Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
178 - 190
تیسری سخت بیہودہ بات کتاب وقاری کا نیچے اور کافروں کاچھجّوں پرہونا کہ سخت بے تعظیمی کتاب وذکر شریف تھی، حضوراقدس سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم توجب حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اپنا ذکرشریف سنتے تومسجد اقدس میں ان کے لئے منبربچھاتے وہ اس پرکھڑے ہوکر حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نعت ومدحت اور حضور کے دشمنوں بدگویوں کی مذمت بیان کرتے کمارواہ الامام البخاری فی صحیحہ (جیسا کہ امام بخاری نے اپنی صحیح میں اس کو روایت کیاہے۔ت) نہ کہ معاذاﷲ کتاب نیچے اور کافر اونچے ہوں۔ 

زید نے جواپنی مجلس خوانی خصوصاً راگ سے پڑھنے کی اُجرت مقرررکھی ہے ناجائزوحرام ہے اس کا لینا اسے ہرگزجائز نہیں اس کاکھاناصراحۃً حرام کھاناہے اس پرواجب ہے کہ جن جن سے فیس لی ہے یاد کرکے سب کو واپس دے، وہ نہ رہے ہوں تو ان کے وارثوں کو پھیرے، پتانہ چلے تو اتنامال فقیروں پر تصدّق کرے، اور آئندہ اس حرام خوری سے توبہ کرے توگناہ سے پاک ہو۔ اول تو سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاذکرپاک خود عمدہ طاعات واجل عبادات سے ہے اور طاعت وعبادت پرفیس لینی حرام،
مبسوط پھر خلاصہ پھر عالمگیری میں ہے:
لایجوز الاستیجار علی الطاعات کالتذکیر ولایجب الاجر۲؎۱ھ ملخصاً۔
نیک کاموں میں اجرت لیناجائزنہیں، جیسے وعظ کرنا۔ اوراجرت واجب نہیں ہوگی ۱ھ ملخصاً(ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ     کتاب الاجارہ     الباب السادس عشر     نورانی کتب خانہ پشاور         ۴/ ۴۴۸ )
خلاصہ پھرتتارخانیہ پھرہندیہ میں ہے :
  الواعظ اذا سأل الناس شیئا فی المجلس لنفسہ لایحل لہ ذٰلک لانہ اکتساب الدنیا بالعلم۱؎۔
  جب وعظ کرنے والا مجلس میں اپنے لئے کچھ مانگے تو اس کے لئے ایساکرناحلال نہیں کیونکہ اس میں علم کے ساتھ دنیا کاحصول ہے۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ  کتاب الکراھیۃ   الباب الرابع    نورانی کتب خانہ پشاور   ۵/ ۳۱۹)
قنیہ پھر اشباہ پھردرمختار میں ہے :
ونظم الدر اتم، حیث یقول تسمی شرکۃ صنائع واعمال وابدان ان اتفق  صانعان علی ان یتقبلا الاعمال التی یمکن استحقاقھا ومنہ تعلیم کتابۃ وقراٰن و فقہ علی المفتی بہ بخلاف دلالین ومغنین وشھود محاکم وقراء مجالس و تعاز ووعاظ وسوّال۲؎ ۱ھ۔
درمختار کی عبارت زیادہ تام اور مفصل ہے۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں(شرکت تقبل) جس کو شرکت صنائع واعمال وابدان کہاجاتا ہے (صنائع صنعت کی جمع ہے اس کے معنی ہیں پیشہ اور پیشہ ور کی کارکردگی۔ اعمال اورابدان، عمل اور بدن کی جمع ہیں۔ چونکہ اس میں غالباً دونوں افراد کاجسمانی کام ہوتاہے اس لئے اس کو یہ نام دیاگیا) اگردوپیشہ وراس بات پرباہمی اتفاق کرلیں کہ وہ ایساکام لیں گے جس میں استحقاق اجرت ممکن ہے اور اسی شعبہ سے کتابت سکھانا، قرآن مجید اور علم فقہ پڑھانا اس قول کے مطابق کہ جس پر فتوٰی دیاگیاہے بخلاف دودلالوں کی شرکت کے اور دوگویّوں کی شرکت کے۔ فیصلے کے دوگواہوں، مجلس میں قرآن مجید پڑھنے والوں، تعزیت کرنے والوں، وعظ کرنے والوں اور اصرار کے ساتھ مانگنے والوں کی شرکت کے ۱ھ (ت)
 (۲؎ درمختار     کتاب الشرکۃ      مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۳۷۳)
ثانیاً بیان سائل سے ظاہر کہ وہ اپنی شعر خوانی وزمزمہ سنجی کی فیس لیتا ہے یہ بھی محض حرام۔
فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
لاتجوز الاجارۃ علی شیئ من الغناء و قراء ۃ الشعر ولااجرفی ذلک وھذا کلہ قول ابی حنیفۃ وابی یوسف ومحمد رحمہم اﷲ تعالٰی کذا فی غایۃ البیان۳؎۱ھ مختصراً۔
گانا اور اشعار پڑھنا (ایسے اعمال ہیں) ان میں سے کسی پرمزدوری اور اجرت لیناجائزنہیں اور نہ ان میں اجرت ہے۔ امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف اور امام محمد رحمہم اﷲ تعالٰی تینوں کایہ قول اور فتوٰی ہے، چنانچہ غایۃ البیان میں یونہی مذکورہے ۱ھ مختصراً۔(ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیۃ     کتاب الاجارۃ             نورانی کتب خانہ پشاور     ۴/ ۴۴۹)
اور یہیں سے ظاہر ہواکہ امامت میں اس کاسبقت کرنا بھی گناہ ہے جبکہ حاضرین میں اس کے سوا کوئی اور شخص قرآن مجید صحیح پڑھنے والا سنی صحیح العقیدہ متقی موجود ہوکہ جب یہ علانیہ حرام کھاتا ہے تو کھلا فاسق ہے اور فاسق کو اور لوگ اگرآگے کریں تو گنہگار ہوں نہ کہ خود ہی آگے بڑھ جائے۔
غنیہ میں ہے:
لو قدموا فاسقا یأثمون۱؎۔
  اگرکسی فاسق کو لوگ امامت کے لئے آگے کریں توگناہگار ہوں گے۔(ت)
یوہیں اپنے آپ کو بے ضرورت شرعی مولوی صاحب لکھنابھی گناہ ومخالف حکم قرآن عظیم ہے۔
قال اﷲ تعالٰی ھو اعلم بکم اذ انشأکم من الارض واذ انتم اجنّۃ فی بطون امھٰتکم فلاتزکّوا انفسکم ھو اعلم بمن اتقی۲؎o
 (اﷲ تعالٰی نے فرمایا) اﷲ تعالٰی تمہیں خوب جانتا ہے جب اس نے تمہیں زمین سے اٹھان دی اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں چھپے تھے تو اپنی جانوں کوآپ اچھانہ کہو خدا خوب جانتاہے جوپرہیزگار ہے۔
اورفرماتاہے:
الم تر الی الذین یزکّون انفسھم بل اﷲ یزکی من یشاء۳؎۔
کیاتونے نہ دیکھا اُن لوگوں کو جو آپ اپنی جان کو ستھرابتاتے ہیں بلکہ خداستھراکرتاہے جسے چاہے۔
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من قال اناعالم فھوجاھل ۔ رواہ الطبرانی فی الاوسط ۴؎  عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما بسند حسن۔
جواپنے آپ کو عالم کہے وہ جاہل ہے (امام طبرانی نے الاوسط میں سندحسن کے ساتھ حضرت عبداﷲ ابن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما سے اس کو روایت کیاہے۔ت)
 (۴؎المعجم الاوسط للطبرانی     حدیث ۶۸۴۲     مکتبۃ المعارف ریاض    ۷ /۴۳۳)
ہاں اگر کوئی شخص حقیقت میں عالم دین ہو اور لوگ اس کے فضل سے ناواقف اور یہ اس سچی نیت سے کہ وہ آگاہ ہوکر فیض لیں ہدایت پائیں اپنا عالم ہوناظاہر کرے تو مضائقہ نہیں جیسے سیدنا یوسف علٰی نبینا الکریم وعلیہ الصلٰوۃ والتسلیم نے فرمایاتھا:
انّی حفیظ علیمٌ ۱؎
 (بیشک میں حفاظت کرنے والا اور جاننے والاہوں۔ت) پھریہ بھی سچے عالموں کے لئے ہے۔
 (۱؎ القرآن الکریم     ۱۲/ ۵۵)
زیدجاہل کااپنے آپ کو مولوی صاحب کہنا دوناگناہ ہے کہ اس کے ساتھ جھوٹ اور جھوٹی تعریف کاپسندکرنا بھی شامل ہوا۔ قا
قال اﷲ عزوجل لاتحسبن الذین یفرحون بمااتواویحبون ان یحمدوابمالم یفعلوا فلاتحسبنّھم بمفازۃ من العذاب ولھم عذاب الیم۲؎۔
 (اﷲ عزوجل نے فرمایا) ہرگزنہ جانیو تو انہیں جو اِتراتے ہیں اپنے کام پراور دوست رکھتے ہیں اسے کہ تعریف کئے جائیں اس بات سے جو انہوں نے نہ کی توہرگز نہ جانیو انہیں عذاب سے پناہ کی جگہ میں اور اُن کے لئے دکھ کی مارہے۔
(۲؎ القرآن الکریم   ۳/ ۱۸۸)
معالم شریف میں عکرمۃ تابعی شاگرد عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے اس آیت کی تفسیر میں منقول:
یفرحون باضلالھم الناس وبنسبۃ الناس ایاھم الی العلم ولیسوا باھل العلم۳؎۔
خوش ہوتے ہیں لوگوں کوبہکانے اور اس پر کہ لوگ انہیں مولوی کہیں حالانکہ مولوی نہیں۔
 (۳؎ معالم التنزیل     تحت آیۃ    ۳/ ۱۸۸     مصطفی البابی حلبی مصر     ۱/ ۴۶۵)
جاہل کی وعظ گوئی بھی گناہ ہے۔ وعظ میں قرآن مجید کی تفسیر یانبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی حدیث یاشریعت کامسئلہ اور جاہل کو ان میں کسی چیز کابیان جائزنہیں،
Flag Counter