Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
187 - 190
مسئلہ ۳۹۸ :مرسلہ مولوی محمدواحدصاحب     ۲۷جمادی الاولٰی ۱۳۳۵ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ذکرمیلاد مبارک بہ تعین ایام وتخصیص ربیع الاول شریف یا بہ تقرر یازدہم ودیگر تواریخ اعراس مشائخ کرام رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین اپنے گھروں میں مسجدوں میں درودشریف یاقرآن مجید کاپڑھنا پڑھانا یادوازدہم شریف تک ہرروز مجلس ذکرمیلاد کرنا اور حاضرین سامعین ذکراقدس کو مٹھائی دینا یا کھانا کھلانا یعنی فرح وسرورولادت اقدس یاایام وصال ارباب کمال میں زیادتی عبادت وصدقہ ومبرات اور نظم میں نعت حضرت سیدالمنعوتین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کابخوش الحانی پڑھنا جائزہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب

ذکر حضورسیدالمحبوبین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نورایمان وسرورجان ہے ان کا ذکر بعینہ ذکررحمن ہے۔
قال تعالٰی: ورفعنا لک ذکرک۱؎
 (اے حبیب ! ہم نے تمہاری خاطر تمہارا ذکر بلند کردیاہے۔ت)
(۱؎ القرآن الکریم     ۹۴/ ۴)
حدیث میں ہے: اس آیہ کریمہ کے نزول کے بعد سیدناجبرائیل علیہ الصلٰوۃ والسلام حاضربارگاہ اقدس حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہوئے اور عرض کی حضورکارب فرماتاہے :
اتدری کیف رفعت لک ذکرک۔
کیاتم جانتے ہو میں نے کیسے بلند کیاتمہارے لئے تمہاراذکر۔

حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے عرض کی: اﷲ اعلم (اﷲ تعالٰی خوب جانتاہے۔ت) 

ارشاد ہوا :
جعلتک ذکرامن ذکری فمن ذکرک فقد ذکرنی۲؎۔
اے محبوب! میں نے تمہیں اپنی یاد میں سے ایک یاد کیا کہ جس نے تمہارا ذکرکیا بیشک اس نے میرا ذکرکیا۔
 (۲؎ الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی     الباب الاول         الفصل الاول         المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ مصر     ۱/ ۱۵)
اور ماہ ربیع الاول شریف اس کے لئے زیادہ مناسب، جیسے دورقرآن وختم قرآن کے لئے ماہ رمضان کہ اسی مہینے میں اترا،
شھررمضان الذی انزل فیہ القراٰن۱؎۔
ماہ رمضان شریف وہ بابرکت مہینہ ہے کہ جس میں قرآن مجیداتاراگیا(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم     ۲/ ۱۸۵)
یہاں اس عالم میں حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کارونق افروز ہونا ماہ ربیع الاول میں ہوا ولہٰذا حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم روزجان افروزدوشنبہ کو روزہ شکر کے لئے خاص فرماتے اور اس کی وجہ یوں ارشاد فرماتے کہ فیہ
ولدت وفیہ انزل علیّ ۲؎
 (اسی دن میں پیداہوا اور اسی دن مجھ پرکتاب اُتری۔ یہ تخصیصات بوجہ مناسبات ہیں تو اُن پر طعن جہل ہے بلامناسبت تخصیص کوتوفرمایاگیا صوم یوم السبت لالک ولاعلیک ۳؎یعنی روزہ کے لئے روزشنبہ کی تخصیص نہ تجھے نافع نہ مضر،
 (۲؎ مسنداحمد بن حنبل     حدیث ابی قتادۃ الانصاری     المکتب الاسلامی بیروت     ۵/ ۲۹۷ و ۲۹۹)

(۳؎مسنداحمد بن حنبل   حدیث الصماء بن بسر       المکتب الاسلامی بیروت    ۶/ ۳۶۸)
تومناسبات جلیلہ کے باعث تخصیص پرکیا اعتراض ہوسکتاہے ہاں تخصیص بمعنی توقف کہ اوروں ہوہی نہ سکے یابمعنی وجوب شرعی کہ اس دن ہونا شرعاً لازم اور دوسرے دن ناجائز ہوضرورباطل ہے مگروہ ہرگز کسی کے ذہن میں نہیں کوئی جاہل سا جاہل بھی ایساخیال نہیں کرتا ولکن الوھابیۃ قوم لایعلمون (وہابی ایسے لوگ ہیں جوکچھ نہیں جانتے۔ت) یہی حال یازدہم ودوازدہم وتواریخ وصال محبوبان ذوالجلال کا ہے اور اوقات فاضلہ میں تکثیراعمال صالحہ بلاشبہ مطلوب ومندوب ہے جس پر قرآن عظیم واحادیث کثیرہ ناطق
ان من افضل ایامکم الجمعۃ فاکثروا فیھا من الصلٰوۃ علیّ۴؎
 (بلاشبہ تمہارے ہفتہ کے تمام دنوں میں سے سب سے افضل دن روزجمعہ ہے،
 (۴؎ سنن ابی داؤد     کتاب الصلٰوۃ     باب تفریع ابواب الجمعہ     آفتاب عالم پریس لاہور     ۱/ ۱۵۰)
لہٰذا اس دن سب دنوں سے زیادہ مجھ پر درودشریف پڑھو۔ت) درودخوانی وتلاوت قرآن مجید واطعام طعام وصدقات ومبرات کی خوبیاں ضروریات دین سے ہیں محتاج بیان نہیں اور شیرینی کی تخصیص میں فوائد عدیدہ ہیں، ایک تو یہ کہ قلب المؤمن حلو یحب الحُلْوَ مسلمان کادل میٹھا ہے مٹھاس کو دوست رکھتاہے۔

دوم وہ روزانہ عام لوگوں کے استعمال میں نہیں آتی وکل جدید لذیذ ومن وافق من اخیہ شھوۃ غفرلہ (ہرنئی چیزذائقہ دار ہوتی ہے اور جوکوئی اپنے بھائی سے اس کی چاہت میں موافقت کرے تو اس کے گناہ بخش دئے گئے۔ت)

سوم حسب عرف اغنیا کوبھی اس کے لینے میں باک نہیں ہوتا بخلاف اس کے کہ روٹی بانٹی جائے۔

چہارم جوچیز محبوبان خدا سے منتسب ہوجائے سزاوارتعظیم ہوجاتی ہے، شیرینی اس کے لئے زیادہ مناسب کہ اس میں چیز پھینکنے کی نہیں ہوتی۔ نعت شریف ذکراقدس ہے اور اس کا خوشی الحانی سے ہونا مورث زیادت شوق ومحبت۔

امام قسطلانی رحمہ اﷲ تعالٰی نے مواہب اللدنیہ شریف میں تصریح فرمائی کہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی مدح شریف الحان خوش کے ساتھ سننا محبت حضور کوترقی دیتاہے ۱؎، اور ولادت اقدس پر اظہار فرحت وسرور خود نص قرآن سے مامور۔
 (۱؎ المواہب اللدنیہ     المقصد السابع محبۃ ذکرہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم     المکتب الاسلامی بیروت     ۳/ ۱۲۔۳۱۱)
قال اﷲ تعالٰی:
قل بفضل اﷲ وبرحمتہ فبذٰلک فلیفرحوا۲؎۔
تم فرماؤ کہ اﷲ کے فضل اور اس کی رحمت چاہئے کہ اسی پرفرحت وسرور کریں۔
 (۲؎ القرآن الکریم     ۱۰/ ۵۸)
انسان العیون میں ہے: بعض صالحین خواب میں زیارت جمال اقدس سے مشرف ہوئے عرض کی یارسول اﷲ! یہ جو لوگ ولادت حضور کی خوشی کرتے ہیں، فرمایا:
مَنْ فَرَحَ بِنَا فَرَحْنَا بِہٖ۳؎
جو ہماری خوشی کرتاہے ہم اس سے خوش ہوتے ہیں، صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۳؎ انسان العیون )
مسئلہ ۳۹۹:  ازرائے بریلی محلہ جہان متصل مکان سیدفداعلی چنگی انسپکٹر مرسلہ حافظ قمرالحسن صاحب ۲۳شعبان ۱۳۳۵ھ واردحال بریلی شہامت گنج

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص سنی مسلمان از سرتاپا معصیت میں مبتلا ہے اس نے محض اپنی نجات کاذریعہ خیال کرکے مجلس میلاد شریف منعقد کی ہو اور نہایت وفورشوق سے ذکررحمۃ للعالمین سرکاردوعالم اپنے آقائے نامدار کابکثرت سننا اختیارکیا ہو اور نماز بھی پڑھتاہو اور سچ بھی بولتاہو اور حلال کمائی مجلس میں صرف کرتاہو، مسکین الطبع رقیق القلب شریف ابن شریف ہو اور اچھے لوگ اسے اچھا سمجھتے ہوں اور بدباطن لوگ اسے براسمجھتے ہوں اس کے یہاں میلاد شریف پڑھنا اور جاکرسننا جائزہے یانہیں اور اس کو محفل میلاد مقرر کرنا اورذکرسرورعالم سنناچاہئے یانہیں؟ اور جوشخص میلادخواں اپنی بدباطنی سے اس کے یہاں مجلس پڑھنے نہ جائے اور دوسروں کو روکے اور اس کی برائی ناکردہ کی تہمت لگائے وہ گنہگارہے یانہیں؟
الجواب

اگریہ بیان واقعی ہے کہ اچھے لوگ اسے اچھاسمجھتے ہیں توبدباطنوں کے براسمجھنے سے برانہیں ہوسکتا، نہ لوگوں کی بدگمانی سے کوئی اثر سوا اس کے کہ بدگمانی کرنے والے خود ہی گنہگار ہوں،
قال اﷲ تعالٰی: یایھا الذین اٰمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن انّ بعض الظن اثم۱؎۔
اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو اس لئے کہ بعض گمان گناہ ہیں۔(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم     ۴۹/ ۱۲)
جھوٹی تہمت رکھنے والا سخت گنہگار ومستحق عذاب ہے اور اس بناپر اس کے یہاں مجلس مبارک پڑھنے سے لوگوں کو روکنا مناع للخیرہوناہے۔ ظاہرسوال کاجواب تو یہ ہے اور واقع کاعلم اﷲ عزوجل کو۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter