| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ) |
روایات موضوعہ پڑھنا بھی حرام سننابھی حرام، ایسی مجالس سے اﷲ عزوجل اور حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کمال ناراض ہیں، ایسی مجالس اور ان کا پڑھنے والا اور اس حال سے آگاہی پاکربھی حاضر ہونے والا سب مستحق غضب الٰہی ہیں یہ جتنے حاضرین ہیں سب وبال شدیدمیں جداجداگرفتار ہیں اوران سب کے وبال کے برابر اس پڑھنے والے پروبال ہے اور خود اس کااپنا گناہ اس پرعلاوہ اور ان حاضرین وقاری سب کے برابرگناہ ایسی مجلس کے بانی پر ہے اور اپناگناہ اس پرطرہ مثلاً ہزارحاضرین مذکور ہوں تو ان پر ہزار گنا اور اس کا عذاب قاری پر ایک ہزار ایک گنا اور بانی پر دوہزار دوگنا ایک ہزار حاضرین کے اور ایک ہزارایک اس قاری کے اور ایک خود اپنا، پھریہ شمار ایک ہی بارنہ ہوگا بلکہ جس قدرروایات موضوعہ جس قدرکلمات نامشروعہ وہ قاری جاہل جری پڑھے گاہرروایت ہرکلمہ پریہ حساب وبال وعذاب تازہ ہونا مثلاً فرض کیجئے کہ ایسے سوکلمات مردودہ اس مجلس میں اس نے پڑھے تو ان حاضرین میں ہرایک پرسو سوگناہ اور اس قاری علم ودین سے عاری پرایک لاکھ ایک سوگناہ اور باقی پردولاکھ دوسو، وقس علٰی ہذا، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من دعا الی ھدی کان لہ من الاجر مثل اجور من تبعہ لاینقص ذلک من اجورھم شیئا ومن دعا الٰی ضلالۃ کان علیہ من الاثم مثل اثام من تبعہ لاینقص ذٰلک من اثامھم شیئا۱؎۔ رواہ الائمۃ احمد ومسلم والاربعۃ عن ابی ھریرۃ۔
جس شخص نے لوگوں کوہدایت کی طرف بلایا تو اس کے جتنے پیروکار ہوں گے ان سب کے اجروثواب کے برابر اس داعی کو بھی ثواب ہوگا اور پیروکاروں کے اجروثواب میں بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوگی، اور جس کسی شخص نے لوگوں کوگمراہی کی طرف دعوت دی تو جتنے لوگ ان کااتباع کریں گے ان سب کے برابر دعوت دینے والوں کو گناہ ہوگا لیکن گمراہی میں اتباع کرنے والوں کے گناہوں میں بھی ذرہ برابر کمی نہیں ہوگی۔ ائمہ کرام امام احمد، مسلم، ترمذی، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے اس کوروایت کیا۔(ت)
(۱؎ مسند احمدبن حنبل عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۳۹۷) (جامع الترمذی ابواب العلم ۲/ ۹۲ وسنن ابن ماجہ باب من سن سنۃ حسنۃ الخ ص۱۹) (سنن ابی داؤد کتاب السنۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۷۹) (صحیح مسلم کتاب العلم باب من سن سنۃ حسنۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۴۱)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پاک ومنزہ ہیں اس سے کہ ایسی ناپاک جگہ تشریف فرماہوں البتہ وہاں ابلیس وشیاطین کاہجوم ہوگا، والعیاذباﷲ رب العالمین (اﷲ تعالٰی کی پناہ جوتمام جہانوں کاپروردگار ہے۔ت) ذکرشریف حضورپرنورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم باوضو ہونامستحب ہے اوربے وضو بھی جائز اگرنیت معاذاﷲ استخفاف کی نہ ہو، حدیث صحیح میں ہے:
کان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یذکراﷲ علٰی کل احیانہ۲؎۔ رواہ الائمۃ احمد ومسلم والاربعۃ الا النسائی عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا ورواہ البخاری تعلیقا۔
نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہمہ وقت اﷲ تعالٰی کاذکر فرمایاکرتے تھے، چنانچہ امام احمد، مسلم، بخاری، ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ (سوائے نسائی کے) سب نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کی سند سے اس کو روایت کیا البتہ امام بخاری نے بطور تعلیق اس کو روایت کیاہے۔(ت)
(۲؎ صحیح مسلم کتاب الحیض باب ذکراﷲ تعالٰی فی حال الجنابۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶۲) (صحیح البخاری ۱/ ۴۴ و ۸۸ وسنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب فی الرجل بذکراﷲ الخ ۱/ ۴) (سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ ذکراﷲ تعالٰی علی الخلاء ص ۲۶) (مسند احمدبن حنبل عن عائشہ رضی اﷲ عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/ ۷۰ و ۱۵۳ )
اور اگرعیاذا باﷲ استخفاف وتحقیر کی نیت ہو توصریح کفر ہے، یوہیں مسائل شرعیہ کے ساتھ استہزاء صراحۃً کفرہے،
قال اﷲ تعالٰی قل اباﷲ واٰیتہ ورسولہ کنتم تستھزؤن ط لاتعتذروا قد کفرتم بعد ایمانکم۱؎ ط
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: اے میرے محبوب رسول! ان لوگوں سے فرمادیجئے کیاتم اﷲ تعالٰی اس کی آیات اور اس کے رسول سے استہزأ اور مذاق کرتے ہو، بہانے نہ بناؤ کیونکہ تم ایمان کاانکار کرنے والے ہو۔(ت)
(۱القرآن الکریم ۹ / ۶۵،۶۶)
یوہیں وہ کلمہ ملعونہ کہ داڑھی منڈانے والے رکھانے والوں سے بہترہیں الخ صاف سنت متواترہ کی توہین اورکلمہ کفرہے،
والعیاذباﷲ رب العالمین۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم
(خدا کی پناہ جوتمام جہانوں کاپروردگار ہے۔ اور اﷲ تعالٰی پاک، برتر، سب سے زیادہ علم والا ہے اور اس عزت وتوقیر کے مالک کاعلم کامل اور نہایت درجہ پختہ ہے۔ت) فقط۔
مسئلہ ۳۷۲ : ازاترولی ضلع اعظم گڑھ محلہ مغلاں مرسلہ اکرام عظیم صاحب ۱۸جمادی الاولٰی ۱۳۲۱ھ بے نمازی مسلمان کے گھرمیلاد شریف کی محفل میں شریک ہونا یاپڑھنا جائزہے یانہیں؟
الجواب: مجلس میلادشریف نیک کام ہے اور نیک کام میں شرکت بری نہیں، ہاں اگر اس کی تنبیہ کے لئے اس سے میل جول یک لخت چھوڑدیا ہوتو نہ شریک ہوں یہی بہترہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۷۳ :ازکلی ناگر ضلع پیلی بھیت مرسلہ اکبرعلی صاحب ۲جمادی الآخر ۱۳۲۲ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص حرام کرنے والا مولود پڑھتاہے اور حرام سے توبہ کرتاہے اور بعد مولود پڑھنے کے پھرحرام کرنے پرکمرباندھے ہے تو اس کے حق میں مولود کاپڑھنا کیساہے اور وہ شخص مجلس مولود پڑھنے کے اور بلانے کے قابل ہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب: جس شخص کی نسبت معروف ومشہورہے کہ معاذاﷲ وہ حرام کارہے اس سے میلاد شریف پڑھوانا اور اسے چوکی پربٹھانا منع ہے،
کما فی تبیین الحقائق وفتح اﷲ المعین وغیرھما، فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعا۱؎۔
جیسا کہ تبیین الحقائق، فتح اﷲ المعین اور دیگر کتب میں مذکورہ کہ فاسق کو (امامت کیلئے) آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شریعت میں لوگوں پراس کی توہین واجب ہے (ت)
(۱؎ فتح المعین کتاب الصلٰوۃ باب الامامۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱/ ۲۰۸) (تبیین الحقائق کتاب الصلٰوۃ باب الامامۃ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ بولاق مصر ۱/ ۱۳۴)
مگرشہرت صحیح ہو نہ جھوٹی بے معنی تہمت، جیسے آج کل بہت نا اہل جاہل خداناترس اپنے جھوٹے اوہام کے باعث مسلمانوں پراتہام لگادیتے ہیں اس سے وہ خود سخت حرام وکبیرہ کے مرتکب اور شدید سزا کے مستحق ہوتے ہیں۔ رہاخالی بلانا وہ مصلحت دینی پرہے اگرجانے کہ بہ نرمی سمجھانے میں زیادہ اثر کی امید ہے تویوہیں کرے اور اگر جانے کہ دور کرنے اور سختی برتنے میں زیادہ نفع ہوگا، تویہی کرے، اور حال یکساں ہے توشریعت کی غیرت ا ور دوسروں کی عبرت کیلئے علانیہ دوری بہتر اور اپنے عیبوں پرنظر اور مسلمانوں کے ساتھ رفق ورحمت کے لئے خفیہ نرمی اولٰی۔ واﷲ تعالٰی اعلم