Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
92 - 190
یہاں ہم کو دو باتیں بیان کرنی ہیں، ایک یہ کہ فونو سے جو سنی جاتی ہے وہ بعینہٖ اسی آواز کنندہ کی آواز ہوتی ہے جس کی صورت اس میں بھری ہے قاری ہو خواہ متکلم خواہ آلہ طرب وغیرہا، دوسرے یہ کہ بذریعہ تلاوت جو اس میں ودیعت ہواپھر تحریک آلہ جو اس سے ادا ہوگا سنا جائے گا حقیقۃً قرآن عظیم ہی ہے۔ ان دونوں دعوؤں کو دو مقدموں میں روشن کریں وباللہ التوفیق (اللہ تعالٰی ہی کے کرم سے حصول توفیق ہے۔ ت):

مقدمہ اولٰی: کا بیان ان امور کی تحقیق چاہتاہے :

(۱) آواز کیا چیز ہے؟		(۲) کیونکر پیدا ہوتی ہے؟ 	    (۳) کیونکر سننے میں آتی ہے؟

(۴) اپنے ذریعہ حدوث کے بعد بھی باقی رہتی ہے یااس کے ختم ہوتے ہی فنا ہوجاتی ہے۔

(۵) کان سے باہر بھی موجود ہے یا کان ہی میں پیدا ہوتی ہے۔

(۶) آواز کنندہ کی طرف اس کی اضافت (عہ) کیسی ہے وہ اس کی صفت ہے یا کس چیز کی۔

عہ :  یعنی صفت کی اضافت ہے موصوف کی طرف یا فعل کے فاعل کی طرف یا کیا ۱۲ منہ

 (۷) اس کی موت کے بعد بھی باقی رہ سکتی ہے یا نہیں۔

ہم اس بحث کو بعونہ تعالٰی ایسی وجہ پر تقریر کریں کہ ساتوں سوالوں کا جواب اسی سے منکشف ہو فاقول: وباللہ التوفیق (اللہ تعالٰی کی توفیق ہی سے میں کہتاہوں۔ ت) ایک جسم کا دوسرے سے بقوت ملنا جسے قرع کہتے ہیں یا بسختی جدا ہونا کہ قلع کہلاتا ہے جس ملائے لطیف مثل ہوا یا آب میں واقع ہو اس کے اجزائے مجاورہ میں ایک خاص تشکل وتکیف لاتا ہے اسی شکل وکیفیت مخصوصہ کا نام آوا ز ہے اسی صورت قرع کی فرع ہے کہ زبان وگلوئے متکلم وقت تکلم کی حرکت سے ہو ائے دہن کو بجا کر اس میں اشکال حرفیہ پیدا کرتی ہے یہاں وہ کیفیت مخصوصہ اس صورت خاصہ کلام پربنتی ہے جسے قدرت کاملہ نے اپنے ناطق بندوں سے خاص کیا ہے یہ ہوائے اول یعنی جس پرابتداء وہ قرع وقلع واقع ہوا جیسے صورت کلام میں ہوائے دہن متکلم اگر بعینہٖ ہوائے گوش سامع ہوتی تو یہیں وہ آواز سننے میں آجاتی مگر ایسا نہیں لہذا حکیم عزت حکمتہ نے اس آواز کو گوش سامع تک پہنچانے یعنی ان تشکلات کو اس کی ہوائے گوش میں بنانے کے لئے سلسلہ تموج قائم فرمایا۔ ظاہر ہے کہ ایسے نرم وتر اجسام میں تحریک سے موج بنتی ہے جیسے تالاب میں کوئی پتھر ڈالو یہ مجاور اجزائے آب کو حرکت دے گا وہ اپنے متصل وہ اپنے مقارب کو جہاں تک کہ اس تحریک کی قوت اور اس پانی کی لطافت اقتضا کرے یہی حالت بلکہ اس سے بہت زائد ہوا میں ہے کہ وہ لینت ورطوبت میں پانی سے کہیں زیادہ ہے لہذاقرع اول سے کہ ہوائے اول متحرک ومتشکل ہوئی تھی اس کی جنبش نے برابر والی ہوا کو قرع کیا اس سے وہی اشکال ہوائے دوم میں بنیں اس کی حرکت نے متصل کی ہوا کو دھکادیا اب اس ہوائے سوم میں مرتسم ہوئیں یوں ہی ہوا کے حصے بروجہ تموج ایک دوسرے کو قرع کرتے اور بوجہ قرع وہی اشکال سب میں بنتے چلے گئے یہاں تک کہ سوراخ گوش میں جو ایک پٹھا بچھا اور پردہ کھچا ہے یہ موجی سلسلہ اس تک پہنچا اور وہاں کی ہوائے متصل نے متشکل ہو کر اس پٹھے کو بجایا یہاں بھی بوجہ جوف ہوا بھری ہے اس قرع نے اس میں بھی وہی اشکال وکیفیات جن کا نام آواز تھا پیدا کیں اور اس ذریعہ سے لوح مشترک میں مرتسم ہوکر نفس ناطقہ کے سامنے حاضر ہوئیں اور محض باذن اللہ تعالٰی ادراک سمعی حاصل ہوا، الحاصل ہر شے کا سبب حقیقی ارادہ اللہ عزوجل ہے بے اس کے ارادے کے کچھ نہیں ممکن اور وہ ارادہ فرمائے تو اصلا کسی سبب کی حاجت نہیں مگر عالم اسباب میں حدوث آواز کا سبب عادی یہ قرع وقلع ہے اور اس کے سننے کا وہ تموج وتجدد وقرع وطبع تاہوائے جوف سمع ہے متحرک اول کے قرع سے ملا مجاور میں جو شکل وکیفیت مخصوصہ بنی تھی کہ شکل حرفی ہوئی تو وہی الفاظ وکلمات تھے ورنہ اور قسم کی آواز اس کے ساتھ قرع نے بوجہ لطافت اس مجاور کو جنبش دی اس کی جنبش نے اپنے متصل کو قرع کیا اور وہی ٹھپاکہ اس میں بنا تھا اس میں اترگیا یو نہی آواز کی کاپیاں ہوتی چلی گئیں اگرچہ جتنا فصل بڑھتا اور وسائط زیادہ ہوتے جاتے ہیں تموج وقرع میں ضعف آتا جاتا  اور ٹھپا ہلکا پڑتا ہے ولہذا دور کی آواز کم سنائی دیتی ہے اور حروف صاف سمجھ نہیں آتے یہاں تک کہ ایک حد پر تموج کہ موجب قرع آئندہ تھا ختم ہوجاتا ہے اور عدم قرع سے اس تشکل کی کاپی برابر والی ہو ا میں نہیں اترتی آواز یہیں تک ختم ہوجاتی ہے۔ یہ تموج ایک مخروطی شکل پر ہوتا ہے جس کا قاعدہ اس متحرک ومحرک اول کی طرف ہے اور راس اس کے تمام اطراف مقابلہ میں جہاں تک کوئی مانع نہ ہو جس طرح زمین یہ مخروط ظلی  اور آنکھ سے مخروط شعاعی، نہیں نہیں بلکہ جس طرح آفتاب سے مخروط نوری نکلتا ہے کہ ہر جانب ایک مخروط ہوتا ہے بخلاف مخروط ظل کہ صرف جہت مقابل جرم مضی مخروط شعاع بصر کہ تنہا سمت مواجہہ میں بنتا ہے ان مخروطات تموج ہوائی کے اند ر جو کان واقع ہو ں ایک ایک ٹھپاسب تک پہنچے گا سب اس آوازوکلام کو سنیں گے اور جو کان ان مخروطیوں سے باہر رہے وہ نہ سنیں گے کہ وہاں قرع و قلع واقع نہ ہو ا اور ٹھپوں کے تعدد سے آواز متعدد نہ سمجھی جائے گی یہ کوئی نہ کہے گا کہ ہزار آوازیں تھیں کہ ان ہزار اشخاص نے سنیں بلکہ یہی کہیں گے کہ وہی ایک آواز سب کے سننے میں آئی اگر چہ عندالتحقیق اس کی وحدت نوعی ہے نہ کہ شخصی، اس تقریر سے بحمداللہ تعالٰی وہ ساتوں سوال منکشف ہوگئے۔

(۱) آواز اس شکل وکیفیت مخصوصہ کا نام ہے کہ ہوا یا پانی وغیرہ جسم نرم وتر میں قرع یا قلع سے پیدا ہوتی ہے قول مشہور میں کہ ہوا کی تخصیص فرمائی،
مواقف اور اس کی شرح میں ہے :
  الصوت کیفیۃ قائمۃ بالھواء یحملھا الھواء الی الصماخ ۱؎۔
آواز ایک ایسی کیفیت (حالت) ہے جو ہواکے ساتھ قائم ہوتی ہے پھر ہوا ہی اسے اٹھا کر (یعنی اوپر سوا کرکے) کانوں کے پردے تک پہنچادیتی ہے۔ (ت)
 (۱؎ شرح المواقف     النوع الثانی    منشورات الشریف الرضی قم ایران    ۵ /۲۶۰)
مقاصد اور اس کی شرح میں ہے:
کیفیۃ تحدث فی الھواء بسبب تموجہ ۲؎ الخ۔
''آواز''ایک ایسی کیفیت ہےکہ جو ہوا میں اس کی موج پیدا ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔ الخ (ت)
(۲؎ شرح المقاصد  النوع الثانی   دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۱ /۲۱۶)
اقول: (میں کہتا ہوں۔ ت) یہ نظریہ اکثر ہے ورنہ ملائے آب میں بھی آواز سنی جاتی ہے۔ دو شخص چند گز کے فاصلہ سے تالاب میں غوطہ لگائیں اور ان میں ایک دو اینٹیں لے کر بجائے تو دوسرے کو ان کا کھٹکا مسموع ہوتا ہے اور اس آواز کا حامل پانی ہی ہے اور کان تک موصل اسی کا تموج  کہ پانی کے اندر ہوا نہیں ہوتی ہاں پانی اتنا تر ولطیف نہیں جس قدر ہوا ہے لہذا اس کا تشکل وتادیہ دونوں بہ نسبت ملائے ہوا کے ضعیف ہوتے ہیں۔
 (۲) اس کا اور تمام حوادث کا سبب حقیقی محض ارادہ الٰہی ہے۔ دوسری چیز اصلا نہ موثر نہ موقوف علیہ، اور آواز کا ظاہری وعادی سبب قریب قلع وقرع ہے۔ فقیر نے اس میں قدماء کا خلاف کیا ہے عملا بالمتیقن تجافیا عن الجزاف (یقینی بات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اور بے تکی اور بے اصولی باتوں سے کنارہ کش ہوتے ہوئے۔ ت) وہ قلع وقرع کوسبب بعید اور تموج کو سبب قریب بتاتے ہیں یعنی قرع سے ہوا میں تموج  ہوا اور تموج سے وہ شکل وکیفییت کہ مسمی بہ آواز ہے پیدا ہوتی ہے۔
مواقف وشرح میں ہے :
سبب الصوت القریب تموج الھواء ۱؎۔
آواز کا سبب قریب اس میں موج پیدا ہونا ہے۔ (ت)
 (۱؎ شرح المواقف     النوع الثالث   المقصد الاول     منشورات الشریف الرضی قم ایران    ۵ /۵۸۔ ۲۵۷)
Flag Counter