Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
184 - 190
مسئلہ ۳۸۰ تا ۳۸۶ :ازمرسنیا تھانہ جہان آباد ضلع پیلی بھیت مرسلہ شیخ ممتازحسین صاحب ۶ربیع الآخر۱۳۳۱ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں:

(۱) اکثردیکھا ہے کہ میلاد شریف میں مردوں کو دوحصے اور لڑکوں کو ایک حصہ دیاجاتاہے یہ جائزہے یانہیں؟

(۲) چھوٹے بتاسے مٹھی بھردئیے جاتے ہیں کسی کوکم کسی کو زیادہ پہنچتے ہیں اس میں کچھ حرج ہے یانہیں؟

(۳) اگربتاسے ختم ہوگئے اور کچھ آدمی رہ گئے تو کچھ حرج ہوایانہیں؟

(۴) اگرمیلاد شریف بغیرشیرینی کے پڑھاجائے؟

(۵) میلاد شریف ختم ہونے پر مرد کسی کام کے سبب چلاگیا توکچھ گناہ ہوا؟

(۶) میلادشریف جس کے یہاں ہو اس سے کچھ رنج ہو یہ سننے جائے اور شیرینی نہ لے توکیاگناہ ہے؟

(۷) اگرشیرینی تقسیم کے بعدبچالے؟
الجواب

(۱) حسب رواج مردوں کو دو حصے لڑکوں کو ایک دینے میں حرج نہیں کہ بوجہ رواج کسی کو ناگوار نہیں ہوتا۔

(۲) مٹھی سے کم بیش پہنچنے میں بھی حرج نہیں مگر اتنی کمی نہ ہو کہ اسے ناگوار گزرے اس کی ذلت سمجھی جائے۔

(۳) کچھ آدمی رہ گئے تو اگرہو سکے تو اور منگاکران کو بھی دے انکار کردینا مناسب نہیں اور نہ ہوسکے تو ان سے معذرت کرلے۔

(۴) میلاد شریف بغیر شیرینی بھی ہوسکتاہے اصل مراد توذکرشریف ہے۔

(۵) ختم کے بعد جوچلاگیا اس پرکچھ الزام نہیں۔

(۶) میلادشریف سننے کو حاضر ہو اور شیرینی نہ لے تو حرج نہیں جبکہ اس میں صاحب خانہ کی دل آزاری نہ ہو ورنہ بلاوجہ شرعی مسلمان کی دل آزاری کی اجازت نہیں۔

(۷) تقسیم کے بعد شیرینی بچ رہے تو وہ اس کا مال ہے جو چاہے کرے اور بہتریہ ہے کہ اسے بھی عزیزوں 

قریبوں ہمسایوں دوستوں مسکینوں پربانٹ دے کہ جتنی چیز اﷲ عزوجل کے لئے نکالی اس میں سے کچھ بچالینا مناسب نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۸۷: ازکمیلہ ضلع بنگالہ مرسلہ عبدالحکیم صاحب     ۲۰ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شب برات میں حلوہ وغیرہ بناتے ہیں اور خوشی کرتے ہیں اور آتشبازی وغیرہ چھوڑتے ہیں یہ جائزہے یانہیں؟ اور روز مقرر کرکے کرنایہ جائزہے یانہیں؟ اور بعض لوگ بدعت کہتے ہیں اور وہ کس وقت سے ہے؟ آیا یہ قرآن وحدیث سے ثابت ہے یانہیں؟ اور تسبیح وتہلیل وقرآن مجید پڑھ کر اُجرت لیناجائزہے یانہیں؟ اور مردہ کو ثواب ملے گایانہیں؟ اور مولود شریف میں اشعار وغیرہ راگ سے پڑھنا جائزہے یانہیں؟ اکثرلوگ گاتے ہیں ملک بنگالہ میں کہ جہاں لوگ اردو نہیں سمجھتے ہیں فقط خوش الحانی کو سنتے ہیں یہ جائز ہے یانہیں؟ اور بعض لوگ مولود شریف اور قیام کے منکرہیں آیا مولود شریف حدیث وقرآن سے ثابت ہے یانہیں؟ اور قدمبوسی کتنے آدمیوں کی کرناجائزہے اور جلسہ میں کوئی خوشی وغیرہ کی بات اگر لوگ سنتے توہاتھ کی تالی دیتے ہیں یہ جائزہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا
الجواب

حلوہ وغیرہ پکانا فقراء پرتقسیم کرنا احباب کو بھیجنا جائزہے اﷲ کے فضل ونعمت پرخوشی کرنے کا قرآن مجید میں حکم ہے جائزخوشی ناجائزنہیں۔ آتشبازی اسراف وگناہ ہے۔ دن کی تعیین میں جرم نہیں جبکہ کسی غیرواجب شرعی کو واجب شرعی نہ جانے۔ بدعت کہنے والے خود بدعت میں ہیں۔ قرآن وحدیث سے ثابت ہے کہ جو کچھ قرآن وحدیث نے منع نہ فرمایا اس سے منع کرنے والا بدعتی ہے۔ تسبیح وتہلیل وتلاوت قرآن مجید پراجرت لیناحرام ہے۔ مردہ کو اس کا کچھ ثواب نہیں مل سکتا۔ خوش الحانی جائزہے جبکہ مزامیر وفتنہ ساتھ نہ ہو۔ میلاد مبارک وقیام کے آج کل منکروہابیہ ہیں اور وہابیہ گمراہ بے دین۔ میلادشریف قرآن عظیم کی متعدد آیات کریمہ اور حدیث صحیح سے ثابت ہے جس کی تفصیل اذاقۃ الاٰثام میں ہے قدم بوسی معظمان دینی مثل پِیروعالم دین وسادات وسلطان عادل ووالدین کی جائزہے، تالی بجانا نصارٰی کی سنت ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۸۸ :  ازقصبہ بشارت گنج ضلع بریلی بڑی مسجد مرسلہ نجوخاں فوجدار یعنی باتی والہ ۲۵محرم الحرام ۱۳۳۲ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:

مجلس وعظ یامیلادشریف میں لوگوں کووجد آجاتے ہیں اس میں پاگل کی طرح ہاتھ اور پاؤں ہلاتے ہیں یہ کیسے جائزہے یہ کیابات ہے بعض آدمی سرہلاتے نہ بیہوش ہوتے ہیں یہ کیابات ہے یہ کیاعلامت عشق ہے یاکیاہے؟ تحریرفرماکر سرفرازفرمائیں۔زیادہ سلام
الجواب

اس کی تین صورتیں ہیں، وجد کہ حقیقۃً دل بے اختیار ہوجائے اس پر تو مطالبہ کے کوئی معنی نہیں، دوسرے تواجد یعنی باختیارِخودوجد کی سی حالت بنانا، یہ اگرلوگوں کے دکھاوے کوہوتوحرام ہے اور ریا اور شرک خفی ہے، اور اگرلوگوں کی طرف نظراصلاً نہ ہوبلکہ اہل اﷲ سے تشبہ اور بہ تکلف ان کی حالت بنانا کہ امام حجۃ الاسلام وغیرہ اکابر نے فرمایاہے کہ اچھی نیت سے حالت بناتے بناتے حقیقت مل جاتی ہے اور تکلیف دفع ہوکر تواجد سے وجد ہوجاتاہے تو یہ ضرور محمودہے مگراس کے لئے خلوت مناسب ہے مجمع میں ہونا اور ریاسے بچنابہت دشوارہے، پھربھی دیکھنے والوں کو بدگمانی حرام ہے،
اﷲ عزوجل فرماتاہے:
یایھا الذین اٰمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن انّ بعض الظن اثم۱؎۔
اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو کہ کچھ گمان گناہ ہیں۔
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث۲؎۔
گمان سے بچو کہ گمان سب سے بڑھ کر جھوٹی بات ہے،
جسے وجد میں دیکھو یہی سمجھو کہ اس کی حالت حقیقی ہے اور اگرتم پرظاہرہوجائے کہ وہ ہوش میں ہے اور باختیار خود ایسی حرکات کررہاہے تو اسے صورتِ دوم پرمحمول کرو جومحمودہے یعنی محض اﷲ کے لئے نیکوں سے تشبہ کرتاہے نہ کہ لوگوں کے دکھاوے کو، ان دونوں صورتوں میں نیت ہی کاتوفرق ہے اور نیت امرباطن جس پر اطلاع اﷲ ورسول کوہے جل وعلاوصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، تو اپنی طرف سے بری نیت قراردے لینا برے ہی دل کاکام ہے۔
ائمہ دین فرماتے ہیں:
الظن الخبیث انما ینشأ من القلب الخبیث۳؎۔
خبیث گمان خبیث ہی دل سے پیداہوتاہے۔
والعیاذباﷲ تعالٰی۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(۱؎ القرآن الکریم     ۴۹/ ۱۲)

(۲؎ صحیح البخاری     کتاب الادب     باب ماینہٰی عن التحاسد والتدابر الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۸۹۶)

(۳؎ فیض القدیر     تحت حدیث ۲۹۰۱     ایاکم والظن الخ         دارالمعرفۃ بیروت    ۳/ ۱۲۲)
Flag Counter