Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
100 - 160
سوگ ونوحہ وجزع وفزع
مسئلہ ۱۶۹ تا ۱۷۱: ازمحمد گنج ضلع بریلی مرسلہ عبدالقادر خاں صاحب رامپوری ۱۹ذیقعدہ ۱۳۱۵ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:

(۱) اگر کسی شخص مسلمان کے تین بچے سال سال بھر کے یادودوبرس یاتین تین کے کہ قضائے الٰہی سے فوت ہوجائیں اور وہ شخص رنج کی حالت میں نمازپڑھ کر خدا کاشکر اداکرے اور صبرکرے جب اس شخص نے اپنے بچوں کے مرنے پر اﷲ کاشکرکیا اور صبرکیا تب اس صبر کی جزابچوں کے والدین کوقیامت میں کچھ ملے گی یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔

(۲) جو شخص بچوں کے مرنے پرچلاکرروتے ہیں اس چلاکے رونے سے میت پرکچھ تکلیف ہوتی ہے یانہیں؟بیّنواتوجروا۔

(۳) چلاکے روناجائزہے یاناجائز؟ بیّنواتوجروا۔(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب

(۱) اﷲ عزوجل فرماتاہے:
انما یوفی الصّٰبرون اجرھم بغیرحساب۱؎۔
یوہیں ہے کہ صبرکرنے والوں کو ان کااجرپوراپورا دیاجائے گابے شمار۔
 (۱؎ القرآن الکریم     ۳۹/ ۱۰)
اور فرماتاہے:
اولٰئک علیھم صلوات من ربھم ورحمۃ واولٰئک ھم المھتدون۱؎۔
ایسے لوگوں پردرودیں ہیں ان کے رب کی طرف سے اور مہربانی، اور یہی لوگ راہ پانے والے ہیں۔
 (۱؎ القرآن الکریم     ۲/ ۱۵۷)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مامسلم یموت لہ ثلثۃ لم یبلغوا الحنث الا ادخلہ الجنۃ بفضل رحمتہ یاھم۔ رواہ الشیخان ۲؎ والنسائی وابن ماجۃ عن انس بن مالک واحمد عن امّہ وعن عمروبن عبسۃ وعن ابی ھریرۃ وعبداﷲ بن احمد فی زوائد المسند وابویعلٰی بسند صحیح والحاکم وصححہ عن الحارث بن اقیش رضی اﷲ تعالٰی عنھم۔
جس مسلمان کے تین بچے نابالغی میں مریں گے اﷲ تعالٰی اسے جنت میں داخل فرمائے گا اس رحمت کی برکت سے جو ان بچوں پرفرمائے گا(امام بخاری، مسلم، نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت انس بن مالک کے حوالہ سے اس کو روایت کیاہے۔ احمد نے اپنی والدہ، اور عمروبن عبداﷲ اور ابوہریرہ سے روایت کیا۔ ابن حبان نے حضرت ابوذر سے اور نسائی نے حضرت ابوہریرہ سے اور عبداﷲ بن احمد نے زوائدمسندمیں  اور ابویعلٰی نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیاہے۔ اور حاکم نے اسے صحیح قراردے کر حضرت حارث بن اقیش سے روایت کیاہے، اﷲ تعالٰی ان سے راضی ہو۔(ت)
 (۲؎ صحیح البخاری     کتاب الجنائز     باب ماقیل فی اولاد المسلمین         قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۱۸۴)

(سنن ابن ماجہ         ابواب ماجاء فی الجنائز     باب ماجاء فی ثواب من اصیب الخ     ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی     ص۱۱۶)

(سنن النسائی         کتاب الجنائز     باب ثواب من احتسب الخ         نورمحمدکتب خانہ کراچی     ۱/ ۲۶۴)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
مامن مسلم یموت لہ ثلٰثۃ من الوالد لم یبلغوا الحنث الاتلقوہ من ابواب الجنۃ الثمانیۃ من ایھا شاء دخل۔ رواہ ابن ماجۃ۳؎ عن عتبۃ بن عبدالسلمی رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن۔
جس مسلمان کے تین بچے نابالغ مریں گے وہ جنت کے آٹھوں دروازوں سے اس کا استقبال کریں گے کہ جس سے چاہے داخل ہو۔(ابن ماجہ نے اس کو سندحسن کے ساتھ عتبہ ابن عبدالسلمی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے۔(ت)
 (۳؎ سنن ابن ماجہ     ابواب ماجاء فی الجنائز     باب ماجاء فی ثواب من اصیب الخ     ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی     ص۱۱۶)

(کنزالعمال         حدیث ۶۵۶۰                مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۳/ ۲۸۴)
ایک بارحضوراقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے یہی حدیث کہ پہلے مذکورہوئی بیان فرمائی صحابہ نے عرض کی:
یارسول اﷲ اواثنان یادو، فرمایا: اواثنا یادو۔ عرض کی: اوواحد یاایک، فرمایا: وواحد یاایک۔ پھرفرمایا:
والذی نفسی بیدہ ان السقط لیجرامہ بسررہ الی الجنۃ اذا احتسبتہ۔ رواہ الامام احمد۱؎ بسند صالح والطبرانی عن معاذ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ کچابچہ جوگرجاتاہے اگرثواب الٰہی کی امید میں اس کی ماں صبرکرے تو وہ اپنے نال سے اپنی ماں کو جنت میں کھینچ لے جائے گا۔(اس کو امام احمد نے سندصالح کے ساتھ اور امام طبرانی نے حضرت معاذرضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اس کو روایت کیاہے۔ت)
(۱؎ مسنداحمد بن حنبل     معاذبن جبل                     المکتب الاسلامی بیروت     ۵/ ۲۴۱)
اورفرماتے ہیں صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم:
اذا مات ولد العبد قال اﷲ لملٰئکتہ قبضتم ولد عبدی، فیقولون نعم فیقول قبضتم ثمرۃ فوادہ، فیقولون نعم، فیقول ماذاقال عبدی، فیقولون حمدک واسترجع، فیقول ابنوالعبدی بیتاً فی الجنّۃ وسمّوہ بیت الحمد۔رواہ احمد والترمذی ۲؂ وحسنہ وابن حبان فی صحیح التقاسیم والانواع عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
جب مسلمان کابچہ مرتاہے اﷲ عزوجل فرماتاہے: تم نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کرلی۔ عرض کرتے ہیں: ہاں۔ فرماتاہے: تم نے اس کے دل کاپھل لے لیا۔ عرض کرتے ہیں: ہاں۔ فرماتاہے: پھرمیرے بندے نے کیاکہا: عرض کرتے ہی:تیراشکر اداکیااورانا ﷲ واِنّا الیہ رٰجعونکہا فرماتاہے: میرے بندے کے لئے جنت میں ایک گھربناؤ اور اس کانام ''حمدکامکان'' رکھو۔(امام احمد نے اسے روایت کیاہے اور امام ترمذی نے اس کی تحسین فرمائی اور محدث ابن حبان نے ''صحیح التقاسیم والانواع'' میں حضرت ابوموسٰی الاشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اس کو روایت کیا۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
 (۲؎ جامع الترمذی     ابواب الجنائز         باب فصل المصیبۃ اذ احتسب         امین کمپنی دہلی         ۱/ ۱۱۲)
 (۲) چِلاّ کے رونے سے مُردے کو ضرور تکلیف ہوتی ہے۔ اہلسنت کے مذہب میں موت سے روح نہیں مرتی، نہ اس کا علم وسمع وبصر زائل ہوتا ہے بلکہ ترقی پاتا ہے، جنازہ رکھاہوتاہے لوگ جوکچھ کہتے کرتے ہیں مردہ سب سنتادیکھتاہے۔ یہ سب امور احادیث کثیرہ سے ثابت ہیں
کما بیّنّاہ فی ''حیاۃ الموات فی بیان سماع الاموات''
 (جیساکہ ہم نے اس مسئلہ کو
''حیات الموات فی بیان سماع الاموات''
میں بیان کیاہے۔ت) چلاکے رونے سے زندے پریشان ہوجاتے ہیں ایذاپاتے ہیں نہ کہ مردہ جس پر ابھی ایسی سخت تکلیف چلانے کی گزرچکی ہے اس کی پریشانی اس کی ایذا، بیان سے باہرہے۔ پھر وہ تودارحق میں گیا اب اسے ہرمصیبت رنج دیتی اور ہرحسنہ سروربخشتی ہے یہ امر اس کے لئے صدگونہ ایذا کاباعث ہوتاہے، بچہ ہو یاجوان اس میں سب یکساں ہیں۔
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتؤذوا امواتکم بعویل۔ رواہ ابن مندۃ والدیلمی ۱؂ عن ام المومنین ام سلمۃ رضی اللہ تعالی عنھا ۔
چلا کر رونے سے اپنے مردوں کو ایذا نہ دو (محدث ابن مندۃ اوردیلمی نے  ام المومنین سیدہ ام سلمۃ رضی اللہ تعالی عنھا سے اس کو روایت کیا ہے ۔ت )
 (۱؎ الفردوس بمأثور الخطاب     حدیث ۳۱۸      دارالکتب العلمیہ بیروت     ۱/ ۹۸)
حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک جنازے میں کچھ عورتیں دیکھیں فرمایا:
ارجعن مازورات غیرماجورات انکن لتفتن الاحیاء وتؤذین الاموات۔ رواہ سعید۲؎ بن منصور فی سننہ۔
پلٹ جاؤ وبال سے بھری ثواب سے بَری، تم زندوں کو فتنوں میں ڈالتی اور مُردوں کوایذادیتی ہو (سعیدبن منصور نے اس کو اپنی سنن میں روایت کیاہے۔ت)
 (۲؎ کنزالعمال  بحوالہ الخطیب عن ابی ھدیۃ حدیث ۴۲۶۰۷  مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۱۵/ ۶۵۷)
امام بکر بن عبداﷲ مزنی تابعی فرماتے ہیں:
انہ مامن میت یموت الاوروحہ فی ید ملک الموت فھم یغسلونہ ویکفنونہ وھویری مایصنع اھلہ فلم یقدر علی الکلام لنھاھم عن الرنۃ والعویل۔ رواہ الامام ابوبکر۱؎ بن ابی الدنیا۔
مجھے حدیث پہنچی کہ جو مرتاہے اس کی روح ملک الموت کے ہاتھ میں ہوتی ہے لوگ اسے غسل وکفن دیتے ہیں اور وہ دیکھتاہے جوکچھ اس کے گھروالے کرتے ہیں ان سے بات نہیں کرتاکہ انہیں شوروفریاد سے منع کرے(امام ابوبکر بن ابی الدنیا نے اس کو روایت کیا۔ت)
(۱؎ شرح الصدور     بحوالہ ابن ابی الدنیا     باب معرفۃ المیت من یغسلہ الخ     خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص۴)
Flag Counter