Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
183 - 190
ہاں ذکر فضائل شریف حضرت سیدنا امام حسین ریحانہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بروجہ جائز روایات صحیحہ معتمدہ معتبرہ سے ضرور نورعین نورہے مگرصرف اسی پر اقتصاراور ذکر خلفاء کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے دامن کشی خصوصاً لکھنؤ جیسے محل حاجت میں کہ کوفہ ہند ہے ضرور قابل اعتراض واحتراز ہے۔ 

قسم اول نسبت امام حجۃ الاسلام محمد محمدغزالی قدس سرہ العالی فرماتے ہیں :
یحرم علی الواعظ وغیرہ روایۃ مقتل الحسین۱؎۔
واعظ وغیرہ پریہ حرام ہے کہ وہ شہادت حسین علیہ السلام کی روایات (بے سند اور بلاتحقیق) بیان کرے۔(ت)
 (۱؎ الصواعق المحرقہ     بحوالہ الضرابی    الخاتمہ فی بیان اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ     مکتبہ مجیدیہ ملتان     ص۲۲۳)
امام ابن حجرمکی صواعق محرقہ میں فرماتے ہیں:
ماذکرہ من حرمۃ روایۃ قتل الحسین لاینافی ماذکرتہ فی ھذا الکتاب  لان ھذا البیان الحق الذی یحب اعتقادہ من جلالۃ الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھم وبراءتھم من کل نقص بخلاف مایفعلہ الوعاظ الجھلۃ فانھم یاتون بالاخبار الکاذبۃ الموضوعۃ ونحوھا ولایبینون المحامل والحق الذی یحب اعتقادہ فیوقعون العامۃ فی بغض الصحابۃ وتنقیصھم۲؎۔
امام حسین رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی شہادت کی روایات کے متعلق جو حرام ہونے کاذکرکیاگیاوہ اس کے منافی نہیں جوکچھ میں نے اس کتاب میں بیان کیا، کیونکہ یہ بیان وہ حق ہے کہ جس پر (ایک مردمومن کا) اعتقاد رکھناواجب ہے،جو کہ عظمت شان صحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم اور ہرکمی کوتاہی سے ان کی برأت ہے بخلاف جاہل واعظوں کے(قصہ گوافراد کے) کہ وہ جھوٹی او رموضوع روایات لوگوں کی مجالس میں بیان کرتے ہیں لیکن ان کا محل اور وہ حق بیان نہیں(یعنی سچی اور واقعی بات کو ظاہرنہیں کرتے) کہ جس پرعقیدہ رکھناضروری ہے(پھر اس پردہ پوشی سے) عوام کو بغض صحابہ اور ان کی تنقیص وتوہین میں ڈال دیتے ہیں۔(ت)
 (۲؎الصواعق المحرقہ     بحوالہ الضرابی    الخاتمہ فی بیان اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ     مکتبہ مجیدیہ ملتان     ص ۲۲۴)
اور قسم دوم کی نسبت کتاب العیون پھر شرح نقایہ علامہ قہستانی اواخرکتاب الکراھیۃ میں ہے :
  لواراد ذکر مقتل الحسین ینبغی ان یذکر اولا مقتل سائر الصحابۃ لئلا یشابہ الروافض۳؎۔
اگر کوئی واعظ شہادت حسین علیہ السلام کوبیان کرنا چاہے توا س کے لئے مناسب یہ ہے کہ پہلے باقی صحابہ کرام کی شہادت کے واقعات لوگوں کو سنائے تاکہ روافض سے مشابہت نہ ہو کیونکہ وہ صرف شہادت حسین علیہ السلام پراکتفاکرتے جبکہ اہل سنت صحابہ اور اہلبیت دونوں کاتذکرہ کرتے ہیں۔(ت)
 (۳؎ جامع الرموز شرح النقایۃ للقہستانی     کتاب الکراھیۃ    مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۳/ ۳۲۳)
ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں:
اذا ذکر الصالحون فحیھلا بعمر۱؎۔
جب صالحین کاذکر ہوتو عمرفاروق (رضی اﷲ عنہ) کاتذکرہ کرو(ت)
(۱؎ مسند امام احمدبن حنبل     عن عائشہ رضی اﷲ عنہا       المکتب الاسلامی بیروت     ۶/ ۱۴۸)
اور ذکرشہادت میں حضرت ابوبکروعمروعثمان اولادِ امیرالمومنین علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ کاذکراس لئے ترک کرنا کہ ان کے اسماء حضرات عالیہ خلفائے ثلاثہ رضی اﷲ عنہم کے نام پاک ہیں، صریح رفض واوہام زمانہ روافض خذلہم اﷲ کا اتباع ہے کہ مسمی کے باعث اسم سے عداوت ہاتھ باندھ لیتے ہیں اگرچہ وہ نام کسی محبوب کاہو
قاتلھم اﷲ انّٰی یؤفکون۲؎
 (اﷲ تعالٰی انہیں مارے کہ وہ کہاں اوندھے جاتے ہیں۔ت)
 (۲؎ القرآن         ۹/ ۳۰)
اسی لئے یہ بے پِیرے دوشنبہ کوپِیر کہنے سے احترازکرتے ہیں مسجد کے تین درنہ بنائیں گے کہ خلفائے ثلٰثہ کاعدد ہے ایسے ہی اوہام پر تو امام شافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا :  الشیعۃ نساء ھذہ الامّۃ۔  رافضی اس امت کی مادہ ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔

(۲) ضرور واجب بلکہ اہم فرائض سے ہے، حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا سب (ف) اصحابی وظھرت الفتن اوقال البدع ولم یظھر العالم علمہ فعلیہ لعنۃ اﷲ والملٰئکۃ والناس اجمعین لایقبل اﷲ منہ صرفا وعدلا۳؎۔
جب میرے صحابہ کوبراکہاجائے اور فتنے یافرمایا بدعتیں ظاہرہوں اس وقت عالم اپنا علم ظاہر نہ کرے تو اس پراﷲ اورفرشتوں اورآدمیوں سب کی لعنت ہے اﷲ اس کافرض قبول کرے نہ نفل۔ والعیاذباﷲ تعالٰی۔ واﷲ تعالٰی اعلم
 (۳؎ کنزالعمال     حدیث ۳۲۵۴۵    ۱۱/ ۵۴۳    وفیض القدیر بحوالہ الدیلمی تحت حدیث ۷۵۱     دارالمعرفۃ بیروت     ۱/ ۴۰۲)

(الفردوس بمأثور الخطاب     حدیث ۱۲۷۱       دارالکتب العلمیہ بیروت     ۱/ ۳۲۱)
ف : حدیث کے یہ الفاظ دوحدیثوں کامجموعہ معلوم ہوتے ہیں کیونکہ کتب احادیث میں ان الفاظ کامجموعہ کسی جگہ نہیں مل سکا۔ نذیراحمد سعیدی
 (۳) وہ شخص جو اس عذرباد وباطل سے اس فرض کو منع کرتاہے یاسخت سفیہ جاہل ہے یادرپردہ ان کفارواشقیا کا ممدومعاون۔ مسلمانوں پر فرض ہے کہ شق ثانی ہو تو اس سے مطلقاً قطع تعلق کریں۔

 رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم۱؎۔
ان سے دوربھاگو ان کو اپنے سے دور کرو کہیں تم کو گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تم کو فتنے میں نہ ڈال دیں۔
 (۱؎ صحیح مسلم         باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء والاحتیاط فی تحملہا     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۱۰)
اور شق اول ہو تو اسے سمجھائیں کہ پرانی خباثت کے سبب ہم اپنافرض کیونکر چھوڑسکتے ہیں۔
اﷲ عزوجل فرماتاہے :
  یایھا الذین اٰمنوا علیکم انفسکم لایضرکم من ضل اذااھتدیتم۲؎۔
اے ایمان والو! اپنی جانوں کی فکر کرو جو بھٹک گیا وہ تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچاسکتا جبکہ تم ہدایت یافتہ ہو۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم     ۵/ ۱۰۵ )
تو علماء فرماتے ہیں کہ: لاتترک سنۃ لاقترانھا مع بدعۃ من غیرہ۔ کسی ایسی سنت کو نہ چھوڑا جائے جو کسی دوسرے کی بدعت کے ساتھ مخلوط ہو۔(ت)
نہ کہ ایسے مہمل خیال پرا س درجہ اہم فرض کو چھوڑنا اور پھر نتیجہ یہ کہ ان کی خباثتیں فاش وآشکار ہوں اور ادھر سے جواب نہ ہو اور عوام ان کے شکار ہوں آج وہ دل میں برا کہتے ہیں کل سیکڑوں کو علانیہ برا کہنے والا بنالیں، ایسی اوندھی مت کاکیاٹھکانہ ہے، یوں تواذان بھی حرام ہوجائے گی کہ دور سے سن کر بھی اعداء دین کے کلیجے شق ہوتے ہیں اورخفیہ جو منہ پر آتاہے بکتے ہیں، اگر یہ جاہل سمجھ جائے فبہا ورنہ معلوم ہوگا کہ جاہل نہیں معاند ہے اس سے بھی قطع تعلق لازم ہوگا۔
اﷲ عزوجل فرماتاہے:
واما ینسینک الشیطٰن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظّٰلمین۳؂ ۔
اگر شیطان تمہیں کسی بھلاوے میں ڈال دے تویاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھو۔(ت)
(۳؎القرآن الکریم    ۶/ ۶۸ )
نسأل اﷲ العفووالعافیۃ ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ہم اﷲ تعالٰی سے عفواورعافیت چاہتے ہیں۔ گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت کسی میں نہیں مگریہ کہ اﷲ 

عالٰی بلندوبالا اوربڑی شان رکھنے والا (کسی کو) توفیق دے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
Flag Counter