مسئلہ ۳۶۵ : ازامروہہ مرسلہ مولوی سیدمحمدشاہد صاحب میلاد خواں ۲۲شعبان ۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مجالس میلاد میں امردوں کوبازوبناکرپڑھنادرست ہے یا نہیں؟ اور وہ کون سی حالتیں ہیں جن کے سبب سے مولود کاپڑھناسنناناجائزہوجاتاہے۔ بیّنواتوجروا (بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب :امرد کہ اپنی خوبصورتی یاخوش آوازی سے محل اندیشہ فتنہ ہو خوش الحانی میں اسے بازو بنانے سے ممانعت کی جائے گی
فان ھذا الشرع المطھر جاء بسد الذرائع واﷲ لایحب الفساد
(کیونکہ یہ پاک شریعت (ناجائز) ذرائع کی روک تھام کرتی ہے اﷲ تعالٰی فتنہ وفساد کوپسندنہیں فرماتا۔ت) منقول ہے کہ عورت کے ساتھ دوشیطان ہوتے ہیں اور امرد کے ساتھ ستّر۔ علماء فرماتے ہیں امردکاحکم مثل عورت کے ہے۔
فی ردالمحتار عن الھندیۃ عن الملتقط الغلام اذا بلغ مبلغ الرجال ولم یکن صبیحا فحکمہ حکم الرجال وان کان صبیحا فحکمہ حکم النساء۱؎۔
ردالمحتار میں بحوالہ ہندیہ اس نے الملتقط سے نقل کیاہے کہ لڑکا جب مردوں کی حد کو پہنچ جائے اور خوبصورت نہ ہو تو وہ مردوں کا حکم رکھتاہے یعنی اس پرمردوں والے حکم کا اطلاق ہوگا اور اگروہ خوبصورت ہوتو عورتوں کاحکم رکھتا ہے(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی النظروالمس داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۳۳)
علماء نے اباحت سماع کے شرائط میں یہ بھی شمارفرمایا کہ ان میں کوئی امردنہ ہو۔
فی ردالمحتار عن التتارخانیۃ عن العیون، لہ شرائط ستۃ ان لایکون فیھم امرد۲؎ الخ۔
فتاوٰی شامی میں تتارخانیہ سے اس نے العیون سے روایت کی ہے کہ سماع کے لئے چھ شرائط ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ان میں بے ریش لڑکانہ ہو الخ۔(ت)
(۲؎ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی النظروالمس داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۲۲ )
وہ پڑھنا سننا جومنکرات شرعیہ پرمشتمل ہو، ناجائز ہے جیسے روایات باطلہ وحکایات موضوعہ واشعار خلاف شرع خصوصاً جن میں توہین انبیاء وملائکہ علیہم الصلٰوۃ والسلام ہوکہ آج کل کے جاہل نعت گویوں کے کلام میں یہ بلائے عظیم بکثرت ہے حالانکہ وہ صریح کلمہ کفرہے۔ والعیاذباﷲ تعالٰی۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۶۶ :کوہ نینی تال چھوٹا بازار مرسلہ شیخ علی الدین صاحب ۲۷ ربیع الآخرشریف ۱۳۱۳ھ
خدمت میں علمائے دین کی عرض ہے کہ جومولود شریف چندہ اہل ہنود سے ہوا اس میں بدنی اور مالی شرکت اور اہتمام اہل ہنود رہا اور وقت شروع مولود شریف اہل ہنود کی اجازت سے ہی شروع ہوا اور ان کی اجازت سے ہی ختم ہوا اور ان کی اجازت سے ہی شیرینی تقسیم ہوئی اور نیچے عام سڑک بازار میں فرش ہوکر کتاب پڑھی جاتی تھی اور اوپردکانوں کے چپ وراست بالاخانوں کے چھجّوں پر اہل ہنود بیٹھے تھے اور ساتھ حکم کے اہتمام کرارہے تھے اور ہرایک کام ان کی اجازت سے ہی ہوتا تھا اور یہ شخص ایسے لہجہ سے آوازبناکر پڑھتاہے کہ مراثی لوگوں کو مات کرتاہے جولوگ بے علم وناواقف ہیں وہ اس کی آواز اور لہجہ پر لوٹ ہوجاتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس زید نے اپنے پانچ روپے فیس مولود شریف کی پڑھوائی مقرر کررکھے ہیں بغیرپانچ روپیہ فیس کے کسی کے یہاں جاتانہیں اور وقت نماز سب سے پہلے سبقت امامت کی کرتا ہے اور اپنے آپ کو ''مولوی صاحب'' کے لفظوں سے اپنے قلم سے لکھتاہے اور کچھ معمولی روایتیں علماء دین سے یاد کرلی ہیں اور جمعہ کے روز مسجد میں منبر پر بیٹھ کر وعظ پڑھتاہے اور پیرامریدی بھی کرتاہے اور وقت ختم ہونے مولود شریف کے اعلان بآوازبلند اسی زید مولود خواں نے کہا کہ دیکھو ان اہل ہنود صاحبوں کی امداد اور شرکت سے میرے یہاں پر کیسی رونق روشنی وغیرہ کی تم مسلمانوں سے دس حصہ اور بیس حصہ زائد ہوئی۔ لہٰذا اب اس معاملہ میں استفتاء شرعی جوکچھ ہو وہ مشرح ہرفقرہ کاجواب تحریر فرمائیں۔ جملہ اہل اسلام کوہ نینی تال چھوٹابازار ۔
الجواب : سائلین کے بیان سابق سے واضح ہوا کہ یہ چندہ ہندؤوں نے خود نہ کیا بلکہ زید میلادخواں نے مجلس کی اورمسلمانوں سے برخلاف ہوکرہندؤوں سے چندہ لیا اور ان کی امداد سے یہ کام کیا یہ سراپا خلاف شرع ہوا، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انا لانستعین بمشرک۔ اخرجہ احمد وابوداؤد۱؎ وابن ماجۃ عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا بسندصحیح۔
ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے( اس کو صحیح سند کے ساتھ امام احمد، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے ام المومنین سیدعائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کیاہے۔ت)
(۱؎ مسند احمد بن حنبل عن عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/ ۶۸ )
(سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب فی المشرک یسہم لہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۹)
(سنن ابن ماجہ ابواب الجہاد باب الاستعانۃ بالمشرکین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۰۸)
علمائے کرام تو اموردین میں کافر کتابی سے اتنی مددلینی بھی مکروہ رکھتے ہیں کہ اپنی قربانی ذبح کرنے کو اس سے کہے حالانکہ وہ ایک کام خدمت لینا ہے نہ کہ معاذاﷲ دینی بات کے لئے مشرکوں سے مانگنا، دینی کام کادارومدار سب انہیں کی اجازت پرہونا اسے کوئی سچامسلمان کامل الایمان گوارانہیں کرسکتا۔
تنویرالابصار وردّالمحتار وغیرہما میں ہے:
کرہ ذبح الکتابی ای بالامر لانھا قربۃ ولاینبغی ان یستعان بالکافر فی امورالدین۲؎ الخ۔
کسی مسلمان کے حکم دینے سے کتابی کا قربانی کے جانورکوذبح کرنامکروہ ہے اس لئے کہ وہ قربت ہے یعنی تقرب الٰہی کاذریعہ ہے اور یہ مناسب نہیں کہ دینی کاموں میں کسی کافر سے مدد لی جائے۔ الخ (ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۰۸ )
دوسرا امرناجائز اس مجلس میں یہ تھا کہ عام سڑک پرخصوصاً بازار میں جہاں آمدورفت کی زیادہ کثرت رہتی ہے فرش کرکے کتاب پڑھنا کہ یہ حقوق عامہ میں دست اندازی ہوئی شریعت میں تو اسی لحاظ سے راستہ میں نماز پڑھنی بھی مکروہ ہوئی نہ کہ بازار کی سڑک پر مجلس۔
درمختار وردالمحتار میں ہے:
تکرہ الصلٰوۃ فی طریق لان فیہ شغلہ بمالیس لہ لانھا حق العامۃ للمرور۱؎ ۱ھ مختصراً۔
راستے میں نمازپڑھنا مکروہ ہے کیونکہ راستہ اس کام کے لئے نہیں لہٰذا اس کام کاکرنا لوگوں کے گزرنے کے حق کو متاثرکرتاہے ۱ھ مختصراً (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۲۵۴)