ایک حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ماں باپ پر ان کی موت کے بعد آدمی کے اعمال پیش ہوتے ہیں، نیکیوں پرشاد ہوتے ہیں اور ان کے منہ اور زیادہ چمکنے لگتے ہیں
فاتقوا اﷲ ولاتؤذوا امواتکم
تو اﷲ سے ڈرو اپنے مردوں کو اپنے گناہوں سے ایذا نہ دو۔
رواہ الامام الترمذی۲؎ الحکیم عن والد عبدالعزیز
(امام حکیم ترمذی نے عبدالعزیز کے والد سے اس کوروایت کیاہے۔ت)
(۲؎ الجامع الصغیر بحوالہ الحکیم عن والد عبدالعزیز حدیث ۳۳۱۶ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۱۹۹)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان المیت لیعذب ببکاء اھلہ علیہ ۳؎۔ رویاہ الشیخین عن عمروعمررضی اﷲ تعالٰی عنھما۔
بیشک مردے پر جو اس کے گھروالے روتے ہیں اس سے اسے عذاب والم ہوتاہے (اس کو بخاری مسلم نے عمروعمررضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)
(۳؎ جامع الترمذی ابواب الجنائز باب ماجاء فی کراہیۃ البکاء امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۱۹)
علماء فرماتے ہیں:
المراد بالعذاب ھوالالم الذی یحصل للمیّت اذ سمعھم یبکون اوبلغہ ذلک فانہ یحصل لہ تألم بذٰلک نقلہ ملاعلی القاری فی المرقاۃ۱؎ عن السید الشاہ میرک المحدّث عن الامام شمس الدین محمد بن محمد بن محمد الجزری انہ قال فی تصحیح المصابیح عندی واﷲ اعلم لکن المراد بالعذاب الخ قلت وقد تخالج صدری قبل ان اطلع علیہ حتی رأیتہ فیھما وﷲ الحمد، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
(حدیث مذکورمیں) عذاب سے وہ احساس دکھ مراد ہے جومیت کوحاصل ہوتاہے جو انہیں روتے پیٹے سنتی ہے کیونکہ اس رویہ سے وہ درد والم محسوس کرتی ہے، چنانچہ ملاعلی قاری نے مرقات شرح مشکوٰۃ میں سیدمیرک شاہ محدث بخاری کے حوالہ سے اسے نقل فرمایا اس نے امام شمس الدین محمد بن محمد بن محمد جزری سے نقل کیا انہوں نے تصحیح المصابیح میں ذکر فرمایا اﷲ تعالٰی سب کچھ بہترجانتاہے مگرمیرے نزدیک حدیث مذکور میں عذاب سے دردوکرب مراد ہے الخ میں کہتاہوں اس پرمطلع ہونے سے پہلے میرے دل میں بھی یہی بات کھٹکتی تھی یہاں تک کہ میں نے ان دونوں بزرگوں کے کلام میں اسے دیکھ لیا۔ اور اﷲ تعالٰی ہی کے لئے تمام خوبیاں، محاسن، محامد ہیں۔ او ر اﷲ تعالٰی پاک اوربرتربڑا عالم ہے۔(ت)
(۱؎ مرقات المفاتیح شرح مشکوٰۃالمصابیح کتاب الجنائز باب البکاء علی المیت مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۲۲۴)
(۳) میت پر چلا کررونا جزع فزع کرنا حرام سخت حرام ہے، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اثنتان فی الناس ھما بھم کفرفی النسب والنیاحۃ۔ رواہ مسلم۲؎ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ و رواہ ابن حبان والحاکم وزادا شق الجیب۔
لوگوں میں دو یا تین کفرہیں کسی کے نسب پرطعنہ اور میت پرنوحہ۔ (امام مسلم نے اس کو حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے روایت کیا، ابن حبان اور حاکم نے بھی اس کو روایت کیاہے مگرحاکم نے یہ اضافہ ''اورگریبان پھاڑنا''۔(ت)
(۲؎ صحیح مسلم کتاب الایمان باب اطلاق اسم الکفر علی الطعن فی النسب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۸)
اورفرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
صوتان ملعونان فی الدنیا والاٰخرۃ مزمار عند نعمۃ ورنّۃ عندالمصیبۃ، رواہ البزار۳؎ عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند صحیح۔
دوآوازوں پردنیاوآخرت میں لعنت ہے، نعمت کے وقت باجا اور مصیبت کے وقت چلانا (محدث بزار نے اس کو صحیح سند کے ساتھ حضرت انس رضی اﷲتعالٰی عنہ کے حوالہ سے روایت کیاہے۔ت)
(۳؎ کشف الاستار عن زوائد البزار کتاب الجنائز باب ماجاء فی النوح مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱/ ۳۷۷)
اورفرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
النائحۃ اذا لم تتب قبل موتھا تقام یوم القٰیمۃ وعلیھا سربال من قطران ودرع من جرب رواہ مسلم۱؎ عن ابی مالک الاشعری۔
چِلاّکررونے والی جب اپنی موت سے قبل توبہ نہ کرے توقیامت کے دن کھڑی کی جائے گی یوں کہ اس کے بدن پرگندھک کاکُرتاہوگا اور کھجلی کادوپٹہ۔(امام مسلم نے اسے ابومالک اشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے روایت کیاہے۔ت)
(۱؎ صحیح مسلم کتاب الجنائز فصل فی الوعید للنائحۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۰۳)
اور ایک روایت میں ہے:
قطع اﷲ ثیابا من قطران ودرعا من لھب النار۔ رواہ ابن ماجۃ عنہ ۲؎۔
اﷲ تعالٰی اسے گندھک کے کپڑے پہنائے گا اور اوپر سے دوزخ کی لپٹ کادوپٹہ اڑھائے گا۔ (ابن ماجہ نے اس کو ابومالک اشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے۔ت)
(۲؎ سنن ابن ماجہ ابواب ماجاء فی الجنائز، باب فی النہی عن النیاحۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۱۴)
ایک حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان ھٰؤلاء النوائح یجعلن یوم القٰیمۃ صفین فی جہنّم صف عن یمینھم وصف عن یسارھم فینبحن علی اھل النار کماتنبح الکلاب۔ رواہ الطبرانی ۳؎ فی الاوسط عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
یہ نوحہ کرنے والیاں قیامت کے دن جہنّم میں دوصفیں کی جائیں گی دوزخیوں کے دائیں بائیں وہاں ایسے بھونکیں گی جیسے کتیاں بھونکتی ہیں۔ (امام طبرانی نے اس کو ''الاوسط'' میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالہ سے روایت کیاہے۔ت)
انابرئ ممن حلق وسلق وخرق۔ رواہ الشیخان ۱؎ عن ابی موسی الاشعری رحمہ اﷲ تعالٰی۔
میں بیزارہوں اس سے جو بھدراکرے اور چلاکر روئے اور گریبان چاک کرے (بخاری ومسلم نے حضرت ابوموسٰی اشعری رحمہ اﷲ تعالٰی کے حوالہ سے اسے روایت کیا۔ت)
(۱؎ صحیح مسلم کتاب الایمان باب تحریم ضرب الخدود قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۷۰)
اورفرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
الاتسمعون ان اﷲ لایعذب بدمع العین ولابحزن القلب ولکن یعذب بھذا واشار الٰی لسانہ اویرحم وان المیت یعذّب ببکاء اھلہ علیہ۔ رویاہ عن ابن عمر۲؎ رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔
ارے سنتے نہیں ہوبیشک اﷲ نہ آنسوؤں سے رونے پرعذاب کرے نہ دل کے غم پر(اور زبان کی طرف اشارہ کرکے فرمایا) ہاں اس پرعذاب ہے۔ یارحم فرمائے اور بیشک مردے پرعذاب ہوتاہے اس کے گھروالوں کے اس پرنوحہ کرنے سے۔ (اس کو بخاری ومسلم نے حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیاہے۔ت)
(۲؎ صحیح بخاری کتاب الجنائز باب البکاء عندالمریض قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۷۴)
عالمگیری میں جامع المضمرات سے ہے:
النوح العالی لایجوز والبکاء مع رقۃ القلب لاباس بہ۳؎۔
بلندآواز سے رونا اور بین کرنا (اسلام میں) جائزنہیں لیکن بغیرآواز کے رونا اور آنسوبہاناممنوع نہیں۔(ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الصلوٰۃ الفصل السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۱۶۷)
درمختارمیں ہے:
لاتصح الاجارۃ لاجل المعاصی مثل الغناء والنوح والملاھی۴؎۔
گناہوں پراجارہ (مزدوری کرنا) درست نہیں، گانا بجانا روناپیٹنا یہ افعال گناہ ہیں، واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۴؎ درمختار کتاب الاجارہ فاسدہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۷۹)