Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
174 - 190
مسئلہ ۳۵۰ :ازاردہ نگلہ ڈاکخانہ اچھنیرا ضلع آگرہ مرسلہ صادق علی خاں صاحب ۲۵شوال ۱۳۳۶ھ 

اس خیال سے انگریزی پڑھنا اور پڑھوانا بچوں کو کہ اس میں عزوجاہ دنیوی ہے یاحصول دنیا کابڑا ذریعہ ہے جائزہے یاناجائز؟
الجواب : سائنس وغیرہ وہ فنون وکتب پڑھنی جن میں انکاروجود آسمان وگردش آفتاب وغیرہ کفریات کی تعلیم ہو حرام ہے، اور وہ نوکری جوخود حرام یاحرام میں اعانت ہے اس کی نیت سے پڑھنا بھی حرام ہے اور اگرجائز فنون جائزنوکری کے لئے پڑھے توجائز ہے جبکہ اس میں وہ انہماک نہ ہو کہ اپنے ضروریات دین وعلوم فرض کی تعلیم سے باز رکھے ورنہ جو فرض سے بازرکھے حرام ہے اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اپنے دین واخلاق ووضع پراثرنہ پڑے، اسلامی عقائد وخیالات پرثابت ومستقیم اور مسلمانی وضع پرقائم رہے ان سب شرائط کے اجتماع کے بعد جائز رزق حاصل کرنے کے لئے حرج نہیں رہی اس سے عزوجاہ دنیوی کی طلب، طلب جاہ خودناجائزہے اگرچہ عربی زبان واسلامی علوم سے ہونہ کہ وہ جاہ کہ استقامت علی الدین کے ساتھ کم جمع ہو۔
قال اﷲ تعالٰی اٰیبتغون عندھم العزۃ فان العزۃ ﷲ جمیعا۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: کیا وہ ان کے ہاں عزت تلاش کرتے ہیں حالانکہ سب عزت اﷲ تعالٰی کے لئے ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم     ۴/ ۱۳۹ )
مسئلہ ۳۵۱ :ازپنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفرپور مسئولہ شاہ خاکی بوڑاہ 

دیوبندی کاوعظ سننا، ان سے فتوٰی لینا اور ان کے ساتھ نمازپڑھنا، کھانا، شادی کرنا کیسا ہے؟
الجواب : دیوبندی وہابیوں کی اخبث شاخ ہے، اس کا وعظ سنناحرام، اس سے فتوٰی لیناحرام، اس سے میل جول سخت حرام، بلکہ اسے مسلمان جان کر ہوتوکفر، علمائے حرمین شریفین نے بالاتفاق تحریرفرمایا ہے
من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر۲؎
 (جوان کے کافرہونے میں شک کرے وہ بھی کافرہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
   ( ۲؎ حسام الحرمین علی منحرالکفروالمین     مطبع اہلسنت بریلی     ص۹۲ )
مسئلہ ۳۵۲ :ازشہر مسئولہ عبدالحفیظ صاحب طالب علم مدرسہ منظرالاسلام ۲۳محرم ۱۳۳۹ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کسی عالم باعمل کی خدمت میں اس غرض سے حاضرہوا کہ چند مسئلہ شرعیہ دریافت کرکے اس پرعمل کرے مگرعالم نے اس کے ساتھ اخلا ق محمدی نہیں برتا اور سخت خفگی ظاہر کی کہ اس کی دہشت سے زید نے ناراض ہوکر اپنے اس ارادہ کو ترک کردیا جس مسئلہ پرعمل کرنے والا تھا چونکہ علمائے باعمل وارث انبیاء ہیں، اخلاق محمدی نہ برتنے سے اور زید کو مسئلہ کی واقفیت نہ ہونے سے وہ عالم موجب عذاب خداوندی کا ہوسکتاہے یانہیں؟
الجواب : سائل کاکلام متناقض ہے عالم باعمل بھی کہتا ہے اور اتناشدید الزام بھی اس پردھرتا ہے اگرواقعی عالم باعمل ہے تو اس کی خفگی اگر اس کی کسی معصیت یابے ادبی شریعت کے سبب ہوگی اسے لازم تھا کہ توبہ کرے اورمعافی چاہے نہ یہ کہ اس کے سبب عالم سے کنارہ کش ہو اور مسئلہ پوچھنے کافرض چھوڑکر اپنی معصیت میں یہ دوگناہ اوراضافہ کرے اور تیسرایہ کہ عالم پرالزام رکھناچاہے، فلاح نہیں پاتا وہ جاہل جو خادمان شریعت کااد ب نہ کرے اور بالفرض اس کی خفگی اس پر کسی معصیت وبے ادبی شریعت کے سبب نہ ہو بعض وقت انسان کی طبیعت منغص ہوتی ہے اس کاسبب کچھ اور ہوتا ہے اور دوسرے کابات کرنا بھی اس وقت ناگوارہوتا ہے اس وقت وہ اسے جواب ترشی سے دیتا ہے جو اس پرناراضی کے باعث نہیں ہوتا ایسے وقت کی ترشی اہل سعادت کے لئے قابل لحاظ نہیں، اکابر صدیقین نے فرمایا:
  ان لناشیطانا لیقربنا فاذا رأیتموہ فاعتزلوا۔
بےشک ہمارے لئے بھی شیطان ہے جو ہمارے قریب ہوتاہے جب تم اسے دیکھو تو الگ ہٹ جاؤ۔(ت)
یعنی ہم بھی بشرہیں بشرکا ساغصہ ہمیں بھی آتاہے جب اسے دیکھو تو اس وقت ہمیں چھیڑو نہیں بلکہ الگ ہٹ جاؤ۔ اور بالفرض یہ بھی نہ سہی بلکہ بلاوجہ محض اس سے کج خلقی کی توضرور اس کاالزام اس عالم پر ہے مگر اسے اس کی خطاگیری اور اس پراعتراض حرام ہے اور اس کے سبب رہنمائے دین سے کنارہ کش ہونا اور استفادہ مسائل چھوڑدینا اس کے حق میں زہرہے اس کاکیانقصان، حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: عالم اگراپنے علم پر عمل نہ کرے جب اس کی مثال شمع کی ہے کہ آپ جلے اور تمہیں روشنی دے۔ یہ سب اس صورت میں ہے کہ وہ عالم حقیقۃً عالم دین سنی صحیح العقیدہ ہادی راہ یقین ہو ورنہ اگرسنی نہیں توکتنا ہی خلیق کتناہی متواضع کتناہی خوش مزاج بنے نائب ابلیس ہے اس سے کنارہ کشی فرض ہے اور اس سے فتوٰی پوچھنا حرام۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۵۳: ازشہرکہنہ محلہ لودھی ٹولہ مسئولہ حبیب اﷲ خاں     ۲۹محرم ۱۳۳۹ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو صاحب جھوٹا مسئلہ بیان کریں ان کے واسطے شرع شریف کاکیاحکم ہے؟
الجواب :  جھوٹا مسئلہ بیان کرناسخت شدیدہ کبیرہ ہے اگرقصداً ہے تو شریعت پرافتراء ہے اور شریعت پر 

افتراء اﷲ عزوجل پرافتراہے ، اور اﷲ عزوجل فرماتاہے:
ان الذین یفترون علی اﷲ الکذب لایفلحون۱؎۔
وہ جو اﷲ پرجھوٹ افتراء کرتے ہیں فلاح نہ پائیں گے۔
(۱؎ القرآن الکریم     ۱۰/ ۶۹ )
اور اگر بے علمی سے ہے تو جاہل پرسخت حرام ہے کہ فتوٰی دے۔ حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من افتی بغیر علم لعنتہ ملٰئکۃ السماء والارض۲؎۔
جو بغیرعلم کے فتوٰی دے اس پرآسمان وزمین کے فرشتے لعنت کرتے ہیں۔
 (۲؎ کنزالعمال    حدیث نمبر۲۹۰۱۸         مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۱۰/ ۱۹۳)
ہاں اگر عالم سے اتفاقاً سہو واقع ہو اور اس نے اپنی طرف سے بے احتیاطی نہ کی اور غلط جواب صادر ہوا تومواخذہ نہیں مگر فرض ہے کہ مطلع ہوتے ہی فوراً اپنی خطاظاہر کرے، اس پر اصرار کرے تو پہلی شق یعنی افترا میں آجائے گا۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۵۴: ازشہر محلہ ملوکپور مسئولہ امیراﷲ صاحب     ۱۸صفر۱۳۳۹ھ 

حضوروالا! السلام علیکم! انجمن خدام المسلمین کومولوی قطب الدین صاحب نے بغرض استقبال مولوی نعیم الدین صاحب مرادآبادی کے بلوایاتھا ممبران انجمن نے ان کا استقبال بریلی جنکشن پرکیا اور وہاں سے ان کی سواری کو اپنے ہاتھوں سے کھینچ کر حضور کے درِدولت تک لاپہنچایا، پھر حضور کے درِدولت سے مولوی قطب الدین کے مکان تک اسی شان وشوکت سے پہنچایا مسلمانوں کو ایک عالم دین کے استقبال وخدمت کرنے سے کیا شرع مطہر روکتی ہے، اور یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ حضور کوسخت صدمہ پہنچا اور حضور کی شان گھٹائی، مفصل طور پر جواب سے مطلع فرمائیں۔
الجواب  : وعلیکم السلام، استغفراﷲ، یہ جو سننے میں آیا محض کذب وافترا ہے اور وہ تعظیم کہ مسلمانوں نے سنی عالم کی کی باعث اجرعظیم ورضائے خدا ہے، حدیث میں ارشاد ہوا:
  من تواضع ﷲ رفعہ اﷲ ۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم
جس نے اﷲ کی خوشنودی کے لئے عاجزی اختیار کی اﷲ اس کو بلند کردیتاہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۳؎ مسندامام احمدبن حنبل     حدیث ابوسعید خدری رضی اﷲ عنہ     دارالفکر بیروت     ۳/ ۷۶)
Flag Counter