Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
189 - 190
مسئلہ ۴۰۹ :کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ محفل میلاد شریف وقیام بوقت ذکر ولادتِ آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کیاہے بعض لوگ اس قیام سے انکار کرتے ہیں بدیں وجہ کہ قرون ثلٰثہ میں نہ تھا اور ناجائزبتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ثقات علماء سے خاص اس بارے میں منع وارد ہے، چنانچہ سیرت شامی میں ہے: ھذا القیام بدعۃ لااصل لھا۱؎ (یہ قیام بدعت ہے اس کی کچھ اصل نہیں ہے۔ت) ان کے اقوال کاکیاحال ہے؟ بیّنواتوجروا(بیان فرماؤ اجرپاؤ۔ت)
 (۱؎ انسان العیون فی سیرۃ الامین المامون     باب تسمیتہ صلی اﷲ تعالٰی علہ وسلم محمدا واحمدا   المکتبۃ الاسلامیہ بیروت     ۱/ ۸۳)
الجواب

اﷲ تعالٰی نے اپنی نعمتوں کابیان واظہار اوراپنے فضل ورحمت کے ساتھ مطلقاً خوشی منانے کا حکم دیاہے،
  قال اﷲ تعالٰی:
  وامّا بنعمۃ ربّک فحدّث۲؎۔
اور اپنے رب کی نعمتوں کاخوب چرچاکرو۔(ت)
 (۲؎ القرآن الکریم     ۹۳/ ۱۱)
وقال اﷲ تعالٰی:
قل بفضل اﷲ وبرحمتہ فبذٰلک فلیفرحوا ۱؎۔
  (اے محبوب! آپ) فرمادیجئے کہ اﷲ کے فضل اور اس کی رحمت (کے ملنے) پرچاہئے کہ (لوگ) خوشی کریں(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم     ۱۰/ ۵۸)
ولادت حضورصاحب لولاک تمام نعمتوں کی اصل ہے، اﷲ تعالٰی فرماتاہے :
لقد منّ اﷲ علی المؤمنین اذبعث فیھم رسولا۲؎۔
بیشک اﷲ کابڑا احسان ہوا مسلمانوں پرکہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا۔(ت)
 ( ۲؎ القرآن الکریم      ۳/ ۱۶۴)
اور فرماتاہے:
وماارسلناک الارحمۃ للعٰلمین۳؎۔
 (اے محبوب!) اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت دونوں جہان کے لئے۔(ت)
    ( ۳؎ القرآن الکریم     ۲۱/ ۱۰۷)
تو آپ کی خوبیوں کے بیان واظہار کانص قطعی سے ہمیں حکم ہوا اور کارخیر میں جس قدرمسلمان کثرت سے شامل ہوں اسی قدر زائد خوبی اوررحمت کاباعث ہے، اسی مجمع میں ولادت حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ذکرکرنے کانام مجلس ومحفل میلادہے۔ امام ابوالخیرسخاوی تحریرفرماتے ہیں:
ثم لازال اھل الاسلام فی سائرالاقطار والمدن یشتغلون فی شھرمولدہ صلی اﷲ علیہ وسلم بعمل الولائم البدیعۃ المشتملۃ علی الامور البھجۃ الرفیعۃ ویتصدقون فی لیالیہ بانواع الصدقات و یظھرون السرور یزیدون فی المبرات ویھتمون بقرأۃ مولدہ الکریم ویظھر علیھم من برکاتہ کل فضل عمیم۴؎ انتھی۔
یعنی پھر اہل اسلام تمام اطراف واقطار اورشہروں میں بماہ ولادت رسالت مآب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عمدہ کاموں اور بہترین شغلوں میں رہتے ہیں اور اس ماہ مبارک کی راتوں میں قسم قسم کے صدقات اوراظہارسروروکثرت حسنات واہتمام قراء ۃ مولدشریف عمل میں لاتے ہیں اور اس کی برکت سے ان پرفضل عظیم ظاہرہوتاہے۔انتہی۔(ت)
 (۴؎ انسان العیون     بحوالہ السخاوی باب تسمیتہ صلی اﷲ علیہ وسلم محمداواحمدا     المکتبۃ الاسلامیہ بیروت     ۱/ ۸۳)

(اعانۃ الطالبین     فصل فی الصداق     مطلب فی فضل عمل المولد النبوی صلی اﷲ علیہ وسلم     بیروت ۳/ ۶۶۔۳۶۵)
اور قول بعض کا کہ میلاد بایں ہیئت کذائی قرون ثلٰثہ میں نہ تھا ناجائزہے، باطل اورپراگندہ ہے، اس لئے کہ قرون وزمانہ کو حاکم شرعی بنانا درست نہیں یعنی یہ کہنا کہ فلاں زمانہ میں ہو تو کچھ مضائقہ نہیں اور فلان زمانہ میں ہو توباطل اور ضلالت ہے حالانکہ شرعاًوعقلاً زمانہ کو حکم شرعی یاکسی فعل کی تحسین وتقبیح میں دخل نہیں، نیک عمل کسی وقت میں ہو نیک ہے اور بدکسی وقت میں ہوبرا ہے۔
ففی الحدیث الشریف من سن سنۃ حسنۃ فلہ اجرھا واجر من عمل بھا ۱؎، ومن ھذا النوع قول سیّدنا عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ فی التراویح نعمت البدعۃ۲؎۔
پس حدیث شریف میں ہے:ـ جس نے اچھاطریقہ ایجاد کیا تو اس کو اپنے ایجاد کرنے کاثواب بھی ملے گا اور جو اس طریقے پرعمل کریں گے ان کااجر بھی اسے ملے گا۔ اسی قسم کاایک قول سیدناعمرفاروق رضی اﷲ عنہ کابھی دربارہ تراویح ہے کہ یہ اچھی بدعت ہے۔(ت)
 (۱؎ صحیح مسلم    کتاب العلم      باب من سنّ سنۃ حسنۃ الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۳۴۱)

(مسند احمدبن حنبل     عن جریر بن عبداﷲ   المکتب الاسلامیۃ بیروت     ۴/ ۶۲۔۳۶۱)

(سنن ابن ماجہ     باب من سن سنۃ    ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی     ص۱۸)

(۲؎ صحیح البخاری     کتاب الصیام      باب فضل من قام رمضان    قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۲۶۹)

(انسان العیون فی سیرۃ الامین المامون  باب تسمیتہ صلی اﷲ علیہ وسلم محمداواحمدا  المکتبۃ الاسلامیہ بیروت     ۱/ ۸۳)
توثابت ہواکہ ہرامرمستحدث دردین خواہ قرون ثلٰثہ میں ہویابعد بمقتضائے عموم "من" کہ حدیث میں ''من سنّ سنّۃ'' میں مذکورہے اگرموافق اصول شرعی کے ہے تو وہ بدعت حسنہ ہے اور محمودومقبول ہوگا اور اگرمخالف اصول شرعی ہوتو مذموم اور مردود ہوگا۔ قال عیاض المالکی (قاضی عیاض مالکی رحمہ اﷲ نے فرمایا:)
مااحدث بعد النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فہوبدعۃ والبدعۃ فعل مالاسبق الیہ فما وافق اصلا من السنۃ ویقاس علیھا فہو محمود وماخالف اصول السنن فھو ضلالۃ ومنہ قولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام : کل بدعۃ ضلالۃ۱؎ الخ۔
نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد جونیاکام نکالاگیا وہ بدعت ہے اور بدعت وہ فعل ہے جس کاپہلے وجود نہ ہو جس کی اصل سنت کے موافق اور اس پرقیاس کی گئی ہو وہ محمود ہے اور جواصول سنن کے خلاف ہو وہ ضلالہ، اور نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاقول مبارک ''ہربدعت گمراہی ہے الخ'' اسی قبیل سے ہے۔(ت) (۱؎)
اور سیرت شامی میں ہے:
تعرض البدعۃ علی القواعد الشریعۃ فاذا دخلت فی الایجاب فھی واجبۃ اوفی قواعد التحریم فھی محرمۃ او المندوب فھی مندوبۃ او المکروہ فھی مکروھۃ او المباح فھی مباحۃ۲؎۔
بدعت کو قواعد شرعیہ پرپیش کیاجائے گا تووہ جب وجوب کے قاعدہ میں داخل ہو تو واجب، یا اگر حرام کے تحت ہو توحرام، یامستحب کے تحت ہو تومستحب، یامکروہ کے تحت ہو تو مکروہ، یا وہ مباح کے قاعدہ کے تحت ہو تو مباح ہوگی۔ (ت)
 (۲؎ الحاوی للفتاوٰی     باب الولیمۃ         حسن المقصد فی عمل المولد         دارالکتب العلمیہ بیروت     ۱/ ۱۹۲)
Flag Counter