ قضیارہ مکان قاضی سیّدمحمد رضاصاحب ۷ربیع الآخر ۱۳۳۱ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تعزیہ بناناکیساہے؟ اور اس پرشیرینی وغیرہ چڑھاناکیساہے؟ اور بنانے والے اور تعظیم کرنے والے کاعندالشرع کیاحکم ہے؟ اور جوشخص تعزیہ کے ناجوازی کاقائل ہے اس کو کافر یامرتد کہنا اور کافرسمجھ کر اس کے پیچھے نمازنہ پڑھنا کیساہے؟ اور تعزیہ داری میں غلو کرنے والے کے پیچھے نمازپڑھناکیساہے؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب : تعزیہ رائجہ ناجائز وبدعت ہے اور اس کابناناگناہ ومعصیت اور اس پرشیرینی وغیرہ چڑھانا محض جہالت اور اس کی تعظیم بدعت وجہالت۔ اور جوتعزیہ کوناجائزکہے اس بناپر اسے کافر یامرتد کہنااشدعظیم گناہ کبیرہ ہے، کہنے والے کوتجدیداسلام ونکاح چاہئے، یوہیں اس وجہ سے اس کے پیچھے نمازنہ پڑھنا مردودوباطل ہے البتہ اگر کسی وہابی کوکافرمرتد کہا تومضائقہ نہیں، اوروہابی کے پیچھے نمازبیشک ناجائزہے، جوتعزیہ داری میں غلو رکھے یا اس سے معروف ہو اگرچہ غلو نہ رکھے اس کے پیچھے بھی نمازنہ چاہئے مگرپڑھیں توہوجائے گی، ہاں اسے امام بنانا منع ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter