| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ) |
اقول : وکانّ مراد القائل بالمجموع انہ المعروض من حیث ھو معروض فلا ینافی قول المحققین انہ الصوت المعروض وبھذایتم الا ستدلال لقول المجموع بکلام ائمۃ العربیۃ من دون اشکال فاستقر عرش التحقیق علی ان الحرف ھو الصوت المعروض وبہ اندفع التسمک رأسا ورأیت فی کلام اما م جمیع الفنون الاعرف بکلھا من اھلھا لسان الحقائق سید نا الشیخ الاکبر محی الدین ابن العربی رضی اﷲ تعالٰی عنہ فی کتابہ ''الدر المکنون و الجوھر المصؤن'' فی علم الجفر مانصہ اما الحرف فلفظ مشترک یطلق علی اللفظ من ای جنس من المخلوقات وھو الھواء الخارج من الصدر المنقطع بالشفتین واللسان المتکیف الی الحروف والاصوات اھ ۱؎ فھو کما تری تجوز منہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ الا تری انہ جعل فی اٰخر الکلا م الہواء متکیف بالحروف فالحروف کیفیات تحدث فی الھواء لانفسہ کماھو ظاھر ثم رأیتہ قدسنا اﷲ تعالٰی بسرہ الکریم صرح بہ نفسہ قبل ھذہ فی توضیح الاتی بہ فی فصل سرالاستنطاق'' اذ قال اعلم ان الحروف علی ثلاثۃ انواع فکریۃ ولفظیۃ وخطیۃ فالحروف الفکریۃ وھی صور روحانیۃ فی افکار النفوس مصورۃ فی جواھرھا و الحروف اللفظیۃ ھی اصوات محمولۃ فی الھوی مدرکۃ بطریق الاذنین بالقوۃ السامعۃ والحروف الخطیۃ ھی نقوش خطت بالاقلام فی وجوہ الالواح ۲؎ اھ فھذا ھو الحق الناصع وعلیہ المحققون واﷲ تعالٰی اعلم۔
اقول: (میں کہتاہوں) گویا قائل بالمجموعہ کی مرادیہ ہے کہ وہ معروض بحیثیت معروض ہے لہذایہ ائمہ تحقیق کی رائے کے منافی نہیں کہ وہ صوت معروض ہے پھر اس سے قول بالمجموعہ کا استدلال بغیر کسی اشکال ائمہ عربیہ کے کلام سے تام ہوجاتا ہے پس عرش تحقیق قرار پذیر ہوگئی کہ حرف وہی صوت معروض ہے اور اس سے استدلال بالکل دفع ہوگیا۔ میں نے ان کے کلام میں دیکھا جو تمام فنون کے امام سب کی اہلبیت رکھتے ہوئے جملہ علوم کے بڑے عارف ،حقائق کی زبان ہمارے آقا، سب سے بڑے شیخ دین اسلام کو زندہ کرنیوالے ''ابن عربی'' رضی اللہ تعالٰی عنہ انھوں نے اپنی کتاب ''الدرالمکنون والجوہر المصؤن'' جو علم جفر میں ہے اس کی عبارت یہ ہے ''حرف'' ایک مشترک لفظ ہے کہ جس کا اطلاق لفظ پر کیاجاتا ہے خواہ مخلوق کی کسی جنس میں سے ہو، اور وہ ہوا ہے جو سینے سے برآمد ہوتی ہے دو ہونٹوں اور زبان سے قطع کی جاتی ہے حروف اور آواز سے متکیف ہوتی ہے (یعنی وہ ہوا حروف اور آواز کی کیفیت اختیار کرلیتی ہے) جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ وہ شیخ ابن عربی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مجازی کلام ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ انھوں نے گفتگو کے آخر میں ہوا کو موصوف بہ کیفیت حروف قرار دیا ہے لہذا حروف ایسی کیفیات ہیں جو ہوا میں پید اہوتی ہیں نفس ہوا نہیں جیسا کہ ظاہر ہے پھر میں نے ان کے کلام میں دیکھا (اللہ تعالٰی ہمیں ان کے بھید کریم کے طفیل پاک فرمائے) خود انھوں نے اس سے قبل اس کی تصریح فصل سر الاستنطاق میں کردی ہے جب کہا جان لیجئے، حروف کی تین قسمیں ہیں (۱) فکری (۲) لفظی (۳) خطی ''حروف فکریہ'' وہ افکار نفوس میں روحانی صورتیں ہیں جو اپنے جواھرمیں تصویر شدہ ہیں'' حروف'' لفظیہ وہ آوازیں ہیں جو ہواپر سوا ر ہیں۔ دو کانوں کے ذریعے قوت سامعہ سے ان کا ادراک کیا جاتا ہے ''حروف خطیہ'' وہ ایسے نقوش، جو قلموں کے توسط سے الواح کے چہروں پر کشید کئے جاتے ہیں اھ پس یہی خالص اور واضح حق ہے اور اسی پر ائمہ تحقیق قائم ہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ و ۲؎ الدرالمکنون والجواہر المصون)
(۳) سننے کا سبب ہوائے گوش کا متشکل بشکل آواز ہونا ہے اور اس کے تشکل کا سبب ہوائے خارج متشکل کا اسے قرع کرنا اور اس قرع کا سبب بذریعہ تموج حرکت کا وہاں تک پہنچنا۔ (۴) ذریعہ حدوث قلع وقرع ہیں اور وہ آنی ہیں حادث ہوتے ہی ختم ہوجاتے ہیں اور وہ شکل و کیفیت جس کا نام آواز ہے باقی رہتی ہے تو وہ معدات ہیں جن کا معلول کے ساتھ رہنا ضرور نہیں، کیا نہ دیکھا کہ کاتب مرجاتاہے اور اس کا لکھا برسوں رہتا ہے یوہیں یہ کہ زبان بھی ایک قلم ہی ہے۔ (۵) ضرور کان سے باہر بھی موجود ہے بلکہ باہر ہی سے منتقل ہوتی ہوئی کان تک پہنچتی ہے طوالع ومقاصدو مواقف وغیرہا میں اس پر تین دلیلیں قائم کی ہیں۔
لانطیل الکلام بذکرھا وذکر مالھا وعلیھا اقول: والحق ان الصوت یحدث عند اول مقروع کھواء الفم عند التکلم ثم لا یزال یتجدد حتی یحدث فی الاذن فھو موجود خارج الاذن بعدۃ لا یعلمھا الا اﷲ جل وعلا ثم باعلامہ رسولہ اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ثم باعلام النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من شاء من خدمہ واولیائہ اما المسموع بالفعل فلیس الا صوتا حادثا فی الاذن کما علمت فلیکن التوفیق وباﷲ التوفیق۔
ہم ان دلائل وشواہد کے ذکر اور مالھا اور ماعلیھا (یعنی جو کچھ ان کے لئے ہے اور ان پر وارد ہے) کے ذکر سے کلام کو طویل نہیں کرتے بلکہ میں کہتا ہوں کہ حق یہ ہے کہ آواز اول مقروع کے وقت پیدا ہوتی ہے جیسے بولتے وقت منہ کی ہوا۔ پھر ہمیشہ اس میں تجدید ہوتی رہتی ہے یہاں تک کہ کان میں آواز پیدا ہوجاتی ہے۔ پھر وہ کان سے باہر بھی کچھ دیر تک رہتی ہے کہ جس کو اللہ تعالی بلند وبالا اور جلیل القدر کے علاوہ حقیقی طور پر کوئی نہیں جانتا ۔ پھر اس کے آگاہ کرنے سے اس کے رسول کریم علیہ وعلی الہ والصلوات والتسلیم ) جانتے ہیں۔ پھر حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اپنے خدام اور اولیاء میں سے جس کو پسند فرمائیں آگاہ فرمائیں۔ لیکن مسموع بالفعل تو ایک آواز ہے جو کان میں پیدا ہوتی ہے جیسا کہ تم جانتے ہو، لہذا توفیق ہونی چاہئے۔ اور اللہ تعالٰی کے کرم سے ہی توفیق حاصل ہوسکتی ہے۔ (ت) (۶) وہ آواز کنندہ کی صفت نہیں بلکہ ملائے متکیف کی صفت ہے ہوا ہو یا پانی وغیرہ مواقف سے گزرا :
الصوت کیفیۃ قائمہ بالھواء ۱؎
(آواز ایک ایسی کیفیت ہے جو ہوا کے ساتھ قائم ہے۔ ت)
(۱؎ شرح المواقف النوع الثالث منشورات الشریف الرضی قم ایران ۵ /۲۶۰)
آواز کنندہ کی حرکت قرعی وقلعی سے پیداہوتی ہے لہذا اس کی طرف اضافت کی جاتی ہے۔ (۷) جبکہ وہ آواز کنندہ کی صفت نہیں بلکہ ملائے متکیف سے قائم ہے تو اس کی موت کے بعد بھی باقی رہ سکتی ہے کما لایخفی (جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ ت) ان جوابوں کے سوا اور بھی فائدے ہماری اس تقریر سے روشن ہوئے مثلا : (۸) انقطاع تموج انعدام سماع کا باعث ہوسکتا ہے کہ کان تک اس کا پہنچنا بذریعہ تموج ہی ہوتا ہے نہ کہ انعدام صوت کا بلکہ جب تک وہ تشکل باقی ہے صوت باقی ہے۔ (۹) یہیں سے ظاہر ہوا کہ دوبارہ اور تموج حادث ہو تو اس سے تجدید سماع ہوگی نہ کہ آواز دوسری پیدا ہونی جبکہ تشکل وہی باقی ہے۔ (۱۰) وحدت آواز وحدت نوعی ہے کہ تمام امثال متجددہ میں وہی ایک آواز مانی جاتی ہے ورنہ آواز کا شخص اول کہ مثلا ہوائے دہن متکلم میں پیدا ہوا کبھی ہمیں مسموع نہیں ہوتا اس کی کاپیاں ہی چھپتی ہوئی ہمارے کان تک پہنچتی ہیں اور اسی کو اس آواز کا سننا کہا جاتاہے۔ جب یہ امور واضح ہولئے تواب آلہ فونو گراف کی طرف چلئے حکیم جلت حکمتہ (حکیم مطلق کہ جس کی حکمت بڑی عظیم الشان ہے۔ ت) نے جوف سامعہ کی ہوا میں جس طرح یہ قوت رکھی کہ ان کیفیات سے متکیف ہو کر نفس کے حضور ادائے اصوات والفاظ کرے یوہیں یہ حالت رکھی کہ ادا کرکے معاً اس کیفیت سے خالی ہو کر پھر لوح سادہ رہ جائے کہ آئندہ اصوات وکلمات کے لئے مستعد رہے اگر ایسا نہ ہوتا تو مختلف آوازیں جمع ہوکر مانع فہم کلام ہوتیں جس طرح میلوں کے عظیم مجامع میں ایک غل کے سوا بات سمجھ میں نہیں آتی ولہذا اب تک عام لوگوں کے پاس ان کیفیات کے محفوظ رکھنے کا کوئی ذریعہ نہ تھا اگر چہ واقع میں تمام الفاظ جملہ اصوات بجائے خود محفوظ ہیں وہ بھی امم مخلوقہ سے ایک امت ہیں کہ اپنے رب جل وعلا کی تسبیح کرتے ہیں کلمات ایمان تسبیح رحمن کے ساتھ اپنے قائل کے لئے استغفار بھی کرتے ہیں اور کلمات کفر تسبیح الٰہی کے ساتھ اپنے قائل پر لعنت۔