| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ) |
اقول : اولا لاتموج عند المقروع الاول حین ھو مقروع و ان حصل حین کونہ قارعا والصوت موجود فیہ لکونہ مقروعا لا لکونہ قارعا وثانیا ینقطع فیما بعد بانقطاع التموج لانقطاع القرع لان القرع فی الاجزاء الاخیرۃ انما یصل علی وجہ التموج کما عرفت وثالثا الشیئ ینقطع بانقطاع شرطہ فلا یفید السببیۃ فضل عن الا قربیۃ وتمسک بعضھم بانھم انما لم یجعلوا القرع والقلع سببین للصوت ابتداء حتی یکون التموج والو صول الی السامعۃ سببا للاحساس بہ لا لو جودہ نفسہ بناء علی ان القرع وصول والقلع لا وصول وھما آنیان فلا یجوز کونھما سببین للصوت لانہ زمانی ۱؎ اھ۔
اقول : (میں کہتاہوں) اولا مقروع اول بحیثیت مقروع اول ہونے کے اس میں کوئی تموج نہیں ہاں البتہ اس میں تموج پیدا ہوجائے گا جبکہ وہ قارع ہوگا۔ اور آواز اس میں موجود ہوگی اس لئے کہ وہ مقروع ہے نہ اس لئے کہ وہ قارع ہے۔ وثانیا ازیں بعد آواز ختم ہوجاتی ہے۔ اس لئے کہ تموج منقطع ہوجاتا ہے کیونکہ قرع منقطع ہوگیا کیونکہ آخری اجزاء میں قرع علی وجہ التموج پہنچتا ہے جیسا کہ تم جانتے ہو، ثالثا انقطاع شرط کی وجہ سے شے منقطع ہوجاتی ہے (یعنی شرط نہ ہو تو مشروط بھی نہ پایا جائے گا) لہذا یہ سبب ہونے کے لئے مفید نہیں چہ جائیکہ قریب ہونے کے لئے مفید ہو، اور بعض لوگوں نے یہ استدلال پیش کیا کہ اہل علم نے قرع اور قلع کو ابتداء آواز کے لئے سبب نہیں قرار دیا حتی کہ تموج اور وصول الی السامعۃ اس کے احساس کا سبب ہوجائیں نہ کہ اس کے نفس وجود کا اس لئے کہ قرع وصول ہے اور قلع لاوصول ہے۔ او ر وہ دونوں ''آنی'' ہیں لہذا یہ دونوں آواز کے لئے سبب نہیں ہوسکتے اس لئے کہ وہ زمانی ہے۔ اھ۔
(۱؎ شرح المواقف النوع الثالث المقصد الاول منشورات الشریف الرضی قم ایران ۵ /۲۶۰)
اقول : التموج حرکۃ والحرکۃ زمانیۃ فکیف صار الانی سببا لہ وان جاز فلم لم یجز ان یکون سببا للصوت ابتداء وقرر بان التموج ان کان اٰنیا فقد جعلوا سببا للصوت الزمانی وان کان زمانیا فقد جعلوا القرع والقلع الانیین سببا لہ فجعل الا نی سببا للزمانی لزم علی کل تقدیر ۲؎ واجاب عنہ العلامۃ السید الشریف بانہ لا محذور فیہ اذا لم یکن السبب علۃ تامۃ او جزء اخیرا منھا اذ لا یلزم حینئذ ان یکون الزمان موجودا فی الاٰن ۱؎ اھ۔
اقول :( میں کہتاہوں) تموج حرکت ہے۔ ___ اور حرکت، زمانی ہوا کرتی ہے پھر جو چیز آنی ہے وہ اس کا کیسے سبب ہوسکتی ہے اور گر یہ جائز ہے تو پھر یہ کیوں نہیں جائز کہ ابتداء آواز کے لئے سبب ہو، اور اس کی تقریر یوں کی گئی کہ ''تموج'' آنی ہے تو خود انھوں نے اس کو صورت زمانی کے لئے سبب قرار دیا ہے اور اگر وہ زمانی ہے تو پھر انھوں نے قرع اور قلع جو کہ دونوں آنی ہیں اس کے لئے سبب ٹھہرائے، گویا ہر تقدیر پر آنی کا زمانی کے لئے سبب ہونا لازم آیا۔ علامہ سید شریف جرجانی نے اس کا یہ جواب دیا کہ اس میں کوئی محذور اور ممانعت نہیں جبکہ سبب علت تامہ یا علت تامہ کا جزء، آخری نہ ہو کیونکہ پھر زمانہ کا ان میں موجود ہونا لازم نہیں آتا اھ۔
(۲؎شرح المواقف النوع الثالث المقصد الاول منشورات الشریف الرضی قم ایران ۵ /۲۶۰) (۱؎ شرح المواقف النوع الثالث المقصد الاول الشریف الرضی قم ایران ۵ /۲۶۰)
اقول : فلم لایقال مثلہ فی سببیۃ القرع للصوت وتخلل نحو شرط ینفی کونہ جزء اخیرا ولا ینافی کونہ سببا قریبا کما لایخفی، وتعقب بالتسمک المذکور فی الصحائف بما قد کان ظھر للعبد الضعیف اول مانظرت التمسک وھو لنا لانسلم ان الصوت زمانی لان بعض الحروف اٰنی کما یجیی مع انہ صوت اھ۔ قال الحسن چلپی ولا یخفی علیک انہ فاعہ بما مر من ان الحرف عارض للصوت لانفسہ ۲؎ اھ۔
اقول : (میں کہتاہوں) یہ کیوں نہ کہا جائے کہ اس قسم کا معاملہ قرع کا صوت کے سبب ہونے میں ہے اور شرط جیسی چیز کا تخلل (درمیان میں گھس جانا) اس کے جز اخیر ہونے کی نفی کرتا ہے لیکن اس کے سبب قریب ہونے کی نفی نہیں کرتا جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ اور صحائف میں استدلال مذکور کا ایک ایسے کلام سے تعاقب کیا گیا جو اس بندہ ضعیف پر پہلی ہی مرتبہ استدلال کو ایک نظر دیکھنے سے ظاہر ہوا، اور معلوم ہوا کہ وہ ہمارا استدلال ہے کہ ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ آواز زمانی ہے کیونکہ بعض حروف آنی ہیں جیسا کہ آگے آئیگا حالانکہ وہ آواز ہیں اھ علامہ حسن چلپی نے فرمایا اس کا دفاع تم پر گزشتہ کلام کی وجہ سے بالکل پوشیدہ نہیں کہ حروف آواز کو عارض ہوتے ہیں لہذا خود آواز نہیں اھ۔
(۲؎ حاشیہ حسن چلپی شرح المواقف النوع الثالث المقصد الاول الشریف الرضی قم ایران ۵ /۲۶۰)
اقول : لایخفی علیک اندفاعہ بما یاتی للعلامۃ حسن نفسہ ان کون الحرف عبارۃ عن تلک الکیفیۃ العارضۃللصوت انما ھو عند الشیخ (یعنی ابن سینا شیخ المتفلسفین) عند جمع من المحققین الحرف ھو الصوت المعروض للکیفیۃ المذکورۃ ۱؎ اھ اما ما قال بعدہ ان الاشبہ بالحق انما مجموع العارض والمعروض کما صرح بہ البعض و سیشیر الیہ الشارح فیما سیأتی ۲؎ اھ اراد بہ قول العلامۃ ان الحرف قد یطلق علی الھیأ ۃ المذکورۃ العارضۃ للصوت وعلی مجموع المعروض و العارض وھذا نسب بمباحث العربیۃ ۳؎ اھ فحسبک فی دفعہ مانقل ھو عنہ قدس سرہ ان اصحاب العلوم العربیۃ یقولون الکلمۃ مرکبۃ من الحروف ویقولون للکلم انہ صوت کذا فلم لو یکن الحرف عندھم مجموع العارض والمعروض بل عارض الصوت فقط لماصح منھم ذٰلک ۴ اھ وانت تعلم ان القول بالمجموع وان کان اقرب ای قول ائمۃ العربیۃ ان الکلمۃ صوت لانہ حینئذ تسمیۃ للکل باسم الجزء وعلی الاول تسمیۃ للعارض باسم المعروض وھذا ابعد من ذا ک لکن الموافق بقولھم وفا قا کلیا ھو ماقال المحققون ان الحرف صوت لاعارضۃ ولا المجموع ولذا قال چلپی نفسہ ان کون الحرف عبارۃ عن نفس المعروض انسب بذٰلک القول من المذھبین ولا مجاز فی ذٰلک الاطلاق علی ھذا التقدیر اصلا اھ ۱؎
اقول : خود علامہ موصوف کے آئندہ کلام کے پیش نظر تم پر اس کا رد مخفی نہیں (اور وہ یہ ہے کہ) حرف کا کیفیت عارضہ للصوت سے عبارت ہونا شیخ ابو علی ابن سینا شیخ الفلاسفہ کے نزدیک ہے لیکن ایک گروہ محققین کے نزدیک حرف صوت معروض برائے کیفیت مذکورہ سے عبارت ہے اھ لیکن اس کے بعد علامہ موصوف نے فرمایا کہ حق سے زیادہ مشابہ یہ ہے کہ حرف عارض و معروض کے مجموعہ کا نام ہے جیسا کہ بعض نے اس کی تصریح فرمائی۔ اور آئندہ کلام میں شارح اس کی طرف اشارہ فرمائیں گے اھ اس سے علامہ موصوف کا وہ قول مرادہے کہ کبھی حرف کا ہیئت مذکورہ عارضۃ للصوت پر اطلاق کیا جاتا ہے۔ اور کبھی عارض ومعروض کے مجموعہ پر اطلاق ہوتاہے۔ اور یہ عربی مباحث کے زیادہ مناسب ہے اور تجھے اس کے دفاع میں وہی کافی ہے جو حسن چلپی نے شارح علامہ قدس سرہ سے نقل کیا ہے کہ اصحاب علوم عربیہ فرماتے ہیں کہ ''کلمہ'' حروف سے مرکب ہے پھر متعدد کلموں کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ اس طرح کی آواز ہے۔ لہذا اگر حرف ان کے نزدیک عارض ومعروض کا مجموعہ نہ ہوتا بلکہ حرف ''عارض للصوت'' ہوتا تو پھر یہ بات ان سے کبھی صحیح نہ ہوتی اھ اور تم جانتے ہو کہ قول بالمجموع اگر چہ ائمہ عربیہ کے قول کے زیادہ قریب ہے کہ ''کلمہ'' آواز ہے اس لئے کہ پھر اس طورپر تسمیہ کل باسم الجزء اور قول اول کے مطابق تسمیۃ العارض باسم المعروض ہے۔ اور یہ اس سے زیادہ بعید ہے۔ لیکن وفاق کلی کے طور پر ان کے قول کے موافق وہ ہے۔ جو کچھ اہل تحقیق نے فرمایا۔ ''حرف'' صرف آواز ہے۔ نہ عارض اورنہ عارض ومعروض کا ''مجموعہ'' ہے۔ اسی لئے خود علامہ چلپی نے فرمایا ''حرف'' نفس معروض سے عبارت ہو یہ دو مذہبوں میں سے اس قول کے زیادہ مناسب ہے کیونکہ اس تقدیر پر اس اطلاق میں بالکل مجاز نہیں اھ۔
(۱؎ حاشیہ حسن چلپی علی شرح المواقف القسم الثانی المقصد الاول منشورات الشریف الرضی قم ایران ۵ /۶۹۔۲۶۸) (۲؎حاشیہ حسن چلپی علی شرح المواقف القسم الثانی المقصد الاول منشورات الشریف الرضی قم ایران ۵ /۲۶۹) (۳؎ شرح المواقف القسم الثانی المقصد الاول منشورات الشریف الرضی قم ایران ۵ /۲۷۱) (۴؎ حاشیہ حسن چلپی علی شرح المواقف القسم الثانی المقصد الاول منشورات الشریف الرضی قم ایران ۵ /۲۷۱) (۱؎ حاشیہ حسن چلپی علی شرح المواقف القسم الثانی المقصد الاول منشورات الشریف الرضی قم ایران ۵ /۲۷۱)