Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
175 - 190
مسئلہ۳۵۵ :ازشہر چڑھائی نیب     مسئولہ  عبدالرحیم صاحب     ۷ربیع الآخر ۱۳۳۹ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خدا کے یہاں مفتی فتوٰی دینے کا ذمہ دار ہے یاوہ بھی جوفتوٰی پرعمل کرے؟ بینواتوجروا۔
الجواب : اگر وہ مفتی قابل فتوٰی نہیں یاعامہ مسلمین شہردربارہ فتوٰی اس پراعتماد نہیں کرتے یافتوٰی ایساغلط ہے جس کی صریح غلطی مستفتی پرظاہرہے یاعالم معتمد مستند نے اس کے اغلاط ظاہر کردئیے یافتوٰی واقعات پرنہیں ہے اور اس میں مفتی نے اصل واقعہ چھپایا اور غلط رخ دکھایا تو مفتی، اس پرعمل کرنے والا دونوں ماخوذوگرفتارہیں ورنہ جب تک حق واضح نہ ہو جاہل پروبال نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۵۶: ازاحمدآباد گجرات محلہ چھیپیاں پانچ پنپیلی مکان چھینیہ سلطان جی علی جی کوڑے والے مسئولہ غلام نبی صاحب پیرزادہ ۱۴رمضان ۱۳۳۹ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین: 

(۱) جولوگ کتب دینیات وغیرہ طالب علم کوتعلیم دینے سے مدرس اول کو منع کرتے ہیں ان کا کیاحکم ہے؟ 

(۲) اور کسی نا اہل کو اس کی قابلیت سے باہر علم سکھانا بغرض مباحثات ومجادلات کے کیساہے؟ بیّنوابیانا شافیا توجروا اجراوافیا (شافی بیان فرماؤ اور پورااجروثواب پاؤ۔ت)
الجواب 

(۱) تعلیم دین اگربوجہ دین ہے تو اس سے ممانعت منع خیر ہے
مناع للخیرمعتد اثیم۱؎
(بھلائی سے روکنے والا حد سے گزرنے والا اور گنہگارہے۔ت) میں داخل ہونا ہے ایسے لوگوں کی بات ہرگز نہ سنی جائے نہ انہیں مدرسہ میں دخل دیاجائے ہاں اگرمدرس اول بدمذہب ہو اور بنام اپنے مذہب فاسد کی اشاعت چاہتاہو تو اسے روکنا فرض ہے اور یہ تعلیم دین کی ممانعت نہ ہوئی بلکہ تخریب دین کاانسداد ہوا۔ واﷲ تعالٰی اعلم
 (۱؎ القرآن الکریم     ۶۸/ ۱۲ )
  (۲) قابلیت سے باہر علم سکھانا فتنہ میں ڈالناہے اور ناقابل کو مباحث ومجادل بنانادین کو معاذاﷲ ذلت کے لئے پیش کرناہے۔ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا وسدالامر الٰی غیراھلہ فانتظر الساعۃ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم
جب نااہل کوکام سپرد کیاجائے توقیامت کاانتظارکرو(ت)
 (۱؎ صحیح البخاری         کتاب العلم         باب من سئل الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۱۴)
مسئلہ ۳۵۸ :ازموضع گھاگرہ ڈاکخانہ پائیکوڑہ ضلع میمن سنگھ مسئولہ مولوی سعیدالرحمن ۲۹رمضان ۱۳۳۹ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ موضع گھاگرہ میں لوگوں نے ایک نیاجلسہ قائم کیا ہے بنگلہ میں اس کانام سمیتی ہے واسطے فیصلہ کرنے مقدمہ وغیرہ کے۔ لیکن اس میں چارپانچ شخص ناقابل علم شریعت سے ناواقف سردارہوکر اپنی رائے کے مطابق احکام جاری کرتے ہیں شریعت کے خلاف اور اگرکوئی ان کے خلاف شرع حکم کونہ مانے تو اس کو امامت سے برخاست اور جمعہ وجماعت سے خارج کرتے ہیں اور لوگوں کو اس کی دعوت ونمازجنازہ غرض تمام دنیوی اخروی کاموں سے منع کرتے ہیں علماء کی اہانت، ظالموں کی تعظیم وتکریم کرتے ہیں اور عالموں سے حسدبغض کینہ دل وجان سے کرتے ہیں حتی کہ اہل علم کو حقیرسمجھتے اور کبھی گالیاں بھی دیتے ہیں حسد کی وجہ سے عالموں کو پیچھے اور اَن پڑھ کو آگے نمازپڑھنے کاحکم دیتے ہیں یعنی جاہل کو امامت کاحکم دیتے ہیں، موافق شریعت ان پرکیاحکم ہے اور جو ان کی مدد کرے ان پر کس قدرگناہ ہے؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب  : جاہلوں کوحاکم شرع بناناحرام ہے اور وہ جو خلاف شرع حکم دیتے ہیں اس کاماننا حرام ہے، ایسے لوگوں کے لئے قرآن عظیم میں تین الفاظ ارشاد فرمائے: ظالم، فاسق، کافر۔ اور اپنے باطل احکام نہ ماننے والوں کوامامت وجمعہ وجماعات سے خارج کرنا ان کا سخت ظلم ہے اور ان کی نمازجنازہ سے روکنا اوراشدظلم۔ ظالموں کی تعظیم حرام ہے اور عالمان دین کی اہانت کفرہے۔ مجمع الانہرمیں ہے:
من قال للعالم عویلم قاصدا بہ الاستخفاف کفر۲؎۔
جس شخص نے کسی عالم کو بصیغہ تصغیر عُویْلَمْ ہلکاجان کرکہا تووہ کافرہوگیا۔(ت)
(۲؎ مجمع الانہر فی شرح ملتقی الابحر    باب المرتد         ثم ان الفاظ الکفر الخ     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱/ ۶۹۵ )
اور عالم دین سے بلاوجہ بغض رکھنے میں بھی خوف کفرہے اگرچہ اہانت نہ کرے۔
فتاوٰی خلاصہ وغیرہا میں ہے:
  من ابغض عالما بغیر وجہ ظاھر خیف علیہ الکفر۱؎۔
جس نے کسی عالم سے بغیر کسی وجہ ظاہر کے دشمنی رکھی تو اس پرکفر کااندیشہ ہے۔(ت)
 (۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی     کتاب الفاظ الکفر     الجنس الثامن     مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ     ۴/ ۳۸۸)
عالموں کے پیچھے نمازپڑھنے سے منع کرنا اور جاہلوں کوامام بنانا حکم شریعت کابدلنا ہے۔ غرض ایسے لوگ شیطان کے مسخرے ہیں مسلمانوں پرفرض ہے کہ ان سے دور رہیں اور جو ان کی مدد کرتے ہیں وہ انہیں کے مثل ہیں۔ حدیث میں ہے:
من مشی مع ظالم لیعینہ وھو یعلم انہ ظالم فقد خلع من عنقہ ربقۃ الاسلام۲؎۔ والعیاذباﷲ تعالٰی، واﷲ تعالٰی اعلم۔
جودانستہ ظالم کی مدددینے چلے اس نے اسلام کی رسی اپنی گردن سے نکال دی۔

والعیاذباﷲ تعالٰی، واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۲؎ المعجم الکبیر         حدیث ۶۱۹                 المکتبۃ الفیصلیہ بیروت     ۱/ ۲۲۷)
مسئلہ۳۵۹، ۳۶۰ :ازگورکھپور محلہ دھمال     مسئولہ سعیدالدین     ۹شوال ۱۳۳۹ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں کہ: 

(۱) عالم کایہ کہہ دینا کہ میں نے مسئلہ صحیح بیان کیاتھا یاغلط مجھ کو یادنہیں ہے دوسرے سے پوچھ لو، درست ہے یانہیں؟

(۲) کسی عالم سے پوچھا کہ آپ صحیح وغلط بھی بیان کرتے ہیں اوراس پر اس کاجواب دینا کہ ہاں، درست ہے یانہیں؟ بینواتوجروا۔
الجواب

(۱) صرف درست نہیں بلکہ واجب ہے اگر اس کو اپنے بیان میں شک ہوگیا ہو اور خود اس کی تنقیح نہ کرسکتاہو۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ 

(۲) اگر اس کے یہ معنی ہیں کہ مجھ سے کبھی خطا بھی ہوجاتی ہے تودرست ہے اور اگریہ مراد کہ کبھی قصداً مسئلہ غلط بیان کردیتاہے توسخت فسق کااقرار ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter