Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
190 - 190
علامہ عینی شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں: ان کانت ممایندرج تحت مستحسن فی الشرع فھی بدعۃ حسنۃ وان کانت ممایندرج تحت مستقبح فی الشرع فھی بدعۃ مستقبحۃ۳؎ انتھی۔  اگر وہ بدعت شریعت کے پسندیدہ امورمیں داخل ہے تو وہ بدعت حسنہ ہوگی، اور اگر وہ شریعت کے ناپسندیدہ امورمیں داخل ہے تو وہ بدعت قبیحہ ہوگی انتہی۔(ت)
  (۳؎ عمدۃ القاری     شرح صحیح البخاری     کتاب التراویح     باب فضل من قام رمضان     بیروت     ۱۱/ ۱۲۶)
ان عبارات سے ثابت ہوا کہ وہابیہ کابدعت کو صرف بدعت سیئہ میں منحصرجاننا اور اس کی کیفیت کی طرف نظر نہ کرنا محض ادعا اور باطل ہے بلکہ بعض بدعت بدعت حسنہ ہے اور بعض بدعت واجبہ ہے جس کلیہ کے تحت داخل ہو ویسا ہی حکم ہوگا، اور یہ شروع میں تحریر ہوچکا ہے کہ ذکرولادت شریف
وامّا بنعمۃ ربک فحدّث۴؂
 (اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچاکرو۔ت) کے تحت میں ہے تو قطعاً مندوب ومشروع ہوا۔
 (۴؎ القرآن الکریم     ۹۳/ ۱۱)
علامہ ابن حجر نے فتح المبین میں لکھا ہے :
والحاصل ان البدعۃ الحسنۃ متفق علی ندبھا وعلی المولد واجتماع الناس کذٰلک۱؎۔
یعنی بدعت حسنہ کے مندوب ہونے پراتفاق ہے اور عمل مولد شریف اور اس کے لئے لوگوں کا  جمع ہونا اسی قبیل سے ہے۔
 (۱؎ انسان العیون     بحوالہ ابن حجر         باب تسمیتہ صلی اﷲ علیہ وسلم محمداواحمدا    المکتبۃ الاسلامیہ بیروت     ۱/ ۸۴)
لیجئے اس میں مجمع کی تصریح بھی موجود ہے، اور مسلم الثبوت میں ہے :
شاع وزاع احتجاجھم سلفاً وخلفاً بالعمومات من غیرنکیر۲؎۔
  شرع کے عموم کو حجت ماننا اسلاف واخلاف میں بلاانکار مشہور ومعروف ہے۔(ت)
 (۲؎ مسلم الثبوت     الفصل الخامس     مسئلہ للعموم صیغ         مطبع الانصاری دہلی     ص۷۳)
اور یہ بھی اسی میں ہے:
والعمل بالمطلق یقتضی الاطلاق۳؎۔
مطلق پرعمل میں اطلاق کالحاظ ہوتاہے۔(ت)
 (۳؎مسلم الثبوت     فصل المطلق مادلّ علی فردمنتشر             مطبع الانصاری دہلی     ص۱۱۹)
تحریرالاصول علامہ ابن الہمام اور اس کی شرح میں ہے:
العمل بہ ان یجری فی کل ماصدق علیہ المطلق۴؎۔
اس پرعمل یوں کہ جس پر مطلق صادق آتاہے اس میں حکم جاری ہوگا۔(ت)
 (۴؎ التقریر والتحریر    مسئلۃ الاکثر ان منتہی التخصیص جمع یزید علٰی نصفہ الخ         دارالفکر بیروت     ۱/ ۶۶۔۳۶۷)
قال اﷲ تعالٰی(اﷲ تعالٰی نے فرمایا۔ت):
واذکروا اﷲ کثیرا لعلکم تفلحون۵؎۔
یعنی اﷲ تعالٰی کاذکر بکثرت کروتاکہ فلاح پاؤ۔
 (۵؎ القرآن الکریم     ۸/ ۴۵)
اور نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاذکر بعینہٖ خداکاذکر ہے،
حق سبحانہ وتعالٰی اپنے پیارے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے فرماتاہے:
ورفعنا لک ذکرک۶؎۔
بلندکیا ہم نے تمہارے ذکرکوتمہارے واسطے۔
 (  ۶؎ القرآن الکریم     ۹۴/ ۴)
امام علامہ قاضی عیاض رحمۃ اﷲ علیہ شفاء شریف میں اس آیہ کریمہ کی تفسیر میں سیدنا ابن عطا قدس سرّہ العزیز سے یوں نقل فرماتے ہیں :
جعلتک ذکرامن ذکری فمن ذکرک ذکرنی۷؎۔
یعنی اپنے حبیب اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ میں نے تم کو اپنے ذکر میں سے ایک ذکربنایا پس جو تمہاری یاد کرے اس نے میری یاد کی۔
(۷؎ الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی     الفصل الاول                 المکتبۃ الشرکۃ الصحافیۃ     ۱/ ۱۵)
بالجملہ کوئی مسلمان اس میں شک نہیں کرسکتا کہ حضرت سرورکائنات صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی یادوتعریف بعینہٖ خدا کی یاد ہے، پس حکم اطلاق جس جس طریقہ سے آپ کی یاد کی جائے گی حسن ومحمود رہے گی ایسا ہی قیام بوقت ذکر ولادت حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، اوّلاً ، اس کے جواز ثابت کرنے میں ہمیں ضرورت نہیں کیونکہ کل اشیاء میں حلّت ہے، جو کوئی عدم جواز کادعوٰی کرے اس پر دلیل وبینہ ہے، ہمارے لئے صرف اتناہی کافی ہے کہ عدم جواز کی کوئی دلیل نہیں۔
حدیث شریف میں ہے :
الحلال مااحلّ اﷲ فی کتابہ والحرام ماحرّم اﷲ فی کتابہ وماسکت عنہ فھو مماعفاعنہ۱؎۔
اﷲ تعالٰی نے جواپنی کتاب میں حلال کردیا وہ حلال ہے اور جوحرام فرمادیا وہ حرام ہے اور جس سے سکوت اختیارکیاوہ معاف ہے(ت)
 (۱؎ جامع الترمذی    ابواب اللباس     باب ماجاء فی لبس الفراء    امین کمپنی دہلی  ۱/ ۲۰۶)

(سنن ابن ماجہ         ابواب الاطعمۃ     باب اکل الجبن والسمن         ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی     ص۲۴۹)
ہاں ہم قیام کے مستحسن ہونے کاثبوت بھی دیتے ہیں، نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم وتوقیر مسلمانوں کا عین ایمان ہے اور اس کی خوبی وتعریف قرآن عظیم سے مطلقاً ثابت ہے۔
قال اﷲ تعالٰی:
انّا ارسلنٰک شاھداومبشرا ونذیرا لتؤمنوا باﷲ ورسولہ وتعزروہ وتوقروہ۲؎۔
بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضروناظر اورخوشی اور ڈرسناتا تاکہ اے لوگو! تم اﷲ اور اس کے رسول پرایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم وتوقیرکرو۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم     ۴۸ / ۸ و ۹ )
وقال اﷲ تعالٰی:
ومن یعظم شعائر اﷲ فانھا من تقوی القلوب۳؎۔
اور جو اﷲ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے۔(ت)
   (  ۳؎ القرآن الکریم    ۲۲/ ۳۲ )
وقال اﷲ تعالٰی: ومن یعظم حرمات اﷲ فھو خیر لہ عند ربہ۴؎۔
اور جو اﷲ کی حرمتوں کی تعظیم کرے تو وہ اس کے لئے اس کے رب کے یہاں بھلاہے(ت)
 ( ۴؎ القرآن الکریم     ۲۲/ ۳۰)
پس بوجہ اطلاق آیات حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم جس طریقہ سے کی جائے گی حسن ومحمود رہے گی اور خاص طریقوں کے لئے جداگانہ ثبوت کی ضرورت نہ ہوگی، ہاں اگر کسی طریقہ کی ممانعت شرعاً ثابت ہوگی تو وہ بیشک ممنوع ہوگا۔
امام ابن حجر مکی جو ہر منظم میں فرماتے ہیں: تعظیم النبی صلی اﷲ علیہ وسلم بجمیع انواع التعظیم التی لیس فیھا مشارکۃ اﷲ تعالٰی فی الالوھیۃ امرمستحسن عند من نوراﷲ ابصارھم انتھی۱؎۔ سواء ورد الشرع بخصوصہ اولم یرد ذٰلک لان مطلق التعظیم وماحث علیہ والیہ فلیعم کل مایسمّٰی باسمہ۔
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم تمام اقسام تعظیم کے ساتھ جس سے الوہیۃ الٰہ میں شرکت لازم نہ آئے ہرطرح امرمستحسن ہے ان سب کے نزدیک جن کی آنکھیں اﷲ تعالٰی نے روشن کی ہیں انتہی۔ خواہ شریعت کاورود خاص اس امر میں ہو یانہ ہو یہ اس لئے کہ مطلق تعظیم جس کی طرف اور جس پر متوجہ کی گئی تو اسم کے ہرمسمّٰی کوشامل ہوسکے۔(ت)
 (۱؎ الجوہر المنظم         الفصل الاول         مکتبہ قادریہ لاہور     ص۱۲)
جن کی آنکھوں میں اﷲ تعالٰی نے نوربصارت بخشاہے ان کے نزدیک یہ قیام بوقت ذکرولادت شریف آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم محض بنظرتعظیم واکرام حضوراقدس بجالاتے ہیں بیشک حسن ومحمود ہے تاوقتیکہ منکرین خاص اس صورت کی ممانعت قرآن وحدیث سے ثابت نہ کریں اور ان شاء اﷲ تاقیامت اس کی ممانعت ثابت نہ کرسکیں گے۔

رہایہ کہ قیام ذکر ولادت شریف ہی کے وقت کیوں ہے اس کی وجہ نہایت روشن اور واضح ہے۔ 

اوّلاً صدہاسال سے علمائے کرام اوربلاداسلام میں یونہی معمول ہے۔

ثانیاً ائمہ دین کی تصریح ہے کہ ذکرپاک صاحب لولاک صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعطیم مثل ذات اقدس کے ہے اور صورت تعظیم میں سے ایک صورت وقت قدوم معظم بجالائی جاتی ہے اور ذکرولادت حضور سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی عالم دنیا میں تشریف آوری کاذکرہے تویہ تعظیم اسی ذکر کے ساتھ مناسب ہوئی۔ 

ثالثاً وقت ولادت شریف حضورسرورکائنات صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ملائکہ تعظیم کے واسطے کھڑے ہوئے تھے شرف الانام تصنیف علامہ شیخ قاسم بخاری میں یہ روایت موجود ہے اس لئے ہم بھی جب ذکرولادت شریف کرتے ہیں تو ان ملائکہ کاتشکل پیداکرتے ہیں کیونکہ محدثین کے نزدیک واقعہ مرویہ کی صورت اور تشکل پیداکرنا مستحب ہے چنانچہ بخاری شریف کے صفحہ تین میں روایت ہے کہ وقت نزول وحی رسول اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جبریل علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ساتھ دل میں پڑھتے اور لبوں کو ہلاتے تھے، حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما جس وقت یہ حدیث روایت کرتے تو اپنے لبوں کو ہلادیتے جس طرح کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہلاتے تھے، اور حضرت ابن جبیر بھی ہلاتے تھے جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما کوہلاتے دیکھا۱؎۔
 (۱؎ صحیح البخاری     باب کیف بدء الوحی الی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۳)
پس جبکہ صحابہ اور تابعین رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین سے واقعہ مرویہ کا تشکل اورتمثل ثابت ہے توہم بھی واقعہ میلاد میں قیام ملائکہ کاتشکل اور تمثل پیداکرتے ہیں، باقی صحابہ کرام اورتابعین عظام کاقیام ملائکہ کاتشکل نہ بنانا اور محفل میلاد شریف کو ہیئت کذائی کے ساتھ آراستہ نہ کرنا مستلزم منع شرعی نہیں۔
امام احمدبن محمدبن قسطلانی بخاری مواہب لدنیہ میں فرماتے ہیں:
الفعل یدل علی الجواز وعدم الفعل لایدل علی المنع۲؎ الخ۔
کسی کام کاکیاجانا جواز کی دلیل ہے اور نہ کیاجانا منع کرنے کی دلیل نہیں الخ۔(ت)
 (۲؎ المواہب اللدنیہ )
علامہ برزنجی عقدالجواہر میں فرماتے ہیں :
قد استحسن القیام عند ذکر مولدہ الشریف ائمۃ ذورؤیۃ ودرایۃ فطوبٰی لمن کان تعظیمہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مرامہ ومرماہ۳؎ الخ۔
بیشک آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے میلادشریف کے ذکر کے وقت کھڑاہونے کوان اماموں نے جو صاحب روایت ودرایت ہیں اچھاجانا ہے تو اس شخص کیلئے سعادت ہے جس کی مراد ومقصود کی غرض نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم ہوالخ۔(ت)
 (۳؎ عقد الجواہر فی مولدالنبی الازہر   جامعہ اسلامیہ لاہور     ص۲۵)
علی الخصوص حرمین شریفین مکہ معظمہ ومدینہ طیبہ مبداء ومرجع دین وایمان کے اکابرعلماء ومفتیان فضلائے مذاہب اربعہ مدتوں سے میلاد مع قیام کرتے آئے اور اس کے جواز کافتوٰی دیتے آئے، پھران پرضلالت اورگمراہی کااطلاق کیونکر ہو سکتا ہے۔ ع
چہ کفرازکعبہ برخیزد کجا ماندمسلمانی
رہاعبارت سیرت شامی سے استدلال، سو وہ سب باطل، کیونکہ علامہ برہان الدین حلبی انسان العیون فی سیرت الامین المامون عبارت مذکورہ کونقل کرکے شرح میں فرماتے ہیں :
ای لکن ھی بدعۃ حسنۃ لانہ لیس کل بدعۃ مذمومۃ۱؎۔
یعنی لیکن یہ بدعت حسنہ ہے کیونکہ ہربدعت مذمومہ نہیں ہوتی۔(ت)
(۱؎ انسان العیون فی سیرۃ الامین المامون    باب تسمیتہ صلی اﷲ علیہ وسلم محمداواحمدا   المکتبۃ الاسلامیۃ بیروت ۱ /۸۳)
اور اسی مقام میں ہے:
قد وجد القیام عند ذکراسمہ صلی اﷲ علیہ وسلم من عالم الامۃ ومقتداء الائمۃ دینا وورعا الامام تقی الدین السبکی وتابعہ علی ذٰلک مشائخ الاسلام فی عصرہ۲؎ انتھی۔ واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب والیہ مرجع الوھاب۔
دین وتقوٰی میں امت کے عالم اور اماموں کے مقتداء امام تقی الدین سبکی سے حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کے ذکرپاک کے وقت قیام ثابت ہے اور آپ کے زمانہ کے مشائخ نے اس معاملہ میں آپ کی پیروی کی ہے انتہی۔ واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب والیہ مرجع الوہاب۔(ت)
 (۲؎انسان العیون فی سیرۃ الامین المامون   باب تسمیتہ صلی اﷲ علیہ وسلم محمداواحمدا   المکتبۃ الاسلامیۃ بیروت  ۱ /۸۳)
23_5.jpg
Flag Counter