| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ) |
من تعظیمہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الفرح بلیلۃ ولادتہ وقرأۃ المولد والقیام عند ذکر ولادتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم واطعام الطعام وغیرذٰلک مما یعتاد الناس فعلہ من انواع البر فان ذٰلک کلہ من تعظیمہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وقد اخردت مسائلۃ المولد ومایتعلق بھا بالتالیف واعتنی بذٰلک کثیر من العلماء فالفوا فی ذٰلک مصنفات مشحونۃ بالادلۃ والبراھین فلاحاجۃ لنا الی الاطالۃ بذلک انتھی۲؎۔
حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ان کی ولادت والی رات میں خوشی منائے، تذکرہ ولادت کرے اور بوقت ولادت قیام کرے، لوگوں کو کھاناکھلائے اور ان کے علاوہ دیگرامورِخیر بھی انجام دے جن کے کرنے کے عادی ہیں۔ اس لئے کہ یہ سب کام حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم میں شمار ہوتے ہیں، اور میں نے میلاد رسول اور اس سے متعلقہ مسائل پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے اور بے شمار علماء نے بھی اس کا اہتمام کیاہے چنانچہ اس موضوع پر ان حضرات نے ایسی کتابیں تصنیف فرمائیں جو عقلی ونقلی دلائل سے بھری پڑی ہیں، لہٰذا ہمیں اس موضوع کو طویل کرنے کی چنداں ضرورت نہیں، انتہی۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۲؎الدررالسنیہ )
مسئلہ ۳۶۹ : ازکانپور پرانی سبزی منڈی کی مسجد مرسلہ مولوی احمدعلی صاحب ۱۶ ربیع الاول ۱۳۱۶ھ ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی(اﷲ تعالٰی آپ پررحم وکرم فرمائے آپ کا کیاارشاد ہے) اس مسئلہ میں کہ دیارِبنگالہ میں آج کل بعض بعض مولوی اور میاں جی دوتین چھوکروں کوجولحن دلکش ودلآویز رکھتاہو اردو وفارسی غزل کا وزن گٹکری کاساتھ تعلیم دیتے ہیں جب کہیں مولود شریف کی دعوت ہوتی ہے تو ان چھوکروں کو ہمراہ لے کرجاتے ہیں اور محفل میلاد شریف ہوگا کرکے عوام وخواص کواطلاع واعلان کرتے ہیں جب سامعین مجتمع ہوجاتے ہیں توفارسی واردوغزل اور قصائد واشعار گوناگوں کو ان چھوکروں کے سور سے اپنی سورملاکر اس طور پڑھتے کہ مجال کیا ہے کسی کو جو اس میں اور رنڈیوں کے گانے میں کچھ بھی فرق سمجھے مگرسامعین میں سے اکثر توایسے ہیں کہ فارسی واردو توبالکل نہیں سمجھتے مجردوزن اور آوازہی پرفریفتہ ومفتون ہوکر سماعت کرتے ہیں اور گاہ بگاہ عبارت منثورہ سے اپنی زبان میں سمجھادیتے ہیں وہ بھی اکثر بے اصل ہے اس طور پر پڑھناجائزہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب : ایسا پڑھنا ممنوع ہے، یہ پڑھنا نہیں گانا ہے اور امرد کے گانے میں فتنہ ہے، اور فتنے کا بند کرنا واجب۔
فی ردالمحتار عن التاتارخانیہ عن العیون، سماع غناء حرام ومن اباحہ فلمن تخلی عن اللھو وتحلی بالتقوی واحتاج الٰی ذلک احتیاج المریض الی الدواء ولہ شرائط ستۃ ان لایکون فیھم امرد۱؎ الخ ملخصاً وفی الخیریۃ عن التتارخانیۃ عن نصاب الاحتساب التغنی واستماع الغناء حرام ومن اباحہ فلمن تخلی عن الھوی ولہ شرائط ان لایکون فیھم امرد ولامرأۃ۲؎ الخ ملتقطا۔
فتاوٰی شامی میں بحوالہ تاتارخانیہ ''العیون'' سے روایت ہے کہ گانا سنناحرام غذاہے پس جس کسی نے اسے مباح قراردیا تویہ اس کے لئے اس صورت میں ہے کہ کھیل وغیرہ سے خالی ہو اور زیور تقوٰی سے آراستہ ہو اور اسے اس کی طرف کچھ اس طرح کی احتیاج اور ضرورت ہو جس طرح مریض کو دوا کی احتیاج ہوتی ہے اور اس کے لئے چھ شرائط ہیں، ایک یہ کہ ان میں کوئی بے ریش لڑکاشریک نہ ہو الخ ملخصا، اور فتاوٰی خیریہ میں تتارخانیہ کے حوالہ سے نصاب الاحتساب سے منقول ہے کہ گانا گانا اور سنناحرام ہے اور جس نے سے مباح کہا تو یہ اس کے لئے ہے جو نفسانی خواہش سے خالی ہو، اور اس کے جواز کی چھ شرائط ہیں، ایک یہ کہ ان میں کوئی بے ریش لڑکا اور کوئی عورت شریک نہ ہو اھ ملتقطا(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۲۲) (۲؎ فتاوٰی خیریۃ کتاب الکراہۃ والاستحسان دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۷۹)
یوہیں بے اصل وباطل روایات کا پڑھنا سننا حرام وگناہ ہے، نص علیہ علماء القدیم والحدیث فی کتب الفقہ واصول الحدیث (چنانچہ قدیم علماء کرام نے فقہ اور اصول حدیث کی کتابوں میں اس کی صراحت فرمائی ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۷۰: ۱۸ذیقعدہ ۱۳۱۹ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اس زمانہ میں بہت لوگ اس قسم کے ہیں کہ تفسیر وحدیث بے خواندہ وبے اجازت اساتذہ برسربازار ومسجد وغیرہ بطور وعظ ونصائح کے بیان کرتے ہیں حالانکہ معنی ومطلب میں کچھ مس نہیں فقط اردوکتابیں دیکھ کے کہتے ہیں، یہ کہنا اور بیان کرنا ان لوگوں کے لئے شرعاً جائزہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب :حرام ہے، اور ایسا وعظ سننا بھی حرام،
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من قال فی القراٰن بغیرعلم فلیتبوأ مقعدہ من النار، والعیاذباﷲ العزیز الغفار، والحدیث رواہ الترمذی۱؎ وصححہ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
جس شخص نے قرآن مجید میں بغیرعلم کچھ کہا اسے اپنا ٹھکانا دوزخ سمجھ لیناچاہئے، اﷲ تعالٰی کی پناہ جو سب پر غالب اور سب کچھ بخش دینے والاہے۔ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا اور اسے صحیح قراردے کر حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے حوالہ سے ذکرفرمایا، واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ جامع الترمذی ابواب تفسیر القرآن باب ماجاء یفسرالقرآن آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۱۹)
مسئلہ ۳۷۱ : ازبدایوں ۱۸محرم ۱۳۲۱ھ کیافرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ مجلس میلاد حضورخیرالعباد علیہ الوف تحیۃ الٰی یوم التناد ، میں جوشخص کہ مخالف شرع مطہر ہو مثلاً تارک صلٰوۃ شارب خمرہو داڑھی کترواتایامنڈواتا ہومونچھیں بڑھاتاہو بے وضو بے ادبی گستاخی سے بروایات موضوعہ تنہا یادوچارآدمیوں کے ساتھ بیٹھ کر مولود پڑھتاہو اور اگرکوئی مسئلہ بتائے تنبیہ کرے تواستہزاء ومزاح کرے بلکہ اپنے معتقدین کوحکم کرے کہ داڑھی منڈانے والے رکھانے والوں سے بہترہیں کیونکہ جیسے ان کے رخسار صاف ہوتے ہیں ایسے ہی ان کے دل مثل آئینہ کے صاف وشفاف ہے، ایسے شخص سے مولود شریف پڑھوانا یا اس کو پڑھنا یا منبرومسند پر تعظیماً بیٹھنا بٹھانا بانی مجلس وحاضرین وسامعین کاایسے اشخاص کو بوجہ خوش آوازی کے چوکی پرمولود پڑھنے بٹھانا جائزہے یانہیں؟ اور ایسے آدمی سے رب العزت جل مجدہ اور روح حضور فخرعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی خوش ہوتی ہے یاناخوش؟ اور پروردگار عالم ایسی مجالس سے خوش ہوکر رحمت نازل فرماتاہے یاغضب؟ اور حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان محافل میں تشریف لاتے ہیں یانہیں؟ بانیان اورحاضرین محافل کے مستحق رحمت ہیں یاغضب؟ بیّنوا من الکتاب توجروا عند رب الارباب (کتاب کے حوالے سے بیان فرماؤ تاکہ رب الارباب کے ہاں سے اجروثواب پاؤ۔ت)
الجواب : افعال مذکورہ سخت کبائر ہیں اور ان کامرتکب اشدفاسق وفاجر مستحق عذاب یزداں وغضب رحمن اوردنیامیں مستوجب ہزاراں ذلت وہوان خوش آوازی خواہ کسی علت نفسانی کے باعث اسے منبرومسند پر کہ حقیقۃً مسندحضورپرنورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہے تعظیماً بٹھانا اس سے مجلس مبارک پڑھوانا حرام ہے، تبیین الحقائق وفتح اﷲ المعین وطحطاوی علی مراقی الفلاح وغیرہا میں ہے:
فی تقدیم الفاسق تعظیمہ وقد وجب علیہم اھانتہ شرعا۱؎۔
فاسق کو آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ بوجہ فسق لوگوں پرشرعاً اس کی توہین کرنا واجب اور ضروری ہے۔(ت)
(۱؎ فتح المعین کتاب الصلٰوۃ باب الامامۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۲۰۸) (تبیین الحقائق باب الامامۃ المطبعۃ الکبری بولاق مصر ۱/ ۱۳۴) (غنیۃ المستملی فصل فی الامامۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۱۳)