Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
93 - 190
مقاصدو شرح میں ہے :
تحدث بالتموج المعلول للقرع والقلع ۲؎۔
آوازہوا کے تموج سے پیدا ہوتی ہے جو ''قرع'' اور ''قلع'' کے لئے معلول اور وہ دونوں کااس کے حدوث کے لئے علت ہیں۔ (ت)
 (۲؎ شرح المقاصد     النوع الثالث    المسموعات             دارالمعارف النعمانیۃ لاہور        ۱ /۲۱۶)
 [ ایک جسم کا دوسرے جسم میں پوری قوت سے ملنا ''قرع'' اور سختی سے الگ ہونا ''قلع'' کہلاتاہے۔ مترجم]

مطالع الانظار اصفہانی شرح طوالع الانوار علامہ بیضاوی میں ہے:
القرع والقلع سبب التموج الذی ھو سبب قریب للصوت ۳؎۔
''قرع'' اور ''قلع'' موج جدا کا سبب ہیں اور وہ آواز کا سبب قریب ہے۔ (ت)
(۳؎ مطالع الانظار شرح طوالع الانوار)
اقول : (میں کہتاہوں ۔ت) یہ اقوال خود ہمارے علماء کے نہیں بلکہ فلاسفہ کے ہیں شرح مقاصد میں ارشاد فرمایا:
الصوت عندنا یحدث بمحض خلق اﷲ تعالٰی من غیر تاثیر بتموج الھواء والقرع والقلع کسائر الحوادث وکثیرا ما تورد الاراء الباطلۃللفلاسفۃ من غیر تعرض لبیان البطلان الافیما یحتاج الی زیادۃ بیان والصوت عندھم کیفیۃ تحدث فی الھواء بسبب تموجہ المعلول للقرع والقلع ۱؎۔
آواز ہمارے نزدیک محض تخلیق خداوندی سے پیداہوتی ہے لہذا اس میں تموج ہوا اور قرع ، قلع کی کوئی مستقل تاثیر نہیں اور یہ حدوث باقی تمام حوادثات کی طرح ہے۔ اور بسا اوقات فلاسفہ کے افکار  باطلہ کو تو پیش کردیا جاتاہے لیکن ان کے بطلان کو نہیں بیان کیا جاتا  مگر جبکہ اضافہ بیان کی ضرورت ہو آواز ان کے نزدیک ایک ایسی کیفیت ہے جو ہوا میں اس کے تموج کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے جو ''قرع'' اور''قلع'' کا معلول ہے۔ (اور وہ دونوں اس کی علت ہیں)۔ (ت)
 (۱؎ شرح المقاصد     النوع الثالث     دارالمعارف النعمانیہ لاہور   ۱ /۲۱۶)
فلاسفہ خطا کاری وغلط شعاری کے عادی ہیں اور مقتضائے نظر صحیح یہی ہے کہ اس کیفیت کے حدوث کو قلع وقرع بس ہیں تموج کی حاجت نہیں۔ 

اولا قرع وقلع سے ہوا دبے گی اور اپنی طاقت ورطوبت کے باعث ضرور اس کی شکل وکیفییت قبول کرے گی اسی کا نام آواز ہے اور صرف یہ دبنا تموج نہیں بلکہ اس کے سبب اس کی ہوائے مجاور متحرک ہوگی اور وہ اپنی متصل ہوا کو حرکت دے گی یہاں یہ صورت تموج کی ہے۔
خود مواقف وشرح میں فرمایا :
لیس تموجہ ھذا حرکۃ انتقالیۃ من ھواء واحد بعینہ بل ہو صدم بعد صدم وسکون بعد سکون فھو حالۃ شبیھۃ بتموج الماء فی الحوض اذا القی حجر فی وسطہ ۲؎۔
بعینہٖ ایک ہوا کا ''تموج'' حرکت انتقالی نہیں اس لئے کہ بار بار دباؤ اور سکون بعد سکون ہے لہذا یہ اس حالت کے بالکل مشابہ ہے کہ جب کسی تالاب کے درمیان پتھر پھینکا جائے تو پانی میں موج (اور لہریں) پیدا ہوجاتی ہیں۔ (ت)
 (۲؎ شرح المواقف     النوع الثالث  المقصد الاول   منشورات الشریف الرضی قم ایران    ۵ /۲۵۸)
شرح مقاصد میں فرمایا:
المراد بالتموج حالۃ مشبھۃ بتموج الماء تحدث بصدم بعد صدم وسکون بعد سکون ۳؎۔
تموج سے مراد ایک ایسی حالت ہے جو پانی کے تموج سے مشابہ ہے اور وہ نوبت بہ نوبت ٹکراؤ اور سکون بعد سکون کے پیداہوتی ہے۔ (ت)
 (۳؎ شرح المقاصد    النواع الثالث  المقصد الاول     دارالمعارف النعمانیہ لاہور        ۱ /۲۱۶)
ظاہر ہے کہ مقروع اول میں جو تکیف وتشکل ہوا اس کے لئے صرف اسی کا انفعال درکار تھا بعد کے موجی سلسلہ کو اس میں کیا دخل۔ اگر فرض کریں کہ مقروع اول کے بعد ہوا نہ ہوتی یا وہ قرع کا اثر نہ قبول کرتی تو خود اس میں تشکل کیوں نہ آتا حالانکہ اس نے دب کر قرع کا اثر قبول کرلیا،

ثالثا اگر تشکل مقروع اپنے بعد کے اجزاء متحرک ہونے کا محتاج ہو تو چاہئے کہ تموج باقی رہے اور تشکل ختم ہوجائے کہ اگر بعد کے اجزائے متموجہ بھی متشکل ہوں تو ان کو اپنے بعد کے اجزاء کا تموج درکار ہوگا تو یا سلسلہ تموج میں تسلسل آئے گا یا سبب سے سبب متخلف ہوجائے گا اور وہ دونوں باطل ہیں ہاں بظاہر تموج اس لئے درکار ہے کہ مقروع اول سے اجزائے متصلہ میں نقل تشکل کرے کہ مقروع اول دب کر اپنے متصل دوسرے جز کو قرع کرے گا اور وہ اسی شکل سے متشکل ہوگا پھر اس کے دبنے سے تیسرا مقروع ومتشکل ہوگا اس کی حرکت سے چوتھا الاماشاء اللہ تعالٰی اور حقیقۃً قرع ہی تموج کا سبب ہے اور تشکل کا بھی ،قرعات متوالیہ نے تموج مذکور پیدا کیا اور ہر قرع نے اپنے مقروع میں تشکل ،تموج کو دخل کہیں بھی نہ ہوا۔
وتفصیل القول ان التموج ھوالاضطراب والاضطراب ھو المتقارب بین اجزاء الشیئ وذٰلک اما بان یعلو بعضہ یخدرک فی الفوران اویذھب ویجیئ الی غیر جھۃ العلو والسفل کما فی الترجرج وفیھما المتضارب حقیققۃ لان الجزء الضارب اولا یصیر مضروبا وبالعکس واما بان یضرب جزء الاول والثانی الثالث وھکذا وھذا ھو الواقع فی تموج الماء والھواء واما ماکان فلا بد فی التموج من حرکات متوالیۃ ولا یقال لشکل ما ھو وانتقل ماج واضطرب فزید الماشی لیس متموجا لالغۃ ولا عرفا ھذا مانعرف من معنی التموج والھواء بنفس القرع ینفظ ویتشکل وتکیف ولا ۔۔۔(عہ۱)۔۔۔۔  علی توقفہ علی تکرر ۔۔۔۔(عہ۲) ۔۔۔ و امکان قرع الھواء یوجب فیہ الموج ولا بد۔
اور اس بات کی پوری وضاحت یہ ہے کہ ''تموج'' (یعنی ہوا میں موج پیدا ہونا) اضطراب ہے۔ اور اضطراب اجزائے شے کے درمیان انقسام ہے یعنی اس کا اجزائے شے کے رمیان منقسم ہوجانا ہے اور وہ اس طرح کہ کچھ اجزاء بلند ہوجائیں تو پھر تیرا جوش سست اور ماند پڑے گا۔ یا وہ بلندی اور پستی کے علاوہ کسی دوسری سمت کی طرف آئیں اور جائیں جیساکہ آمد ورفت کی حرکت میں ہوا کرتا ہے اور ان دونوں میں درحقیقت انقسام (تضارب) ہوگا۔ ۔ اس لئے کہ جز ضارب، اولا مضروب ہوگا وبرعکس یا پہلا جزء دوسرے کو اور وہ تیسرے کو اور اسی طرح آخر تک، پس پانی اور ہوا کے تموج میں یہی واقع ہے لیکن جو بھی ہو تو اس کے تموج میں لگاتار حرکات ضروری ہیں۔ اور شکل کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ کیا ہے۔ البتہ موج والی چیز منتقل اور مضطرب ہوگئی۔ لہذا زیدماشی (چلنے والا) لغت اور عرف میں ''متموج'' نہیں (یعنی موج والا) کیونکہ تموج سے ہم یہ مفہوم نہیں سمجھتے اور ہوا نفس قرع سے دھکیلی جاتی اور متکیف ہوکر متشکل ہوجاتی ہے۔ اور مکررہونے پر اس کا توقف نہیں۔۔۔۔ قرع ہوا کہ امکان بلا شبہ اس میں موج پیدا کردیتا ہے۔ (ت)

اگر کہئے قرع کافی نہیں جب تک مقروع اس کا اثر قبول نہ کرے اور اس کا تاثر وہی تحرک ہے اور اس کو تموج سے تعبیر کیا اگر چہ حقیقت تموج وہ ہی کہ اوپر گزری۔
عہ ۱ و۲ : یہاں کچھ الفاظ رہ گئے ہیں اس لئے مفہوم واضح نہیں۔ مترجم
اقول :  (میں کہتاہوں۔ ت) اولا اس میں تسلیم ایراد ہے کہ تموج سے نفس تحرک مقروع مراد ہے۔

ثانیا یہ کہنا ایسا ہے کہ فاعل کافی نہں جب تک معلول اس کا اثر قبول نہ کرے تو سبب قریب فاعل نہیں بلکہ معلول کا انفعال ہے۔
ھو کما تری وتحقیقہ ان التشکل وان لم یکن الا مع التحریک ولو لم یتحرک لم یتشکل وسلمنا ان ھذہ لیست معیۃ معلولی علۃ کوجودالنھار واستضاء ۃ الارض بالقیود المعلومیۃ لدی العارف بل للتحرک مدخل فی التشکل لکن لا نسلم ان التحرک مرسم الشکل ویفیض الکیفیۃ بل مرسم ھو القرع وان کان مشروطا بالتحرک فجعل التموج ای التحرک سببا قریبا ناشیئ عن اشتباہ الشرط بالسبب کمن یزعم ان قبول المعلول اثر العلۃ ھو السبب القریب لہ فافھم واعلم واﷲ تعالٰی اعلم ھذا واستدل العلامۃ قدس سرہ فی شرح المواقف علی کون التموج سببہ القریب بانہ شیئ حصل حصل الصوت واذا انتفی انتفی فانا نجد الصوت مستمرا باستمرار تموج الھواء الخارج من الحلق والالات الصناعیۃ ومنقطعا بانقطاعہ وکذا الحال فی طنین الطست فانہ اذا سکن انقطع لانقطاع تموج الھواء حینئذ  ۱؂ اھ ،
وہ جیسا کہ تو دیکھ رہا ہے اور اس کی تحقیق یہ ہے کہ تشکل بغیر تحریک نہیں ہوسکتا لہذا نتیجہ یہ نکلا کہ اگر تحرک نہ ہو تو پھر تشکل نہ ہوگا۔ اور ہم تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ''معیت'' علت کے دو معلولوں جیسی معیت نہیں جیسے وجود نہار،اور زمین کی روشنی ان قیود کے ساتھ جو ایک عارف کومعلوم ہی ہیں بلکہ''تحرک'' کو تشکل میں ایک گونہ دخل ہے لیکن ہم یہ نہیں تسلیم کرتے کہ ''تحرک'' مرسم تشکل اور مفیض کیفیت ہے۔ بلکہ مرسم تشکل ''قرع'' ہے اگر چہ وہ مشروط بالتحرک ہے _______________ لہذا تموج یعنی تحرک کو سبب قریب قراردینا ( یہ بات ) اس ا شتباہ سے پیدا ہوگئی کہ شرط کو سبب سمجھ لیا گیا۔ اس شخص کی طرف جو یہ گمان کرتا ہے کہ معلول کا علت کے اثر کو قبول کرلینا اس کے لئے ''سبب قریب'' ہونے کی دلیل اور علامت ہے پس اس بات کو سمجھ لیجئے اور اچھی طرح جان لیجئے، اور اللہ تعالٰی سب سے بڑا عالم ہے۔ علامہ قدس سرہ نے شرح مواقف میں استدلال کیا کہ آواز کے لئے ''تموج''سبب کے قریب ہے کیوں؟ اس لئے کہ جب تموج پید ا ہو تو آواز پیدا ہوتی ہے اور جب تموج منفی ہوتو آوازبھی منفی ہوجاتی ہے کیونکہ ہم آواز کا استمرار حلق اور آلات صناعیہ سے نکلنے والی ہوا کے تموج کے استمرار سے پاتے ہیں اور تموج میں انقطاع سے آواز کا انقطاع پیدا ہوجاتا ہے اور طشت کی چھنکا ر کا بھی یہی حال ہے جب وہ ساکن ہوجائے تو آواز ختم ہوجاتی ہے کیونکہ اس وقت تموج ہوا میں انقطاع  پیدا ہوگیا اھ____۔
 (۱؎ شرح المواقف     النوع الثانی  المقصد الاول      منشورات الشریف الرضی قم ایران    ۵/ ۲۵۸)
Flag Counter