| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ) |
مقدمہ ثانیہ : علمائے کرام نے وجود شے کے چار مرتبے لئے ہیں: (۱) وجود فی الاعیان جس طرح زید کہ خارج میں موجود ہے۔ (۲) وجود فی الاذہان کہ صورت زید جو اس کے لئے مرآت ملاحظہ ہے ذہن میں حاضرہے۔ (۳) وجود فی العبارۃ کہ زبان سے نام زید لیا گیا،
فان الاسم عبارۃ عن المسمی وفی مسند احمد و سنن ابن ماجۃ وصحاح الحاکم وابن حبان عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن ربہ عزوجل انا مع عبدی اذا ذکر نی وتحرکت بی شفتاہ ۱؎۔
کیونکہ نام اپنے مسمی سے عبارت ہے (اور اسی کو ظاہر کرتاہے) چنانچہ مسند امام احمد، سنن ابن ماجہ، صحیح حاکم، اور صحیح ابن حبان میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے حوالے سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ نے اپنے پروردگار عزوجل سے ذ کر فرمایا (کہ وہ ارشاد فرماتاہے کہ میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتاہوں جب میرا ذکر کرتا ہے اور میرے ذکر سے اس کے ہونٹ حرکت کرتے ہیں۔ (ت)
(۱؎مسند امام بن حنبل عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۵۴۰) (صحیح البخاری کتاب التوحید باب قول اللہ لاتحرک بہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۱۲۲)
(۴) وجودفی الکتابۃ کہ نام زید لکھا گیا:
قال اﷲ تعالٰی یجدونہ مکتوبا عندھم فی التورٰۃ والانجیل ۲؎۔
(اللہ تعالٰی نے ارشادفرمایا:) اس نبی کو اہل کتاب اپنے پاس توریت وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
(۲؎ القرآن الکریم ۷ /۱۵۷)
ظاہر ہے کہ عامہ اعیان میں یہ دو نحواخیر بلکہ نحو ثانی بھی شے کے خوداپنے وجود نہیں کہ حصول اشیاء باشبا ھہا ہے نہ کہ بانفسہا۔
اقول: وھذا ھو عندی حقیقۃ انکار ائمتنا المتکلمین الوجود الذھنی ای ان الشیئ لیس فی الذھن بل شبیھہ و حملہ الامام الرازی علی انکار کونہ علما ثم ذھب بہ المتاخرون الی ماذھبوا والا فانکار قیام معان بالا ذھان مما لا یعقل عن عاقل فضلا عن اولئک اساطین العلم والعرفان۔
اقول: (میں کہتاہوں) یہی میرے نزیک حقیقت ہے اور ہمارے ائمہ اہل کلام کا وجود ذہنی کا انکار کرنا بایں معنی ہے کہ خود شے ذہن میں نہیں ہوتی بلکہ اس کی شبیہ اور مثال ہوتی ہے۔ اور امام فخرالدین رازی نے اس بات کو اس پر حمل کیا کہ اس سے علم شے کے ہونے کا انکار مراد ہے۔ پھر ائمہ متاخرین اس مسئلہ میں گئے ہیں کہ جس طرف وہ گئے ہیں ورنہ اذہان کے ساتھ قیام معانی کا انکار کرنا کسی صاحب عقل سے غیر معقول ہے (جو تابع فہم نہیں) چہ جائیکہ ان علم وعرفان کے ستونوں سے (اس بات کاانکار ہو)۔ (ت)
مگر ہمارے ائمہ سلف رضی اللہ تعالٰی عنہم کے عقیدہ حقہ صادقہ میں یہ چاروں نحو قرآن عظیم کے حقیقی مواطن وجود و تحقیقی مجال شہود ہیں وہی قرآن کہ صفت قدیمہ حضرت عزت عزو جلالہ اور اس کی ذات پاک سے ازلا ابدا قائم ومستحیل الانفکاک ولاہو ولا غیرہ لاخالق ولا مخلوق (جوازلی ابدی طور پر (اللہ تعالٰی کی ذات کے ساتھ( قائم ہے پس اس کا جدا ہونا محال ہے۔ نہ عین ذات ہے اور نہ وہ اس کا غیر ہے۔ نہ وہ خالق ہے اورنہ مخلوق ۔ ت) یقینا وہی ہماری زبانوں سے متلو ہمارے کانوں سے مسموع ہمارے اوراق میں مکتوب ہمارے سینوں میں محفوظ ہے۔ والحمدللہ رب العالمین نہ یہ کہ یہ کوئی اور جدا شے قرآن پر دال ہے۔ نہیں نہیں، یہ سب اسی کی تجلیاں ہیں ان میں حقیقۃً وہی متجلی ہے بغیر اس کے کہ وہ ذات الٰہی سے جدا ہوا یا کسی حادث سے ملایا اس میں حلول کیا یا کسوتوں کے حدوث سے اس کے دامن قدم پرکوئی داغ آیا یا ان کے تکثرسے اس کی طرف تعدد نے راستہ پایا ؎
دمبدم گر لباس گشت بدل شخص صاحب لباس راچہ خلل
(اگر ساعت بہ ساعت لباس بدل گیا تو صاحب لباس کا اس میں کیا نقصان ہے۔ ت)
؎ مہرے ست دراز تاب خفاش ایمان باید ترانہ کنگاش
(چمگادڑ طویل کچلی والی کا مہر ہے۔ تجھ میں ایمان ہونا چاہئے نہ کہ صلاح ومشورہ ۔ ت)
ابوجہل نے جبرئیل امین علیہ الصلٰوۃ والسلام کو شتر نرجوان کی شکل میں دیکھا کہ منہ کھولے ہوئے اس پر حملہ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ جبرئیل نہ تھے کوئی اورچیز جبریل پر دلالت کرنے والی تھی حاشا یقینا جبرئیل ہی تھے اگر چہ یہ بھی یقینا معلوم ہے کہ جبریل کی صورت جمیلہ ہر گز صورت جَملیہ نہیں لہ ستمأۃ جناح قد سدا لا فق (اس کے یعنی جبریل علیہ الصلٰوۃوالسلام کے چھ سو پر ہیں جو آسمان کے کناروں پر روک بن گیا۔ ت) اس راز کو اہل حقائق ہی خوب سمجھتے ہیں ہم پر تسلیم واذعان واجب ہے،
اللہ عزوجل فرماتاہے :
واذا قری القرآن فاستمعوا لہ وانصتوا لعلکم ترحمون ۱؎۔
جب قرآن مجید پڑھا جائے تو خاموش ہو کر اسے کان سے سنو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (ت)