| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ) |
وثالثا وکون اللذۃ من باب المشکک انما کان یجدی نفعا لوثبت جواز نفس الالتذاذ بتلک الاصوات وتوقفت الحرکۃ علی مخصوص منھا وثبت ان اللذۃ لاتبلغ ذٰلک الحد لا بالسماع من نفس الآلات دون الصندوق ولم یثبت شیئ من ذٰلک ورابعا ان الصندوق لم یوضع للضرب فنحن لانحرم نفسہ بل سماع صوت ای منہ وذٰلک یکون بوضع القوالب المودعۃ فیھا اصواتھا وھی ماوضعت الا لذٰلک وحینئذ لایقصد من الصندوق الاالضرب وسماعھا شعار الفسقہ قطعا وبالجملۃ فالتفرقۃ بین سماع اصوات الملاھی منھا ومن الصندوق ماھی الاجر ف ھارمالہ من قرار وخامسا ھذا کلہ علی فرض ذنب التنزل والا قد اقمنا البرھان علی ان صوت الملاھی المسموع من الصندوق ھو عین صوت تلک الملاھی فکیف یفرق بین الشیئ ونفسہ وای حاجۃ الی الالحاق وباﷲ التوفیق وسادسا ثم ان السید نفسہ یقول وقد سمعنا حکایتہ للقراٰن فلم نرالا انھا قرأۃ فصیحۃ مرتلۃ بنغمۃ تمیل الیھا النفوس اھ، اقول : افصحتم بالحق فلا ۔۔۔۔۔۔(عہ۱) ۔۔۔۔۔۔ ؎ القرآن واسدت تلک الغنم الحسان تمیل نفوس العامۃ و تلک الاصوات الملھیۃ عن ذکر الرحمن ۔۔۔۔۔۔۔(عہ۲)۔۔۔۔۔۔۔ لھا الشیطان وذٰلک ھو الطرب المنھی عنہ وعلیہ مدار تحریمھا فحسب واﷲ الموفق۔
وثالثا لذت کاباب تشکیک سے ہونا اس وقت فائدہ بخش ہوسکتا ہے کہ جب ان آوازوں سے نفس لذت کا جواز ثابت ہوتا۔ اور حرکت مخصوص آوازوں پر موقوف ہوتی۔ اور یہ ثابت ہوتا کہ نفس آلات کے سماع سے بغیر صندوق کے لذت اس حد تک نہ پہنچی۔ حالانکہ ان میں سے کوئی بات ثابت نہیں رابعا واقعی صندوق بجانے کے لئے نہیں بنایا گیا یہی وجہ ہے کہ نفس صندوق کو حرام نہیں قرار دیتے بلکہ اس سے راگ سننے کو حرام کہتے ہیں۔ اوریہ اس لئے کہ اس میں ایسے قالب موجود ہیں کہ ان میں آوازیں بھری جاتی ہیں اور وہ قالب اسی مقصد کے لئے بنائے گئے ہیں، پھر اس صورت میں صندوق سے یہی ضرب مقصود ہے۔ اور ان لوگوں کا راگ سننا بلا شبہہ شعار فساق ہے۔ (خلاصہ کلام ) راگ کی آوازیں، آلات لہو اور صندوق کے سننے مں کوئی فرق نہیں۔ اور یہ تفرقہ بالکل کھوکھلے گرنیوالے دہانے کی طرح جس کو کوئی قرار اور ثبات نہیں۔ وخامسا یہ سب کچھ اس پر مبنی ہے کہ بطریقہ ''تنزل'' صدور گناہ فرض کرلیا جائے ورنہ ہم نے اس پر دلائل وشواہد قائم کئے ہیں کہ جو راگ کی آواز صندوق سے سنائی دیتی ہے وہ بالکل وہی اصل آواز ہے۔ (اس کی حکایت اور مثل نہیں) کیونکہ شے اور اس کی ذات میں کیسے تفرقہ کیا جاسکتاہے (کیونکہ وہ دونوں باہم عین ہیں) لہذا الحاق کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے۔ اور اللہ تعالٰی ہی سے حصول توفیق ہے سادسا سید صاحب خود فرماتے ہیں کہ ہم نے قرآن مجید کی حکایت سنی۔ اور ہم اس سے یہی سمجھتے ہیں کہ وہ ایک فصیح وبلیغ قراءت ہے جو نغمات سے ترتیل شدہ ہے جس کی طرف نفوس مائل اور راغب ہوتے ہیں اھ اقول: (میں کہتاہوں) بلا شبہہ تم نے حق ظاہر کردیا ہے۔ کیا یہ قرآن مجید نہیں، اور جو کچھ ان حسین وجمیل نغموں کے قائم مقام ہے جس کی طرف نفوس عامہ راغب ہوتے ہیں یا وہ آوازیں ہیں جو ذکر ''رحمن'' سے غافل کرنے والی بلکہ شیطان کی طرف راغب کرنے والی ۔ اور یہ وہی خوش کن راگ ہے کہ جس سے منع کیا گیا ہے اور اسی پر ان کی حرکات کا مدار ہے اور بس۔ اور اللہ تعالٰی ہی (امور خیر کی) توفیق دینے والا ہے۔ (ت)
عہ۱؎ و ۲؎ : یہاں اصل میں بیاض ہے۔
بالجملہ شک نہیں کہ طبلہ ، سارنگی۔ ڈھولک، ستار یا ناچ یا عورات کا گانا یا فحش گیت وغیرہ وغیرہ جن آوازوں کا فونو سے باہر سننا حرام ہے بلا شبہہ ان کا فونو سے بھی سننا حرام ہے نہ یہ کہ اسے محض تصویر و حکایت قرار دے کر حکم اصل سے جدا کردیجئے یہ محض باطل وبے معنی ہے۔ سابعا اس تصویر مجرد مباین اصل ہونے کا حال تو جب کھلے کہ زید کی ہجو یا اس کے والدین پر گالیاں اس آلہ میں بھر کر سنائی جائیں کیا اس پر وہی ثمرات مرتب نہ ہوں گے جو فونو سے باہر سننے میں ہوتے پھر اپنے نفس کے لئے فرق نہ کرنا اور واحد قہار کی معصیتوں کو ہلکا کرلینے کے لئے یہ تاویلیں نکالنا کس قدر دیانت سے دور ومہجور ہے۔
نسأل اﷲ العفو والعافیۃ اماماذکر السید الاھدل عفا اﷲ تعالٰی عنا و عنہ من حدیث رؤیۃ صورۃ المرأۃ فی المراٰۃ فاقول: ثامنا تبین لک ان صوت الملاھی من الصندوق ھو عین صوتھا منھا لا مثالہ بخلاف عکس المرأۃ فی المراٰۃ وتاسعا کلام ابن حجر فی التحفۃ فی باب النکاح عقیب قولہ الامام النووی فی منھاجہ ویحرم نظر رجل بالغ الی عورۃ حرۃ مانصہ خرج مثالھا فلا یحرم نظرہ فی نحومراٰۃکما افتی بہ غیر واحد ویؤیدہ قولھم لوعلق الطلاق برؤیتھا لم یحنث برؤیہ خیالھا فی نحو مراٰۃ لانہ لم یرھا ومحل ذلک کما ھو ظاھر حیث لم یخش فتنۃ ولا شھوۃ ۱؎ اھ ومثلہ فی النھاٰیۃ للرملی فقد افاد اٰخر اما اباد ھذا القیاس فان صوت الملاھی نفسہ فنتۃ ولادخل فیہ لخصوص آلۃ فانہ یورث قطعا سماعہ من الصندوق مایورث سماعہ من غیرہ فلا فرق بخلاف الخیال فانہ غیر مشتھی بنفسہ ولا صالح لذٰلک فافترقا وعاشرا انی لااظن ھذا الشرع المطھر یبیح رؤیۃ فرج الاجنبیۃ عاریۃ عن الثیاب فی المرآۃ فان فیہ من الفساد والبعد عن مقاصد الشرع مالایخفی ولا اعلم قط رخصتہ فی ذٰلک عن علمائنا وان حکموا ان برؤیۃ فرج المرأۃ فی المرآۃ بشھوۃ لاتثبت حرمۃ المصاھرۃ لانہ لم یرفرجھا بل مثالہ وھو مبنٰی علی القول بالانطباع دون انعکاس الشعاع والا لکان المرئی نفس الفرج لاخیالہ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ہم اللہ تعالٰی سے معافی اور عافیت چاہتے ہیں رہا یہ کہ جو کچھ سید اہدل نے ذکر فرمایا اللہ تعالٰی ہمیں اور انھیں معاف فرمائے اور وہ آئینہ میں عورت کی شکل وصورت دیکھنے کی بات ہے۔ فاقول: (تومیں کہتاہوں) ثامنا تمھارے لیے یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ صندوق سے راگ کی آواز سننا بعینہٖ اسی طرح ہے جس طرح آلات راگ سے آواز سنی جائے لہذا آواز صندوق ان کی مثل اور حکایت نہیں بخلاف آئینہ میں عورت کا عکس (فوٹو) دیکھنا، تاسعا علامہ ابن حجر کا کلام تحفہ باب نکاح میں امام نووی کے قول ''منہاج'' کے بعد کہ کسی بالغ مرد کا کسی آزاد عورت کے ستر کی طرف نگاہ کرنا حرام ہے جس کی انھوں نے تصریح فرمائی۔ تو اس سے عورت کی مثال اور شبیہ (فوٹو) خارج ہے لہذا کسی مرد کا آئینہ میں عورت کی شیبہ اور عکس دیکھنا حرام نہیں جیسا کہ بہت سے علماء کرام نے اس کافتوٰی دیا ہے۔ اور ان کے اس قول سے اس کی تائید ہوتی ہے کہ اگر کسی شخص نے عورت دیکھنے پر طلاق منکوحہ کو معلق (موقوف) کردیا تو پھر آئینہ میں عورت کا عکس اور شبیہ دیکھنے سے قسم نہ ٹوٹے گی کیونکہ اس نے عورت نہیں دیکھی بلکہ اس کا عکس دیکھا ہے اورمحل (محمل) جیسا کہ ظاہرہے یہ ہے کہ جہاں فتنہ اور شہوت کا اندیشہ اور خطرہ نہ ہو اھ اور علامہ رملی کے ''النہایۃ'' میں یونہی مذکور ہے۔ پس اس نے آخر میں وہ افادہ پیش کیا جس نے اس قیاس کو واضح کردیا کہ نفس راگ کی آواز فتنہ ہے پس اس میں خصوصیت آلہ کو کوئی دخل نہیں لہذا صندوق سے را گ سننا یقینا وہی کچھ پیدا کرتا ہے جو دوسرے آلات راگ سے سنا جائے تو پیدا ہوتا ہے۔ لہذا دونوں کے سماع میں کوئی فرق نہیں بخلاف خیال (اور عکس ) کے اس میں بذات خود اشتہا (چاہت) نہیں ہوتی اور وہ اس قابل بھی نہیں ہوتا لہذا دونوں میں فرق ہوگیا۔ (اور وجہ افتراق ظاہر ہوگئی) عاشرا میں تو اس شریعت پاک کے متعلق یہ گمان نہیں کرسکتا کہ اس نے آئینہ میں برہنہ عورت کی شرمگاہ کو دیکھنے کی اجازت دی ہو۔ (اور اس کو مباح قرار دیا ہو) کیونکہ اس میں ایسا فساد اور مقاصد شریعت سے بعد (دوری) ہے جو کسی پر پوشیدہ نہیں اور مجھے اپنے علمائے کرام سے قطعا اس کی اجازت اور رخصت معلوم نہیں، اگر چہ انھوں نے یہ حکم دیا ہے کہ آئینہ میں بطور شہوت کسی عورت کی شرمگاہ دیکھنے سے حرمت مصاہرت (حرمت دامادی) ثابت نہ ہوگی کیونکہ مرد نے عورت کی شرمگاہ نہیں دیکھی اس کا عکس اور شبیہ دیکھی ہے۔ اور یہ قول انطباع (ٹھپہ لگ جانا) پر مبنی ہے نہ کہ انعکاس شعاع پر۔ ورنہ مرئی نفس شرمگاہ ہوتی نہ کہ اس کا خیال، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ تحفہ)