| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ) |
کما صرح بہ امام الحقائق سیدی الشیخ الاکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ والشیخ العارف باﷲ تعالٰی سیدی الامام عبدالوہاب الشعرانی قدس سرہ الربانی۔ جیسا کہ اہل حقائق کے امام، میرے آقا، الشیخ الاکبر (اللہ تعالٰی ان سے راضی ہو) نے اس کی تصریح فرمادی۔ اور شیخ اللہ تعالٰی کی معرفت رکھنے والے، امام عبدالوہاب شعرانی ان کاخدائی بھید پاک کیا جائے) نے بھی تصریح فرمادی ہے۔ (ت)
اور اس کا سبب ظاہری یہ تھا کہ ان کیفیات کا حامل ایک نہایت نرم ولطیف ورطب جسم تھا یعنی ہوا یا نہایت کمی کے ساتھ پانی بھی جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا اور جس طرح لطافت و رطوبت باعث سہولت انفعال ہے یوہیں مورث سرعت زوال ہے اسی لئے نقش برآب مثل مشہور ہے تو ان کیفیات اشکال کے تحفظ کا کوئی ذریعہ ہمارے پاس نہ تھا اب بمشیت الٰہی ایسا آلہ نکلا جس میں مسالے سے باذن اللہ تعالٰی یہ قوت پیدا ہوئی کہ ہوائے عصبہ مفروشہ کی طرح ہوائے متموج کی ان اشکال حرفیہ وصوتیہ سے متشکل ہو اور اپنے یبس وصلابت کے سبب ایک زمانہ تک انھیں محفوظ رکھے اگلوں کا اس ذریعہ پر مطلع نہ ہونا انھیں اپنے اس تجربہ کے بیان پر باعث ہوا کہ ہم دیکھتے ہیں جب تموج ختم ہوجاتا ہے آواز ختم ہوجاتی ہے کما تقدم عن شرح المواقف (جیسا کہ شرح مواقف کے حوالے سے پہلے گزرچکا ہے۔ ت) یہ آلہ دیکھتے تو معلوم ہوتا کہ تموج ہوا ختم ہوا اور آواز محفوظ ومخزون ہے انتہائے تموج سے سننے میں نہیں آتی اس کے لئے دوبارہ تموج ہوا کی محتاج ہے کہ ہمارے سننے یہی کا ذریعہ ہے ورنہ رب عزوجل کہ غنی مطلق ہے اب بھی اسے سن رہا ہے اس آلہ یعنی پلیٹوں پر ارتسام اشکال معلوم ومشاہد ہے ولہذا چھیل دینے سے وہ الفاظ زائل ہوجاتے ہیں جس طرح کاغذ سے خط کے نقش چھل جاتے ہیں اور ان سے خالی کرکے دوسرے الفاظ بھر سکتے ہیں جس طرح لکھی ہوئی تختی دھو کر دوبارہ لکھ سکتے ہیں اور تکرر قرع سے بھی بتدریج ان میں کمی ہوتی اور آواز ہلکی ہوتی جاتی ہے کہ پہلے کی طرح صاف سمجھ میں نہیں آتی یہاں تک کہ رفتہ رفتہ فنا ہو کر بالآخر لوح سادہ رہ جاتی ہے جب تک ان چوڑیوں پلیٹوں میں وہ اشکال حرفیہ باقی ہیں تحریک آلہ سے جو ہوا جنبش کناں ان اشکال مرسومہ پر گزرتی اپنے رطوبت ولطافت کے باعث بدستور ان کیفیات سے متکیف اور قوت تحریک کے باعث متموج ہوکر اسی طرح کان تک پہنچتی اور یہاں کی ہوا ان اشکال کو لے کر بعینہٖ بذریعہ لوح مشترک نفس کے حضور حاضر کرتی ہے یہ تجدد وتموج کے سبب تجدد سماع ہوا نہ کہ تجدد صوت، کما اسلفنا لہ التحقیق واﷲ ولی التوفیق (جیسا کہ ہم نے پہلے اس کی تحقیق کردی۔ اور اللہ تعالٰی حصول توفیق کا مالک ہے۔ ) تو فونو کی چوڑیاں صرف ہواہائے متوسطہ میں سے ایک ہوا کے قائم مقام ہیں فرض کیجئے کہ طبلہ سے گوش سامع تک بیچ میں سو ہواؤں کا توسط تھا کہ طبلہ پر ہاتھ مارنے سے پہلی ہوا اور اس سے دوسری اس سے تیسری یہاں تک کہ سویں (۱۰۰) ہوا نے اشکال صوت طبلہ سے متشکل ہوکر ہوائے جوف گوش کو متشکل کیا اور سماع واقع ہوا یہاں یوں سمجھئے کہ اس نواخت سے یکے بعد دیگرے پچاس ہواؤں نے متشکل ہوکر ہوائے اخیر نے اس آلہ کو متشکل کیا یہ ہوائے پنجاہ ویکم کی جگہ ہوا اب اس سے ہوائے پنجاہ دوم پھر سوم پھر چہارم متشکل ہوکر سویں نے بدستور ہوائے گوش کو متکیف کیا اور سماع حاصل ہوا تو یقینا دونوں صورتوں میں وہی صوت طبلہ ہے کہ بتجدد امثال سو۱۰۰ واسطوں سے کان تک پہنچتی اگر چہ ایک صورت میں سب وسائط ہوائیں ہیں اور دوسری میں بیچ کا ایک واسطہ یہ آلہ دونوں میں وہی سلسلہ چلا آتا ہے وہی طبلہ پرہاتھ پڑنا دونوں کا مبداء ہے تو کیا وجہ کہ ان سو واسطوں سے جو سناگیا وہ تو وہی صوت طبلہ ہو اور ان سو واسطوں کے بعد جو سنا گیا وہ اس کا غیر ہو اس کی تصویر اس کی مثال ہو یہ محض تحکم بے معنی ہے اصل تشکل اول جو قرع طبلہ سے پیدا ہوا اسے لیجئے تو وہ صورت اولٰی میں بھی ننانوے منزل اس پار چھوٹ گیا اور یکے بعد دیگرے اس کا سلسلہ قائم رہنا لیجئے تو وہ یقینا یہاں بھی حاصل پھر تفرقہ یعنی چہ۔
علامہ سید شریف قدس سرہ الشریف شرح مواقف میں فرماتے ہیں:
الاحساس بالصوت یتوقف علی ان یصل الھواء الحامل لہ الی الصماخ لا بمعنی ان ھواء واحد بعینہ یتموج یتکیف بالصوت ویصلہ الی القوۃ السامعۃ بل بمعنی انمایجاور ذٰلک الھواء المتکیف بالصوت یتموج ویتکیف بالصوت ایضا وھکذا الی ان یتموج ویتکیف بہ الہواء الراکد فی الصماخ فتدرکہ السامعۃ حینئذ۱؎۔
آواز کا احساس اس پر موقوف ہے کہ جو ہوا اس کو اٹھا رہی ہے وہ کانوں کے سوراخ تک پہنچے نہ اس معنی سے کہ بعینہٖ ایک ہی ہوا میں تموج پیدا ہو کر وہ کیفیت صوت سے متصف ہوجاتی ہے۔ پھر آواز کو قوت سامعہ تک پہنچا دیتی ہے بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو ہوا ''متکیف بالصوت'' ہے اس کے متصل مجا ور جو ہوا ہے اس میں موج پیدا ہوتی ہے پھر وہ بھی جز اول کی طرح متکیف بالصوت ہوجاتی ہے پھر یونہی یہ سلسلہ تموج اور تکیف آگے تک چلتا ہے اور بڑھتا ہے یہاں تک کہ اس ہوا میں موج پیدا ہوتی ہے جو کانوں میں ٹھہری ہے پھر وہ کیفیت صوت سے متصف ہوجاتی ہے پھر اس طرح قوت سامعہ آواز کا ادارک کرلیتی ہے۔ (ت)
(۱؎ شرح المواقف النوع الثالث المقصد الثانی منشورات الشریف الرضی قم ایران ۵ /۶۱۔۲۶۰)
اس کے متن مواقف مع الشرح میں ہے:
سبب الصوت القریب تموج الھواء ولیس تموجہ فھذا حرکۃ انتقالیۃ من ھواء واحد بعینہٖ بل ھو صدم بعد صدم وسکون بعد سکون ۱؎۔
آواز کاسبب قریب ہوا میں موج پیدا ہونا ہے اور اس کا یہ تموج ایسی حرکت انتقالیہ نہیں جو بعینہٖ ایک ہوا سے ہو۔ بلکہ وہ نوبت بہ نوبت دباؤ اور سکون بعد سکون کی وجہ سے ہے۔ (ت)
(۱؎ شرح المواقف النوع الثالث المقصد الثانی منشورات الشریف الرضی قم ایران ۵ /۵۸۔ ۲۵۷)
بالجملہ کوئی شک نہیں کہ جو کچھ فونوسے سنی گئی بعینہٖ وہی طبلہ کی آواز ہے اسی کو شرع نے حرام فرمایا تھا اور اسے خیال ومثال کہنا محض بے اصل خیال تھا اور بفرض غلط ایساہوتا بھی تو مجوز کے لئے کیا باعث خوشی تھا بالجملہ شرع مطہر نے اس نوع آواز کو حرام فرمایا ہے تشخص تموج بلکہ تشخص تشکل بلکہ تشخص طبلہ کسی کو بھی اس میں دخل نہیں حکم اپنی علت کے ساتھ دائر ہوتا ہے۔ آواز ملاہی علت تحرم، وہ تشخصات نہیں بلکہ یہ کہ وہ لہو ہیں۔
کما ینبی عنہ اسمھا ویشیر الیہ قولہ تعالی ومن الناس من یشتری لھو الحدیث ۲؎ وقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کل لھو المؤمن باطل وفی روایۃ حرام الا فی ثلث ۳؎۔
جیسا کہ ان کا نام اس سے آگاہ کر رہا ہے اور اسی طرف اللہ تعالٰی کا ارشاد اشارہ کررہا ہے لوگوں میں کوئی وہ ہے جو کھیل (تماشہ) کی باتوں کا خریدار ہے (اور ان سے دلچسپی اور وابستگی رکھتا ہے) اور حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ''مومن کا ہر کھیل باطل ہے'' اور ایک روایت میں ہے: ''ہر کھیل حرام ہے مگر تین کھیل''( کہ ان کی اجازت ہے۔)۔ (ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۳۱ /۶) (۳؎ جامع الترمذی ابواب فضائل الجہاد ۱ /۱۹۷ وسنن ابن ماجہ ابواب الجہاد ص۲۰۷) (مسند احمد بن حنبل ۴ /۱۴۴ و ۱۴۸ و درمختار کتاب الحظروالاباحۃ مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۸)