کما قالوا فی سائل قوی ذی مرۃ سوی ان الاٰخذ والمعطی اٰثما۱؎ لانھم لولم یعطوالمافعلوا فکان العطاء ھوالباعث لھم علی الاستر سال فی التکدی والسوال وھذا کلہ ظاھر علی من عرف القواعد الکریمۃ الشرعیۃ وباﷲ التوفیق۔
جیسا کہ طاقتور، توانا اور صحت مندسائل کے بارے میں کہتے ہیں کہ لینے اور دینے والا دونوں گنہگار ہیں اس لئے کہ اگردینے والے نہ دیتے تو مانگنے والے گداگری کوپیشہ نہ بناتے لہٰذا یہ عطاء بخشش ہی ان کے ترک مشقت کا اور مانگنے کاباعث ہوئی اور یہ سب کچھ اس شخص پرظاہر اور واضح ہے جوقواعد شرعیہ کریمہ کاعارف ہے۔ اور اﷲ تعالٰی کے فضل وکرم سے ہی توفیق ملتی ہے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۷۳)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من دعا الی ھدی کان لہ من الاجر مثل اجور من تبعہ لاینقص ذٰلک من اجورھم شیئا ومن دعا الی ضلالۃ کان علیہ من الاثم مثل اٰثام من تبعہ لاینقص ذٰلک من اٰثامھم شیئا رواہ الائمۃ احم۲؎ ومسلم والاربعۃ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔
جو کسی امرہدایت کی طرف بلائے جتنے اس کا اتباع کریں ان سب کے برابر ثواب پائے اور اس سے ان کے ثوابوں میں کچھ کمی نہ آئے اور جو کسی امرضلالت کی طرف بلائے جتنے اس کے بلانے پر چلیں ان سب کے برابر اس پرگناہ ہو اور اس سے ان کے گناہوں میں کچھ تخفیف نہ ہو۔ (ائمہ کرام مثلاً امام احمد، مسلم اور دیگر چارائمہ (ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ) نے حضرات ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)
(۲؎ صحیح مسلم کتاب العلم باب من سن سنۃ ۲/ ۳۴۱ و مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرۃ بیروت ۲/ ۳۹۷)
(سنن ابی داؤد کتاب السنۃ ۲/ ۲۷۹ و سنن ابن ماجہ مقدمۃ الکتاب ص۱۸)
مسئلہ نص شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام سے لیاجائے گا یافقہ امام مجتہد رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اگرنص شارع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم درکارہے تومزامیر کی حرمت میں احادیث کثیرہ بالغ بحد تواتر وارد ہیں ازانجملہ اجل واعلٰی حدیث صحیح بخاری شریف ہے کہ حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لیکونن من امتی اقوام لیستحلون الحروالحریر والخمروالمعازف۔۱؎
ضرور میری امت میں وہ لوگ ہونے والے ہیں جو حلال ٹھہرائیں گے عورتوں کی شرمگاہ یعنی زنا اور ریشمی کپڑوں اور شراب اورباجوں کو۔
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الاشربہ باب ماجاء فیمن یستحل الخمر قدیمی کتب خانہ کراچی ۳/ ۸۳۷)
حدیث صحیح جلیل متصل،
وقد اخرجہ ایضا احمد۲؎ وابوداؤد وابن ماجۃ والاسمعیلی وابونعیم باسانید صحیحۃ لامطعن فیھا وصححہ جماعۃ اخرون من الائمۃ کما قال بعض الحفاظ قالہ الامام ابن حجر فی کف الرعاع۳؎۔
نیزامام احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ، محدث اسمٰعیل اور ابونعیم نے اسے صحیح اسناد کے ساتھ کہ جن میں کوئی طعن نہیں اس کی تخریج فرمائی، اور ائمہ کی ایک دوسری جماعت نے اس کو صحیح قراردیا جیسا کہ بعض حفّاظ نے کہاہے، چنانچہ امام ابن حجرنے ''کف الرعاع'' میں فرمایا ہے(ت)
(۲؎ مسندامام احمدبن حنبل عن ابی امامہ المکتب الاسلامی بیروت ۵/ ۲۵۷ و ۲۶۸)
(۳؎ کف الرعاع القسم الثالث عشر تنبیہ ثانی دارالکتب العلمیہ بیروت ص۱۳۲ و ۱۳۳)
احادیث صحاح مرفوعہ محکمہ کے مقابل بعض ضعیف قصے یامحتمل واقعے یامتشابہ پیش نہیں ہوسکتے ہرعاقل جانتاہے کہ صحیح کے سامنے ضعیف، متعین کے آگے محتمل، محکم کے حضور متشابہ واجب الترک ہے، پھرکہاں قول کہاں حکایت فعل، پھرکجا محرم کجامبیح، ہرطرح یہی واجب العمل، اسی کوترجیح، اور اگرفقہ مطلوب ہے تو خودامام مذہب امام اعظم امام الائمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کاارشاد اور ہدایہ جیسی اعلٰی درجہ معتمد کتاب کا ارشاد کافی ووافی:
دلت المسألۃ علی ان الملاھی کلھا حرام حتی التغنی لضرب القضیب وکذا قول ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ابتلیت لان الابتلاء بالمحرم یکون۱؎۔
مسئلہ اس پردلالت کرتاہے کہ کھیل کود کے تمام سامان حرام ہیں حتی کہ (کسی چیزپر) کانّے کی ضرب لگاکر گانا(یہ بھی زمرہ حرمت میں داخل ہے)اور اسی طرح امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کایہ ارشاد کہ میں اس میں مبتلا کیاگیا اس لئے کہ ابتلا حرام میں ہواکرتی ہے۔(ت)
(۱؎ الہدایۃ کتاب الکراہیۃ فصل فی الاکل والشرب مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۵۳)
غرض حدیث وفقہ کاحکم تویہ ہے ہاں اگرکسی کو قصداً ہوس پرستی منظورہو تو اس کاعلاج کس کے پاس ہے کاش آدمی گناہ کرے اور گناہ جانے اقرار لائے اصرار سے باز آئے لیکن یہ تو اور بھی سخت ہے کہ ہوس بھی پالے اور الزام بھی ٹالے اپنے حرام کوحلال بنالے۔ پھر اسی پربس نہیں بلکہ معاذاﷲ اس کی تہمت محبوبان خدا برسلسلہ عالیہ چشت قدست اسرارہم کے سردھرتے ہیں نہ خدا سے خوف نہ بندوں سے شرم کرتے ہیں حالانکہ خود حضورمحبوب الٰہی سیدی ومولائی نظام الحق والدّین سلطان الاولیاء رضی اﷲ تعالٰی عنہ وعنہم وعنابہم فوائد شریف میں فرماتے ہیں:
مزامیر حرام ست ۲؎
(گانے بجانے کے آلات کااستعمال کرنا حرام ہے۔ت)
(۲؎ فوائد الفواد)
مولانا فخرالدین زراوی خلیفہ حضورسیدنا محبوب الٰہی رضی اﷲ تعالٰی عنہما نے حضور کے زمانہ مبارک میں خود حضور کے حکم احکم سے مسئلہ سماع میں رسالہ کشف القناع عن اصول السماع تحریرفرمایا اس میں صاف ارشاد ہے کہ:
اماسماع مشائخنا رضی اﷲ تعالٰی عنھم فبریئ عن ھذہ التھمۃ وھو مجرد صوت القوال مع الاشعار المشعرۃ من کمال صنعۃ اﷲ تعالٰی۔۳؎
ہمارے مشائخ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کاسماع اس مزامیر کے بہتان سے بری ہے وہ صرف قوال کی آواز ہے ان اشعار کے ساتھ جو کمال صنعت الٰہی سے خبردیتے ہیں۔
(۳؎ کشف القناع عن اصول السماع )
ﷲ انصاف اس امام جلیل خاندان عالی چشت کا یہ ارشاد مقبول ہوگا یاآج کل مدعیان خامکار کی تہمت بے بنیاد
ظاہرۃ الفساد ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العظیم
(جس کا فساد واضح ہے۔ گناہوں سے بچنے اور بھلائی کرنے کی طاقت کسی میں نہیں مگر اﷲ تعالٰی بلندمرتبہ بزرگ قدر کی توفیق عطاکرنے سے۔ت)
سیدی مولانا محمدبن مبارک بن محمد علوی کرمانی مریدحضور پرنور شیخ العالم فریدالحق والدین گنج شکر وخلیفہ حضورسیدنا محبوب الٰہی رضی اﷲ تعالٰی عنہم کتاب مستطاب سیرالاولیاء میں فرماتے ہیں:
حضرت سلطان المشائخ قدس سرہ العزیز می فرمود کہ چندیں چیزمے باید تاسماع مباح شود مسمع ومستمع ومسموع وآلہ سماع مسمع یعنی گویندہ مرد تمام باشد کودک نباشد وعورت نباشدومستمع آنکہ می شنودازیادحق خالی نباشد ومسموع آنچہ بگویند فحش ومسخرگی نباشد وآلہ سماع مزامیرست چوں چنگ ورباب ومثل آں مے باید کہ درمیان نباشد ایں چنیں سماع حلال ست۱؎۔
سلطان المشائخ قدس سرہ العزیز نے ارشاد فرمایا چنداشیاء ہوں تو سماع جائزاور مباح ہوں(۱) مُسمع (سنانے والا)، (۲) مستمع(سننے والا)، (۳) مسموع(جوکچھ سناجائے)، (۴) آلات سماع۔تفصیل: مسمع یعنی سنانے اورکہنے والا بالغ مرد ہو بچہ اور عورت نہ ہو۔مستمع یعنی سننے والا جو کچھ سنے یادحق سے خالی نہ ہو، مسموع، جوکچھ سنیں اور کہیں اس میں فحش گوئی اورمسخرہ پن نہ ہو، اور آلات سماع مزامیر ہیں جیسے سارنگی اور رباب وغیرہ۔ چاہئے یہ کہ وہ درمیان میں نہ ہوں۔ پس اس طرح کی قوالی(سماع) جائزاور حلال ہے۔(ت)
(۱؎ سیرالاولیاء باب نہم دربیان سماع ووجد مؤسسۃ انتشارات اسلامی لاہور ص۰۲۔۵۰۱)