Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
103 - 160
تعزیہ اور اس سے متعلقہ بدعات
مسئلہ ۱۷۹:  ازبسولی ضلع بدایوں     مرسلہ خلیل احمدصاحب ۹شوال ۱۳۱۹ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تعزیہ کابنانا اور دیکھنا ان پردل سے معتقد ہونا اہل سنت وجماعت کوچاہئے یانہیں؟ اور جوایساکرے اس پربموجب شرع کیاحکم صادرہوگا؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب: تعزیہ رائجہ مجمع بدعات شنیعہ سیئہ ہے، اس کابنانادیکھنا جائزنہیں، اور تعظیم وعقیدت سخت حرام واشد بدعت۔ اﷲ سبحانہ وتعالٰی مسلمان بھائیوں کوراہ حق کی ہدایت فرمائے۔آمین!
واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۰ : ازعیسٰی نگر ضلع کھیری ملک اودھ مرسلہ سیدمظہرحسن صاحب ۱۵صفر۱۳۲۰ھ 

جناب مولوی صاحب! ہم لوگ ساکنان عیسٰی نگر ضلع کھیری وڈاک خانہ خاص عیسٰی نگر کے ہیں اور جناب کانام سناہے کہ بریلی میں جناب مولوی احمدرضاخاں صاحب محلہ سوداگران میں بہت بڑے مولوی ہیں اور بہت اچھاحکم شریعت کادیتے ہیں، ہمارے یہاں تھوڑے دنوں سے ایک شخص نے واہی بات مچائی ہے کہ محمدی جھنڈا مت کھڑاکرو اور تعزیہ مت بناؤ اورتعزیہ پرمٹھائی چڑھاتے ہیں اسے کھانے کو منع کرتاہے اور خدائی رات میں ڈھول بجانے کو منع کرتا ہے اور مولودشریف رنڈی اور بھانڈی کے یہاں پڑھنے کو نہیں جاتا کہتاہے مزدوری کرکے لاؤ شیرینی توپڑھ دوں گا یاشیرینی مت لاؤ تمہارے یہاں ویسے ہی پڑھ دوں گا تومولوی صاحب ہم کوشیرینی بغیرثواب کیوں کریں اور ہم تعزیہ وغیرہ بنانا چھوڑدیں تو یہاں مسلمان کانام بھی نہ رہے گا اب ایک مولوی صاحب آئے ہیں وہ مولود شریف اور گیارہویں کوبھی منع کرتے ہیں تومولوی صاحب اور احمد کا جھگڑا خوب ہوا اور جھگڑا ہوکر یہ بات ٹھہری کہ وہ دودوتین تین آدمی مل کر غزلیں سرہلاکرنہ پڑھاکریں اور قصہ ہرنی کانہ پڑھیں صحیح کتاب کی روایات پڑھاکریں اور کھڑے نہ ہوں جب سے احمد ویسے ہی کھڑاہوکر مولود شریف پڑھتاہے اور مولوی صاحب بھی ویسے ہی کھڑے رہتے ہیں اور جوڑ کے خمسہ پڑھتے ان کے پڑھنے کو کہتے ہیں اور جوغزل خود پڑھتے ہیں۔
اب یہ بات ٹھہری ہے کہ جس بات کو تحریر مذکورہ بالامیں اچھا لکھ دیں گے مولوی احمدرضاخاں صاحب بریلوی کے وہ ہم سب مل کر کریں گے اور کسی بات کا جھگڑا نہیں ہے جوباتیں اس کاغذ میں اوپر درج ہیں ان میں سے جوجوبات بہتر اورثواب زیادہ جس کے کرنے میں ہو وہ تحریر کردیجئے گا اور گیارہویں کی بابت یہ فیصلہ ہوگیاہے چاہے جس تاریخ میں فاتحہ کرو اور اس کاثواب نذراﷲ کرکے حضرت  بڑے پیرصاحب کی روح کو ایصال ثواب کریں، یہ مت خیال کرو کہ اگرگیارہویں کو نہ کریں گے تو ہم کو کچھ نقصان ہوگا جس کادل چاہے گیارہویں کرے جس کا دل چاہے دسویں نویں کرے ہروقت ثواب ہے۔ 

اب ایک بات کو اور منع کرتے ہیں کہ غازی میاں سید سالار کے بیاہ میں مت جاؤ بہرائچ، اب ہمارے کچھ لوگ وہاں کوبھی نہیں جاناچاہتے ہیں یہاں تک کہ ان کے نشان کو بھی منع کرتے ہیں اور ہماری آپس میں شادی ہے، آپ کے جواب آنے کے بعد شادی میں شریک ہوں گے، صاف صاف جواب لکھ دیجئے گا، بہت ثواب کے مرتکب ہوں گے، جواب کے واسطے ارسال خدمت منسلک ہے۔
الجواب : جھنڈا ایک توجہاد کاہوتاہے وہ لشکرسلطانِ اسلام کے ساتھ خاص ہے یہاں ا س کا اصل محل نہیں کہ یہاں نہ سلطان اسلام نہ لشکراسلام تو اس جھنڈے کاکیاکام۔ اور اگرکسی اور غرض سے کوئی جھنڈا بنایاجاتاہو تو اس کامعلوم ہوناچاہئے، اگرغرض محمودہ اور اس میں شہرت اور علامت کی حاجت ہے تو حرج نہیں
وقدحققنا فی فتاوٰنا
 (اس کی تحقیق ہم نے اپنے فتاوٰی میں کردی ہے۔ت) اور اگرغرض مذموم یاعبث وفضول ہے تو منع کرناٹھیک ہے تعزیہ ممنوع ہے شرع میں کچھ اصل نہیں اور جو کچھ بدعات ان کے ساتھ کی جاتی ہیں سخت ناجائزہیں
وفصلت بعضھا فی الفتاوٰی
 (بیشک میں نے فتاوٰی میں بعض مسائل کی تفصیل بیان کردی ہے۔ت)مسلمان اتباع احکام شرع سے ہوتے ہیں نہ امورناجائزہ سے تعزیہ پرجومٹھائی چڑھائی جاتی ہے اگرچہ حرام نہیں ہوجاتی مگر اس کے کھانے میں جاہلوں کی نظرمیں ایک امرناجائز شرعی کی وقعت بڑھانے اور اس کے ترک میں اس سے نفرت دلانی ہے لہٰذا نہ کھائی جائے۔ ڈھول بجاناحرام ہے اور جس رات کانام خدائی رات رکھا ان میں بجائے عبادت گناہ ومعصیت کرناگویا گناہ کومعاذاﷲ عبادت ٹھہرانا ہے اور یہ اور زیادہ حرام ہے۔ رنڈیوں، ڈومنیوں، بھانڈوں کے یہاں جو مجلس میلادشریف ان کے حرام مال سے کی جائے ان میں شرکت ہرگز نہ کی جائے،
فان اﷲ طیب لایقبل الاالطیب۱؎۔
بلاشبہہ اﷲتعالٰی پاک ہے اور پاک چیز ہی قبول فرماتاہے۔(ت)
 (۱؎ السنن الکبرٰی للبیہقی         کتاب صلوٰۃ الاستسقاء     دارالمعرفۃ بیروت     ۳/ ۳۴۶)
بلکہ رنڈیوں ڈومنیوں کے یہاں کسی طرح جانانہ چاہئے اگرچہ وہ حلال مزدوری کے مال سے مجلس کریں کہ ان کے یہاں جانے میں تہمت ہے اورتہمت سے بچنے کاحکم ہے۔
حدیث میں ہے:
من کان یومن باﷲ والیوم الاٰخر فلایقفن مواقف التھم۲؎۔
جو اﷲ اورقیامت پرایمان رکھتاہو وہ تہمت کی جگہ کھڑانہ ہو۔
 (۲؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی   باب ادراک الفریضہ   نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ص۲۴۹)
یہ سمجھنا محض غلط ہے کہ بغیر شیرینی کے ثواب نہ ہوگا، کیارسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ولادت شریف کاذکراقدس ویسے ہی موجب ثواب نہیں! ہاں شیرینی میں زیادہ ثواب ہے کہ ذکرشریف کے ساتھ صدقہ فقراء وہدیہ احبّا بھی شامل ہوگیا قربت بدنی کے ساتھ قربت مالی بھی ہوگئی، مجلس میلادشریف اعلٰی مستحب ومندوب وبہتر وخوب ہے اور ان میں قیام بھی مستحسن ومرغوب ہے اور گیارہویں شریف بھی حسن ومحبوب ہے اور گیارہویں تاریخ کی تخصیص میں بھی شرعاً کوئی حرج نہیں، ہاں یہ سمجھنا غلط ہے کہ خاص گیارہویں ہی کو ثواب ملے گا اور دن نہ ملے گا۔ چندآدمیوں کامل کرخوش الحانی سے پڑھنا بھی جائزہے جبکہ شعرشرعاً اچھے ہوں اور راگنی کاقصدنہ کریں مگر امردلڑکوں کو ان میں شریک نہ کیاجائے کہ ان میں فتنہ ہے۔ یہ سب مسائل بارہا ذکرہوگئے ہیں۔ ہرنی کاقصہ جس قدرحدیث میں آیاہے ضرورمقبول ومعتبرہے اور اس کا پڑھنا اور سنانا سب ثواب ہے ہاں اپنی طرف سے کچھ بڑھادیاہو توغلط ہے اسے نکال دینا ضرورہے۔ حدیث میں یہ قصہ یوں ہے کہ رسو ل اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جنگل میں تشریف رکھتے تھے کہ کسی کے پکارنے کی آواز آئی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے دیکھا کسی کونہ پایا پھرنظر فرمائی تو ایک ہرنی بندھی ہوئی پائی اور اس نے عرض کی:ادن منّی یارسول اﷲ! حضورمیرے پاس تشریف لائیں۔ رحمت عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہرنی کے قریب تشریف لے گئے، فرمایا: تیری کیاحاجت ہے؟ اس نے عرض کی:
ان لی خشفین فی ذٰلک الجبل فحلّنی حتی اذھب فارضیعھا ثم ارجع الیک۔
اسی پہاڑ میں میرے دوبچے ہیں حضورمجھے کھول دیں کہ میں جاکر انہیں دودھ پلاآؤں پھرحضورکے پاس حاضرہوجاؤں گی۔
حضوررحمت عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: تواپنا سچاکرے گی؟ ہرنی نے عرض کی:
عذبنی اﷲعذاب العشار ان لم افعل۔
میں ایسانہ کروں تو اﷲتعالٰی مجھ پر ان لوگوں کا عذاب کرے جو ظلماً لوگوں سے مال تحصیلتے تھے۔
رحمت عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اسے کھول دیا، وہ گئی، بچوں کو دودھ پلاکرواپس آئی، مصطفی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے اسے پھر باندھ دیا، وہ بادیہ نشین جس نے یہ ہرنی باندھی تھی ہوشیارہوا اور عرض کی: یارسول اﷲ! حضورکاکوئی کام ہے کہ میں بجالاؤں۔ فرمایا: ہاں یہ کہ تو اس ہرنی کوچھوڑدے اس نے چھوڑدی۔ وہ ہرنی دوڑتی ہوئی یہ کہتی ہوئی چلی گئی کہ:
اشھد ان لاالٰہ الااﷲ وانک رسول اﷲ۔
میں گواہی دیتی ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی سچامعبود نہیں اور یہ کہ بیشک آپ اﷲ کے رسول ہیں،
یہ حدیث طبرانی نے معجم کبیر۱؎ میں حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کی۔

غازی میاں کابیاہ کوئی چیزنہیں محض جاہلانہ رسم ہے، نہ ان کے نشان کی کوئی اصل۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ المعجم الکبیر     مرویات ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا     حدیث ۷۶۳    المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت     ۲۳/ ۳۲۔۳۳۱)
Flag Counter