مسئلہ ۳۸۹ :مسئولہ حافظ عبداللطیف صاحب مدرس مدرسہ حنفیہ سہسوان ازسہسوان ۲۸صفر ۱۳۳۲ھ
مجلس ذکرشہادت جائزیاناروا، ایک صاحب نے کہا کہ تجدید سرورمختلف فیہ اور تجدیدغم باتفاق ناجائز۔
الجواب
مجلس ذکرشہادت اگرروایات باطلہ سے ہوتو مطلقاً ناروا،اور روایات صحیحہ سے ہو تو اگرتجدید غم وجلب بکاء مقصود ہے بیشک نامحمود ہے اور اگر ذکرفضائل محبوبان خدا، مراد ہے تو مورد رحمت جوادہے۔
کاموں کامدار ارادوں پرہے اور ہرآدمی وہی پائے گا جس کا اس نے ارادہ کیا۔(ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۹۰ : ازشہر لاہور لنڈابازار دکان بھگوان داس مرسلہ محمدحسین معماربریلی والا ۲۲ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علماء دین شرع متین اس مسئلہ میں کہ فاتحہ گیارہویں میں رباعی شریف پڑھناچاہئے یا نہیں؟
رباعی یہ ہے؟
سیدوسلطان فقیروخواجہ مخدوم وغریب بادشاہ وشیخ ودرویش وولی ومولانہ
الجواب : یہ رباعی نہ پڑھی جائے اس میں بعض الفاظ خلاف شانِ اقدس ہیں، فاتحہ ایصال ثواب کانام ہے جو کچھ قرآن مجیدودرودشریف سے ہوسکے پڑھ کر ثواب نذرکرے۔ اور ہمارے خاندان کا معمول یہ ہے کہ سات باردرود غوثیہ، پھر ایک ایک بار الحمدشریف وآیۃ الکرسی، پھر سات بار سورہ اخلاص، پھر تین باردرودغوثیہ۔ درودغوثیہ یہ ہے:
مسئلہ ۳۹۱ :بتاریخ ۶ربیع الثانی ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کہتاہے کہ مجلس میلاد شریف میں ذکر حضرات امام حسنین علیہم السلام کا بغیر ذکرفضائل حضرات صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین کے جائزنہیں۔ دوسراقول زید کایہ ہے کہ مجلس میلاد مبارک میں ذکر حضرات امام حسنین علیہم السلام کا قطعی جائزنہیں ہے۔ یہ دونوں اقوال زید کے کہاں تک صحیح ہیں؟ بیّنواتوجروا۔ (بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
(۱؎ صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲)
الجواب
مجلس میلاد مبارک مجلس فرحت وسرورہے اس میں علماء کرام نے حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی وفات شریف کاتذکرہ بھی پسندنہ فرمایا، اور ذکرشہادت جس طور پررائج ہے وہ ضرور طریقہ غم پروری ہے۔ رہا حضرات امامین رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے فضائل ومناقب صحیحہ معتبرہ کاذکر، وہ نورایمان وراحتِ جان ہے۔ اس سے کسی وقت ممانعت نہیں ہوسکتی جبکہ وجہ صحیح پربقصد صحیح ہو۔ یہ شرط نہ صرف اس میں بلکہ ہرعمل صالح میں ہے۔ اور یہ بھی کتابوں میں ہے کہ ذکرحضرات حسنین بعد ذکرحضرات صحابہ عظام رضی اﷲ تعالٰی عنہم ہو۔ اس سے مطلب یہ نہیں کہ ان کا ذکر کریم بے ذکرصحابہ ناجائز ہے۔ وہ ہرایک مستقل عبادت ہے کہ ترک ذکرصحابہ عظام بالقصدجائزنہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۹۲ :مرسلہ جناب سیداحمدصاحب بن حاجی سیدامام حکیم صاحب ازاکوٹ ضلع اکولہ یکم جمادی الاولٰی ۱۳۳۲ھ
جناب حضرت حامی سنت ماحی بدعت مولانامولوی احمدرضاخاں صاحب دام فضلکم، السلام وعلیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ، جناب عالی سے عرض ہے کہ یہاں برار میں دوبرس سے مجلس کانفرنس کی ہونا شروع ہوئی ہے او ر میرے کو بھی نامہ آیا میں افسوس کرتاہوں کہ ہرمذہب کاشخص ممبرہوسکتا ہے کرکے تحریر ہے اب اس مجلس میں جانا ثواب ہے یاکہ حرام ہے۔ چندکلمہ مشعرحالات سے سرورفرمائیے۔ زیادہ چہ مزیدتوجہ۔
الجواب
بملاحظہ حضرت سیدصاحب مکرم ذی المجدوالکرم دام کرمہم۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔ یہ مجلس نیچریوں کی ہے اس میں شرکت جائزنہیں۔
قال اﷲ تعالٰی وامّا ینسینّک الشیطٰن فلاتقعد بعد الذکرٰی مع القوم الظّٰلمین۱؎o وقال اﷲ تعالٰی ولاترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار۲؎o وفی الحدیث عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ
اﷲ تعالٰی نے ارشادفرمایا: ''اگرتمہیں شیطان بھلاوے میں ڈال دے تو یادآنے کے بعدظالموں کے ساتھ مت بیٹھو''۔ اور نیز اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: ''(لوگو!) ظالموں کی طرف نہ جھکو ورنہ تمہیں آگ چھوئے گی''۔ اور حدیث میں حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام
(۱؎ القرآن الکریم ۶/ ۶۸ ) ( ۲؎ القرآن الکریم ۱۱/ ۱۱۳)
وسلم من کثر سواد قوم فہو منھم، رواہ ابویعلٰی۱؎ فی مسندہ وعلی بن معید فی کتاب الطاعۃ والمعصیۃ عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ وابن المبارک فی الزھد عن ابی ذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ والخطیب فی التاریخ عن انس بن مالک عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بلفظ من سود مع قوم فھو منھم۲؎۔
سے روایت ہے کہ جو کسی قوم کی جماعت بڑھائے وہ انہی میں شامل ہے۔ ابویعلٰی نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا۔ اور علی بن معید نے کتاب الطاعۃ و المعصیۃ میں عبداﷲ بن مسعود سے روایت کرتے ہیں، اور عبداﷲ ابن مبارک ''الزہد'' میں ابوذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ان کے الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔ اور خطیب بغدادی تاریخ میں انس بن مالک کے حوالے سے حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام سے ان الفاظ سے روایت کرتے ہیں: جوکوئی لوگوں کے ساتھ ہو کر جماعت میں اضافہ کرے تو وہ انہی میں سے ہے۔(ت)
(۱؎ کشف الخفاء بحوالہ ابی یعلٰی دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۲۲۴)
(نصب الرایۃ للاحادیث الہدایۃ کتاب الجنایات من کثرسوادا لخ المکتبۃ الاسلامیہ ۴/ ۳۴۶)
(۲؎ کنزالعمال بحوالہ خط عن انس حدیث ۲۴۶۸۱ موسسۃ الرسالہ بیروت ۹/ ۱۰)
(تاریخ بغداد ترجمہ عبداﷲ بن عتاب ۵۱۶۷ دارالکتاب العربی بیروت ۱۰/ ۴۰)
پندرہ سال ہوئے کہ اس بارہ میں فتوٰی علمائے کرام حرمین شریفین مسمّی بہ فتاوٰی الحرمین برجف ندوۃ المین (حرمین شریفین کے فیصلے، ندوہ کے جھوٹ بولنے پر، زلزلہ برپاکرنے کے بارے میں۔ت) طبع ہوگیا۔ واﷲ تعالٰی اعلم