Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
176 - 190
مسئلہ ۳۶۱: ازاجمیر مقدس محلہ لاکھی کوٹھری اوپری گلی نزدپیرزادگان مسئولہ کمال الدین ۸شوال ۱۳۳۹ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص اپنے کو عوام پرمولوی ظاہرکرے جس نے نہ تو کسی مدرسہ میں تعلیم باقاعدہ حاصل کی ہو اور نہ جس نے کوئی سند منشی عالم فاضل کی حاصل کی ہو اور خود ساختہ استفتاء پرخود ہی جواب تحریرکردے اور طلباء ومدرسین سے دستخط کرائے اور جس سے اپنی ذات کاممتنع ہونامقصود ہو اور جوجیدعالم ومولوی صاحبان وقاضی صاحب پرشہرت حاصل کرنے اور زرحاصل کرنے کی غرض سے جاوبیجاحملہ کرے اور جو مدت تک قاضی صاحب کے پیچھے نمازاداکرتارہا ہو اور چندروز سے قاضی صاحب کے پیچھے نمازادانہیں کرتاہے اور صدہا علماقاضی صاحب کے پیچھے نماز اداکرتے رہے ہیں۔ بینواتوجروا۔
الجواب : سندحاصل کرنا توکچھ ضرورنہیں، ہاں باقاعدہ تعلیم پاناضرورہے مدرسہ میں ہو یاکسی عالم کے مکان پر، اور جس نے بے قاعدہ تعلیم پائی وہ جاہل محض سے بدتر، نیم ملاخطرہ ایمان ہوگا ایسے شخص کو فتوٰی نویسی پرجرأت حرام ہے۔ حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
  من افتی بغیر علم لعنتہ ملٰئکۃ السماء والارض ۱؎۔
جوبے علم فتوٰی دے اس پرآسمان وزمین کے فرشتوں کی لعنت ہے۔
 (۱؎ کنزالعمال     بحوالہ ابن عساکر عن علی     حدیث ۲۹۰۱۸     مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۱۰/ ۱۹۳ )
اور اگرفتوٰی سے اگرچہ صحیح ہو وجہ اﷲ مقصودنہیں بلکہ اپناکوئی دنیاوی نفع منظورہے تویہ دوسرا سبب لعنت ہے کہ آیات اﷲ کے عوض ثمن قلیل حاصل کرنے پرفرمایاگیا:
  اولٰئک لاخلاق لھم فی الاٰخرۃ ولایکلمھم اﷲ ولاینظر الیھم یوم القٰیمۃ ولایزکیھم ولھم عذاب الیم۲؎۔
ان کاآخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اﷲ ان سے کلام نہ فرمائے گا اور نہ قیامت کے دن ان کی طرف نظررحمت کرے اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
(۲؎ القرآن الکریم     ۳/ ۷۷ )
اور علمائے دین کی توہین کرنے والا منافق ہے۔ حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلٰثۃ لایستخف بحقھم الامنافق بین النفاق ذوالعلم وذوالشیبۃ فی الاسلام و امام مقسط۱؎۔
تین شخصوں کاحق ہلکانہ جائے گا مگر جومنافق کھلا منافق ہو عالم اوروہ جسے اسلام میں بڑھاپا آیا اور سلطان اسلام عادل۔
 (۱؎ المعجم الکبیر        حدیث ۷۸۱۹    المکتبۃ الفیصلیہ بیروت     ۸/ ۲۳۸)

(کنزالعمال         حدیث ۴۳۸۱۱     موسسۃ الرسالہ بیروت   ۱۶/ ۳۲)
تحصیل زرکے لئے علماء مسلمین پربیجاحملہ کرنے والا ظالم ہے اور ظلم قیامت کے دن ظلمات، قاضی مذکور جیسے امام کے پیچھے بلاوجہ شرعی نماز ترک کرنا تفریق جماعت یاترک جماعت ہے، اور دونوں حرام وناجائز۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۶۲: ازیوناورعلاقہ پران ملک مالوہ مسئولہ قاسم علی ۱۸ذی القعدہ ۱۳۳۹ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص اسلام وایمان وشرع شریف کے احکام کوجانتاہے اور لوگوں کوگناہ سے بچنے کی ہدایت اس آیت کے وسیلے
فذکر ان نفعت الذکری۲؎
کرسکتاہے یانہیں؟
 (۲؎ القرآن الکریم     ۸۷/ ۶ )
الجواب : اگرعالم ہے تو اس کایہ منصب ہے اور جاہل کو وعظ کہنے کی اجازت نہیں وہ جتناسنوارے گا اس سے زیادہ بگاڑے گا واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۶۳ :ازبھان پورہ مکہراسٹیٹ مسئولہ مرتضٰی خاں پی سارجنٹ سپرنٹنڈنٹ پولس آفس ۱۷ ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ خالد نے خلاف شرع کوئی مسئلہ بیان کیا اور بکر نے جس کے ذہن میں وہ غلط ہے بغرض اصلاح سوال کیاتوکہا بکرکا یہ سوال غلط ہے اور خالد نے یہ مسئلہ شرعیہ استصوابیہ کونہیں سمجھایا تو اس کے لئے کیاحکم ہے؟ بینواتوجروا
الجواب : بکر کے ذہن میں جبکہ خالد کامسئلہ صحیح نہ تھا توبکر کااسے پوچھنا کچھ بے جانہ ہوا اور خالد کانہ بتانا سخت بے جاہوا خصوصاً جبکہ خالد نے مسئلہ غلط بیان کیاہو۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۶۴: ازملک آسام ضلع گوہتی مرسلہ محمد طیب اﷲ ۸ربیع الاول شریف ۱۳۱۲ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص سیدوعالم ایساہے کہ تمام شہر کااستاد ہے اور فتوے وفرائض وامامت عیدگاہ اور جنازہ وغیرہ کاکام اسی سے ہوتاہے۔ اگرکوئی ضیافت میں اکراماً یاامتیازاً ایک ہی دسترخوان پر ان کو برتن میں اور مہمان کو پتے میں کھلائیں توشرعاً یہ درست ہے یانادرست؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب  : بلاشبہہ جائزہے، علماء سادات کو رب العزت عزوجل نے اعزازوامتیاز بخشاتو ان کا عام مسلمانوں سے زیادہ اکرام امرشرع کاامتثال اور صاحب حق کو اس کے حق کا ایفاہے۔
قال اﷲ تعالٰی قل ھل یستوی الذین یعلمون والذین لایعلمون۱؎۔
(اﷲ تعالٰی نے فرمایا) تو فرماکیا برابرہوجائیں گے عالم اور جاہل۔
 (۱؎ القرآن الکریم     ۳۹/ ۹ )
جب اﷲ جل وعلاہی نے علماء وجہلاء کو برابر نہ رکھا تومسلمانوں پر بھی ان کا امتیاز لازم، اسی باب سے ہے علمائے دین کومجالس میں صدرمقام ومسنداکرام پر جگہ دینا کہ سلفاً وخلفاً شائع وذائع اور شرعاً وعرفاً مندوب ومطلوب۔ ام المومنین صدیقہ صلی اﷲ تعالٰی علی بعلہا الکریم وعلیہا وسلم کی خدمت اقدس میں ایک سائل کاگزرہوا اسے ایک ٹکڑا عطافرمادیا ایک شخص خوش لباس شاندار گزرا اسے بٹھاکر کھاناکھلایا اس بارہ میں ام المومنین سے استفسار ہوا، فرمایا حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہرشخص سے اس کے مرتبہ کے لائق برتاؤ کرو۔ دیکھو یہ تفرقہ برتن اور پتّے کے فرق سے کہیں زائدہے اور عالم وجاہل وسید وغیرسید کاامتیاز سائل وخوش لباس کے امتیاز سے کہیں بڑھ کر۔
ابوداؤد فی سننہ عن میمون بن ابی شبیب ان عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا مرّبھا رجل علیہ ثیاب وھیأۃ فاقعدتہ فاکل فقیل لھا فی ذٰلک فقالت قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انزلوا الناس منازلھم۱؎۔
امام ابوداؤد نے اپنی سنن میں حضرت میمون بن ابی شبیب سے روایت کی ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے پاس سے ایک شخص عمدہ لباس پہنے ہوئے گزرا تو آپ نے اسے بٹھاکر کھاناکھلایا پھر آپ سے اس کی وجہ دریافت کی گئی توفرمایا حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاارشاد ہے کہ لوگوں کے ساتھ ان کے حسب مراتب سلوک کیاکرو(ت)
 (۱؎ سنن ابی داؤد     کتاب الادب     باب تنزیل الناس منازلہم     آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/ ۳۰۹)
امام مسلم اپنے مقدمہ صحیح میں فرماتے ہیں:
لایقصّر بالرجل العالی القدر عن درجتہ ولایرفع متضع القدر فی العلم فوق منزلتہ و یعطی کل ذی حق فیہ حقہ وینزّل منزلتہ وقد ذکر عن عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا انھا قالت امرنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان ننزل الناس منازلھم۲؎۔
بلند مرتبہ شخص کی حسب مرتبہ عزت وقدر ہونی چاہئے اس کی توقیر کرنے میں کوتاہی نہیں ہونی چاہئے اور پست درجہ والے کو اس کی حیثیت سے بڑھانا بھی مناسب نہیں ا س سلسلے میں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے حوالے سے ذکرکیاگیاہے کہ آپ نے فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم لوگوں سے ان کے مراتب کے مطابق سلوک کیاکریں۔(ت)
(۲؎ صحیح مسلم         مقدمۃ الکتاب     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۴)
ہاں علماء وسادات کو یہ ناجائزوممنوع ہے کہ آپ اپنے لئے سب سے امتیاز چاہیں اور اپنے نفس کو اور مسلمانوں سے بڑاجانیں کہ یہ تکبرہے اور تکبر ملک جبار جلت عظمتہ کے سوا کسی کو لائق نہیں، بندہ کے حق میں گناہ اکبرہے، الیس فی جھنم مثوی للمتکبرین۳؎ کیا جہنم میں نہیں ہے ٹھکانا تکبروالوں کا۔
 (۳؎ القرآن الکریم     ۳۹/ ۶۰ )
جب سب علما کے آقا سب سادات کے باپ حضور پرنورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انتہادرجہ کی تواضع فرماتے اور مقام ومجلس وخورش وروش کسی امر میں اپنے بندگان بارگارہ پراختیار نہ چاہتے تو دوسرے کی کیاحقیقت ہے مگرمسلمانوں کویہی حکم ہے کہ سب سے زائد علماوسادات کااعزاز وامتیاز کریں یہ ایسا ہے کہ کسی شخص کولوگوں سے اپنے لئے طالب قیام ہونا مکروہ اور لوگوں کا معظم دینی کے لئے قیام مندوب۔ پھر جب اہل اسلام ان کے ساتھ امتیاز خاص کابرتاؤ کریں تو اس کا قبول انہیں ممنوع نہیں، امیرالمومنین سیدنا مولٰی علی مرتضٰی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الاسنی، کہیں تشریف فرماہوئے صاحب خانہ نے حضرت کے لئے مسندحاضر کی امیرالمومنین اس پررونق افروز ہوئے اور فرمایا: کوئی گدھا ہی عزت کی بات قبول نہ کرے گا۔
سعید بن منصور فی سننہ عن سفٰین بن عیینہ عن عمروبن دینار عن محمد بن علی رضی اﷲ تعالٰی عنھما قال القی لعلی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ وسادۃ فقعد علیھا وقال لایابی الکرامۃ الاحماررواہ الدیلمی۱؎ عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فذکروہ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
سعید بن منصور نے اپنی سنن میں سفیان بن عیینہ سے انہوں نے عمروبن دینار سے انہوں نے محمدبن علی سے روایت کی ہے کہ حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کے لئے وسادۃ (یعنی بچھونا) بچھایا گیا اور آپ اس پرتشریف فرماہوئے اور فرمایا: عزت وتوقیر کاانکار گدھا ہی کرسکتا ہے۔ اور محدث دیلمی نے حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے حوالہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا: رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، پھر اس نے وہی حدیث بیان فرمائی۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم (ت)
(۱؎ المقاصد الحسنہ     بحوالہ سعید بن منصور     حدیث ۱۳۱۷    دارالکتب العلمیہ بیروت     ص۴۶۹ )
Flag Counter