مسئلہ ۳۹۳ :ازمانڈلے برمہا سورتی مسجد ۶رجب ۱۳۳۳ھ
وعظ کے بعد شیرینی تقسیم کرنادرست ہے یانہیں؟
الجواب
جائزہے لعدم المانع بلکہ اس کا عمل زیادہ باعث اجتماع وحضور ذکرواستماع ہوگا وسیلہ خیرخیر ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۹۴ : مسئولہ حافظ عبدالمجید صاحب ازقصبہ تحصیل سوار خاص علاقہ ریاست رامپور
بروزسہ شنبہ ۱۰ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ محفل مولود شریف میں حضور سرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تشریف فرماہوتے ہیں یانہیں؟ اور وقت پیدائش کے قیام کرنا مستحب ہے یابدعت؟ بحوالہ کتاب فقہ یاحدیث بیان فرمائیے۔
الجواب
مجالس خیرمیں حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تشریف آوری اکابراولیاء نے مشاہدہ فرمائی اور بیان کیا،
کما فی بہجۃ الاسرارللامام الاوحد ابی الحسن نورالدین اللخمی الشطنوفی وتنویرالحوالک للامام جلال الملّۃ و الدین السیوطی وغیرھما لغیرھما رحمۃ اﷲ تعالٰی علیھم۔
جیساکہ بہجۃالاسرار(مصنفہ) امام یکتائے زمانہ ابوالحسن نورالدین علی لخمی شطنوفی نے اور تنویرالحوالک میں امام جلال الدین سیوطی نے اور ان دو کے علاوہ دوسرے حضرات نے اپنی اپنی کتابوں میں ذکرفرمایا، ان سب پر اﷲ تعالٰی کی رحمت ہو۔(ت)
مگریہ کوئی کلیہ نہیں سرکار کاکرم ہے جس پرہوجب ہو ؎
(۱) اگربادشہ بردرپیر زن بیاید تو اے خواجہ سبلت من
(۲) ہمیں کردمورے دعاء سحر کہ مہمانش آید سلیماں مگر
(۳) چہ خوش گفت یک مرغ زیرک بدو سلیماں باید ولے جائے کو
(۱۔ اگربادشاہ بڑھیا عورت کے دروازے پرقدم رنجہ فرمائے تو اے خواجہ (سردار)! تومونچھوں کو تاؤ نہ دے۔
۲۔ سحری کے وقت ایک چیونٹی نے یہی دعا مانگی شاید اس کے ہاں حضرت سلیمان مہمان بن کرتشریف لائیں۔
۳۔ ایک دانا پرندے نے اس سے کیا خوب کہا، حضرت سلیمان توضرور جلوہ افروز ہوں مگر کون سی جگہ ہو، ذرا یہ تو کہہ دے۔ت)
مجلس میلاد مبارک میں وقت ذکرولادت مقدس قیام جس طرح حرمین شریفین وجمیع بلاد دارالاسلام میں دائرومعمول ہے مستحب ومستحسن ہے۔
قال اﷲ عزوجل وتعزروہ وتوقروہ۔۱؎
اﷲ عزوجل نے فرمایا : ان کی یعنی حضوراکرم کی عزت وتوقیر کرو۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴۸/ ۹)
قال اﷲ تعالٰی ومن یعظم شعائر اﷲ فانھا من تقوی القلوب۱؎۔
اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: جو کوئی اﷲ تعالٰی کی نشانیوں کی تعظیم کرتاہے توپھریہ دلوں کاتقوٰی (پرہیزگاری) ہے۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲۲/ ۳۲)
علامہ سید جعفر برزنجی مدنی عقد الجوہر میں فرماتے ہیں :
وقد استحسن القیام عند ذکرمولدہ الشریف صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ائمۃ ذوروایۃ ورؤیۃ فطوبی لمن کان تعظیمہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم غایۃ مرامہ ومرماہ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
بے شک حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے ذکرکرنے کے موقع پرائمہ صاحب روایۃ اور صاحب مشاہدہ نے قیام کو مستحسن قرار دیاہے۔ لہٰذا اس خوش نصیب کے لئے خوشخبری ہوکہ جس کی نگاہ میں آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم بجالانا اس کا غایۃ مقصد اور قرارنگاہ کامحل ہو۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۹۵ تا ۳۹۷: مسئولہ بنے خاں سوداگر پارچہ بریلی محلہ نالہ متصل کڑہ ماندرائے ۱۲جمادی الاولٰی ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں:
(۱) طوائف جس کی آمدنی صرف حرام پرہے اس کے یہاں مجلس میلاد شریف پڑھنا اور اس کی اسی حرام آمدنی کی منگائی ہوئی شیرینی پرفاتحہ کرناجائزہے یانہیں؟
(۲) مجلس میلاد شریف میں بعد بیان مولود شریف کے ذکرشہادت امام حسین رضی اﷲ تعالٰی عنہ اور واقعات کربلا پڑھناجائزہے یانہیں؟
(۳) رافضیوں کے محرم میں ذکرشہادت ومصائب شہداء بیان کرنا وسوزخوانی ومرثیہ مصنفہ انیس ودبیر پڑھناجائزہے یانہیں؟
الجواب
(۱) اس مال کی شیرینی پرفاتحہ کرناحرام ہے مگرجب کہ اس نے مال بدل کر مجلس کی ہو، اور یہ لوگ جب کوئی کارخیر کرناچاہتے ہیں تو ایساہی کرتے ہیں اور اس کے لئے کوئی شہادت کی حاجت نہیں، اگر وہ کہے کہ میں نے قرض لے کر یہ مجلس کی ہے اور وہ قرض اپنے مال حرام سے اداکیا ہے تو اس کا قول مقبول ہوگا کما نص علیہ فی الھندیۃ وغیرھا (جیسا کہ فتاوٰی عالمگیری اور اس کے علاوہ دوسرے فتاووں میں اس مسئلہ کی تصریح کی گئی۔ت) بلکہ شیرینی اگراپنے مال حرام ہی سے خریدی اور خریدنے میں اس پر عقدونقد جمع نہ ہوئے یعنی حرام روپیہ دکھاکر اس کے بدلے خرید کروہی حرام روپیہ نہ دیا ہو تو مذہب مفتٰی بہ پر وہ شیرینی بھی حرام نہ ہوگی جوشیرینی اسے خاص اُجرت زنایاغنا میں ملی یا اس کے کسی آشنا نے تحفہ میں بھیجی یااس کی خریداری میں عقدونقد مال حرام پرجمع ہوئے وہ شیرینی حرام اور اس پرفاتحہ حرام ہے، یہ حکم توشیرینی وفاتحہ کاہوا مگر ان کے یہاں جانااگرچہ میلاد شریف پڑھنے کے لئے ہو معصیت یامظنہ معصیت یاتہمت یامظنہ تہمت سے خالی نہیں اور ان سب سے بچنے کاحکم ہے۔
حدیث میں ہے:
من کان یؤمن باﷲ والیوم الاٰخر فلایقفن مواقع التھم۱؎۔
جو اﷲ عزوجل اور قیامت کے دن پرایمان لاتاہے وہ ہرگز تہمت کی جگہ نہ کھڑاہو۔
(۱؎ مراقی الفلاح علی ہامش الطحطاوی باب ادراک الفریضہ نورمحمدکارخانہ تجارت کراچی ص۲۴۹)
تو ان کی چوکی اور فرش اورہر استعمالی چیز انہیں احتمالات خباثت پرہے، پھر جو اہل تقوٰی نہیں اسے ان کے ساتھ قرب، آگ اور بارود کاقرب ہے اور جو اہل تقوٰی ہے اس کے لئے وہ لوہار کی بھٹی ہے کہ کپڑے جلے نہیں توکالے ضرور ہوں گے پھر اپنے نفس پراعتماد کرنا اور شیطان کودورسمجھنااحمق کاکام ہے ومن رتع حول الحمی اوشک ان یقع فیہ جو رمنے کے گرد چرائے گا کبھی اس میں پڑبھی جائے گا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲) علمائے کرام نے مجلس میلاد شریف میں ذکرشہات سے منع فرمایا ہے کہ وہ مجلس سرور ہے ذکرحزن اس میں مناسب نہیں کما فی مجمع البحار (جیسا کہ مجمع البحار میں ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
(۳) حرام ہے ع
کندہم جنس باھم جنس پرواز
(ہم جنس اپنے جیسے ہم جنس کے ساتھ پرواز کرتا ہے۔ت)
حدیث میں ارشاد ہوا: