Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
173 - 190
مسئلہ ۳۴۳ :مولوی افضل صاحب طالب علم مدرسہ منظراسلام مورخہ ۱۷ربیع الاول ۱۳۳۶ھ 

چہ میفرمایند علمائے دین کہ یک شخص نزد کسے سبق خواندہ بعدہ معلوم کہ استاد اودردین خود مستقیم نیست ومی گویند کہ امام صاحب نداشتہ واجماع راغلط میداند ومی گوید کہ قادیانی مجددبود وغیرہ بے ادبی ہا از او دیدہ واو را ترک کرد واو را بسیارناراضی کرد کہ آیا این شاگرد نزد شرعی ملامت است یانہ اینچنیں استاد حق برسرشاگرد داردیانہ؟ بینواتوجروا۔
علمائے دین کیافرماتے ہیں (اس مسئلہ میں کہ) ایک آدمی نے ایک استاد سے سبق پڑھا بعد میں اس کو معلوم ہوا کہ اس کا استاد ٹھیک دین نہیں رکھتا، کہتے ہیں کہ اس کا کوئی امام نہیں (یعنی وہ کسی امام کاپیروکارنہیں) اور وہ اجماع امت کو غلط کہتا ہے اور کہتا ہے کہ مرزاغلام احمدقادیانی مجدد تھا اور اس کے علاوہ اور کئی ناشائستہ اور بے ادبی کی کتابیں (شاگردنے) استاد سے دیکھیں اس لئے اس کو چھوڑدیا اور اس کو سخت ناراض کیا، تو کیا یہ شاگرد اسلامی شریعت میں قابل ملامت ہے یانہیں، اور اس قسم کا استادشاگرد پراپناحق رکھتاہے یانہیں؟ بیان فرمائیے اجرپائیے۔(ت)
الجواب :ایں چنیں استاد رابرشاگرد خود ہماں حق است کہ برملٰئکہ ابلیس لعین راکہ اورالعنت مے کنند وروزقیامت کشاں کشاں بدوزخ افگنند۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اس قسم کے استاد کا اپنے شاگرد پروہی حق ہے جو شیطان لعین کا فرشتوں پرہے کہ فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں اور قیامت کے دن گھسیٹ گھسیٹ کر دوزخ میں پھینک دیں گے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۴۴: مولوی افضل صاحب طالب علم مدرسہ منظراسلام مورخہ ۱۷ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ 

سوال دیگربرادرمن مرا تعلیم کردہ وبرمن ظلم وستم بیحد کردہ درمال دنیاوی ومن بااوگفتگو بسیار کردہ ام دریں باب ایں حق داراست یانہ ونزدشرع ملامت ست یانہ؟
دوسراسوال: میرے بھائی نے مجھے تعلیم دی لیکن اس نے دنیوی مال کے معاملہ میں مجھ پر بیحد ظلم وستم کیا، پھر میں نے اس سے بہت سی باتیں کیں اس باب میں یہ حقدار ہے یانہیں؟
الجواب : برادرِکلاں رادرحدیث بشابہ پدر شمردہ اند خاصہ کہ استاذ باشد استاذ علم دین خود اعظم از پدرست برائے مال با اوناحفاظتی نمی شاید کرد باینہمہ اگردرگفتگو تجاوز ازحدنہ کردہ ست بزہ کارنیست وبوجہ عدم رعایت حق استاذ وبرادرکلاں خالی ازملامتی ہم نیست۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
بڑے بھائی کو حدیث پاک میں والد کے مشابہ شمارکیاہے جبکہ وہ استاذ بھی ہو۔ علم دین کا استاذ(مرتبہ میں) والد سے بہت بڑا ہے۔ لہٰذادنیاوی مال کی وجہ سے اس کی بے حرمتی نہیں کرنی چاہئے تھی، اور ان سب باتوں کے باوجود اگرکلام کرنے میں حد سے تجاوز نہیں کیاتوگنہگار نہیں۔ پس استاذ اوربڑے بھائی کے حق کی رعایت نہ کرنے کی وجہ سے ملامت سے خالی بھی نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۴۵ :ازریاست جموں کشمیر خاص محلہ رنگریزاں بخانہ منشی چراغ ابراہیم براستہ جہلم مرسلہ محمدیوسف صاحب ۲۲ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ 

اگرکوئی صاحب اہل علم ہوکراپنے استاد مربی کا انکار کرے کہ ہمارا کوئی استادنہیں باوجودیکہ گواہ موجود ہوں، تو اس کے واسطے کیاحکم ہے؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب : استاد کاانکار کفران نعمت ہے، اور کفران نعمت موجب سزاوعقوبت،
وھل نجٰزی الاَّ الکفور۱؎
 (ہم بدلہ یعنی سزانہیں دیتے سوائے ان کے ناشکرگزارہیں۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ القرآن الکریم     ۳۴/ ۱۷)
مسئلہ ۳۴۶ :ازفیض آباد مسجدمغلپورہ مرسلہ شیخ اکبر علی مؤذن ومولوی عبدالعلی ۹ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ 

پیرمولوی جو مرید کرتے ہیں نائب رسول بھی کہلاتے ہیں ان کو پیروی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی اور ان کے اصحاب اورامامانِ شریعت کی واجب ہے؟
الجواب : ضرور واجب ہے مگر کسی شخص پربدگمانی کہ یہ پیروی نہیں کرتا بے کسی ایسی دلیل کے جوآفتاب کی طرح روشن ہوجائزنہیں اور علماء پرعوام کو اعتراض نہیں پہنچتا اور جو مشہوربمعرفت ہو اس کا معاملہ زیادہ نازک ہے ہرعام مسلمان کے لئے حکم ہے کہ اس کے ہرقول وفعل کے لئے سترمحمل حسن تلاش کرو نہ کہ علماء ومشائخ جن پراعتراض کا عوام کو کوئی حق نہیں یہاں تک کہ کتب دینیہ میں تصریح ہے اگرصراحۃً نماز کاوقت جارہاہے اور عالم نہیں اٹھتا توجاہل کایہ کہناگستاخی ہے کہ نماز کوچلئے وہ اس کے لئے ہادی بنایاگیا ہے نہ کہ یہ اس کے لئے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۴۷: ازجوناگڑھ محلہ کتیانہ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ حافظ محمدحسین ۲۰ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ 

نذیراحمد بی، اے، ایل، ایم، کاترجمہ صحیح ہے یاغلط؟ اور لڑکوں کو مدرسہ میں اس کاترجمہ پڑھاناجائزہے یاناجائز؟
الجواب : نذیراحمدکا نہ ترجمہ صحیح ہے نہ ایمان، وہ شخص منکرخداتھا، جیسے اس نے اورکتابیں نصرانیت ونیچریت آمیزلکھیں جن سے مال کمانا مقصود تھا ویسے ہی یہ ترجمہ بھی کردیاگیا اس سے بھی داموں ہی کی غرض تھی ورنہ جو شخص اﷲ ہی کونہ مانتا ہو وہ قرآن کے ترجمہ کوکیاجانے گا۔ اس کاترجمہ ہرگزنہ پڑھایاجائے، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۴۸: ازشہرمحلہ قرلان مرسلہ مولوی حاجی منیرالدین بنگالی متعلم مدرسہ اہلسنت وجماعت ۱۲جمادی الاخری ۱۳۳۶ھ 

زیدمعلم ہے اوراپنے استاد احبابوں کولے کر تخت پربیٹھ کر حقہ پیتے ہیں اور اس کے شاگردان ایک ڈیڑھ گز کے فاصل زمین پر بیٹھ کر قرآن عظیم پڑھتے ہیں اسے ہرطرح کہاگیا مگروہ اس فعل سے باز نہیں آتا معاذاﷲ اب زیدپرکیاحکم ہے اور مسلمانوں کو اس کے ساتھ میل جول کرناکیساہے؟
الجواب : وہ معلم اور اس کے ساتھ بیٹھنے والے سب بے ادب گستاخ ہیں اس کو تنبیہ کی جائے اگر نہ مانے توصاحب مکان پرلازم ہے کہ وہاں سے تخت اٹھالے اور اس پر بھی اسے متنبہ ہوتانہ دیکھے تو اسے موقوف کردے کہ بے ادب ہے نہ کہ شاگرد کو، مولاناقدس سرہ فرماتے ہیں:
ازخدا جوئیم توفیق ادب         بے ادب محروم ماند از لطف رب

بے ادب تنہا نہ خودرا داشت     بلکہ آتش درہمہ آفاق زد ۱؎
 (ہم اﷲ تعالٰی سے حصول ادب کی توفیق مانگتے ہیں کیونکہ بے ادب رب تعالٰی کے فضل سے محروم رہتاہے۔ بے ادب نہ صرف اپنے آپ کو برے حالات میں رکھتا ہے بلکہ اس کی بے ادبی کی آگ تمام دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم ۔
 (۱؎ مثنوی معنوی     دفتراول     درخواستن توفیق رعایت ادب الخ     نورانی کتب خانہ پشاور     ص۶ )
مسئلہ ۳۴۹: ازشہرکانپور مرسلہ مولوی سلیمان صاحب مدرس دارالعلوم 

قرآن شریف میں عربی عبارت کے نیچے اردو میں ترجمہ اور انگریزی یابنگلہ زبان میں مطالب و شان نزول وقصص کالکھنا درست ہے یانہیں؟
الجواب : جائز ہے جبکہ فائدے مطابق شرع ہوں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter