Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
104 - 160
مسئلہ ۱۸۱ :    ۲۶محرم ۱۳۳۰ھ

عَلم تعزیہ کوبنانا، ڈھول تاشہ یا کسی انگریزی باجے کے ساتھ ہندوکہاربیلداروں سے اٹھوانا اور حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے اسم مقدس کو بتشدید کہنا اور زورزور سے دونوں ہاتھ سے سینہ پیٹنا اور تعزیہ کوبازاروں میں لئے پھرنا، ہندومسلمانوں کوبطورتماشہ کے دکھانا اور دس محرم کو ایک میلہ لگانا اور امام باڑہ میں تعزیہ رکھ کر بتاشہ ریوڑی ہندومسلمانوں سے پڑھوانا اور امام باڑہ پرنوبت رکھوانا اور اس میں روشنی کرنا اور خوب مرصّع کرنا اور دس محرم کو ہندوکہاروں یا بیلداروں سے گڑھا کھدواکر اس میں تعزیہ دفن کرادینا اور تخت کو واپس لانا اور عوام الناس کی یہ مرادیں مانگنا اور ان کافقیر بنانا، گھرگھر سے مانگ کرنیاز دلوانا اور رنگین ہرے ہرے کپڑے نئے نئے پہننا، اکثر ایساہوتاہے کہ بچہ پیداہوتے ہی مرجاتاہے ایسی حالت میں یہ مرادمانگنا کہ یاحضرت امام حسین! آپ کی دعا سے اگرہمارابچہ زندہ رہا تو ہم دس برس تک آپ کے نام کے بچہ کوفقیر یابہشتی یاپیک بنادیں گے،اور بعد دس برس کے برادری محتاج یامساکین کونہایت خوشی اور جلوس کے ساتھ کھاناکھلاکر فقیری کوختم کرائیں گے اور جابجا مرثیہ جاکر پڑھنا دھنیا بناکربرادری میں بطور حصہ یا عیدی کی طرح بٹووں میں رکھ کر بچوں کے لئے بھیجنا اور کھچڑا پکاکر برادری میں تقسیم کرنا اور خود کھانا محتاجوں کوکھلانا اور یہ کہاں سے ثابت ہواہے اور روٹیاں پکواکر اس طرح لنگر لٹانا کہ ہاتھ میں گرے یاجہاں کہیں اس فعل کا کرنے والا کون ہے اور یہ افعال کس کے ہیں او رمومن کوامام حسین رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی شہادت کے واقعہ میں ان دس ایام میں کیاکرناچاہئے۔ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب: مسلمانوں کو ان ایام میں صدقات وخیرات ومیراث وحسنات کی کثرت چاہئے خصوصاً روزے خصوصاً روزعاشورکاکہ سال بھر کے روزوں کاثواب اور ایک سال گزشتہ کے گناہوں کی معافی ہے
کما ثبت فی الحدیث الصحیح
 (جیسا کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ت) اوربہتریہ ہے کہ نویں دسویں دونوں کا روزہ رکھے۔
لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لئن بقیت الی قابل لاصومن التاسع۱؎۔
اس لئے کہ حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگرمیں آئندہ سال میں زندہ رہا تو ضرور میں نوتاریخ کابھی روزہ رکھوں گا(ت)
 (۱؎ صحیح مسلم         کتاب الصیام     باب یوم عاشوراء     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۳۵۹)
حضرت شہزادہ گلگوں قبا امام حسین شہیدکربلا ودیگرشہدائے کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے نام پاک پرجس قدر ہوسکے تصدق وایصال ثواب کریں بلکہ ان روزوں وغیرہا تمام حسنات کاثواب اسی جناب گردوں قباب کی نذرکریں گرمیوں میں ان کے نام پرشربت بلائیں جاڑے میں چائے پلائیں اور نیک نیت پاک مال سے شربت چائے کھانے کوجتناچاہیں لذیذوبیش قیمت کریں سب خیرہے کھچڑا پلاؤفرنی جوچاہیں اور بے دقت میسر ہو برادری میں بانٹیں محتاجوں کوکھلائیں اپنے گھروالوں کوکھلائیں نیک نیت سے، سب ثواب ہے۔
کما ثبت فی الاحادیث الصحاح حتی قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مااطعمت نفسک فھو لک صدقۃ۱؎۔
جیساکہ صحیح حدیثوں سے ثابت ہے، یہاں تک کہ حضورانورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جوکچھ تو اپنے آپ کوکھلائے وہ بھی تیرے لئے صدقہ ہے۔(ت)
 (۱؎ مسند امام احمدبن حنبل     حدیث حضرت مقدام بن معدی کرب         دارالفکر بیروت     ۴/ ۱۳۱)
رہایہ کہ کھچڑا کہاں سے ثابت ہوا، جہاں سے شادی کاپلاؤ دعوت کا زردہ ثابت ہوا۔ یہ تخصیصات عرفیہ ہیں نہ شرعیہ، ہاں جو اسے شرعاً ضروری جانے وہ باطل پرہے۔ روٹیاں پکاکر تقسیم کرنا بھی خیرہے مگرپھینکنامنع ہے اور ان کاپاؤں کے نیچے آنا یاناپاک جگہ گرناسخت شدیدمواخذہ کاموجب، ایک توروٹی کی بیحرمتی جس کی تعظیم کاحدیث میں حکم فرمایا، دوسرے نیاز کی چیز کی بے توقیری نیاز کی چیز معظم ہوتی ہے
کما دلّ علیہ حدیث نفیس فی بھجۃ الاسرار
 (جیسا کہ اس پرایک عمدہ حدیث دلالت کرتی ہے جو بہجۃ الاسرار میں مذکورہے۔ت) بے ادب وہابیوں کاکہنا کہ اس میں توصدقہ کے سبب سے اورخباثت آگئی، ان کی قلبی خباثت ہے کہ محبوبان خدا کے نام سے انہیں عداوت ہے، بہشتی بننااگربدعات سے خالی ہو اوربدعات سے خالی ہو اور محض نام ونقل نہ ہو بلکہ کام اور فعل ہو یعنی پانی بھربھرکر مسلمانوں کوپلائیں وضوکرائیں توضرور اچھاکام اور باعث اجرہے اور اس کاثواب بھی نذرشہدائے کرام ہوسکتاہے اور پیک بننانری نقالی اوربیہودہ بے معنی ہے اور گھنٹے لٹکانا حدیث میں منع فرمایا، یوہیں فقیربن کر بلاضرورت ومجبوری بھیک مانگنا حرام،
کما نطقت بہ احادیث مستفیضۃ
 (جیسا کہ بہت سی مشہورومعروف حدیثیں اس معنی پرناطق ہیں ۔ت) اور ایسوں کودینا بھی حرام
لانہ اعانۃ علی المعصیۃ
اس لیے کہ یہ گناہ کے کام پر دوسرے کی امداد کرنا ہے جیسا کہ درمختارمیں مذکورہے۔ت) اور وہ منت ماننی کہ دس برس تک ایساکریں گے سب مہمل وممنوع ہے۔
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لانذر فی معصیۃ۲؎۔
حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گناہ کے کام میں کوئی نذر (منت) نہیں۔(ت)
 (۲؎ سنن ابی داؤد     کتاب الایمان باب من رأی علیہ کفارۃ الخ     آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۱۱)
ہاں سیدنا حضرت عالی مقام علٰی  جدہ الکریم ثم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم سے اپنی حاجت میں استمداد واستعانت وطلب دعاوشفاعت جائزومحبوب،
قال اﷲ تعالٰی وابتغوا الیہ الوسیلۃ۱؎۔ وقال اﷲ تعالٰی اولٰئک الذین یدعون یبتغون الی ربھم الوسیلۃ۲؎۔
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: اﷲ تعالٰی کی بارگاہ تک رسائی کے لئے وسیلہ تلاش کرو، اور اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: یہی وہ ہیں جن کی وہ عبادت کرتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں۔(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم     ۵/ ۳۵)(۲؎القرآن الکریم    ۱۷/ ۵۷)
دھنیابنانے کھانے بٹووں میں رکھ کر بچوں کو بھیجنے میں فی نفسہٖ کچھ حرج نہ تھا مگر وہ مبنی جس کی بنا پریہ کیاجاتاہے شرعاًناجائزہے، اس کی اصل یوں ہے کہ پان کھانے کے عادی ہیں محرم کے عشرہ میں سوگ کے خیال سے پان چھوڑدیتے ہیں اس کی جگہ پر دھنیا ایجادہوا ہے، شریعت نے عورت کو شوہرکی موت پر چارمہینے دس دن سوگ کاحکم دیاہے اوروں کی موت کے تیسرے دن تک اجازت دی ہے باقی حرام ہے اور ہرسال سوگ کی تجدیدتو کسی کے لئے اصلاً حلال نہیں پھرحقیقت دیکھئے تودعوٰی غم بھی جھوٹا، غم میں آدمی سے پان نہ کھایاجائے تو دھنیئے کے یہ تکلفات کہ وقت میں اس سے سوجگہ زائد اور خرچ بھی زیادہ اور لذت بھی افزوں، یہ ضرور ہوسکیں گے، یوہیں عشرہ محرم کے سبزرنگے ہوئے کپڑے بھی ناجائزہیں یہ بھی سوگ کی غرض سے ہیں، سوگ میں اصل سیاہ لباس ہے وہ تورافضیوں نے لیا اور انہیں زیبابھی تھا کہ ایک تو ان کے دلوں کی بھی یہی رنگت ہے۔ دوسرے یہ کہ سیدنا امام شافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا:
الشیعۃ نساء ھذہ الامّۃ۳؎۔
شیعہ اس امت کی عورتیں ہیں۔
 (۳؎ )
سوگ وماتم عورتوں ہی کو خوب آتے ہیں۔ ہمارے جاہل سنی بھائی سیاہی سے توبچے کہ رافضیوں کی مشابہت نہ ہو مگر اس سے قریب تررنگت سبزی پائی اسے اختیارکیا، سبزی جب گہری ہوگی سیاہی لے آئے گی ہلکی سیاہی کوسبزی کہتے ہیں، آسمان نیلاہے اسے عربی میں خضراء، فارسی میں چرخ سبزہ فام، کہتے ہیں، اردو میں مسیں بھیگنے کو، اس وقت بالوں کی سیاہی خوب گہری نہیں ہوتی، سبزہ آغاز کوکہتے ہیں،
لہٰذا اس نیت سے یہ بھی ناجائز، مسلمان کوچاہئے عشرہ مبارک میں تین رنگوں سے بچے: سیاہ، سبز، سرخ، سیاہ، سبز کی وجہیں تومعلوم ہوگئیں اور سرخ آج کل ناصبی خبیث خوشی کی نیت سے پہنتے ہیں، سیاہ میں اُودا، نیلا، کاسنی۔ سبز میں کاہی، دھانی، پستیئ۔ سرخ میں گلابی، عنابی، نارنجی سب داخل ہیں۔ غرض جس پر ان میں کوئی رنگ صادق آئے اگر سوگ یاخوشی کی نیت سے پہنے جب توخود ہی حرام ہے ورنہ ان کی مشابہت سے بچنا بہترہے، یوہیں مرثیے کہ رائج ہیں سب حرام وناجائزہیں۔حدیث میں ہے:
نھٰی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن المراثی۱؎۔
رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے مرثیوں سے منع فرمایا۔
 (۱؎ مسندامام احمد بن حنبل     عن عبداﷲ بن ابی اوفٰی     المکتب الاسلامی بیروت     ۴/ ۳۵۶)
اور ماتم کرنا، چھاتی پیٹنا بھی حرام ہے
نطقت بتحریمہ احادیث بالغۃ حدالاشتھار
 (درجہ شہرت تک پہنچی ہوئی حدیثیں اس کے حرام ہونے پر ناطق ہیں۔ت) حسّن حسّن بتشدید کہنا تو جہالت ہی تھا مگرماتم سخت منع ہے۔ یوہیں عَلَم، تعزیے، تخت، جریدے، باجے، کھیل تماشے سب بیہودہ وبدعت وممنوع ہیں۔ یوہیں تعزیہ، چڑھاوا، امام باڑے کا مکان، اس کی نوبت، روشنی، آرائش سب بشرح صدرہیں، غم والم کانام اور لہوولعب کی یہ دھوم دھام اور اس پر امیدخوشنودی حضرت امام۔ اور اس الٹی مت کاکیاٹھکانا کہ یہ توتعزیہ کی وہ تعظیم کہ گویا معاذاﷲ بعینہٖ یہی نعش مبارک حضورپرنور امام عالی مقام ہے بلکہ اس سے بھی زائد، یہاں تک کہ اسے سجدہ کرنے سے بھی باک نہیں۔ اور کہاں یہ حرکت کہ کہاربیلدار وغیرھم کفار اسے اٹھائے پھریں اور اس پر پڑھایہ جائے کہ اسے مومنو! اٹھاؤ جنازہ حسین کا۔ استغفراﷲ ، پھرگلی کوچوں میں گشت، پھرتوڑتاڑ کردبادینا کتنی شترگربگی ہے، پھر مصنوعی کربلا میں جسے حقیقی کے مثل ٹھہراتے ہیں، کوئی دقیقہ لغویات وممنوعات کااٹھا نہیں رکھتے، رنڈیوں کے جھولے تک ہوتے ہیں بلکہ تختوں پرایک ایک رنڈی جلوہ گرہوتی ہے، کہاں امام عالی مقام کی طرف نسبت اور کہاں یہ سخت شنیع حرکت، کاش اﷲ عزوجل ہمارے بھائیوں کوسمجھ دیتاکہ ہزاروں روپے جویوں نیکی برباد گناہ لازم میں تباہ کرتے انہیں حضرات شہیدان پاک کے نام پرتصدّق کرتے، مساکین کودیتے جاڑے میں ان کے لحاف رضائی گرم کپڑے بناتے وغیرہ وغیرہ افعال حسنہ کرتے تو کتنا بہترہوتا۔ اﷲ ہدایت دے آمین! واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter