مسئلہ ۴۰۰ : ازبدایوں اسلام نگر مرسلہ عزیزحسن کانسٹبل ۲۴ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین شرع متین ان مسئلوں میں:
(۱) حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں کوئی پیشین گوئی قرآن وحدیث میں ہے یانہیں؟ اگرہے تو حوالہ کتاب وسطروصفحہ سے ہو۔
(۲) اگرمجلس کہ جس میں ذکرشہادت حضرت امام زمان علیہ السلام ہو اور واقعات صحیح ذکرکئے جائیں اور وہ ماہ محرم میں ہو علاوہ ازیں اپنے دوستوں اور سامعین کوکچھ ازقسم شیرینی ختم مجلس پرتقسیم کی جائے توجائزہے یاناجائز؟
الجواب
(۱) قرآن مجید میں تمام ماکان ومایکون کابیان ہے،
قال اﷲ تعالٰی نزلنا علیک الکتٰب تبیانا لکل شیئ۲؎۔
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: ہم نے آپ پرایک عظیم کتاب نازل فرمائی جوہرچیز کاواضح بیان ہے۔(ت)
( ۲؎ القرآن الکریم ۱۶/ ۴۹)
اور حدیثوں میں شہادت شریفہ کاصاف ذکرہے، امام ابن حجرمکی رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ کی صواعق محرقہ وغیرہا میں اُن کی تفصیل ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(۲) جبکہ روایات صحیحہ بروجہ صحیحہ بیان کی جائیں اور غم پروری وغیرہ ممنوعات شرعیہ نہ ہوں تو ذکر شریف باعث نزول رحمت الٰہی ہے اور تقسیم شیرینی ایک سلوک حسن۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۴۰۲ تا ۴۰۳ : ازشہرمحلہ ذخیرہ مسئولہ منشی شوکت علی صاحب محررچونگی ۸محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
(۱) کیاحکم ہے اہل شریعت کا اس مسئلہ میں کہ رافضیوں کی مجلس میں مسلمانوں کاجانا اور مرثیہ سننا، ان کی نیاز کی چیز کالیناخصوصاً آٹھویں محرم کو جبکہ ان کے یہاں حاضری ہوتی ہے کھانا جائزہے یانہیں؟
(۲) محرم میں بعض مسلمان ہرےکپڑے پہنتے ہیں اور سیاہ کپڑوں کا کیاحکم ہے؟
الجواب
(۱) جانا اورمرثیہ سننا حرام ہے ان کی نیاز کی چیزنہ لی جائے، ان کی نیاز نیازنہیں، اور وہ غالباً نجاست سے خالی نہیں ہوتی، کم ازکم ان کے ناپاک قلتین کاپانی ضرور ہوتا ہے، اور وہ حاضری سخت ملعون ہے اور اس میں شرکت موجب لعنت۔
(۲) محرم میں سبز اور سیاہ کپڑے علامت سوگ ہیں اور سوگ حرام ہے خصوصاً سیاہ کاشعاررافضیاں لیام ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۴۰۴ : ازکاشمیری دروازہ تھانہ ۴، سوندھی ٹھیکیدار مسئولہ امیرحسن بیدوالے ۹شعبان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ موجودہ زمانہ میں جو میلاد شریف مروّج ہے اور اس میں شیرینی وغیرہ تقسیم ہوتی ہے اور حضرات سیدان اہل بیت اطہاررضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین کی جو نذرونیاز وغیرہ محرم میں یاغیرمحرم شریف میں ہوتی ہے اس میں جاکر شرکت کرنا اور کھانا اورپینا کیساہے چاہے کسی قوم میں ہو خواہ شیاہ میں ہو اس کاکھاناپینا یاشرکت دیناکیساہے؟ اور جولوگ اس میں شرکت دینے سے یاشریک ہونے پرمنع کرتے ہیں ان کے واسطے مولوی لوگ کیاحکم فرماتے ہیں؟
الجواب
مجلس مبارک اور نیازشریف کہ منکرات شرعیہ سے خالی ہیں سب خوب ومستحسن ہیں اور ان میں شرکت باعث ثواب اور ان کاکھانا بھی جائز، اور جو ان کو بلاوجہ شرعی منع کرے باطل پرہے یہ وہابیہ کاکام ہے لیکن رافضی کے یہاں کی مجالس میں شرکت جائزنہیں، نہ اس کے یہاں کھانا کھایاجائے، اس سے میل جول ہی جائزنہیں اور اگر اس کے یہاں کے کھانے میں گوشت ہے جب تو وہ قطعی حرام ومردار ہے مگر یہ کہ ذبح ہونا اورپکنا اور اس کے سامنے لانا سب مسلمانوں کے زیرنظرہوا ہو کسی وقت مسلمان کی نگاہ سے غائب نہ ہوا ہو۔ روافض کے یہاں شرکت جولوگ منع کرتے ہیں حق پرہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۴۰۵ تا ۴۰۶ : ازنظام آباد ضلع اعظم گڑھ مسئولہ سیداصغر علی صاحب ۹شعبان چہارشنبہ ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ:
(۱) جو شخص شیعہ ہو اور اپنے مذہب میں سخت ہو اس سے مسلمان حنفیوں کومحفل میلاد شریف پڑھاناچاہئے یانہیں بالخصوص ایسی حالت میں جبکہ وہ ایسی روایات پڑھتاہے جس سے صحابہ اور سنی مذہب کی توہین ہوتی ہے۔
(۲) جومسلمان سنی مذہب حنفی کاپابند ہو وہ شیعوں کی مجلسوں میں شرکت کرے اور ان کے جلوس کاانتظام (مثل تاشہ، ڈھول، روشنی، جلوس گھوڑی کاجس کو دلدل تابوت کہتے ہیں) کرے اور اس شرکت کومذہب حنفی کی روسے جائزسمجھے بالخصوص ایسی مجالس میں شرکت کرناکہ جس میں روایات خلاف مذہب حنفی پڑھی جاتی ہیں وہ کیساہے؟ بیّنواتوجروا
الجواب
(۱) رافضی سے مجلس شریف پڑھوانا حرام ہے،
لان فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعا، تبیین۱؎ الحقائق وغیرہا۔
اس لئے کہ اس کو آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شریعت میں لوگوں پر اس کی توہین وتذلیل ضروری ہے،جیسا کہ تبیین الحقائق وغیرہ میں مذکورہے۔(ت)
(۱؎ تبیین الحقائق باب الامامت والحدث فی الصلٰوۃ المطبعۃ الکبری بولاق مصر ۱/ ۱۳۴)
یہ اسی حالت میں ہے کہ وہ کوئی بات کسی صحابی یامذہب اہلسنت کی توہین نہ کرے اور اگرایسا کرتا ہے توجودانستہ اس سے پڑھوائے فقط مرتکب حرام نہیں بلکہ اسی کی طرح گمراہ رافضی ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲) مجالس روافض اور ان خرافات میں شرکت حرام ہے اور اس کے جائزسمجھنے پرسخت حکم ہے اگر ان مجالس میں مذہب اہلسنت پرحملہ ہوتاہو تو ان میں شرکت پرراضی نہ ہوگا مگرگمراہ۔ والعیاذباﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۰۷ : ازسورت سگرامپورہ محلہ مولوی اسمٰعیل مرحوم مسئولہ غلام رسول بن عبدالرحیم ۱۴رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے کرام کہ چنداشخاص نے گیارہویں شب ہرمہینہ میں مجتمع ہوکر بغرض ایصال ثواب روح پرفتوح حضرت محبوب سبحانی سیدنا عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے درودشریف کی تسبیح و کلمہ تہلیل وسورہ اخلاص شریف کے بعد یاغوث یاغوث یاغوث کے ساتھ تسبیح پڑھتے ہیں آیایہ شرعاً جائزہے یانہیں؟ درصورت جائزہونے کے بجائے اس کے درودشریف یاکلمہ تہلیل وغیرہ اذکارپڑھیں توکیسا؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب
جائز ہے کوئی حرج نہیں اور درودشریف یاتسبیح وتہلیل کا اس سے افضل ہونا وجہ منع نہیں ورنہ سوا افضل الاذکار لاالٰہ الااﷲ ہردعا وذکرودرودشریف سب ممنوع ہوجائیں بلکہ تمام اذکار کہ قرآن خوانی ان سب سے افضل ہے بلکہ غیراوقات کراہت نفل میں قرآن خوانی بھی کہ نماز نفل اس سے افضل ہے۔ یہاں ایک نکتہ اور قابل لحاظ ہے سائل نے وقت حاجت ومصیبت ندائے غیراﷲ کا جوازاپنا معتقد بتایا انبیاء واولیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کی نداندائے غیراﷲ نہیں بلکہ اﷲ ہی کی نداہے کہ وہی نسبت ملحوظ ومناط ندا ہے جس طرح کہ ملتقط ودرمختار وعالمگیریہ میں ہے : التواضع لغیراﷲ حرام۱؎۔ غیراﷲ کے لئے تواضع حرام ہے۔
(۱؎ درمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۵)
حالانکہ انبیاء واولیاء اورماں باپ اور اساتذہ وغیرہم کے لئے تواضع کے حکم سے قرآن وحدیث اور خود یہ کتابیں مالامال ہیں تو وجہ وہی کہ ان کے لئے تواضع غیراﷲ کی تواضع نہیں اﷲ ہی کے لئے ہے کہ اسی کی نسبت ملحوظ ہے اسی نکتہ سے غفلت کے سبب وہابیہ خذلہم اﷲ تعالٰی شرک جلی میں گرفتارہوئے اور مسلمانوں کو مشرک کہنے لگے انہیں انبیاء واولیاء وجود الٰہی کے مقابل مستقل وجود نظرآئے اور ان کی نداغیر خدا کی نداجانی، یوہیں ان سے استمداد ان کی تعظیم ہربات میں وہی غیریت واستقلال کا لحاظ رکھا اور
یریدون ان یفرقوا بین اﷲ ورسلہ۲؎
(وہ چاہتے ہیں کہ اﷲ تعالٰی اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں۔ت) کے مصداق ہوئے، اس کا زیادہ بیان ہمارے رسالہ الاستمداد وکشف ضلال دیوبند میں ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
(۲؎ القرآن الکریم ۴/ ۱۵۰)
مسئلہ ۴۰۸ :ازوڈنگردایہ مہ کانہ گجرات گاڑی کے دروازہ متصل مکان چاندارسول مسئولہ عبدالرحیم احمدآبادی ۲۳رمضان المبارک ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ سیّدالاولین والآخرین کی مجلس مبارک سے اہل محلہ کو منع کرناکیساہے؟ بیّنواتوجروا (بیان فرماؤ اور اجروثواب پاؤ۔ت)
الجواب
اگر وہ مجلس شریف منکرات شرعیہ سے خالی ہو اور اس وقت منع کرنے کے لئے کوئی ضرورت خاصہ شرعیہ داعی نہ ہو بلکہ صرف اس بنا پرمنع کرتا ہے کہ وہابی ہے اور مجلس مبارک کو براجانتاہے توا س میں شک نہیں کہ وہابیہ گمراہ بددین بلکہ کفارمرتدین ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ میلاد سے متعلق
اعلٰیحضرت کاایک اہم اور مدلّل فتوٰی
جوپہلے اس جلدمیں شامل نہ تھا فتوٰی کی اہمیت کے پیش نظر ہم نے اسے اس مقام پرشامل کردیاہے۔
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم
نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم