ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے(ت)
(۲؎ مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الجہاد حدیث ۱۵۰۰۹ ادارۃ القرآن کراچی ۱۲/ ۳۹۵)
(سنن ابی داؤد کتاب الجہاد ۲/ ۱۹ وسنن ابن ماجہ ابواب الجہاد ص۲۰۸ )
( ومسند احمدبن حنبل، عن عائشہ ۶/ ۶۸)
اوراگروہ خود شرکت چاہیں توبطورچندہ شریک نہ کیاجائے کہ اس کے مال سے قربت قائم نہیں ہوسکتی ہاں اگروہ کسی مسلمان کو تملیک کردے یہ مسلمان چندے میں دے دے مضائقہ نہیں جبکہ اس طورپر لینے میں ہندو کے لئے وجہ استعلا نہ ہو وہ یہ نہ سمجھے کہ مسلمانوں نے مجھ سے استمداد کی میری مدد کے محتاج ہوئے بلکہ احسان مانے کہ میرا مال قبول کرلیا، ہندو اپنے مال سے کوئی کارخیر کرے مقبول نہیں،
وقدمنا الی ماعملوا من عمل فجعلناہ ھباء منثورا۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اور کافروں نے جوکام کئے تھے ہم نے ان کی طرف بڑھ کرانہیں بکھرے ہوئے ذرات کی طرح کردیا۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲۵/ ۲۳ )
مسئلہ ۳۷۵ : بہیڑی ضلع بریلی مرسلہ طالب حسین خاں ۲۷ی الحجہ ۱۳۲۲ھ
گیارہویں شریف کرناجائزہے یانہیں؟ اور قیام مولود جائزہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب: گیارہویں شریف اور مجلس مبارک میلاد کا قیام جس طرح مکہ معظمہ ومدینہ معظمہ کے علماء کرام اور بلاد دارالاسلام کے خاص وعام میں شائع ہے ضرور جائزہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۷۶ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے کہا کہ بعد نمازجمعہ ذکرشہداء کربلا رضی اﷲ تعالٰی عنہم ہوگا، چنانچہ عمرونے مسجد میں بعد نمازجمعہ اس کا اعلان اور اشتہارکردیا زید نے درمیان اذکار تعریف وفضائل وذکرشہادت شہداء کربلا رضی اﷲ تعالٰی عنہم وگریہ وزاری اہلبیت اطہار اوراہلبیت مطہرات کااونٹوں پربے پردہ جانا اور قیدخانہ میں مقید ہونا اوریزیدپلید کاسرِدربار بلانا اور گفتگو ہوناجہاں تک کہ زید کو کتبہائے معتبرہ اہلسنت وجماعت سے یادتھا بیان کردیا اوراہل سماع کو رقت طاری ہونا اور اس رقت ہونے کی وجہ سے کچھ پڑھنے والے اور سننے والے کواجرملنا اور نیز اسی قسم کا جلسہ اپنے مکانوں میں بنظرثواب منعقدکرنا بخلاف طریقہ روافض کے یعنی تعزیہ وعلم وغیرہ سے اس مکان کومعرارکھنا مذہب اہلسنت والجماعت میں درست ہے یانہیں اور بعد ختم مجلس شیرینی وشربت وچاء پرفاتحہ وپنج آیت پڑھ کر ثواب شہداء کربلا رضی اﷲ تعالٰی عنہم کوپہنچانا کیساہے؟ بینواتوجروا۔
الجواب: حضرات کرام کے فضائل ومناقب ومراتب ومناصب روایات صحیحہ معتبرہ سے بیان کرنا سناناعین ثواب وسعادت ہے اور ذکرشہادت شریف بھی جبکہ مقصود ان کی اس فضیلت اور ان کے صبرواستقامت کابیان ہو مگرغم پروری کاشرع شریف میں حکم نہیں، نہ غم وماتم کی مجلس بنانے کی اجازت، نہ ایسی باتیں کہی جائیں جس میں ان کی بے قدری یاتوہین نکلتی ہو، ماہ ربیع الاول شریف میں حضورپرنور سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ولادت شریفہ کامہینہ ہے اور وہی حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی وفات کامہینہ، پھر ائمہ دین وعلمائے کاملین نے اسے ولادت اقدس کی عید بنایا وفات شریف کاماتم نہ بنایا۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۷۷ تا ۳۷۹ : کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں:
(۱) بطریق روافض بغیرذکر حضرات خلفائے راشدین رضوان اﷲ علیہم اجمعین اہلسنت کے واسطے واقعات کربلا بیان کرنا اور بوجہ ہمنامی خلفائے ثلاثہ حضرت ابوبکر وعمروعثمان فرزندان حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کاتذکرہ منجملہ شہدائے دشت کربلاترک کرناجائزہے نہیں؟
(۲) جن مقامات پرآریہ سماج حضرت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے اور روافض صحابہ عظام سے بدظنی پھیلاتے ہیں شبانہ روزدرمے قدمے سخنے غرضیکہ ہرطرح سے بے حدکوشاں رہتے ہیں وہاں ہرامکانی طریقہ سے عوام کو حفظاً للعقائد ان حضرات کے مناقب اور محامد سے واقف کرنامذہباً واجب ہوگایانہیں؟
(۳) جوشخص بپاس مخالفین امورمذکورہ سے یہ کہہ کر بازرکھے کہ ''اگرتم تعریف کروگے تو وہ دل میں براکہیں گے'' توایسے شخص کی اقتداء کرکے مقاصد مخالفین کی تکمیل ہونے دیں یا اس سے قطع تعلق کرلیں۔ جواب مدلل اور مفصل ارشاد فرماکر ماجورہوں۔
الجواب
(۱) افضل اذکار ذکرالٰہی عزجلالہ ہے اور ذکرالٰہی میں سب سے افضل نماز، اگرنماز بھی بطور روافض پڑھی جائے گی ناجائزوممنوع ہے نہ کہ اور اذکارمجالس محرم شریف میں ذکرشہادت شریف جس طرح عوام میں رائج ہے جس سے تجدید حزن ونوحہ باطلہ مقصود اور اکاذیب وموضوعات سے تلویث موجودخود حرام ہے،
صواعق محرقہ پھر ماثبت بالسنۃ میں ہے: ایاہ ثم ایاہ ان یشغلہ ببدع الرافضۃ من الندب والنیاحۃ والحزن اذلیس ذلک من اخلاق المومنین۱؎ الخ۔
رافضیوں کی بدعات مثلاً روناپیٹنا، گریہ وزاری کرنا اور سوگ منانا وغیرہ میں مشغول ہونے سے بچو اس لئے یہ کام مومنوں کی عادات واخلاق میں سے نہیں الخ۔ (ت)
(۱؎ الصواعق المحرقۃ الباب الحادی عشر الفصل الاول مکتبہ مجیدیہ ملتان ص۱۸۳ )