| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ) |
وہ دل کو خیر سے پھیرکر شہوات وہفوات کی طرف لے جاتے ہیں یہاں تک کہ دل پر ان کے زنگ چڑھ کر مہرہوجاتی ہے پھر حق بات نہ سنے نہ سمجھے والعیاذ باللہ تعالٰی (اور اللہ تعالٰی کی پناہ۔ ت)
کما قال عزوجل بل ران علی قلوبھم ماکانوا ایکسبون ۴؎ وفیہ قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان العبد اذا اذنب ذنبا تکتب فی قلبہ نکتۃ سوداء فان تاب ونزع واستغفر صقل قلبہ وان عاد زادت حتی تعلو قلبہ فذالک الران الذی ذکر اﷲ تعالٰی فی القراٰن رواہ احمد و الترمذی وصححہ والنسائی وابن ماجۃ ۱؎ واٰخرون عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ وھو معنی حدیث ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ الغناء ینبت النفاق فی القلب کما ینبت الماء العشب ۲؎ بل ھو للبیھقی فی شعب الایمان عن جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وفیہ الزرع مکان العشب ۳؎۔
جیسا کہ اللہ تعالٰی زبردست اور جلیل القدر نے ارشاد فرمایا: بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھ گیا ہے ان برے کاموں کی وجہ سے جو وہ کیا کرتے تھے۔ اور اس آیت قرآنی کی تفسیر میں حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کا یہ ارشاد موجود ہے: ''جب کوئی بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نشان ابھر آتا ہے اگر توبہ کرے باز آئے اسے اتار پھینکے اور اللہ تعالٰی سے گزشتہ کی بخشش مانگے تو اس کا دل صاف شفاف ہوجاتاہے۔ اور اگر وہی برائی دوبارہ کرے تو وہ نشان بڑھ جاتاہے یہاں تک کہ اس کے دل پر غالب آجاتا ہے اور اسے چاروں طرف سے گھیرلیتا ہے)'' پس یہی وہ زنگ اور میل ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالٰی نے جس کاذکر فرمایا ہے۔ امام احمد اور جامع ترمذی نے اس کو روایت کیا اور ترمذی نے اس کی تصحیح فرمائی سنن نسائی اور ابن ماجہ اور دوسرے ائمہ حدیث نے اس کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حوالے سے اس کو روایت فرمایا، اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حدیث ''راگ دل میں اس طرح نفاق اگادیتا ہے جس طرح پانی گھاس اگادیتا ہے'' کا یہی معنی ہے۔ بلکہ وہ حدیث امام بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی سند سے روایت فرمائی کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس میں لفظ عشب (گھاس) کی جگہ لفظ الزرع (کھیتی) ہے۔ (ت)
(۴؎ القرآن الکریم ۸۳ /۱۴) (۱؎ جامع الترمذی ابواب التفسیر سورۃ ویل للمطففین امین کمپنی دہلی ۲ /۱۶۸ و ۱۶۹) (۲؎ مسند امام احمد بن حنبل عن ابی ہریرہ ۲/ ۲۹۷ و سنن ابن ماجہ ابواب الزہد ص۳۲۳) (۲؎ اتحاف السادۃ المتقین کتاب ذم الجاہ والریاء بیان ذم حب الجاہ دارالفکر بیروت ۸ /۲۳۸) (۳؎ شعب الایمان للبیھقی حدیث ۵۱۰۰ دارالفکر العلمیۃ بیروت ۴ /۲۷۹)
غرض ان آوازوں میں بالطبع یہ خاصیت رکھی گئی ہے کہ فتنہ کی طرف کھینچیں اور قدم ثبات کو لغزش دیں۔
وذٰلک قولہ تعالٰی واستفرز من استطعت منھم بصوتک ۴؎۔
اور اللہ تعالٰی کا یہ ارشاد گرامی ہے جن لوگوں پر تو قابو پاسکتا ہے انھیں اپنی آواز سے لغزش دے۔
(۴؎ القرآن الکریم ۱۷ /۶۴)
ہر عاقل جانتاہے کہ اس میں خصوصیت صورت آلہ کو دخل نہیں بلکہ یہ آوازیں جس آلہ سے پیدا ہوں اپنا رنگ لائیں گی تو علت حرمت قطعا حاصل ہے پھر حکم حرمت کیونکر زائل اوریہ ادعا کہ فونو سے سازوں کی آوازیں مورث طرب نہیں صرف موجب عجب ہیں بداہت کے خلاف ہے بلا شبہہ سازوں سے ان کی آواز سننا جو اثر کرتا ہے۔ وہی فونو سے کہ آواز بلا تفاوت وہی ہے خصوصیت شکل آلہ کا ایراث عدم ایراث طرب میں کیا دخل نہ اضافہ عجب مانع طرب،
فاندفع مازعم الفاضل المعاصر السید الاھدل حفظہ اﷲ تعالٰی انہ لا یحصل من سماعہ طرب بل عجب وغایۃ مایدعیہ بعضھم حصول اللذۃ واللذۃ مع کونھا من باب المشکک لیست علۃ التحریم فقط بل العلۃ مع ذٰلک کون الآلات من شعار الفسقہ، والصندوق لم یوضع للضرب ولا قصد لہ ولا شھر بانہ شعار الفساق فانی یتاتی الالحاق اھ بمحصلہ و قد اتینا فی تلخیصہ علی مقصد رسالتہ اجمع ۔
فاضل ہمعصر سید اہدل حفظہ اللہ تعالٰی کا دفاع ہوگیا کہ صندوق کی آواز سننے سے طرب حاصل نہیں ہوتا بلکہ صرف''عجب'' پید ا ہوتا ہے۔ غایۃ مافی الباب یہ ہے کہ جس کا بعض لو گ دعوٰی کیا کرتے ہیں کہ اس سے لذت حاصل ہوتی ہے اور لذت باوجود یکہ باب تشکیک میں سے ہے تنہا علت حرمت نہیں۔ بلکہ گانے بجانے کے آلات واسباب کا فاسقوں کے شعار میں سے ہونا اور حصول لذت یہ دونوں مل کر علت تحریم ہیں اور صندوق بجانے کےلئے موضوع نہیں۔ اور اس کا یہ مقصد بھی نہیں، اور شعار فساق میں اس کی شہرت بھی نہیں پھر اس کا ان آلات لہو سے کیسے الحاق ہوسکتا ہے۔ عبارت کا خلاصہ پورا اور مکمل ہوگیا ہے۔
اقول :اولا ما الطرب الا الفرح والحزن اوخفۃ تلحقک تسرک اوتحزنک والحرکۃ والشوق کما فی القاموس ۱؎ وکل ذٰلک معلوم قطعا فی سماع اصوات الالات من الصندوق کسماعھا منھا سواء بسواء وکلھا ھھنا لوازم اللذۃ التی سلم وجودھا والخفۃ ان اخذت بمعنی مایقھرہ العقل فلیست لازمۃ بسماع الآ لات ایضا قرب سامع لھا لا یعتریہ خفۃ فی عقلہ انما ذٰلک لمن انھمک فیھا وھی تحصل لمثلہ فی السماع من الصندوق ایضا و ثانیا ھذہ الاثار التی تتولد منھا ھی الکافیۃ قطعا للتحریم والیھا النظر فی النصوص التی تلونا وفی تسمیتھا الات الملاھی من دون توقف علی کونھا شعار الفسقۃ حتی لوفرض انعدام الفساق من الدنیا لحرمت الآلات لما ذکرنا واین کانت الفسقۃ اذ قال اﷲ عزوجل لابلیس واستفزز من استطعت منھم بصوتک ۱؎ بل ھذہ الآثار ھی التی جعلتھا شعار الفساق فھو اثر العلۃ منھا لاجزئھا نعم مالاباس بہ فی نفسہ ولم یکن من ما یناقض مقاصد الشرع الشریف وھو مما شعار الفساق یکون النہی عنہ لذٰلک التشبہ بھم فھھنا لک تبنی الامر علی الشعار لا فی مثل ما فی مبحث عنہ وکذالک مابہ باس فی نفسہ وھو مما شعار الفسقۃ ینھی عنہ للوجھین ای لکل منھما لا للمجموع حتی تکون الشعار یۃ جزء العلۃ ویقتصر النھی علیھا فاذا انتفت انتفی لا قائل بہ احد من علماء الدنیا ،
اقول : (میں کہتاہوں) اولا طرب صرف خوشی غم حرکت اور شوق اور ایسی خفت جو تجھے لاحق ہو تو تجھے خوش یا غمگین کردے، جیسا کہ قاموس میں ہے اور یہ سب کچھ یقینی طور پر معلوم ہے اور صندوق سے آوازیں سننے میں موجود ہے جیسا کہ دوسرے آلات کے سماع میں موجود ہے۔ لہذا اس باب میں دونوں برابر، دونوں میں کچھ فرق نہیں، اور یہاں یہ سب لوازم لذت ہیں کہ جس کے وجود کو مجوزنے تسلیم کیاہے (مراد یہ ہے کہ ان سب کے لئے حصول لذت لازم ہے) اگر ''خفت'' اس معنی میں لی جائے کہ وہ چیز جو عقل کو مقہور اور مغلوب کردے تو پھر یہ بات سماع آلات میں بھی لازم نہیں،کیونکہ بسااوقات آلات سے راگ سننے والے کی عقل میں بھی کوئی خفت اور فتور عارض نہیں ہوتا۔ البتہ یہ اس شخص کے لئے ہوگا جو بصورت استغراق آلات سے راگ سنتے ہیں، استغراق کی صورت میں اگر صندوق سے راگ سنے تو اس سے نیز کیفیت خفت حاصل ہوجائیگی (گویا بصورت استغراق دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ و ثانیا یہ آثار وکوائف جو سماع الآت سے پیدا ہوتے ہیں حرمت کے لئے یقینا کافی ہیں چنانچہ ہماری تلاوت کردہ نصوص میں اسی طرف اشارہ ہے۔ اور ان کا نام آلات لہو رکھنے میں بھی یہی منظور نظر ہے بغیر اس توقف کے کہ فاسقوں کا شعار ہیں یہاں تک کہ اگر فرض کرلیا جائے کہ پوری دنیا میں کوئی فاسق موجود نہیں تو اس کے باوجود بھی سماع راگ ان آلات سے حرام ہوگا اس وجہ سے کہ جس کو ہم نے بیان کردیا ہے (ذرا غور تو کرو) جب اللہ تعالٰی نے شیطان کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا: اولاد آدم میں سے جس پر تو قابوپاسکتا ہے انھیں اپنی آواز سے ڈگمگا دے۔ (ارے بتاؤ) کہ اس وقت فاسق کہاں تھے بلکہ وہ آثار جن کو تم نے فساق کا شعار قرار دیا وہ ان کے لئے اثر علت ہیں۔ علت کا جز نہیں۔ البتہ بذاتہٖ جن میں کچھ حرج نہیں اور نہ یہ مقاصد شریعت کے مخالف ہیں۔ پھر وہ فساق کا شعار ہوں تو ان سے تشبہ کی وجہ سے ممنوع ہونگے۔ پھر یہاں امر شعار پر مبنی ہوگا نہ کہ زیر بحث مقام میں، اور یونہی وہ امور کہ ان کے فی نفسہٖ وجود میں کوئی حرج ہے۔ اورشعار فساق ہوں تو ان سے دو وجوہ کی بناء پر ممانعت کی جاتی ہے مفہوم یہ ہے کہ ہر ایک وجہ کی بناء پر لہذا مجموعہ مرادنہیں، تاکہ ان کا شعار ہوناعلت کا جز ہوجائے، اورنہی صرف ان پر مبنی ہو کہ جب وہ منفی ہوں تو نہی منفی ہوجائے، حالانکہ دنیا کا کوئی عالم اس بات کا قائل نہیں ،
(۱؎ القاموس المحیط فصل الطاء باب الباء مصطفی البابی مصر ۱ /۱۰۱) (۱؎ القرآن الکریم ۱۷ /۶۴)